مہینہ آخری ہے سال کا اب تو چلے آئو
بھروسہ کیا سمے کی چال کا اب تو چلے آئو
بنا تیرے زمانے کی رہ پرخار میں ساحل
کوئی واقف نہیں احوال کا اب تو چلے آئو
تحریر : ساحل منیر

مہینہ آخری ہے سال کا اب تو چلے آئو
بھروسہ کیا سمے کی چال کا اب تو چلے آئو
بنا تیرے زمانے کی رہ پرخار میں ساحل
کوئی واقف نہیں احوال کا اب تو چلے آئو
تحریر : ساحل منیر
Start typing to search...
