
تحریر : ریاض احمد ملک
قارئین میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں معاشرتی برائیوں کی نشاندھی کی ان برائیوں میں صحافتی کرداروں کا بھی ذکر ہوا یقین کریں میرا مقصد کسی کو نشانہ بنانا ہر گز نہ تھا میں نے کسی فرد کی جانب اشارہ بھی نہیں کیا کہ کون کیا کر رہا ہے میرا کالم جب ہفت روزہ ونہار میں چھپا تو ضلع چکوال سے مجھے بے شمار ٹیلیفون ملے جس میں اکثر لوگوں نے مجھے مبارکباد دی کہ میں نے صحافی برادری میں شامل کالی بھیڑوں کی نشاندھی کی ہے مگر ہماری ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر کو تو جیسے آگ سی لگ گئی انہوں نے ایک کالم تحریر فرمایا کس میں انہوں نے مجھے رکشہ ڈرائیور جیسے خطاب سے نوازا وہ اس لئے کہ میری ذات اس کے سامنے تھی چرس کا کام میں نہیں کرتا میرا کوئی غیر قانونی کام یا کاروبار بھی نہیں جس پر وہ تنقید فرماتیموصوف چونکہ میرے سسرالی رشہ دار بھی ہیں وہ مجھے اور میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی سیدھا کام نہیں کیا جرم تو خیرچھوڑیں میں اس کا زکر کیا کرو میانی اڈا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنے والدین کا نام کیسے روشن کیا۔
اپنی زاتی جاگیر اونے پونے داموں فروخت کر کے اللے تللے اڑائے پھر پکھی وادوں کی زندگی بسر کرنا شروع کر دی کبھی پیری فکیری اور کبھی میڈیکل سے وابسطہ ہوئے اور کبھی راولپنڈی اور کبھی چکوال وہاں گل کھلانے کے بعد موصوف بوچھال کلاں میں نمودار ہوئے آنا بھی چائیے اپنے گائوں کے علاوہ ویسے بھی پناہ مشکل ہی کام ہوتا ہے انہیں آذاد شاعری پر تو عبور حاصل ہے 1965میں پیدا ہوئے تو ان کے نانا ابا جو اخبار نکالتے تھے اس میں کالم لکھنا شروع کر دیا ویسے مجھے علم نہیں کہ بابا باشو سے ان کی کوئی رشتہ داری ہے ہاں میں آذاد نظم کا زکر کر رہا تھا یہ کوئی پرانی بات نہیں جب میں پروفیسر عظمت جوگی کے اخبار میں بطور ایڈیٹر کام کرتا تھا موصوف کو آذاد شاعری کا بخار ہو گیا اور انہوں نے ہفت روزہ ونہار میں وہ قطہ تحریر فرمایا میں نے تو اخبار چھپانے کی کوشش کی مگر میری لاپروائی کی وجہ سے پروفیسر عظمت کی نظر اس اخبار پر پڑ گئی۔
انہوں نے موصوف کو وہ کیپسول دیا کہ انہیں آزاد تو آذاد قید نظمیں لکھنا بھی بھول گئے کافی افاقہ ہوا انہیں وہ چند غنڈے لے کر میانی اڈا پر شو آف پاور کرنے نکلے اور مجھے کہا کہ وہ آج پروفیسر عظمت کی ٹانگ توڑ دیں گے جونہی پروفیسر عظمت کو اطلاع ہوئی تو میانی پہنچے تو ان کی ہوا ایسے نکلی کہ وہ میری خالی کی ہوئی نیوز ایڈیٹر لے لئے عثمان اعوان ( جسے وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں ) کے پائوں پکڑ لئے کہ اپنے اخبار میں میرا نام لکھو جو ایک عرصہ تک چلتا رہا اور موصوف اس نام کو کیش کراتے رہے غیر قانونی کام تو ان کی رگ رگ میں بھرا ہے اس لئے انہوں نے صحافتی لبادہ اڑھ کر اپنے کام خوب سر انجام دئیے اب ان کے دفتر میں بیٹھ کر خوب عیاشی کرتے اور خود کو صحافی ظاہر کرتے یہ بخار اس حد تک پہنچ گیا کہ عثمان اعوان سے ناراضگی ہو گئی ہوئی ایسے کہ موصوف کو انہوں نے اپنا دفتر تنگ کر کے میڈیکل سٹور بنانے کی جگہ دی۔
اسی دوران کچھ لوگ جو دفتر میں موجود تھے جن کا قرض حسنہ موصوف نے دینا تھا ایک فرج جو موصوف نے بیچا تھا اس لے پیسے عثمان اعوان نے اس لئے پکڑ لئے کہ قرض داروں سے بچ جائے اور یہ رقم اس کے کسی کام آئیمگر موسوف ان کے تمام احسانات فراموش کرتے ہوئے ان سے مقابلے کا پروگرام بنایا اور میرے پاس فریاد لے کر آئے کہ مجھے اخبار چائیے میں نے اسے کہا کہ میں خواجہ بابر سے بات کر کے تمیں اخبار دلوا دونگا میرے پرانے دوست عمران قیصر کا اخبار اسے میری وساطت سے مل گیا اخبار نکالتے وقت انہوں نے میرا نام ایڈیٹر لکھنے کی خواہش ظاہر کی جو میں نے رول دیا اور اسے یقین دلایا کہ میری ہمدردی تمارے ساتھ ہوگی جو میرا تعاون تھا اسے دیا فون پر ہونے والی گفتگو میرے پاس ریکارڈ ہے انہوں نیت متعدد مرتبہ مجھے آفر کی کہ میں ان کے ساتھ کام کروں چونکہ عثمان کے اخبار کا میں بانی بھی تھا اس نے میرا نام بطور ایڈیٹر اپنے اخبار میں شامل کر دیا جس میں میری رضامندی بھی شامل ہو گئی۔
