
طرابلس (جیوڈیسک) سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے شورش زدہ ملک میں مزید سیاسی بدامنی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
عدالت سے ایک اسلام پسند رکن پارلیمنٹ کی طرف سے استدعا کی گئی تھی کہ 25 جون کے انتخابات جن میں وزیراعظم عبداللہ الثانی کی حکومت قائم ہوئی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے فیصلہ دیا جائے۔
