Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمة اللہ علیہ کے حالات زندگی

January 17, 2018 0 1 min read
Hazrat Fariduddin Attar Mazar
Hazrat Fariduddin Attar Mazar
Hazrat Fariduddin Attar Mazar

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل
حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمة اللہ علیہ کی ولادت ماہِ شعبان المعظم ٥١٣ ھجری میں ہوئی ۔آپ رحمة اللہ علیہ موضع کدکن کے رہنے والے تھے۔یہ گائوں ایران کے شہر نیشاپور میں واقع ہے۔آپ رحمة اللہ علیہ کااصل نام محمدبن ابی بکر ابراہیم، کنیت ابوحامدیا ابو طالب، لقب فریدالدین، تخلص عطار ہے۔چونکہ آبائی پیشہ عطاری تھااسی لئے” عطار”اور”فرید”تخلص کے طور پر لکھتے تھے۔اسی وجہ سے اپنے قلمی نام” شیخ فریدالدین عطار”کے نام سے مشہورہوئے۔آپ رحمة اللہ علیہ کے والدابوبکرابراہیم چونکہ مشہور”عطار”تھے ۔اسی لئے شیخ نے ابتدائی عمرمیں اسی عطاری کی دکان پرکام کیا۔ اسی دوران میں طب بھی پڑھی۔اوربحیثیت ایک طبیب خدمت خلق کرنے لگے۔ آپ رحمة اللہ علیہ ابتداء ہی میں فارغ البال تھے اسلئے دوسرے شعراء کی طرح انہیں شاعری کاپیشہ ذریعہ معاش کے لئے نہیں اپناناپڑا۔شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ اوائل عمری سے شباب تک علوم وفنون کی تحصیل میں مصروف رہے۔آپ رحمة اللہ علیہ نے مختلف علوم متداولہ مثلاًعلم کلام،نجوم،فلسفہ ،قرآن وحدیث،فقہ ،طب اورادب میں مہارت حاصل کی ۔آپ رحمة اللہ علیہ کے اشعارمیں مذکورہ علوم وفنون کے اثرات نمایاں طورپرنظرآتے ہیں۔شیخ فریدالدین رحمة اللہ علیہ جوانی کے دنوں میں اپنے والدکے مرشدقطب الدین حیدرسے فیضیاب ہوئے اورانہی کی نگرانی میں تصوف ومعرفت کے مدارج طے کئے ۔بچپن ہی سے آپ رحمة اللہ علیہ کودرویشوں اورصوفیوں کے پاس بیٹھناپسندکرتے تھے۔آپ رحمة اللہ علیہ نے معرفت وسلوک کے منازل طے کرتے ہوئے اپنی زندگی اوراپنے پیش رو علماء و صوفیاء کے حالات وکوائف کابھی جابجاذکرکیاہے۔اپنی عمراوراپنے عشق ومحبت کے پیچیدہ منازل کوکن حالات میں طے کیاہے۔اس کاذکران کی تخلیقات میں جابجاملتاہے۔اپنی زندگی کے سترسال کی کیفیت اس اندازسے بیان کرتے ہیں۔

چون زمقصودخودندیدم بوی سوی عمررہم زیان آمد
دین ہفتاوسالہ دادبباد مردمیخانہ مغان آمد

آپ رحمة اللہ علیہ کی ”توبہ” اور”تارک الدنیا”ہونے کاایک واقعہ عام تذکرہ نگاروں نے درج کیاہے۔شیخ عبدالرحمن جامی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں۔”ایک روزشیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ اپنی دکان کے کاروبارمیں مصروف تھے۔دکان کامال سنبھال رہے تھے ۔اورروپے پیسے کے الٹ پھیرمیں مشغول تھے ۔کہ اچانک ایک ”درویش” آیااس نے اللہ کے نام پرخیرات کاسوال کیا۔شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ اپنے کاروبارمیں مصروف تھے ۔درویش کی صداپرکوئی توجہ نہ دی۔بلکہ روپے پیسے کی ریل پیل میں لگے رہے۔صدالگانے والے ”درویش ”نے کہادنیامیں اس قدرلگے ہوئے ہوتوآخر”آپ” کوموت کب آئے گی؟حضرت شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ نے غصہ میں جواب دیاجس طرح تمہیں موت آئے گی،مجھے بھی اسی طرح موت آئے گی۔صدالگانے والے ”درویش”نے کہاکہ میری طرح مرناچاہتے ہو؟یہ کہہ کر”درویش”نے اپنالکڑی کاپیالہ سرہانے رکھازمین پرلیٹازبان سے کلمہ پڑھتے ہوئے”داعی اجل ”کولبیک کہا۔آپ رحمة اللہ علیہ یہ منظردیکھ کردنیاوی کاموں سے دست بردارہوگئے ساراشفاخانہ اوردوسرے احباب دنیاکولوگوں میںلٹادیااورعشق الٰہی کی دکان پرآبیٹھے۔

