Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہمیں انصاف چاہیے

January 6, 2016January 8, 2016 0 1 min read
Hanging
Hanging
Hanging

تحریر:ابنِ نیاز
قرطبہ کے قاضی یحییٰ بن منصور کے انصاف کا واقعہ شاید ہر پڑھے لکھے باشعور پاکستانی نے پڑھا ہو گا، سنا ہو گا۔ جب اس کے بیٹے سے قتل کا ایک جرم سرزد ہو گیا۔ کہاں کہاں سے سفارشیں نہیں آئیں۔ اس عورت نے ان کی منتیں کیں جس نے ان کے بیٹے کو پالا تھا۔ پورے کا پورا شہر اس حق میں بالکل نہیں تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ پھر اس لڑکے کے دیگر ساتھی پورے شہر کو خون میں نہلا دیتے۔ گلیوں کی گلیاں اجاڑ دیتے۔ نہیں، بلکہ اس لیے کہ پورا شہر سمجھتا تھا کہ زبیر نے یہ قتل برابر کی لڑائی میں کیا تھا۔ لیکن قاضی صاحب ہر گز نہ مانے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو موت کی سزا سنائی۔ پورے شہر میں ان کے بیٹے زبیر کو پھانسی دینے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔قاضی نے فتویٰ تو دے دیا تھا، لیکن اس پر عمل کون کرے، یہ کسی کو بھی گوارا نہ تھا۔ اگرچہ پھانسی کے وقت تمام شہر مرکزی چوک میں کھڑا تھا۔ لیکن کوئی بھی قدم آگے نہیں بڑھا پا رہا تھا۔ جب قاضی ایک سرکاری افسر کو کہتا ہے تو افسر کہتا ہے ان کے بیٹے کو پھانسی دینے سے پہلے وہ خود سولی پر کیوں نہ چڑھ جائے۔جب وقت قریب پہنچا اور کوئی بھی تیار نہ ہوا تو قاضی یحییٰ بن منصور خود آگے بڑھے اور اپنے بیٹے کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔

دوسری طرف ہمارے اس پیارے وطن میں ایک سولہ سالہ طالب علم کو ایک بڑے آدمی کی گاڑی ٹکر مار جاتی ہے۔ دسیوں گواہ بھی ہوتے ہیں۔ اور باقاعدہ پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اس بدمست نے اپنے گارڈ کے ساتھ مل کر زین نامی طالب علم پر فائرنگ کی تھی۔ کمال کی بات ہے، جب کیس عدالت میں پہنچا تو کیس پوری طرح تیار تھا۔پولیس نے کیس کو بہت مضبوط بنایا ہوا تھا۔ گواہوں کے بیانات ساتھ لف تھے۔ یہاں تک کہ مجرم کا کہنا تھا کہ پولیس لواحقین کے ساتھ مل کر اسے اور اس کے گارڈ کو اس کیس میں ناحق پھنسا رہی تھی۔ پھر دیر کسی بات کی ہوئی۔دس ماہ تک جب مقدمہ چلتا رہے، اور گواہان کو ہر بار گواہی کے لیے بلایا جائے، جب کہ وہ صرف گواہی دینے کی وجہ سے اپنے ضروری کام کاج بھی نہ سر انجام دے سکیں تو پھر کون گواہی کے لیے تیار ہو گا۔

اس کے بعد جب ان میں سے بھی کچھ گواہ آخر تک ساتھ نبھانے کی خاطر بھرپور تیاری میں ہوتے ہیں تو اچانک ساری کایا پلٹ جاتی ہے۔گواہان مکر جاتے ہیں۔ پولیس کاغذات میں کہانی ہی بدل جاتی ہے۔ اور ملزم بلکہ مجرم بری ہو جاتا ہے۔ مجرم نے ہر سطح پر اپنے جرم سے انکار کیا۔ اس کے مطابق زین ان کی فائرنگ سے ہر گز نہیں مارا گیا۔ اگر مجرم کی یہ بات درست مان لی جائے تو پھر فرانزک لیبارٹری کی اس رپورٹ کا کیا کریں گے جس میں گارڈ کی شرٹ پر لگے خون کے داغ کا گروپ زین کے گروپ سے میچ کر گیا۔گاڑی میںلگے خون کے داغ بھی زین ہی کے تھے۔اصولی طور پر تو یہ ایک ہی ثبوت کافی تھا۔ جب گواہوں نے پہلی بار گواہی دی تو وہ گواہی کافی ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن ستم بالائے ستم، ہمارے ملک کا قانون ہے تو بہت مضبوط، لیکن ایک معمولی ، انتہائی معمولی نقطے کو پکڑ کر مخالف وکیل پورے کیس کی دھجیاں اڑا لیتا ہے۔ ادھر بھی یہی ہوا۔ عدالت تو مکمل ثبوت مانگتی ہے، جب ثبوت نامکمل تھے، تو ملزم بری ہو گیا۔آج اس کی ماں کہتی ہے کہ اس نے مجرم کو معاف ہر گز نہیں کیا، لیکن قانونی دائو پیچ کے سامنے وہ ہار گئی ہے۔

