Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کراچی ہلاکتیں اور حکومت

June 25, 2015 0 1 min read
Dead Bodies
Dead Bodies
Dead Bodies

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
ابھی کراچی میں گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اموات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، شہر کے اسپتالوں گلی محلوں شاہراہوںاور بازاروں میں موت رقص کر رہی ہے، مگر حکمرانوں کو لاشوں پر سیاست کی لگی پڑی ہے، اپنے حکمرانوں، سیاستدانوں اور قومی اداروں کی نااہلی اور ناکامیوں کی وجہ سے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ کر مسائل اور پریشانیوں میں گھیرے رہنے کے بعد اپنے مُلک پاکستان (مسائلستان) سے بے گوروکفن مُلک عدم کے سفر پر روانہ ہورہے ہیں، یوں عوام کی بے کسی اور بے بسی میں مرناجمہوراور جمہوریت کے پُجاری حکمرانوں،سیاستدانوںاور عوامی خدمات کے دعوےدار قومی اداروں کے سربراہان کے منہ پر طمانچہ ہے،آج جن کی نااہلی اور فرسودہ حکمتِ عملی اور ناقص منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں شہرکراچی میں معصوم افراد کی ہلاکتیں ہوئیںآج جن پر افسوس کرنے کے بجائے ہمارے حکمران، سیاستدان اور اداروں کے سربراہان اپنی ذمہ داریاں ڈھٹائی سے ایک دوسرے کے کاندھوں پر ڈال کر خود بچ نکلنے اور اپناسیاسی قداُونچاکرنے کے چکرمیں لگے پڑے ہیں۔

جس کا مظاہرہ گزشتہ دِنوںسندھ کے وزیراعلیٰ سیدقائم علی شاہ کی قیادت میں اراکین سندھ اسمبلی اور وزراءسمیت دیگر حکومتی شخصیات نے وفاقی حکومت کے خلاف دھرنادے کر کیا اورکراچی میں مرنے والوں اور اِن کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی آڑ میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی مُلک سیاسی جماعتوں سارے مُلک میں جمعے کے روز یومِ سوگ کا اعلان کرکے جیسے بے گوروکفن مرنے والوں کی لاشوں کی جیسے بے حرمتی کی ہے اور لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کی …ایسانہیں ہوناچاہئے تھاجیساکہ حکمرانوں سے لے کرسیاستدانوں اور اداروں نے کیا اور کریںگے ،آج شائد کسی نے بھی شہرکراچی میںتڑپ تڑپ کرمرنے والوں کی لاشوں سے کوئی سبق نہیں لیا ہے ، کیوں کہ کوئی سبق سیکھناہی نہیںچاہتاہے،آج وہ یہ بھول گئے ہیںکہ جون پھرآئے گا، اور ہمیشہ آئے گا، یہ نہیںبھی ہوں گے تو پھر بھی آئے گا، اور جب تک دنیاقائم رہے گی جون آتارہے گایہ بات ہمارے حکمرانوں سیاستدانوں اور قومی اداروں کے سربراہان کو سمجھنی چاہئے کہ ابھی وقت ہے کہ یہ ایساکوئی کام کرجائیں کہ آئندہ جب بھی جون یا کوئی اور بھی گرم مہینہ آئے تو پھر کسی مہینے میںآگ برساتے سورج کی گرمی گردی سے صرف ایک شہرکراچی ہی کیا میرے دیس پاکستان کے کسی بھی صوبے ، شہر، گاو¿ں یا محلے کے غریب لوگ اِس طرح گرمی گردی سے پھرنہ مریں جس طرح آج شہرکراچی میں موسمِ گرماکے گرم مہینے جون میں معصوم پاکستانی بے یارومددگارکی تصویر بنے اپنی زندگیوں کی بازی ہارگئے اور قبروں کی آغوش میں چلے گئے۔

