Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جب تک ہم خود انصاف نہیں کریں گے

October 5, 2016 0 1 min read
Justice
Justice
Justice

تحریر : مسز جمشید خاکوانی
اگر ہر انسان خود کو دوسرے کی جگہ پہ رکھ کر سوچے تو اس سے کبھی بے انصافی نہ ہو ہم سب کا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تو الزام دینے میں جلدی کرتے ہیں لیکن اپنا قصور قبول نہیں کرتے یہ ہماری کمزوری ہے یا مجبوری یا خودغرضی یا معاشرے کا جبر لیکن ہم کبھی بھی اس وقت تک معاشرتی رویوں کو تبدیل نہیں کر سکتے جب تک ہم سب اپنے اپنے کردار ادا نہ کریں جو بحیثیت انسان ہم پر واجب ہوتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ حق کی را بڑی کٹھن ہوتی ہے اس پر چلنا آسان نہیں لیکن جب لوگ چلتے رہتے ہیں تو کاروان بنتا رہتا ہے تب منزل ملتی ہے ورنہ یہ جذباتی تقریریں، اصلاحی تحریریں وقتی طور پر واہ واہ تو کرا سکتی ہیں ان سے معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں۔

یا پھر ہم کسی ایک آدمی کے پیچھے لگ جاتے ہیں کبھی اسکی جے جے کار کرتے ہیں اس کو سر پہ بٹھا لیتے ہیں لیکن اس خاکی پتلے سے ذرا سی غلطی ہو اسے زمین پہ دے ماریں گے تعریفوں کے پھول گالیوں کے پتھر بن جاتے ہیں کہ وہ بے چارہ یہ پتھر سہہ سہہ کر یا تو خود بھی پتھر بن جاتا ہے یا آگے چلنے سے توبہ کر لیتا ہے اس لیے ہمیں آج تک اچھی قیادت نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ہم کسی کو اچھا رہنے ہی کب دیتے ہیں ذرا سوچیے ایک لڑکی تقریر کر رہی تھی کہ عالی وقار سن سکتے ہو تو سن لو جب کوئی جاگیردار کسی غریب مزارع کی بیٹی کو اٹھا کے لے جاتا ہے تو اس ظلم پہ آسمان بھی روتا ہے لیکن میں اس سے پوچھتی ہوں ظالم جاگیردار کبھی خود لڑکی اٹھانے نہیں جاتا اس کے ساتھ اس کے کارندے ہوتے ہیں یا لڑکی اٹھانے صرف کارندے جاتے ہیں جو ایک جاگیردار کے ایما پر اپنے ہی جیسے کسی غریب کی بیٹی کو اٹھا کے جاگیردار کے عشرت کدے میں پہنچاتے ہیں ۔

وہ کارندے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں وہ اس ظلم سے انکار نہیں کرتے کیوں؟ایک ظالم چودھری کسی غریب کاشکار پر کتے چھڑوا رہا ہوتا ہے وہ یہ کتے خود نہیں چھوڑتا اس کے پالتو ملازم چھوڑتے ہیں وہ خود بھی غریب ہوتے ہیں تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں وہ چودھری کو اس ظلم سے باز نہیں رکھتے بلکہ قہقہے لگاتے ہیں کیوں؟ایک محلے کے اندر ایک جعلی دودھ بنانے والی فیکٹری لگتی ہے محلے کے کچھ لوگ اس میں ملازمت بھی حاصل کر لیتے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے یہ زہریلا دودھ بناتے ہیں جو قوم کے معصوم بچوں کے حلق سے اتارا جاتا ہے وہ جانتے بھی ہیں اور تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں لیکن وہ اس ایک مالک کو اس گھنائونے جرم سے باز نہیں رکھتے کیوں؟ایک ادارے میں کرپشن ہو رہی ہے سینکڑوں ملازم دیکھ رہے ہیں یہاں غلط کام ہو رہا ہے لیکن وہ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اس جرم کی راہ نہیں روکتے کیوں؟جعلی اور بوگس ووٹوں کی وجہ سے ایک سچا آدمی اپنی سیٹ سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ ضمانت ضبط کروا بیٹھتا ہے صرف اس لیے کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے اس کے پاس غنڈے بدمعاش نہیں ہوتے اور ایک کرپٹ ،لٹیرا ، بدمعاش وہی سیٹ آسانی سے جیت لیتا ہے حلقے کے لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس میں دھاندلی ہوئی ہے خاموش رہتے ہیں سچ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے کیوں؟الیکشن کمیشن قوم کے ٹیکسوں پر پلنے والا ایک ادارہ ہے وہ جانتا ہے۔