Arrested
Arrested

ویڈیو ثبوت ہمارے سامنے ہے۔ جب ایک مشہور ماڈل ایئرپورٹ پراپنے ایک ساتھی کے ساتھ، جس کو ملک کے ایک سابق صدر کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ملک سے باہر لے جاتے ہوئے گرفتار کی گئی۔ جس کسٹم انسپکٹر نے گرفتار کیا، اس نے بہت سے ثبوت پیش کیے۔ جب گواہی دینے کی باری آئی تو شہنشاہ کی طرح اسے بھی دنیا سے رخصت کر دیا گیا۔ چودہ مارچ کو گرفتار ہونے سے لیکر چودہ جولائی ٢٠١٥ کے چار ماہ تک مختلف حوالوں سے بقول ماڈل کے اس کو تنگ کیا جاتا رہا۔ اس پر مختلف قسم کے دبائو ڈالے جاتے رہے کہ وہ اپنے جرم کو مان لے۔ اس جرم کو جو اس نے کیا ہی نہیں۔ چار ماہ تک اسے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ کیا پاکستانی پولیس یا قانون اتنا ہی اندھا تھا کہ ایک خاتون کو بنا کسی وجہ کے ساری دنیا کے سامنے جیل میں ڈال رکھا ہے اور اس کا قصور ہی کوئی نہیں۔ ماڈل صاحبہ کا کہنا تھا کہ اس پر جیل میں بہت دبائو ڈالا گیا۔ مختلف حیلے بہانوں سے انجان لوگ اس سے ملنے کے بہانے آتے رہے اور اس کو اپنا جرم ماننے کا کہتے رہے۔ اس کو کال کوٹھڑی میں بھی رکھا گیا۔ کیا یہ سچ ہے؟ جب کہ ہم نے میڈیا پر دیکھا، اخبارات میں پڑھا کہ اس کو تو وہاں پر نیٹ کی ، موبائل کی، میک اپ تک کی سہولت موجود تھی۔ کیا سب نہیں دیکھتے تھے کہ وہ جب عدالت میں پیشی پر جاتی تھی تو کس قدر تر و تازہ نظر آتی تھی۔ ہاتھ میں اس کے موبائل ہوتا تھا اور کسی نہ کسی سے باتیں کرتی ہوئی جاتی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ سادہ سا لباس پہن کر عدالت جاتی، اس کا لباس اس وقت بھی اگر لاکھوں روپے کی مالیت کا نہ سہی تو پچاس ساٹھ ہزار سے کیا کم ہو گا۔ باالآخر ضمانت پر اس کو رہا کر دیا گیا۔ شروع میں اسکا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ لیکن پھر کیاہوا؟ شاید میرے جیسا میڈیا اخبارا ت سے دور رہنے والے کو کچھ بھی نہیں معلوم۔

حضرت عمر فاروق کا بیٹا شراب پینے کے جرم میں گرفتار ہوا۔ اس پر حد جاری ہوئی۔ خلیفہ وقت نے خود اپنے ہاتھوں سے اس پر کوڑے برسائے۔ کوڑے مارنے کے دوران ہی بیٹے کی روح نکل گئی، لیکن انصاف کا تقاضا پورا کرنا تھا۔ انھوں نے اس کی نعش پر کوڑوں کی تعداد پوری کی۔ جب تک وہ خلیفہ تھے، تب تک ان کے ہاتھ نہیں کانپے۔ جب بیٹے کی نعش گھر لائی گئی، یہ گھر پہنچے تو بیٹے کی نعش کے قریب بیٹھ کر آنسو بہانے لگے۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا؟ اس وقت تو چہرہ پتھر کی طرح سخت تھا اور اب یہ حالت کیوں؟ فرمایا، تب میں اللہ کے حکم کی پاسداری کر رہا تھا۔ اگر میرے ہاتھ بھی لرز جاتے حکمِ خدا کی تکمیل میں تو میدانِ حشر میں خدا کو کیا کیا جواب دیتا۔ اب میں بحیثیت باپ کیا اتنا بھی اختیار نہیں رکھتا کہ افسوس کا اظہار بھی نہ کر سکوں؟ انہی خلیفہ کے دور میں حضرت عمروبن العاص کے بیٹے نے ایک شخص پر اس وقت ظلم کیا جب حضرت ابن العاص گورنر تھے۔ وہ شخص شکایت لے کرخلیفہ کے دربار میںپہنچا۔ حضرت عمر فاروق نے دونوں باپ بیٹے کو مدینہ بلایا۔ پہلے اس شخص کو اس بیٹے سے بدلہ لینے کو کہا جس کا باپ گورنر تھا۔ جب بدلہ ہو چکا تو حضرت عمر فاروق نے مشہور جملہ ارشاد فرمایا : ” اے عمرو! تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی مائوں نے ا نکو آزاد جنا تھا۔” کیا آج کے دور میں کوئی ایسا ہو سکتا ہے جو بنا دیکھے کہ جرم کرنے والا کون ہے، صرف ایک مضبوط ثبوت کی بنا پر مجرم کو شہر کے مرکزی چوک میں پھانسی پر لٹکائے۔ ہے کوئی ایسا انصاف کرنے والا! نہیں ہر گز نہیں!