اگرچہ آج صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور کے الیکٹرک سمیت مُلک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کرنے والے ادارے عوامی مسائل حل کرنے یا کرانے میں اپنی ذمہ داریاں اداکررہے ہوتے تویوںشہرِکراچی میں سورج کی گرمی گردی اور محکمہ کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی سے ہزاروں غریب لوگ قبر کی آغوش میںنہیں چلے جاتے اور یوں کے الیکٹرک ،عوام صوبائی اور وفاقی حکومتیںآمنے سامنے نہ ہوتیں جیسے کہ یہ سب کے سب زبانوں کے تیزوتُندنشتراور ایک دوسرے کے خلاف جملے بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہاتھوں میں سنگ اُٹھائے ایک دوسرے کا سرپھوڑنے کے درپے ہیں،اِن کے ایساکرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اِنہیں آپس میں لڑنے اور اپنی اپنی ذمہ داروں سے دامن بچانے کے بجائے اپنی نااہلیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کی دیرپااور پائیدارحکمتِ عملی کے بارے میں سوچنااور منصوبہ بندیاں کرنی چاہے تاکہ آئندہ پھر ایسانہ ہوجیساکہ آج شہرکراچی میں ہوگیاہے اَب بلیم گیم کا سلسلہ ختم ہوجاناچاہئے اور ایک دوسرے پر سیاسی بازی لے جانے اور ایک دوسرے کی کردارکشی کرنے اور نیچادیکھانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگاکیوں کہ جولوگ حکمرانوں سیاستدانوں اور اداروں کی اِسی لڑائی کی وجہ سے مرگئے ہیں اَب وہ تو واپس نہیں آئیںگے مگر ابھی جو زندہ ہیںاِنہیں تو ضرور بچایا جا سکتا ہے۔

Load Shedding
Load Shedding

بہرحال …!!کراچی میں آگ برساتے سورج اور بڑھتی ہوئی گرمی میں کے الیکٹرک کی نجی ظالم انتظامیہ کی طرف سے اعلانیہ و غیراعلانیہ اور فنی خرابی کے بہانے گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث سیکڑوں (ہزارابارہ سو)ہلاکتوںپر وزیرمملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے اپنے غم و غصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کی ذمے دار پیپلز پارٹی ہے ، کے الیکٹرک کو مطلوبہ بجلی فراہم کررہے ہیں ، اگر اِس ادارے کو ٹیک اوور کرناپڑاتو پیچھے نہیں ہٹیں گے،“جس پر کے الیکٹرک کی ظالم انتظامیہ کے ہاتھوں ستائے ہوئے اہلیانِ کراچی عابد شیر علی کو سلام پیش کرتے ہیں اور اِن سے کہتے ہیں کہ اِس نیک کام میں ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے ادارے کوقومی تحویل میںلے لیاجائے تو اہلیان کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کی ظالم انتظامیہ سے نجات مل جائے گی جبکہ دوسری طرف عابدشیرعلی کے جذباتی مگر حقیقت پر مبنی بیان کے برعکس ن لیگ کے ہی وفاقی وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف نے ہاتھ جوڑ کرمعذرت خواہانہ لہجے میں کہاکہ” کے الیکٹرک کو ٹیک اوورکرنے کی کوئی تجویز زیرغورنہیں “ جس پر عوام کو ایسالگاکہ جیسے سندھ حکومت تو سندھ حکومت ہماری وفاقی حکومت بھی کے الیکٹرک کے سامنے بے بس ہوگئی ہے اور اِس کے ساتھ ہی خواجہ آصف کا یہ کہنابھی اہلیانِ کراچی کے لئے پریشانی کا باعث بناکہ ” کے الیکٹرک کے کسی بھی ایسے رویئے پر جس کی وجہ سے کچھ بھی ہوجائے ہمارااِس پر حق نہیں ہے اِس پر ہم کچھ نہیں کرسکتے ہیں“ حالانکہ آج یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کے الیکٹرک میں 25سے26فیصدحصص میں وفاقی حکومت بھی حصہ دار ہے اِس پر وفاقی وزیرخواجہ آصف کا یہ کہناکہ ہماراکے الیکٹرک سے پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے“ کیا یہ ظاہر کرتاہے کہ حکومت نج کاری کے بعد کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے کچھ پوچھ گچھ کرنے کی بھی حقدار نہیں ہے ..؟؟کیا حکومت نے اپنے قومی اداروں کی نجی کاری منصوبوں کو اتنابے لگام کردیاہے کہ قومی اداروں کی نج کاری کے بعد کوئی بھی نجی انتظامیہ سرزمینِ پاکستان میںکچھ بھی کرتی پھرے تو حکومت اِس سے پوچھنے والی نہیں ہوگی..؟؟۔