حضرت شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ بھی مشرق کے ان علماء میں سے ہیں جن کے” پندونصائح” سے صرف اہل مشرق ہی نہیں بلکہ اہل مغرب کے بسنے والوں نے بھی فیض حاصل کیا۔شیخ فریدالدین عطاررحمتہ اللہ علیہ محض ایک ”ادیب ”اور”شاعر”کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ وہ علم تصوف اورعلم اخلاق کے ایسے ناموراستادمانے گئے ہیں جن کے زریں اقوال پرآج بھی دنیاسردھن رہی ہے اوران شاء اللہ دھنتی رہے گی۔کیونکہ آپ رحمة اللہ علیہ کاعلمی خاصہ اوراثرآج بھی ”فارسی شاعری” اورصوفیانہ رنگ میں نمایا ںہے۔”تذکرة الاولیائ” اور”منطق الطیر”جیسی اہم فارسی کتب آپ کی تصانیف ہیں ۔آپ رحمة اللہ علیہ نے شاعری بھی کی۔
آپ رحمة اللہ علیہ نے شیخ رکن الدین اسکاف کی خدمت میں کئی سال بسر کئے اورآخر کار شیخ مجددالدین بغدادی کے ہاتھ پربیعت کی اورآگے چل کر سلوک ومعارف کے وہ مراتب طے کئے کہ خود مرشد کے لئے باعث فخر ہوئے۔آپ رحمة اللہ علیہ مشہورمشائخ اوربزرگان دین کی صحبت میں بیٹھتے رہے۔حضرت مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں۔”کہ حضرت حسین منصورحلاج کی روح نے ڈیرھ سوسال بعدحضرت عطاررحمة اللہ علیہ پر”اثر”کیااسطرح حضرت عطار،آپ رحمة اللہ علیہ کے زیراثرآئے۔شیخ جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ جن کو”مولانا روم”کہاجاتاہے۔اپنے بچپن میں شیخ عطارکی خدمت میں حاضرہوئے۔اسی وقت شیخ عطارنے اپنارسالہ ”اسرارنامہ ”ان کودیا۔مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ جیسے عارف باللہ اورمعرفت سلوک کے دلدادہ عطارکی تعریف کیے بغیررہ نہ سکے ۔مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ سے زیادہ بھلاکون عطارکوسمجھ پایاہوگا۔مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ نے ”عطار”کی بلندی وبرتری کے واضح اورروشن پہلوئوں کااحاطہ کیے ہوئے یوں مدح سرائی کی۔

عطارروح بودوسنائی دوچشم او ماازپی سنائی وعطارآمدیم

مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ نے عطاراورسنائی کی عظمت کااقرارکیاہے اورساتھ ہی ان سے فیوض وبرکات بھی حاصل کیے۔مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ دوسری جگہ ”عطار”کی پذیرائی اس اندازسے کرتے ہیں۔

من آن ملای رومی ام کہ ازنطقم شکرریزد ولیکن درسخن گفتن غلام شیخ عطارم

مولاناروم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری شاعری میں مٹھاس ہی مٹھاس ہے لیکن میری شاعری کااصل منبع ومرجع شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ کی ذات ہے۔شاعری کے میدان میں خودکومیں شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ کاغلام تصورکرتاہوں۔اس قول سے عطارکی فضیلت وبرتری کااندازہ لگاناکوئی مشکل کام نہیں۔تذکرہ نویسوں نے لکھاہے کہ ”عطار”نے دنیاکے مختلف ممالک کادورہ کیااوردوران معرفت شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ صرف عارفوں اورصوفیوں کے حالات کی جستجومیں نہیں لگے رہے۔بلکہ خودبھی معرفت کی منازل طے کرتے رہے۔شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ نے مصر،دمشق،مکہ،ترکستان اورہندوستان کاسفرکیا۔ان اسفارنے شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ کوجلابخشی اورعلماء وفضلاء کی صحبت کاخاصااثرقبول کیا۔عطارنے سلوک ومعرفت کی شناخت کے منازل طے کرتے ہوئے جوبزرگی اورشہرت ناموری حاصل کی اسکی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت مولاناجلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ کوان الفاظ میں واردِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