Election
Election

الیکشن میں کس نے دھاندلی کی کس نے اثاثے چھپائے کون نا جائز دبائو ڈال رہا ہے وہ یہ سب جان کر بھی اس دھاندلی کا حصہ بن جاتا ہے کیوں؟عوام کے ووٹوں سے بنی پارلیمنٹ جس میں بیٹھے سب وزیر مشیر ارکان اسمبلی عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کر رہے ہوتے ہیں فری بجلی ،فری گیس ،فری گاڑیاں ،فری پیٹرول فری علاج معالجہ ،فری کھابے ،مفت کے فارن ٹوور وہ کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ حکومت نے ان سے ڈیسک بجوا کے جو بل پاس کروایا ہے وہ ہے کیا کہیں اس میں غریب عوام کو رگڑا تو نہیں لگایا گیا کہیں ملکی سلامتی کو دائو پر تو نہیں لگایا گیا وہ بل کی کاپی پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے کیوں؟سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ جو خود نان کوالیفائڈ ہوتے ہیں وہ جانتے ہیںکہ ہم صرف تنخواہیں وصول کرنے آتے ہیں کیونکہ بچے یا تو ٹیوشن پڑھتے ہیں یا ماں باپ کو سر کھپانا پڑتا ہے ان کا کام صرف ہوم ورک دینا ،آئے روز طرح طرح کے فنڈز لینا اور تنخواہ وصولنا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں ہم اپنی نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی روش نہیں بدلتے کیوں؟ڈاکٹر کو اپنے پیشے سے عشق ہوتا ہے وہ انسانیت کی خدمت کا درس لے کر اس فیلڈ میں آتا ہے لیکن جب وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ انسانیت کو فائدہ پہنچا سکے وہ اپنا فائدہ سوچنے لگتا ہے اپنا کلینک اپنا ہسپتال کھڑا کرنا لمبی لمبی فیسیں بٹورنا ،گھنٹوں مریضوں کو انتظار کرانا ،ان کی آہوں چیخوں سے سرف نظر کرنا اس کا وطیرہ بن جاتا ہے۔

وہ کبھی یہ نہیں سوچتا کہ اگر میں ہفتے کا صرف ایک دن غریب مریضوں کے لیے وقف کر دوں ان سے فیس نہ لوں اس کا اجر اللہ دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیوں؟ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں ڈاکٹر کم ہوتے ہیں نائٹ ڈیوٹیوں نے انہیں بے حال کیا ہوتا ہے بڑے ڈاکٹروں کی عدم موجودگی انہیں کنفیوز کر دیتی ہے کئی مریض ان سے سنبھلتے نہیں جن کی جان چلی جاتی ہے لیکن مریضوں کے لواحقین یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس ڈاکٹر کو ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اس ڈاکٹر کا گریبان پکڑ لیتے ہیں اس پر تشدد کرتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں کیوں؟ایک وکیل یہ جانتا ہے کہ اس کے پاس آنے والا سائل اس کی ذمہ داری ہے وہ اس سے لمبی فیسیں بٹورتا ہے اور لمبی لمبی پیشیاں ڈلواتا ہے وہ جانتا ہے یہ سائل اپنا مال مویشی بیچ کر یا گھر گروی رکھ کر یا سود پے رقم اٹھا کر اس کی فیس بھر رہا ہے لیکن وہ اس پر ترس نہیں کھاتا کیوں؟ایک جج جو انصاف کی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے وہ عرش کے سائے میں ہوتا ہے اس پر بڑی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن وہ کسی صاحب اقتدار کی تڑی پر یا کسی بدمعاش کے خوف سے یا وزنی لفافہ وصول کر کے انصاف کا خون کر دیتا ہے اس کو اللہ کا خوف نہیں آتا کیوں؟ایک دکاندار یا کاروباری تاجر جو اگر ایماندار ہو تو اللہ کے نبی کے ساتھ کھڑا ہوگا لیکن وہ جانتے بوجھتے غلط مال بیچتا ہے دو نمبریاں کرتا ہے ٹیکس بچاتا ہے فراڈ کرتا ہے۔