جیساکہ آج قومی اداروں کی نج کاری کی دلدادہ ن لیگ کی حکومت نے ” کے الیکٹرک “ کی انتظامیہ کے حالیہ بے حس رویوں پر اِس سے پوچھ گچھ کرنے سے معذرت کرلی ہے اور‘ اِسے بے لگام چھوڑدیاہے اور کراچی کے شہریوں کو کے الیکٹرک کی منافع خورانتظامیہ کے ظالمانہ رویوں کی نظرکرکے خود کو بچالیاہے اور شہرکراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کی ظالم انتظامیہ کے بے رحمانہ رویوں پربے یارومددگارچھوڑدیاہے کیا یہی ن لیگ کی حکومت کا قومی اداروں کو نج کار ی کے بعد کا رویہ رہے گاتو پھر ایسی حکومت اور اِس کے قومی اداروں کی نجی کاری منصوبوں کو پاکستانی قوم پوری قوت سے مستردکرتے ہیں اوراَب آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے پُرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی نااہلی پر کے الیکٹرک کو دوبارہ حکومتی تحویل میں لیں اور اِسے پھر سے کے ای ایس سی کا نام دے کر مُلک کا ایک فعال ادارہ بنائیں اور شہر قائد میں کے الیکٹرک کی نااہل انتظامیہ کی وجہ سے سیکڑوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر کراچی اور دُبئی میں بیٹھی کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلاکر اِنہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں اور ن لیگ کی حکومت کو متنبہ کریں کے وہ قومی اداروں کو نج کار ی کے نام پر کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کے عمل سے رک جائے۔

آج ایساپاکستان کی تاریخ میں پہلی بارہواہے کہ صرف شہرِ کراچی میںگرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک اور ڈائریا کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 1000سے تجاوزکرچکی ہے جو کہ نہ صرف سندھ حکومت اور اہلیانِ کراچی بلکہ وفاقی حکومت کے لئے بھی باعثِ تشویش ہونی چاہئے تھی مگر ایسانہیں ہواہے جس کی اہلیان کراچی اپنی سندھ اور وفاقی حکومتوں اور شہرِ کراچی سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے توقع رکھے ہوئے تھے ،بلکہ آج دنیاکے بارہویں انٹرنیشنل شہرکراچی میں اتنی بڑی تعدادمیں گرمی میں(دومرتبہ پہلے سابق آمرجنرل پرویزمشرف اور دوسری بار آصف علی زرداری کے دورِحکومت میں فروخت ہونے والے ادارے) کے الیکٹرک کی نااہلی کی وجہ سے اعلانیہ ، غیراعلانیہ اور دانستہ فنی خرابی کا بہانہ کرکے کی جانے والی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں پر دونوں (سندھ اور وفاقی حکومتوں اور مُلک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کی )جانب سے اپنااپناسیاسی قداُونچاکرنے کے لئے سیاسی داو¿پیچ اور مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں اوراِن سب ہی کی جانب سے مختلف بہانوں سے کے الیکٹرک کی نااہل انتظامیہ کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار قراردے کر معاملے کو گھومانے کی کوششیں کی جارہی ہے،اور عوام کے سامنے یہ شوکیاجارہاہے کہ انہیں شہرکراچی میں پڑنے والی گرمی اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی ذراسی نااہلی اور فرسودہ حکمتِ عملی کی وجہ سے طویل لوڈشیڈنگ کے باعث اتنی بڑی تعدادمیں ہونے والی ہلاکتوں پر بڑادُکھ ہے۔

