Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قائد کشمیر، شہید اعظم مقبول بٹ شہید کی زندگی کا ایک اجمالی جائزہ

February 1, 2016February 3, 2016 0 1 min read
Maqbool Butt Shaheed
Kashmir
Kashmir

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر
ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سنہرا دن 18 فروری 1938 کا ہے کہ اس دن وادئ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ کے ایک گاؤں تریہگام میں ایک کسان غلام قادر بٹ کے گھر دہرتی کے اس عظیم بیٹے نے جنم لیا جس نے نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی اور متاعِ جہان کو مادرِ وطن کی آزادی کے مشن کے لیئے وقف کیئے رکھا بلکہ اسی آزادی کے حصول کی خاطر اپنی متاعِ جان بھی وطن پر نچھاور کر کے نہ صرف خود ابد آباد تک امر ہو گیا بلکہ دہرتی ماں پر چھائی ظلمتوں کے بیچ جانثارانِ وطن کے لیئے ایک ایسی تاباں و جاوداں مشعلِ راہ چھوڑ گیا جس کی روشنی ہمیشہ وطن کی آزادی، خودمختاری، یکجہتی اور خوشحالی کی منزل کی نشاندہی کرتی رہے گی

وادئ گل کے مکینو ! میری آواز سنو
ظلم کی آگ پہ چھا جاؤ سمندر کی طرح
اور جھلسے ہوئے ویران وطن پہ ہر سُو
برف کی طرح گرو، آگ بُجھا دو یارو۔

بابائے قوم کے چھوٹے بھائی کا نام غلام نبی بٹ تھا ۔ جب بابائے قوم کی عمر گیارہ سال ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں ۔ آپکے باپ نے دوسری شادی کر لی ۔ یوں آپ کے دو مزید بھائی منظور احمد بٹ اور ظہور احمد بٹ اور تین بہنیں پیدا ہوئیں ۔ قائدِ حریت حضرت مقبول بٹ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سکول سے ہی حاصل کی ۔ آپکے دورِطالبعلمی کا ایک واقعہ بہت اہم ہے اور اس کا ذکر کیئے بغیر آپکی شخصیت کا حقیقی عکس منعکس نہیں ہو سکتا۔

Maqbool Butt Shaheed
Maqbool Butt Shaheed

بابائے قوم جن دنوں سکول میں پڑہتے تھے اس زمانے میں ایک عام روایت یہ تھی کہ تقریبات میں امیر اور اہلِ ثروت لوگ ایک طرف بیٹھتے تھے جبکہ غریب اور نادار لوگ ان سے بالکل الگ تھلگ دوسری طرف ۔ یہ عام رواج تھا اور تمام سرکاری اور نجی تقریبات میں اس ترتیب کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا ۔ ایک سال شہیدِ وفا حضرت مقبول بٹ شہید بھی ان طلباء میں شامل تھے جنہیں اعلی کارکردگی کی بنیاد پر اپنا انعام وصول کرنا تھا۔ رواج کے مطابق سکول کی سالانہ تقریبِ انعامات کے لیئے نشستیں اس طرح لگائی گئیں کہ امیر طلباء اور انکے والدین کے لیئے تقریب میں نشستیں ایک طرف مختص کی گئیں جبکہ غریب اور نادار طلباء اور انکے والدین کے لیئے تقریب میں نشستیں دوسری طرف لگائی گئیں ۔ مقبول بٹ بھی ان طلباء میں شامل تھے جنہیں سکول کی جانب سے انعام دیا جانا تھا۔

دستور کے مطابق مقبول بٹ کی نشست بھی غریب اور نادار لوگوں کی طرف لگائی گئی ۔ مگر مقبول بٹ نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنا انعام اس وقت تک وصول نہیں کریں گے جب تک تمام طلباء ایک ساتھ ایک طرف اور تمام والدین ایک ساتھ دوسری طرف نہیں بٹھائے جاتے ۔ مقبول بٹ کی یہ تجویز قبول کی گئی اور تقریبِ تقسیمِ انعامات میں تمام والدین کو سماجی مقام اور مرتبے سے قطع نظر ایک طرف بٹھایا گیا اور تمام طلباء کو ایک ساتھ دوسری طرف بٹھایا گیا ۔ اُس سال کے بعد گاؤں کے سکول میں ہمیشہ تقریبات میں قائدِکشمر کے تجویز کردہ انتظام کو ہی اپنایا گیا ۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائدِ انقلاب بچپن ہی سے سماجی اونچ نیچ اور امتیازی سلوک کے خلاف تھے اور اپنی بات اور اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے۔

سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بابائے قوم نے سینٹ جوزف کالج بارہ مُولا میں داخلہ لیا۔ خواجہ رفیق اپنی کتاب سفیرِحریت میں لکھتے ہیں کہ سینٹ جوزف کالج کے پرنسپل عیسائی پادری شنکس نے شہیدِکشمیر حضرت مقبول بٹ شہید کی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھ کر ایک دفعہ کہا تھا کہ “یہ نوجوان اگر زندگی کی مشکلات سے عہدہ برا ہونے میں کامیاب ہو گیا تو ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا ۔ لیکن اس قسم کے لوگ اکثر سماج میں شدید ترین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔ جس قسم کی آزادی یہ نوجوان چاہتے ہیں اُسکا حصول بہت مشکل ہے ۔ نتیجتاً یہ آزادی کی راہ میں قربان ہو جاتے ہیں”۔ اور قائدِ کشمیر کے ضمن میں فادر شنکس کی یہ بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔
بابائےقوم حضرت مقبول بٹ شہید نے گریجویشن تک تعلیم بھارتی مقبوضہ وادئ کشمیر سے ہی حاصل کی۔

Election
Election

بی اے کرنے کے بعد 1958 میں بابائے قوم ہجرت کر کے اپنے چچا کے ساتھ پاکستان آ گئے اور پشاور میں سکونت اختیار کی جہاں سے اردو ادب میں ماسٹرز کے علاوہ آپ نے ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کیا ۔ 1961 میں آپ نے پشاور سے کشمیری مہاجرین کی نشست پر الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی ۔ 1961 میں ہی آپ نے اپنی ایک عزیزہ راجہ بیگم کے ساتھ شادی کی – جن کے بطن سے 1962 میں جاوید مقبول بٹ پیدا ہوئے ۔ 1963 میں آپ نے ذاکرہ بیگم کے ساتھ دوسری شادی کی ۔ 1964 میں پہلی اہلیہ کے بطن سے شوکت مقبول بٹ نے جنم لیا ۔ (آپ کے اس فرزند نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ شوکت مقبول بٹ پرامن اور جمہوری جِدوجُہد کے ذریعے اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کے لیئے سرگرمِ عمل ہیں )۔

اپریل 1965 میں آپ نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر قوم پرست سیاسی جماعت محاذ رائے شماری کی بنیاد رکھی ۔ 12 جولائی 1965 کو محاذ رائے شماری کا مسلح ونگ بنانے کے لیئے قرارداد پیش کی گئی مگر یہ قرارداد محاذ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اکثریت رائے سے مسترد کر دی گئی ۔ اس قرارداد کی ناکامی کے بعد 13 اگست 1965 کو آپ نے چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر محاذ رائے شماری کے خفیہ مسلح ونگ این ایل ایف کی بنیاد رکھی – 1966 میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے دوسری بیگم کے بطن سے بیٹی لبنیٰ سے نوازا جو آپ کی تیسری اور آخری اولاد ہیں۔

آپ این ایل ایف کو تشکیل دینے اور اس کا دائرہ کار بڑہانے کے لیئے 10 جون 1966 کے دن کچھ ساتھیوں کے ہمراہ جنگ بندی لائن عبور کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں چلے گئے جہاں آپ نے این ایل ایف کے لیئے تنظیم سازی اور تربیت کے کام کا آغاز کیا ۔ مگر بھارتی سیکورٹی فورسز کو قائدِکشمر کی سرگرمیوں کا علم ہو گیا اور انہوں نے آپ کے خفیہ ٹھکانے کو تلاش کر لیا ۔ 14 ستمبر 1966 کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں آپ کا ساتھی اورنگزیب شہید ہو گیا جبکہ کرائم برانچ سی آئی ڈی کا انسپکٹر امر چند بھی اس جھڑپ میں مارا گیا ۔ بابائے قوم کو دو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور آپ کو سری نگر سنٹرل جیل میں قید کر کے آپ پر بغاوت اور امر چند کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا ۔ یہ مقدمہ انڈین پینل کوڈ کے دشمنی ایکٹ 1943 کے تحت قائم کیا گیا ۔ اگست 1968 میں کشمیر ہائیکورٹ نے آپ کو اس مقدمے میں سزائے موت سنائی ۔ آپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد جج کو مخاطب کر کے کہا ” جج صاحب ! وہ رسی ابھی تیار نہیں ہوئی جو مقبول بٹ کے لیئے پھانسی کا پھندہ بن سکے”-

