کراچی : مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں سی ڈی آفیسر چودھری اسلم کی شہادت پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودھری اسلم کی شہادت سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے طالبان ناسور کا ملک سے خاتمہ ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا جس میں 3 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔
طالبان سے مذاکرات کے حامی بتائیں کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا باغی طالبان کے ساتھ۔ جو لوگ مساجد، امام بارگاہیں، بازار، گرجہ گھر، جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس، کامرہ ائیر بیس اور قومی املاک تک کو نہیں بخشتے وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دن رات طالبان کے حق میں باتیں کرنے والی کیوں اُس وقت زبان بند ہوجاتی ہے جب آرمی کے میجر شہید کردئیے جاتے ہیں اورچودھر اسلم جیسے فرض شناس آفسیر تک نشانہ بنا دئیے جاتے ہیں۔
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہناتھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت فیصلہ کرے کہ وہ کس کے ساتھ ہے، آیاریاست بچانی ہے یا طالبان ؟، ہمارا پہلے دن موقف یہی ہے کہ ریاست کے باغیوں سے کسی صورت مذاکرات نہیں ہونے چاہیں۔ جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، قومی اسمبلی اور سینٹ سمیت سپریم کورٹ تک نہیں مانتا اور اپنی من پسند سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں ان کیخلاف فی الفور بے رحمانہ آپریشن کیا جائے۔