موصوف کو اس بات کا بے حد دکھ ہوا انہوں نے اپنے من میں ناراضگی کا اظہار مجھے مبارکباد دے کر کیا کہ میں ونہار اخبار کا ایڈیٹر بن گیا ہوں موصوف انکار کریں تو میں فون کی ریکارڈنگ میانی اڈا پر سپیلر لگا کر سنوا دوںگا آہستہ آہستہ ناراضگی کا یہ لاوہ اس وقت ابھر کر سامنے آ گیا جب میرے بھانجے شوکت حیات جو انتہائی شریف اور بے زرر قسم کا آدمی ہے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور جنرل سٹور پر اپنی صحافت کا ددبائو ڈال کر اس کی دوکان پر ادریس نامی ڈرگ انسپکٹر کو لے گیا جہاں اس کی اور ڈرگ انسپکٹر کی توں تکرار ہو گئی جو راضی نامہ ہو گیا موصوف چوںکہ صحافتی لبادہ اڑے ہوئے تھے جس لبادے کو اڑھنے میں میری غلطی بھی شامل تھی جس نے اسے اخبار تک رسائی دلوائی شوکت کا چالان ان کے گھر میں بیٹھ کر کیا گیا۔
اس شریف شخص لو لتنی اذیت دی اندازہ مشکل ہے اور پھر اس کے خلاف کبر بھی لگا ڈالی قاعئین جب کسی شریف انسان کی خبر اخبار میں لگے تو وہ کتنا پریشان ہوتا ہے اس نے مجھے فون کر لے بتایا میں نے موصوف سے رابطہ کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہو سکا ان کے چیف رپورٹر جو میرے عشتہ دار ہیں کوکہا تو اس نے معزوری ظاہر کر دی تو میں نے ایک عوامی وفد کے حوالے سے خبر کی تردید لگائی تو موصوف سیخ پا ہو گئے اپنے اخبار میں مجھے اور عثمان اعوان کو نہ صرف للکارابلکہ یہ تک کہ ڈالا کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ پھیکیں پتہ نہیں ہم شیشے کے گھر میں بیٹھے تھے یا موصوف ان کا غصہ عروج پر پہنچ گیا۔
حالانکہ آئس کریم کا ڈبہ جو وہ چوری کر کے کھا چکے تھے وہ بھی اس غصے کو ٹھنڈا نہ کر سکا میں نے اس کا جواب دینا چاہا تو ملک ناصر قمر، ملک خالد ضمیر، ملک اشتیاق نے خوجہ نانر سلیم کی ہدایت پر مجھے روک دیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ بندے دا پتر بن گیا تو ہماری طرف سے اب کچھ نہ ہو گا میں نے جو کالم لکھا تھا وہ ہٹا کر ایک پرانا کالم اس کی جگہ لگایا جب دونوں اخبار مارکیٹ میں آئے تو موصوف کا بخار ایک بار پھر زور پکڑ گیا اور انہوں نے انپڑھ چرواہے کی طرح ایک آذاد نظم لکھ ڈالی یقین کریں کہ وہ اخبار کسی نے نہیں پڑھا ورنہ مجھے بتایا ضرور ہوتا یہ اخبار میں نے ملک اشتیاق سمیت چند دوستوں کو پڑھایا جنہوں نے اسے خوب کوسا مگر شائد ان کی چل نہیں رہی تھی اس لئے وہ خاموش ہو گئے۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگر ہمارے دوست درمیان میں اس کی خوش قسمتی بن کر سامنے آ گئے ہم نے خصوصی ایڈیشن کا اہتمام کرنے کا پروگرام بنایا جس میں مارچ میں بوچھال کلاں ہسپتال میں ملنے والے بچے کی سٹوری سمیت غیر قانونی کلینک اور غیر قانونی گیس ایکنسیز کی سٹوری شامل کرنے کا پروگرام بنایا تو موصوف نے واٹس اپ پر مجھے میسج دیا کہ وہ بچہ کس کی بیوی کا تھا ان کے اخبار میں پڑھئیے موصوف دونوں غیر قاقنونی کاموں میں ملوث ہیں اس لئے انہیں یہ خطرہ نظر آیا کہ کہیں ان کا نام نہ آ جائے۔
اگر ان کا نام آتا بھی تو میں اشاعت ہی روک دیتا کیونکہ میری زہنیت ایسی ہرگز نہیں ہے میں مزدوری کر کے کھاتا ہوں اور موصوف ،،،،،،؟ میں حکام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ چیک تو کریں کہ ہر ہفتے وہ اخبار نکالنے کی رقم کہا ں سے لیتا ہے کہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ تو نہیں بن رہا امید ہے حکام نوٹس ضرور لیں گے اگر یہ نہ ہوا تو میں یہ کام ضرور کروں گا۔
تحریر : ریاض احمد ملک
03348732994 malikriaz57@gmail,com