Karachi Heat Deaths
Karachi Heat Deaths

مگر دراصل ایسانہیں ہے جیساکہ حکومت سندھ اور وفاق سمیت کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے شہرکراچی کے باسیوں کو باروکرایاجارہاہے، حقائق اِس کے یکدم برعکس ہیں کیونکہ آج سے آٹھ نو سال قبل جب سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والے پرانے ادارے محکمہ کے ای ایس سی کی نج کاری کی جارہی تھی، تب سندھ اور وفاق سے تعلق رکھنے والی تمام بڑی جماعتوں کی پوری مرضی شامل تھی کہ محکمہ کے ای ایس سی کو نجی تحویل میں دے دیاجائے یوں محکمہ کے ای ایس سی نجی تحویل میں چلاگیاتب سے آج تکجس کی پرائیویٹ انتظامیہ نے سوائے اپنانیانام ” کے الیکٹرک “ رکھنے کے ادارے میں کوئی تبدیلی اور ترقی نہیں کی ہے ، یعنی یہ کہ آج شہرکراچی میں نئے نام کے الیکٹرک سے متعارف ہونے والے ادارے کی انتظامیہ نے آٹھ نو سالوں کے دوران سوائے شہرکراچی کے عوام سے بوگس اورزائد بلنگ سے رقمکمانے کے اپنے صارفین اور ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لئے ا یک یونٹ بجلی بھی خود سے پیدانہیں کی ہے بلکہ آج یہ حقیقت ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو وفاق سے ایک معاہدے کے تحت 650میگاواٹ جو بجلی مل رہی ہے یہ اِس پر ہی اپنی دُکان چمکارہی ہے جس کے لئے کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے شہرِ کراچی میں لوڈشیڈنگ کاپریشان کُن اور جان لیوا شیڈول متعارف کرایااور یوں تب سے آج تک کے الیکٹرک کی انتظامیہ اِس پر سختی سے عمل پیراہے اور جیسے جیسے وقت گزرتاجارہاہے کے الیکٹرک کی انتظامیہ اپنے اِس فنِ لوڈشیڈنگ میں اپنے صارفین کو بجلی چوری کا الزام لگاکر اوسط بلنگ جاری کررہی ہے اور اپنے فنِ لوڈشیڈنگ میں مہارت حاصل کرتی جارہی ہے اور آج یہ اپنی اِس اِنسانیت سوز مہارت میں اتنی یکتااور بے مثال ہوگئی ہے کہ پچھلے پانچ دِنوں سے شہرِ کراچی میں آگ برساتے سورج اورظالم کے الیکٹرک کی اعلانیہ ، غیراعلانیہ اور فنی خرابیوں کا ڈھونگ رچاکر بجلی بچانے کی ڈرامہ بازیوں کی وجہ سے 1000سے زائد افرادکی ہلاکت نے کے الیکٹرک کی منافع خور انتظامیہ کی نااہلی کی قلعی کھول دی ہے، آج جس پرکے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف کراچی کے عوام سراپااحتجاج ہیں ، ابھی جب میں یہ سطوررقم کررہاہوں تواِس دوران بھی کراچی کی کوئی گلی کوئی محلہ اور کوئی شخص ایسانہیں ہے جو کے الیکٹرک کے ظالمانہ رویئے کے خلاف احتجاج کی صورت میں اپنا غصہ ریکارڈ نہ کروا رہا ہوں۔