Law
Law

اس کو اپنے مرتبے کا پاس نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے نبی کے ساتھ کس طرح کھڑا ہو گا کیوں؟معاشرے میں حرام حلال کی تقسیم کے زمہ دار لوگوں کو مری ہوئی مرغیاں،بیمار جانوروں کے گوشت ،حتی کے کتے اور گدھے تک کھلا رہے ہیں ان کو ان کا ضمیر ملامت نہیں کرتا کیوں؟ہمارے حکمران جو خدا کا سایہ کہلاتے ہیں ان ساری برائیوں کے ذمہ دار ہیں یہ کوئی جواب نہیں ہے کہ فلاں نے ایسا کیا تو ہم کیوں نہ کریں جو اگر چاہیں تو ہر برائی کو اپنے قلم کی ایک نوک جنبش سے ٹھیک کر سکتے ہیں وہ اپنے عہدے پر ملک و قوم کی بھلائی کا حلف اٹھا کر براجمان ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے ہی بنائے قانون سے کھلواڑ کرتے ہیں عوام کا استحسال کرتے ہیں قومی خزانے کا بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اپنی جائدادیں بناتے ہیں قوم کو بھوک ننگ اور قرضوں میں جکڑ دیتے ہیں قوم کی حفاظت کرنے والوں کو صرف اپنی حفاظت پر معمور کر دیتے ہیں جس عوام کی کمائی خرچ کرتے ہیں ان کے قریب جانا گوارہ نہیں کرتے صرف ووٹ مانگتے وقت شکل دکھاتے ہیں ان کو اس فعل پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی کیوں؟پولیس کا ہے فرض مدد آپکی لیکن وہ لوگوں کی چھتیں ٹاپتی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتی نظر آتی ہے جعلی مقابلوں میں لوگوں کو پار کرنا ملزموں کو مجرم بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اپنے اس شرمناک کردار پر انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی کیوں؟ہمارے علمائے دین جن پر امت کی رہنمائی کا فریضہ عائد ہوتا ہے وہ اس کام کو چھوڑ کر صرف پلاٹوں اور پرمٹوں کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اپنے گھر میں ہر وزارت کا مزہ چھکنا چاہتے ہیں۔

جو لفافہ لیکر فتوے بیچتے ہیں جو احترام آدمیت کا درس دینے کی بجائے فساد اور نفرتیں پھیلاتے ہیں جو مسجدوں کو امن کی بجائے سازشوں کا گہوارہ بنا دیتے ہیں جو معصوم بچوں کو اپنے اپنے مسلک کا پیروکار بنا کر دین کو متنازعہ کر دیتے ہیں وہ دین جس کے لیے اللہ کے رسول نے اپنے آخری خطبے میں کہا تھا دین کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی نہیں بھٹکو گے لیکن وہ بھٹک گئے ہیں کیوں؟ ایک ہمارے قلم کے جادوگر ہیں جن کواللہ نے قلم کی قسم کھا کر ان کے ہاتھ میں قلم تھمایا ہے وہ آج سب سے زیادہ برائیوں میں لتھڑے ہوئے ہیں عیش و عشرت کے لیے اپنے منصب سے گر گئے ہیں وہ کہتے ہیں اگر کرپٹ سیاستدان ختم ہو گئے تو ہماری روزی روٹی کا کیا ہو گااگر کوئی ایماندار لیڈر آ گیا تو وہ سب سے پہلے ہمیں جیلوں میں ڈالے گا اپنے قلم سے معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کرنے والے صرف لفافوں اور پلازوں میں بٹ گئے ہیں کیوں؟جب میں ان سب سے مایوس ہوتی ہوں تب مجھے صرف ایک ہی ادارہ باقی بچا نظر آتا ہے وہ ہے پاک فوج ،جس کی کوئی ذات نہیں ،جس کا کوئی مسلک نہیں ،جو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرتی ہے جو اپنی تنخواہ بڑھانے کے لیے کبھی سڑکوں پہ نہیں آتے ،جو ہر لمحہ ملک و قوم کی حفاظت کے لیے چوکس رہتے ہیں جو اپنی قوت ،اپنی استعداد یہ سوچ کر بڑھاتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کر سکیں نہ کہ تنخواہ بڑھائیں جو ملک اور ملک سے باہر اپنے وطن کے سفیر ہوتے ہیں جن کے سینے پر صرف ان کا نام لیکھا ہوتا ہے عہدہ نہیں وہ سپاہی مقبول حسین ہو یا آرمی چیف راحیل شریف جو پاکستان زندہ باد کہنے کے لیے جان لٹا دیتے ہیں اور مردہ باد نہ کہنے کے لیے زبان کٹوا دیتے ہیں۔

Mrs. Jamshed Khakwani
Mrs. Jamshed Khakwani

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

Share this:
Tags:
floor justice Mrs. Jamshed Khakwani Society Speeches انصاف تقریریں معاشرے منزل
Gulbuddin Hekmatyar
Previous Post کابل کے قصائی حکمت یار کی واپسی
Next Post عمران خان کی ضد؟ پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس
Parliament

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close