Pakistan
Pakistan

جب تک مدعی کے مقدمے کو اسکے پوتوں تک نہ پہنچایا جائے گا، تب تک وہ مقدمہ کیسے کہلائے گا۔جب تک گواہوں کو دھمکایا نہ جائے گا، مقدمے کے کاغذات کو ردی میں ڈال کر انگاروں میں سرخا نہ جائے گا، وہ مقدمہ کیسے کہلائے گا۔ اگر پاکستان میں مقدموں کا فیصلہ دنوں اور ہفتوں میں ہونے لگے تو پھر وکیلوں کا گھر کیسے چلے گا؟ اگر یہ وکیل وقت پر عدالت پہنچیں، اپنے مؤکل کو بر وقت حاضری کا کہیں، لفظوں سے کھیلنے کی بجائے سیدھا سیدھا مقدمہ پیش کریں۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جج کو فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش آئے۔ یاد نہیں کونسا ملک ہے، امریکہ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی یا کوئی اور۔ ایک واقعہ یادآگیا۔ ایک لڑکی کی جب اس کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی، عزت لوٹی گئی۔ اس کو اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی کہ اسکے کیا کرنا چاہیے۔ بعد میں بارہ سال بعد جب اس کی شادی ہوئی۔ اس نے اپنے شوہر سے ذکر کیا ۔ یہ اگر پاکستانی معاشرہ ہوتا تو شوہر نے اس کو طلاق دینے کی بجائے گولی سے اڑا دینا تھا۔ جب کہ اس غیر مسلم شوہر نے اس کو تسلی دی کہ جو ہو گیا ہوگیا، انکی زندگی میں اس بات کی بنیاد پر کوئی مسلہ نہیں ہو گا۔

پھر وہ شوہر اپنی بیوی کو عدالت لے گیا۔ بارہ سال پہلے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے انصاف حاصل کرنے کی خاطر مقدمہ دائر کر دیا۔اگر پاکستان یا ہندوستان ہوتا تو ہمارا قانون ٹائم بار (یعنی بہت وقت گزر چکا ہے، سارے ثبوت مٹ چکے ہیں )کہہ کر کبھی بھی مقدمہ درج نہ کرتا۔ خیر وہاں مقدمہ درج ہوا۔ لڑکی کے ٹیسٹ کیے گئے۔ حیران کن بات ہے کہ بارہ سال پرانے ڈی این کے ٹیسٹ بھی ہوئے۔ جس شخص نے اس کی عزت لوٹی تھی چونکہ لڑکی نے اس کا نام اور پتہ تک دیا تھا، اس کو لایا گیا۔ اس کا ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ لڑکی کی غیر موجودگی میں اس سے پوچھا گیا، تو تھوڑی سی تفتیش کے بعد وہ مان گیا کہ اس نے یہ غلطی کی تھی۔ کیا فیصلہ ہوا؟ وہ لڑکی جیت گئی۔بارہ سال بعد اس کو انصاف ملا۔ اس شخص کو سزا ہوئی ۔ جتنی بھی ہوئی وہ اس ملک کے قانون کے مطابق تھی۔ مقدمہ دائر کرنے سے لی کر فیصلہ ہونے تک صرف دو ہفتے لگے۔

پاکستان میں ہمیں حضرت عمر فاروق جیسے حکمران کی ضرورت ہے۔ ہمیں یحییٰ بن منصور جیسے قاضی کی ضرورت ہے۔ اور ضرورت ہے تو ایسے نظام کی جو ہر پست کو بالا کر دے۔ اور وہ نظام ہے صرف اسلام کا نظام۔ جو اس کو قائم کرے گا، چاہے وہ جناب نواز شریف صاحب ہوں، یا کوئی اور، اللہ کے دربار میں موجود اٹھارہ کروڑ پاکستانی اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ وہ گواہی دیں گے کہ اس شخص نے اللہ کے دیے ہوئے پیارے پاکستان میں اس وقت اے اللہ،آپ کے دین پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا، جب ہر سو ، چار سو افرا تفری، بے امنی، دہشتگردی، بے حیائی، اپنے پورے عروج پر تھی۔ تب اس آپ کے بندے نے ہمیں صراطِ مستقیم پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ خود بھی اس راہ کا مسافر ہوا، اور ہمیں بھی اپنی اقتداء میں چلنے کا حکم دیا۔ اے اللہ اس کی مغفرت کیجئے۔ سوچئے کون یہ کامیابی نہ حاصل کرنا چاہے گا؟ ضرور سوچیے۔

Ibn e Niaz Logo
Ibn e Niaz Logo

تحریر:ابنِ نیاز

Share this:
Tags:
city justice Pakistani state انصاف باشعور پاکستانی تیار سرکاری شہر لڑائی
Nawaz Sharif Health Programme
Previous Post صحت پیکج، غربت اور تندرستی ہزار نعمت ہے
Next Post پی پی 89 پیر محل میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری
Election

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close