Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آج کے فرعون

May 15, 2017May 16, 2017 3 1 min read
Pharaoh
Pharaoh
Pharaoh

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میں پاکستان کے بااثر طاقت ور شخص کی جنت نگری میں پچھلے ایک گھنٹے سے گھوم رہا تھا، اِس شخص نے اپنی بے پناہ دولت اثر ورسوخ سے زمین پر اپنی جنت بنا رکھی تھی۔ قدرت نے اِس شخص کو بے پناہ ذہانت سے نوازا تھا، جن کو یہ شیطانی کاموں اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں خرچ کر رہا تھا۔ اپنے روپے پیسے اثر ورسوخ اور شیطانی منصوبہ بندی سے یہ فرعون بنا اپنی زندگی کو بھر پور طر یقے سے انجوائے کر رہا تھا۔ پورے پاکستان میں اِس کا بزنس پھیلا ہوا تھا۔ میں اُس کے ہیڈ آفس آیا ہوا تھا۔ میرے پاس اِس کا بیٹا میری کسی جاننے والے کے ساتھ آیا تھا۔ اُس کے بقول میرا والد دنیا کا سفاک ترین عیا ش آدمی ہے اپنی عیاشی کے لیے دنیا جہاں کی خوبصورت لڑکیوں پر روپیہ پانی کی طرح بہاتا ہے۔ اپنی صحت اور جوانی برقرار رکھنے کے لیے دنیا جہاں کے ڈاکٹروں سے رابطے میں رہتا ہے دولت پر سانپ بن کر بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے بچوں کو صرف خرچے کے پیسے دیتا ‘کسی کے اندر ایک لفظ بھی اِس کی گستاخی میں بولنے کی جرات نہ تھی۔ سنگدل اتنا کہ بات بات پر بچوں کا خرچہ بند کر دیتا۔ اِس کی عمر تقریبا 70 سال ہو چکی تھی۔ بچوں کی بھی شادیاں ہو چکیں تھیں۔ لیکن اُن کو غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا تھا۔ شہر کی خوبصورت لڑکیوں کو انتہائی زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھتا پھر اُن کو قرضے دیتا ‘دنیا جہاں کی سیریں کراتا کچھ لڑکیاں تو آسانی سے اِس کے جال میں پھنس جاتیں۔ جو قابو نہ آتیں اُن کو قرضے کے بوجھ میں دفن کر کے پیسوں کی واپسی کا تقاضہ کرتا۔ اُن پر چوری کا الزام لگا کہ انہیں اپنے بیڈ روم تک جانے پر مجبور کر دیتا۔

ملک کے بااثر ترین لوگوں سے دوستیاں کر رکھی تھیں اُن کو مہنگے ترین تحائف دیتا’ اپنے فارم ہائوس پر پرتکلف دعوتیں کرتا شراب اور لڑکیاں پیش کرتا اور ملک کے یہ بااثر لوگ پھر اِس کا ہر جائز اور نا جائز کام میں ساتھ دیتے’ اِس کی بیوی اِس کی سنگدلی اور عیاشیوں کی وجہ سے ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اپنی دولت اور اثر رسوخ کی وجہ سے اِس نے ہر چیز خرید رکھی تھی۔ اب یہ انسان سے جانور بن چکا تھا۔ میرے پاس اِس کا بیٹا اور بہو آئے تھے۔ بہونے اپنے خاوند سے کہا وہ مجھ سے الگ بات کرنا چاہتی ہے۔ علیحدگی میں بہونے زارو قطار روتے ہوئے بتایا کہ میرا سسر ہی فرعون شخص اب اس کی عزت کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ وہ کئی بار میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کرچکا ہے میں نے بڑی مشکل سے خود کو بچایا ہوا ہے خدا کے لیے دعا کریں یا تو میرا سسر مر جائے یا پھر میں نے خود کشی کر لینی ہے۔ بہو نے یہ بات اپنے خاوند سے چھپائی ہوئی تھی۔ وہ بے بسی لا چارگی اور التجا یا نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی اب میں نے اُس کے خاوند کو بلایا اور کہا کسی طرح میری اپنے باپ سے ملاقات کرائو تو بیٹا بولا میں کوشش کرتا ہوں۔ پھر ایک دن بیٹا میرے پاس آیا کہ میرے باپ کو جگر کی بیماری ہے میں نے آپ کا تعارف کرایا ہے۔ کہ آپ جگر کا علاج کرتے ہیں اب وہ آپ سے ملنے کو تیار ہے لہٰذا آج اسی سلسلے میں میں یہاں آیا ہوا تھا۔