اگرچہ گزشتہ دِنوں محکمہ کے ای ایس سی کی نج کاری کے بعد نئے نام سے متعارف کئے جانے والے ادارے کے الیکٹرک کی ظالم انتظامیہ کی جانب سے کراچی کے صارفین بجلی کے رویوں کے خلاف آٹھ نو سالوں بعدسندھ اسمبلی کے اجلاس میں پہلی بار اراکین اسمبلی نے آوازِ احتجاج بلند کی ،جس میں اُنہوں نے (اِس رمضان المبارک اورمنہ توڑسینہ زورگرمی کے مہینے یعنی کہ ) ماہِ رواںمیں کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی طرف سے اپنے صارفین کے ساتھ روارکھے گئے ظالمانہ رویوں جس میں روزانہ کی بنیادپر اعلانیہ ، غیراعلانیہ اور فنی خرابیوں کا ڈھونگ رچاکر طویل لوڈشیڈدنگ کے جاری سلسلوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاگیاکہ ”کے الیکٹرک انتظامیہ شہرِ کراچی کے صارفین کی خدمت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، جس کی کارکردگی کی قلعی پانچ دِنوں میں پڑنے والی گرمی اور شہربھر میں ہونے والی طویل لوڈشیڈنگ سے کھل گئی ہے اوراِس گرمی کے موسم میں اِس کی نااہلی کا ثبوت یہ ہے کہ شہرمیں بجلی کے طویل تعطل کے باعث پانچ دِنوں میں ہونے والی1000افرادکی ہلاکتیں ہیں ، سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے کراچی میں گرمی کے باعث ہلاکتوں پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ہلاکتوں کا ذمہ دارکے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کو قراردیا،اُنہوں نے ہلاکتوں کے ذمہ دار کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیااور کہاکہ کراچی میں ہلاکتوں کے ذمہ دار یہی ہیںجن کے خلاف مقدمہ درج کیا جانامحرومین اور اِن کے لواحقین کے ساتھ انصاف دِلانے کے مترادف ہے۔

بہرحال …!!کیاقیامت خیز گرمی اور اِس گرمی میں پانی و بجلی سے محروم شہر کراچی میںہزاربارہ سوتک ہونے والے معصوم انسانوں کی ہلاکت و شہادت پر سندھ اور وفاق کے ٹھنڈے ایوانوں میں
بیٹھے حکمرانوں کو غیر ت آئے گی…؟؟ اور وہ کیا شہرکراچی میں پانی و بجلی سے محروم عوام کو کے الیکٹرک کی ظالم انتظامیہ کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کےلئے حقیقی معنوں میں سنجیدگی کوئی سخت اقدام اُٹھائیں گے…؟؟ یا اپنے اپنے مگرمچھ کے آنسو بہاکر اور ایک دوسرے پر الزامات لگاکر عوام کو بے وقوف بناتے رہیں گے…؟؟ یا شہرکراچی میںہزارابارہ سوتک مرنے یا شہیدہونے والے معصوم اِنسانوں کے ، کے الیکٹرک کی قاتل انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیںگے..؟؟ یاسندھ و وفاق میں بیٹھے حکومتوں کے ذمہ داران پھر کسی نئے حادثے یاالم ناکی کے لئے کوئی نئی منصوبہ بندی کررہے ہوں گے…؟؟اور قومی خزانے کو اپنی اور اپنے فیملیزممبران کی عیاشیوں کے لئے خرچ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے…؟؟اِن کا کیا ہے چاہئے ساری پاکستانی عوام مرجائے اِن کا کیاجاتاہے..؟؟یہ اور اِن کے خاندان کے افرادتومحفوظ ہیں اِنہیں بس یہی تو چاہئے ،مگر شائد اقتدار اور اختیاراور دولت بٹورنے کے چکرمیںیہ لوگ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی ہے یہی حال رہاتو ایک نہ ایک دن یہ بھی ایسے ہی مریں گے جیسے کہ بے گوروکفن معصوم پاکستانی مر رہے ہیں۔

Azam Azim Azam
Azam Azim Azam

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com

Share this:
Tags:
government karachi killing public Sindh حکومت سندھ عوام کراچی ہلاکتیں
Karachi Heat Deaths
Previous Post کراچی میں بارہ سو افراد کی اموات کیوں ہوئیں؟
Next Post ماہ مقدس رمضان المبارک
Ramadan Mubarak

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close