چھوڑ جائیں گے
تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف…
تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف…
ایک راستہ سمجھ کر، میں یہ کیا کر رہا تھا دن رات مشقت کر رہا تھا بڑھ بڑھ کر کانٹے چن رہا تھا مگر یہ…
کون اب ہم کو جگانے آئے زخم سینے کے دِکھانے آئے ہم تجھے ساتھ رُلانے آئے چشمِ ساقی نے سہارا جو دیا تب کہیں ہوش…
زمانے بھر کی عداوت سے خوف آتا ہے کبھی کبھی تو محبت سے خوف آتا ہے فریب گاہِ رفاقت میں ہر گھڑی ہم کو مسرتوں…
تحریر : وکیل سائیں 61 ہجری 10 محرم الحرام ۔۔کربلا کا بے آب وگیاہ چٹیل میدان۔۔تلواریں ، نیزے ، بھالے،خنجر اور تیر کمان سنبھالے یزیدی…
تحریر : عنایت کابلگرامی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول، اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام…
غمِ حیات کے ماروں پہ مسکرا ساقی جو ہو سکے تو کوئی جام ہی پِلا ساقی اداس رُت کے مسافر ہیں نہ ہنسا ساقی ہمارے…
تحریر : ریاض جاذب ساغر صدیقی تقسیم کے بعد اکیلا پاکستان آگیا اس کا یہاں کوئی نہیں تھا لاہور کی سڑکیں اور ساغر لازم وملزوم…
وہی موسم سہانے مانگتا ہے یہ دل گزرے زمانے مانگتا ہے نجانے کیوں وہ اس راہِ وفا میں بچھڑنے کے بہانے مانگتا ہے زمانہ نفرتوں…
تحریر : رفیق بزدار زندگی یا شاعری کا ایک دور ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اردو شاعری کا…
تحریر : عبد الوارث ساجد وہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا مجتہد تھا، مجاہد تھا، داعی تھا اور پانچ سو سے زائد کتابوں کا…
تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم اِس سے انکار نہیں ہے کہ ہر زمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے کا انسان جیسا خود ہوتاہے…
مہینہ آخری ہے سال کا اب تو چلے آئو بھروسہ کیا سمے کی چال کا اب تو چلے آئو بنا تیرے زمانے کی رہ پرخار…
تحریر: محمد شعیب تنولی چنگیز خان دُنیا کی تاریخ کا ایک منفی کِردار ہے جِس نے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔اُسے قتل و…
تحریر : محمد شفقت اللہ خان سیال قدیم زمانے میں جب دنیا کی آبادی زیادہ نہ تھی تو ہر ایک قوم دوسری قوم سے مختلف…
تحریر : محمد عبداللہ خالد القروشی آج کے تیز رفتار زمانے نے ہر چیز میں ایک سرعت بھر دی ہے۔کتنے ہی امور وقت سے پہلے…
کراچی: جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ ، شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے…
اپنے آپ میں تو بھی نہ تھا اور اپنے پاس میں بھی نہ تھی فضا بھی تھی سوگوار کچھ اور گلوں میں باس بھی نہ…
ہے کیسے دنیا میں تیری جینایہ میں نے اپنے نبی سے سیکھا ہے تلخ باتوں کوکیسے پینایہ میں نے اپنے نبی سے سیکھا زمانے بھرکے…
جو اپنے آپ میں گزرے وہ کیا زمانے تھے یہ روز و شب بھی کبھی زندگی میں آنے تھے کسی کی چاہ میں ہم کو…
تیری زلف کا جو اسیر ہے وہ زمانے بھر کا امیر ہے جو زمانے بھر کا امیر ہے تیرے در کا ادنیٰ فقیر ہے تیرا…
ہاتھوں پہ جس کے سارے زمانے نے بیعت کی اپنے ہی اس کے ہاتھوں مسلماں نہ ہو سکے کیسا ہے گل فروش کہ گل تو…
اپنی انا کے خول سے باہر نہ آ سکے دنیا کے سامنے کبھی کھل کر نہ آسکے ہم سے رہیں زمانے کو کیا کیا شکائتیں…
ہر اک تخلیق کے آگے نئی تخریب سوچی ہے امام دہر بننے کی الٹ ترتیب سوچی ہے ہمیں بس اہلِ دانش ہیں، زمانے کے معلم…
Start typing to search...