اِس شخص کی عیاشی استقبالیہ سے ہی نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔ جہاں دو نہایت خوبرو لڑکیاں بیٹھی تھی اِن لڑکیوں کو تو فلموں ڈراموں میں کام کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اِس شخص نے اِن کو مہنگے داموں خریدا ہو ا تھا۔ اب میں اس کے وسیع و عریض دفتر میں بیٹھا تھا۔ دفتر میں اعلیٰ پائے کا انتہائی مہنگا غیر ملکی فرنیچر اور نوادرات تھے ‘دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں کمرے میں اِس کے دو قد آدم مجسمے لگے تھے میں نے زندگی میں اتنا خوبصورت دفتر نہیں دیکھا تھا ہر چیز لاجواب اور مہنگی ترین تھی یہ اپنے دفتر کی سجاوٹ سے ہی آنے والے کی جان نکال دیتا تھا۔ مہنگے ترین لباس میں ملبوس شاہی مسند نما کرسی پر وہ میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اُس کی حرکات سے لگ رہا تھا جیسے کسی ملک کے سربراہ سے مل رہا ہوں ملک کے بااثر لوگوں اور سیاستدانوں کے ساتھ اُس کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ اِس طرح وہ اپنے اثر رسوخ کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

اب اُس نے اپنے کاروبار، دولت، تعلقات، دنیا جہاں کی سیر کے متعلق گفتگو شروع کر دی، وہ مجھے مرعوب کرنا چاہ رہا تھا وہ اپنی کامیابیوں کو خدا کی عطاء کی بجائے ذاتی کوشش اور عقل کا سر چشمہ قرار دے رہا تھا۔ کہ میں ایک ذہین ترین آدمی ہوں میں نے یہ سب کچھ اپنی عقل دانائی اور تعلقات کے بل بوتے پر اکٹھا کیا ہے، طاقت اقتدار کے نشے میں وہ خود کو فرعون سمجھ بیٹھا تھا، اُس کی تکبرانہ باتوں سے مجھ فرعون راعمیس دوم 1279قبل یاد آگیا وہ بھی ایسے ہی مرض میں مبتلا ہوا تھا، جب وہ مسند اقتدار پر جلوہ گر ہوا تو اُس کی عمر 20 سال تھی، اُس نے تقریبا 67 سال مصر جیسے زرخیز ملک پر حکومت کی وہ بھی بے پنا ہ ذہنی صلاحیتوں کا مالک ذہین ترین انسان تھا، اُس نے اپنی عقل فہم و فراست سے مصری تہذیب کو حیات نوبخشی اور اسے نقطہ عروج پر پہنچا دیا، اُس نے اپنے ملک کو ترقی یا فتہ اور ناقابل تسخیر بنانے کے لیے دنیا جہاں سے ہر شعبے کے ماہرین کو اپنے ملک میں اکٹھا کیا، ان غیر معمولی ماہرین نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مصر کو سپر پاور بنا دیا، فرعون نے ایسی غیر معمولی روشنائی بنوائی، جوکبھی نہیں مٹتی تھی نعشوں کو صدیوں تک سلامت رہنے کے لیے خاص کیمیکل ایجاد کرائے اپنی مرضی اور وقت پر بادلوں کو حرکت دے کر بارش کرا ئی، ہوائوں کو اپنی مرضی سے موڑنے کا فن حاصل کیا اور پھر اُس نے ایسی ٹیکنالوجی حاصل کی، جس پر آج بھی ترقی یافتہ سائنسدان محوحیرت ہیں، اُس ٹیکنا لوجی کے بل بوتے پر مصری ماہرین سینکڑوں ٹن بھاری پتھر ہوا، میں اٹھاتے اور پھر اُن کو اپنی مرضی سے جوڑ کر احرام بنا دیتے، یہ احرام آج بھی جدید انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں، آج کا جدید انسان بھی اس ٹیکنالوجی پرقادر نہیں ہے۔

