
نیو یارک (جیوڈیسک) عالمی میڈیا کے مطابق ایرانی رہنما نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ابھرنے کے پیچھے چند ریاستیں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں تاہم اس مسئلے کا حل مشرق وسطیٰ ہی سے آنا چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ دنیا بھر کے انتہا پسندوں نے ایک دوسرے سے روابط قائم کر لیے اور یکجا ہو گئے لیکن کیا ہم انتہا پسندی کے خلاف یکجا ہیں حسن روحانی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں شدت پسند تنظیموں کے ابھرنے کی وجہ بیرونی مداخلت ہے۔ چند انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پاگل افراد کے ہاتھوں میں بلیڈ پکڑا دیے ہیں جو کسی کو نہیں چھوڑتے۔
ان تنظیموں کو بنانے اور حمایت کرنے کے پیچھے جو بھی تھے ان کو اپنی غلطی کا اقرار کرنا چاہیے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حسن روحانی نے خطاب میں کہا مغرب نے مشرق وسطیٰ، وسط ایشیا اور قاقاز میں سٹریٹیجک غلطی کی ہے اور ان علاقوں کو دنیا بھر کے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں بنا دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شام میں بے جا مداخلت غلط پالیسیوں کی ایک مثال ہے۔
یہ بات غلط ہے کہ ایران خطے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حسن روحانی نے کہا کہ نومبر سے قبل وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر حتمی معاہدے چاہتے ہیں۔
