
کراچی (جیوڈیسک) کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن کرکے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔ آپریشن میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران لیاری کے مختلف علاقوں میں مخصوص مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ اب تک متعدد افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن آپریشن رات بھر جاری رہا۔
دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا اشارہ دیا تھا۔ کراچی سٹریٹ کرائمز اور کار لفٹنگ سے لے کر ٹارگٹ کلنگز اور دہشتگردی کی وارداتوں جیسے خطرناک جرائم میں گھرا ہوا ہے۔ اس شہر کے جغرافیے پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں ہر مجرم کے لئے کوئی نہ کوئی محفوظ پناہ گاہ موجود ہے۔ اپنے محل و وقوع کے باعث کراچی کے مضافاتی علاقے کالعدم تنظیموں کے گڑھ بن چکے ہیں۔
ان علاقوں میں شامل سہراب گوٹھ اور اس سے متصل آبادیاں، بلدیہ اتحاد ٹائون، منگھو پیر، لانڈھی گلشن بنیر اور گلشن حدید میں یہ دہشتگرد تنظیمیں اپنے پنجے گاڑھے بیٹھی ہیں۔ شہر کے غربی علاقوں میں سرجانی ٹائون، اورنگی ٹائون، ماڑی پور اور نارتھ کراچی ٹارگٹ کلرز کے لئے محفوظ پناہ گاہیں مانی جاتی ہیں۔ ضلع شرقی میں لانڈھی، کورنگی، ملیر اور شاہ فیصل جبکہ ضلع جنوبی میں اولڈ سٹی ایریا، گارڈن، رنچھوڑ لائن اور کھارادر ٹارگٹ کلنگز کے حوالے سے بدنام ہیں۔
ضلع سینٹرل میں خواجہ اجمیر، لیاقت آباد اور پٹیل پاڑہ کے علاقے ٹارگٹ کلرز کے لئے جنت قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب لیاری، ڈالمیا، مواچھ گوٹھ اور ملیر گینگ وار ملزمان کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ شہر قائد میں منشیات فروشی کا ناسور جیکسن، شیریں جناح کالونی، کٹی پہاڑی، لیاری اور نارتھ کراچی کے بعض علاقوں میں موجود ہے۔ شہر قائد میں اسلحے کی ترسیل کے لئے سہراب گوٹھ، بنارس، لیاری اور بلدیہ میں قائم بسوں اور ٹرکوں کے اڈے استعمال ہوتے ہیں۔