اِس کے ماہرین فلکیات آسمانی تبدیلیوں کو دیکھ کر ستاروں کی حرکت کو پڑھ کر آنے والے حالات بلکل ٹھیک بتا دیتے تھے، دریائے نیل کے پانی کو استعمال میں لاکر خوب اناج اور پھل حاصل کرتا، مصری لوگ خوشحالی کے کے ٹوپر پہنچ گئے تھے، تعلیم کے لیے ملک کے طول و عرض میں درس گاہوں کا جال بچھائے آج جدید دنیا یونان کے جن فلسفیوں پر ناز کرتی ہے، یہ تمام مصری فلسفیوں کے فیض یا فتہ تھے، اُس کے پاس دنیا جہان کی دولت کے ہیرے جواہرات سونے چاندی کے پہاڑ نما ذخائر تھے، وہ سونے چاندی جواہرات کے برتنوں میں کھانا کھاتا اگر وہ یہاں تک رہتا تو ٹھیک تھا، لیکن پھر اُن نے وہی غلطی کی جو اکثر انسان طاقت اور اختیار میں کرتے ہیں، اِن کامیابیوں کو اُس نے ذاتی سمجھنا شروع کر دیا، اُس نے نظام قدرت میں دخل دینا شروع کیا، تکبر غرور جو صرف خدا کی چادر ہے، اُس کو سرکانے کی کوشش کی اُس نے خود کو خدا سمجھنا شروع کر دیا، کہ وہ جسے چاہے با دشاہ بنا دے جسے چاہے کنگلا بنا دے جس کو چاہے زندگی دے، جس کو چاہے موت دے غرور کے نشے میں دھت ایک دن اُس نے نجومیوں سے پوچھا بتائو، میری سلطنت کب تک قائم رہے گی، اس دور کے بہترین نجومیوں نے ستاروں کی چال پڑھی، اور کہا جناب بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو آپ کی خدائی کو ختم کر دے گا طاقت کے کے ٹوپر براجمان فرعون نے شاہی حکم صادر فرمایا، آج کے بعد بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہوگا، اُسے فوری طور پر قتل کر دیا جائے، اور پھر بنی اسرائیل کے بچوں کا قتل عام شروع ہوگیا، اور پھر یہیں پر کائنات کا اکلوتا وارث حرکت میں آگیا، اور یہیں سے پھر حضرت موسٰی اور فرعون کی عبرت انگیز کہانی کا آغا ز ہوتا ہے، اور پھر حضرت موسٰی کا تعاقب کرتے ہو ئے راعیسس دوم 1213 میں قبل مسیح میں دریائے نیل میں بتاشے کی طرح گھل گیا، اور خدائے بزرگ برتر نے اُس کی لاش ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی، جو آج بھی قاہرہ کے میوزیم میں نشان عبرت بنی ہوئی ہے۔

میرے سامنے بھی آج فرعون بنا بیٹھا تھا، جو مجھ سے سوال کر رہا تھا، کہ میرا جگر کیسے ٹھیک ہوگا، تو میں نے کہا توبہ کرلیں تو وہ بولا میں بہت سخاوت کرتا ہوں، میں نے کہا کہ اگر آپ توبہ کرلیں تو ہی آپ کا جگر ٹھیک ہوگا، اور پھر میں واپس چلا گیا، اور انتظا ر کر نے لگا کب خدا کی لاٹھی حرکت میں آتی ہے اور پھر خدا نے ہمیشہ کی طرح مجھے وہ دن بھی دکھا دیا۔ اُس کے جگر کا کینسر ناسور میں بدل گیا، کھانا پینا بند ہوگیا۔ پیٹ میں پانی پڑنا شروع ہوگیا، اور وہ بے ہوش ہوگیا، ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا، اُس کو وہی بیٹا ایمبولینس میں میرے پاس لایا تو وہ نشان عبرت بن چکا تھا، پیٹ پانی سے پھولا ہوا چہرے پر سرخی کی جگہ سیاہی ‘جسم پتھر کا ہوچکا تھا، اور پھر چند دن زندگی موت کی کشمکش میں رہ کر مٹی کا ڈھیر بن گیا، میں جب بھی کسی کو فرعون بنا دیکھتا ہوں تو مجھے دریائے نیل میں غرق وہ فرعون یاد آجاتا ہے، جس نے خدائی کا دعوی کیا، لیکن دریائے نیل میں شکر کی ڈلی کی طرح گھل گیا۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956

ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

Pharaoh
Pharaoh

Share this:
Tags:
cancer Death life liver Pharaoh repent توبہ جگر زندگی فرعون کینسر موت
India Control Line Firing
Previous Post بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے
Next Post صوبہ ہزارہ تاریخ کے آئینے میں
Hazara

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close