
پانی”جسے عربی میں آب کہتے ہیں۔ہر جاندار کے لئے اہم ترین ہے۔ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوا،آکسیجن اور پانی۔ پانی اس دُنیا میں تب سے آباد ہے جب زمین بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔زمین کو بھی تو اِسی نے اپنے کندھوں پے اٹھا رکھا ہے۔ آسمان سے بھی پانی برساتا ہے اور زمین کا بیشتر حصہ اب بھی پانی پر مشتمل ہے۔سو ہر سوں پانی ہی پانی ہے لیکن جب اپنے ملک میں پانی کی صورت حال پر نظر اٹھتی ہے تو بندہ پانی پانی ہو جاتا ہے۔افسوس!جو ہماری زندگی کے لئے اہم ہے ہم اسے اہمیت نہیں دیتے۔پانی کا ضیاع عام ہو رہا ہے۔ پانی کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ پانی میں،اگر کیمیکل ملادیں تو تیزاب بن کر چہروں کو بے رونق بنا دیتا ہے۔یہی پانی مختلف مراحل سے گزر کر دودھ کی شکل میں قدرت کی عطاکر دہ نور بن جاتا ہے۔آبی بخارات بن کر برسات کا موجب بنتا ہے۔ یہی مشروب، یہی چائے، یہی سب کچھ ہے۔ معصوم کے پائوں سے نکلا تو آب زم زم بن گیا۔جس میں ہر بیماری کا علاج ہے۔ لوگ اپنے کفن تک اس سے دھو کر رکھ لیتے ہیں۔ناپاک انسان کو پاک کرکے رب کے حضور لانے والا یہی پانی ہے۔ جس زاویے سے دیکھیں ہرطرف پانی ہی پانی ہے۔
جب ہماری تمام ضروریات کا مضرپانی ہے تو ہم کیوں اسے زہریلا کر رہے ہیں۔اس کی افادیت کو کم کرتے جاتے ہیں۔بارش کے پانی کو جمع نہیں کر پاتے۔آج ملکی حالات پر نظر ڈورائی جائے تو بجلی بحران، پانی بحران نظر آتاہے۔کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ آئندہ جنگ ہوئی تو پانی پر ہو گی۔
پانی سے ہی بجلی بنتی ہے۔آج ہماری انڈسٹریز ویران پڑی ہیں تو پانی نہ ہونے کی وجہ سے ،پانی ہوتا تو بجلی ہوتی۔بجلی ہوتی تو انڈسٹریز آباد ہوتیں۔یہی پانی برسات بن کر رحمت بن جاتا ہے۔ہمارے کھیت
جوبن پر آتے ہیں۔کبھی ہمارے دریائوں میں ریت اُڑتی ہے تو کبھی سیلابی پانی سے غریبوں کے گھر ۔کبھی طوفان نوح بن جاتا ہے تو کبھی رحمت خداوندی۔
آج اگر ہمارے سیاستدانوں کو ،حکمرانوں کو سیاسی نعروں سے فرصت مل جائے تو اتنا ضرورسوچیں کہ خود کو 60.،70روپے لیٹر والا جراثیم سے پاک پانی پیتے ہیں۔اس عوام کا کیا ہوگاجو پانی کی ایک بوند کو بھی ترستے ہیں۔اس کسان کا کیا ہو گا جس کے کھیت پانی نہ ملنے کی وجہ سے ویران ہو رہے ہیں۔جب کھیت ویران ہوں گے تو فصلیں کہاں سے اگے گی۔زرمبادلہ کہاں سے کما پائیں گے۔لاکھوں کیوسک پانی کا ہر سال ضیاع ہوتا ہے۔ہم نے ایٹم بم بنالئے۔ایٹمی پاور بن بیٹھے۔ٹیکنالوجی ہمارے پاس موجود ہے۔مگر،،،نہیں بنانے تو ڈیم نہیں بنانے۔ہر حکومت ہزاروں ،منصوبوں کے وعدے کرتی ہے ،چند منصوبے تکمیل ہوتے بھی ہوں گے۔کاش!کوئی حکومت ایسی بھی آئے جو ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر سکیں۔اگر ہر آنے والی حکومت اپنے دور میں ایک بھی ڈیم بناتی تو پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا نہ ہوتا۔ہم نے اعلیٰ شان محل تو تعمیر کروالئے۔اپنے لئے سیوئمنگ پول بنالئے۔نہیں بنائے تو ڈیم نہیں بنائے۔
بھارت جو ہر سال پانی ہمارے دریائوں میں چھوڑ دیتا ہے ۔جس سے ہمارے کھیت برباد ہو جاتے ہیں ،تیار فصلیں بہہ جاتی ہیں،کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔انسانی جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔مگر ہماری حکومتوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔کیونکہ وہ پاکستان زمین پر حکومت تو کرتے ہیںمگر رہتے یورپ میں ہیں۔ہوائی سفر کرنے والے ،زمین پر چل کر دیکھیں تو احساس بھی ہو کہ عوام کا کیا حال ہے۔صوبہ سندھ ہو یا بلوچستان،ریگستان کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
لاکھوں ایکڑ زمین بنجر پڑی حکمرانوں کا منہ تک رہی ہے۔پنجاب ہے تو پینے کے صاف پانی کے لئے ترس رہا ہے،عوام مر رہی ہے ،حکمران یہاں نہیں تو کم از کم وہاں تو آرام دہ بستروں پر خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں۔جن کو نہانے کے لئے اعلیٰ کوالٹی کا پانی مفت دستیاب ہوتاہے۔عوام کا کیا کل بھی صاف پانی کیلئے ترستی تھی آج بھی ترستی ہے۔
ہر نئی آنے والی حکومت عوام کو پاگل بنا کر ووٹ تو حاصل کرکے اقتدار میں آجاتی ہے۔پھر عوام کا خون ان کی گاڑیوں کے پہیوئوں کی زینت بنتا ہے۔اگر یہی حال رہا تو آئندہ چند سالوں میں عوام پانی کے لئے ایک دوسرے کی جانی دشمن بن جائے گی۔
اب بھی وقت ہے کہ ڈیموں کے منصوبے بنا کر ان پر کام شروع کر دیا جائے۔پانی کے ضیاع کو روکا جائے۔حکمران ہوں یا سیاستدان،یا پھر عوام سب یک جان ہوکر پاکستان کو خوشحال بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔تاکہ پاکستان ہرابھرا،پھولوں کی طرح کھلتا نظر آئے ۔
اس کے کھیت لہلہاتے ہوں۔اس میں بسنے والا ہر انسان خوش،ہنستامسکراتا نظرآئے۔ایسا تب ہو گا جب ہر فرد پانی کو آلودہ ہونے سے بچائے گا۔پانی کا ضیاع نہیں کرئے گا۔پانی کو جمع کرنے میں اپنا کردار ادا کرئے گا۔موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ پانی کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے جلد از جلد ڈیم منصوبوں پر عمل درآمد کرائے۔نہیں تو ہمارے دریائوں میں ریت اڑتی رہے گی، کھیت ویران،سنسان ہو جائیں گے اور پاکستان ترقی کی اس بھیڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔
تحریر : مجید احمد جائی ملتانی(ملتان)
majeed.ahmed2011@gmail.com
