
تہران (جیوڈیسک) ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے سنی باغیوں کے مقابلے پر عراقی حکومت کی مدد کے لیے فوجی مشیر بغداد بھیجنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے۔
کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ بغداد حکومت کی مدد کے لیے اوباما 300 فوجی ماہرین بغداد بھیجنے کو تیار ہیں۔ تاہم صدر اوباما نے عراق کی شیعہ حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں سے بمباری کرنے کی درخواست نظر انداز کردی تھی۔
وائٹ ہاوس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے صدر اوباما نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں جاری فرقہ وارانہ تقسیم دور کرنے کے لیے اقدامات کریں جس نے ملک کی سنی اقلیت کو شدت پسندی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق نائب وزیرِ خارجہ حسین عامر عبدالحیان نے کہا ہے کہ عراق کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار اور صدر حسن روحانی کے مشیر حمید ابوطالبی نے بھی صدر اوباما کی عراق سے متعلق حکمتِ عملی پر تنقید کی ہے۔
