زخم رِستے رہے ہیں پائوں کے
زخم رِستے رہے ہیں پائوں کے ہم نے دیکھے ہیں دِن سزائوں کے گھر کے آنگن سے خوف آتا ہے سائے پڑتے ہیں جب بَلائوں…
زخم رِستے رہے ہیں پائوں کے ہم نے دیکھے ہیں دِن سزائوں کے گھر کے آنگن سے خوف آتا ہے سائے پڑتے ہیں جب بَلائوں…
تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری سچ کو آنچ نہیں چوہدری نثار کے منہ سے سچ نکل ہی جاتا ہے وہ جس پیر ائے میں…
پانی”جسے عربی میں آب کہتے ہیں۔ہر جاندار کے لئے اہم ترین ہے۔ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔…
کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے، اس لئے جھوٹ زیادہ دور چل نہیں پاتا۔ پوری قوم نے دیکھا کہ الیکشن سے پہلے جھوٹ…
ہمارے دل کی قائل ہو گئی تھی اداسی کتنی مائل ہو گئی تھی لگا جیسے سمندر آ پڑے ہیں ذرا سی بات حائل ہو گئی…
کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یونہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہر گل…
روشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دے اس کو احساس کے آنگن میں اتر جانے دے حبس بڑھ جائے تو بینائی چلی جاتی ہے…
آنکھوں کے چراغوں میں اُجالے نہ رہیں گے آ جائو کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گے جا شوق سے لیکن پلٹ آنے کے لیے…
ہم اُنہیں وہ ہمیں بُھلا بیٹھے دو گنہگار زہر کھا بیٹھے حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو!…
عروس صبح سے آفاق ہمکنار سہی شکستِ سلسلئہ قیدِ انتظار سہی نگاہِ مہرِ جہاں تاب کیوں ہے شرمندہ شفق کا رنگ شہیدوں کی یادگار سہی…
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اُگلنے لگی اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں ابھی…
جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم سورج کا بوجھ سر پر اٹھائے رہیں گے ہم کھل کر برس ہی جائیں کہ ٹھنڈی…
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی مہک میں چمپا کلی، روپ میں چنبیلی ہوئی وہ سرد رات کی برکھا سے کیوں…
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے…
ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہو! کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے…
شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں گزشتہ رُت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ…
کلی دل کی اچانک کھل گئی ہے کوئی کھوئی ہوئی شے مل گئی ہے یہ کس انداز سے دیکھا ہے تو نے زمیں پائوں تلے…
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے پائوں پھسلا تو آسمان میں تھے ہے ندامت لہو نہ رویا دل زخم دل کے کسی…
Start typing to search...