Maqbool Butt Shaheed
Maqbool Butt Shaheed

9 دسمبر 1968 کو آپ جیل کی دیواروں میں شگاف ڈال کر جیل سے فرار ہوئے اور برف پوش پہاڑوں کو عبور کر کے 23 دسمبر 1968 کو چھمب کے مقام سے آزادکشمیر میں داخل ہوئے ۔ مگر 25 دسمبر 1968 کو آپ کو گرفتار کر کے مظفرآباد کے بلیک فورٹ میں قید کر دیا گیا جہاں آپ پر بے پناہ تشدد کیا گیا ۔ تاہم محاذ رائے شماری، این ایل ایف اور این ایس ایف کے زبردست مظاہروں کے بعد آپ کو 8 مارچ 1969 کو رہا کر دیا گیا ۔ رہائی کے بعد آپ نے سیاسی سرگرمیوں پر تمام تر توجہ مرکوز کی اور نومبر 1969 میں آپ کو محاذ رائے شماری کا مرکزی صدر بنا دیا گیا ۔ مگر قائدِ انقلاب حضرت مقبول بٹ نے اپنی خفیہ عسکری سرگرمیوں کو ترک نہ کیا اور این ایل ایف کے لیئے رکنیت سازی اور تنظیم سازی کا کام جاری رکھا ۔ آپ الجیریا، فلسطین اور ویتنام کی تحاریکِ آزادی سے بہت متاثر تھے ۔ آپ نے این ایل ایف کے ممبران کی تربیت انہی تحاریک کے طرز پر شروع کی۔

30 جنوری 1971 کو آپ سے تربیت حاصل کر کے دو نوجوانوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے بھارت کا طیارہ اغواء کیا اور اسے لاہور لے آئے ۔ ہائی جیکروں نے بھارتی جیلوں میں قید این ایل ایف کے دو درجن کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا مگر بھارت نے اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا چنانچہ مسافروں کو رہا کرنے کے بعد یکم فروری 1971 کو طیارے کو نذرِ آتش کر دیا گیا ۔ پاکستانی قوم نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کے اس اقدام کو بہت سراہا اور کھل کر آپکی حمایت کی ۔ آپ کے اس اقدام نے مسئلہ کشمیر کو نہ صرف نئی زندگی عطا کی بلکہ دنیا کے سامنے نہایت طاقتور انداز میں پیش بھی کیا۔

آزادکشمیر میں ان دنوں سردار قیوم خان کی حکومت تھی ۔ سردار قیوم نے اپنے بھائی غفار خان کو بابائے قوم کے پاس یہ تجویز دے کے بھیجا کہ آپ اعلان کریں کہ یہ طیارہ المجاہد فورس کے گوریلوں نے اغواء کیا ہے ۔ اس کے بدلے میں آپ کو منہ مانگی دولت اور آزادکشمیر کے اقتدار میں حصہ دینے کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اس سودا بازی کو ٹھکرا دیا ۔ حکومتِ پاکستان نے کوہاٹ میں آپ کے ساتھ مذاکرات کیئے اور آپ کو پاکستان کی شرائط کے مطابق کام کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی گئی مگر آپ نے اس پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا ۔ چنانچہ حکومتِ پاکستان نے آپ کو سینکڑوں ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ۔ اور عجب کمال دیکھیئے کہ جس ایکٹ کے تحت آپ پر بھارت نے 1966 میں مقدمہ قائم کیا تھا اسی ایکٹ کے تحت پاکستان نے 1971 میں آپ پر اور این ایل ایف کے دیگر سینکڑوں کارکنان پر مقدمہ قائم کیا ۔ آپ پر پاکستان کی جیلوں میں جو تشدد اور مظالم ڈہائے گئے ان کی تفصیل لکھنے کے کیئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔

Zulfiqar Ali Bhutto
Zulfiqar Ali Bhutto

آپ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف دسمبر 1971 میں مقدمے کی عدالتی کاروائی شروع کی گئی۔ استغاثہ کی طرف سے 1984 گواہان پیش کیئے گئے جب کہ آپ کے دفاع میں 1942 گواہان پیش ہوئے ۔ مئی 1973 میں عدالت نے ہاشم قریشی کے علاوہ آپ سمیت تمام گرفتار شدگان کو بری کر دیا ۔ ہاشم قریشی کو چودہ سال قید کی سزا دی گئی ۔ اس مقدمے کے دوران جاری رکھے جانے والے تشدد، جبر اور پاکستان کی سازشوں کے باعث این ایل ایف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور محاذ رائے شماری کو بھی بہت بڑا دھچکہ لگا ۔ مئی 1973 میں رہا ہونے کے بعد مقبول بٹ نے محاذ رائے شماری اور این ایل ایف کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا ۔ رہائی کے بعد منگلا قلعہ میں وزیرِاعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے آپ کے ساتھ مذاکرات کیئے اور آپ کو پیشکش کی کہ آپ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں ۔ بھٹو نے آپ کو آزادکشمیر کی وزارتِ عظمیٰ دینے کا وعدہ کیا ۔ مگر جواب میں بابائے قوم نے فرمایا ” ہماری منزل آزادکشمیر کی وزارتِ عظمیٰ نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری ہے”۔

آپ نے بھٹو کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور اعلان کیا کہ آپ عوام سے فیصلہ لیں گے ۔ چنانچہ محاذ رائے شماری نے 1975 کے انتخابات میں حصہ لیا ۔ مگر بھٹو نے فرشتے مقرر کر کے اپنے من پسند نتائج حاصل کیئے ۔ بابائے قوم نے آزادکشمیر اسمبلی کے 1975 کے انتخابات میں دو نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا مگر بھٹو نے نہ صرف آپ کو بلکہ محاذ کے تمام امیدواروں کو ہرا دیا اور اپنی مرضی کے نتائج مرتب کیئے ۔ آزادکشمیر کی سیاست سے مایوس ہو کر مئی 1976 میں بابائے قوم کچھ ساتھیوں کو کے کر پھر جنگ بندی لائن عبور کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر چلے گئے ۔ مگر چند دن بعد ہی آپ کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اور سابقہ مقدمے کی فائل دوبارہ کھول دی گئی۔

ہائیکورٹ تو پہلے ہی آپکو سزائے موت دے چکی تھی، بھارتی سپریم کورٹ نے بھی 1978 میں آپکے سابقہ مقدمے میں ہائیکورٹ کی دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ۔ چنانچہ آپ کو تہاڑ جیل دہلی میں منتقل کر دیا گیا ۔ فروری 1984 کے پہلے ہفتے میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں چند کشمیریوں نے بھارتی قونصل خانے کے ایک کلرک رویندرا مہاترے کو اغوا کر کے مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ مگر تین دن بعد مہاترے کی لاش ملی ۔ اس اقدام کے بعد 11 فروری 1984 کو اس عظیم قائدِ حریت کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا ۔ کلو جلاد نے پھانسی کا پھندا کھینچا ۔ تختہ دار پر آپ کے آخری الفاظ تھے “میرے وطن تو ضرور آزاد ہو گا ۰۰۰۰۰” آپ کے جسدِ خاکی کو ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا۔ یوں آپ آج تک بھارت کی جیل میں قید اپنے وطن کی آزادی کے منتظر ہیں۔
(جاری ہے)

Sameena Raja
Sameena Raja

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر

Share this:
Tags:
life Maqbool Bhat shaheed زندگی شہید مقبول بٹ
Karachi
Previous Post ناظم آباد میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، محمد سلیم
Next Post لیہ کی خبریں 01/02/2016
Layyah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close