ہفت شہرعشق راعطارگشت ماہنوزاندرخم یک کوچہ ایم

حضرت شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ نے عشق کے سات شہروں کی سیرکی ہے۔مگرہم ابھی تک کوچہ عشق کاایک گوشہ بھی طے کرنے نہیں پائے۔
شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ کی پوری زندگی تجربات کاایک سمندرہے۔”دربیان صفت زنان وصبیان”کے تحت آپ رحمة اللہ علیہ اپنے احساسات کواس طرح منظوم کرتے ہیں۔

چارچیزاست ازخطاہاای پسر گوش دارش باتوگویم سربسر
اول اززن داشتن چشم وفا سادہ دل رابس خطاباشدخطا
ایمنی زابلہ خطای دیگراست صحبت صبیان ازینہابدتراست
چارمی ازمکردشمن ایمنی کے کنددشمن بغیرازدشمنی

چارچیزیں خطاکے زمرے میں آتی ہیں۔پہلی چیزعورت سے وفاکی امیدکرنااوربیوقوف سے بے خوف وپُراطمینان ہونا،بچوں کی صحبت ان دونوں چیزوں سے بُری ہے۔چوتھی چیزدشمن کے مکروفریب سے بے خوف رہناکیونکہ دشمن ماسوائے دشمنی کے اورکیاتوقع کی جاسکتی ہے؟

”پندنامہ”ایک مختصرسی کتاب ہے لیکن اس میں عطارنے زندگی گزارنے کاجوہنرپیش کیاہے اس پرعمل آوری کے ذریعہ زندگی بامقصداورخوشگواربنائی جاسکتی ہے۔”منطق الطیر”شیخ عطاررحمة اللہ علیہ کاشاہکارہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف کے مسائل کوتمثیل کی صورت میں بیان کیاہے۔

اسی کتاب سے ایک دوحکایات درج کی جاری ہیں۔
حکایات اس ماں کی جس کالڑکاپانی میں گرگیاتھا۔

ایک ماں کابچہ گہرے پانیوں میں گرگیااورماں بچاری مامتاکی ماری تڑپ اُٹھی ۔بچہ حیرانی اورپریشانی کے عالم میں ہاتھ پائوں ماررہاتھا۔پانی اس کی گردن کوچُھورہاتھا۔پانی کاریلااس کوآگے ہی آگے بہاکرلے جارہاتھا۔جب ماں نے دیکھاتوپیچھے سے پانی میں کودپڑی۔اورجلدی سے بچے کوبہتے پانی میں سے نکال لیااسے گودمیں لیااوردودھ پلایا۔

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !اپنی امت پر آپ ماں سے کہیں زیادہ مشفق اورزیادہ مہربان ہیں ۔میں بھی گناہوں کی ندی میں ڈوبنے لگاہوں ۔مہربانی فرماکرمجھے باہرنکال لیجیے ۔میں گناہوں کے گرداب میں حیران وپریشان ہوکرپھنساپڑاہوں۔میری حالت اس بچے کی طرح ہے جوپانی میں ڈوب چلاہو۔میں اسی پریشانی میں ہاتھ پائوں ماررہاہوں۔اے اپنے بچوں پرشفقت کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم !مہربانی فرماکرغرق ہونیوالے اپنے بچے کوبچالیجیے ۔ہماری اس جان پررحم کیجیے ۔جوآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دورہوکرگہرے پانیوں میں ڈوب رہی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہرطرح کے وصف اورادراک سے بالاترہیں اوروصف کرنیوالوں کے وصف سے پاک ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مقام عالیہ پرکسی کودسترس اوررسائی نہیںہے ۔ہم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاک کی بھی خاک ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یاراوراصحاب ہی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاک تھے ۔اورباقی ساراعالم تیری اس خاک کی بھی خاک تھے۔جوبھی تیرے اصحاب اورتیرے یارو ںکی خاک نہیں ہے۔وہ تیرے دوستوں کادشمن ہے۔سب سے اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورآخرمیں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چاروں یارصدق وصفاکے کعبہ کے چاررکن ہیں۔ایک ان میں سے صدق میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاہمرازاوروزیرتھا۔اوردوسراعدل وانصاف میں روشن سورج تھا۔تیسراشرم وحیاکادریاتھا۔اورچوتھاباب العلم اورباب السخاوت تھا۔جوکوئی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اہل بیت سے بغض رکھتاہے۔وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعددشمنی کابیج بوتاہے۔اورجودل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آل کامطیع ہوگیاوہ تیرے ہی راستہ پرصحیح جارہاہے۔سب سے آخرمیں امام مہدی آئیں گے ۔جوآل مرتضیٰ میں سے ہوں گے ۔یہ تمام ایمان کارکن ہیں اورآل مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔

حکایت اور تمثیل
ایک بے وقوف آدمی ادھرادھرسے کسی مسافراوراجنبی کواپنے گھرمیں کھاناکھلانے کے بہانے لے آتاتھااورپھرگھرمیں اسے لاکراس کے ہاتھ پائوں باندھ کراسکی گردن اتاردیتایہ اس کامشغلہ تھا۔ایک دن وہ حسب معمول کسی مسافرکواپنے گھرمیں کھاناکھلانے کے بہانے لے آیااوراس کے ہاتھ پائوں باندھ دیے۔پھروہ دوسرے کمرے میں تلوارلینے کے لئے گیاپیچھے سے اس کی بیوی نے اسے بھوکاسمجھ کرروٹی کاٹکڑادیاکہ تم ابھی قتل ہوجائوگے اسلئے اپنی بھوک توکم ازکم مٹالو۔اتنے میں وہ ظالم تلوارلے کرآگیااس نے دیکھاکہ وہ روٹی کاٹکڑاکھارہاہے۔اس نے پوچھایہ روٹی تمہیں کس نے دی ہے؟اس نے جواب دیاتمہاری بیوی نے دی ہے۔جب اس نے یہ جواب سناتوکہاکہ اب تمہیں قتل کرنامجھ پرحرام ہے۔کیونکہ جس نے میرانمک کھالیاہے میں اس کاسرگردن سے نہیں اتارسکتا۔یہ میرااصول ہے کہ جس نے میرانمک کھالیاہو۔میں اسکی گردن نہیں اتارتا۔بلکہ میں اپنے مہمان پراپنی جان قربان کرتا ہوں۔

شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ یہ حکایت اورتمثیل بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں۔کہ اے اللہ!جب سے میں پیداہواہوں تیرارزق کھارہاہوں ۔اورجب کوئی آدمی کسی کی روٹی کھاتاہے۔توروٹی کھلانے والااس کی حفاظت کرتاہے۔اوراسے کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا۔اے اللہ!توسخاوت کاایک سمندرہے۔اورمیں نے طرح طرح کی تیری نعمتیںکھائی ہیں۔اب مہربانی کرکے میرے گناہ بخش دے۔اورقیامت کے دن مجھے کوئی سزانہ دینا۔

اے اللہ !میں ایک عاجزبنداہوں اورگناہوں کی ندامت سے خون کے آنسورورہاہوں۔میں خشک زمین پرکشتی چلاتارہاہوں۔یعنی بے فائدہ کام کرتارہاہوں ۔اب تو!میری دستگیری فرمااورمیری فریادرسی کر۔میں نے مکھی کی طرح اپنے ہاتھ اپنے سرپررکھے ہوئے ہیںیعنی فریادکررہاہوں۔اے گناہ بخشنے والے !میری توبہ قبول فرما۔میں توپہلے ہی گناہوں کی آگ میں جل چکاہوں۔اب تومجھے دوزخ کی آگ میں نہ جلانا۔ندامت اورشرمساری کیوجہ سے میراخون بھی جوش کھارہاہے۔میں نے بہت گناہ کیے ہیں ۔تومیرے گناہوں پرپردہ ڈال۔غفلت سے سینکڑوں گناہ مجھ سے سرزدہوئے۔تواس کے عوض میں اب سینکڑوں رحمتوں سے مجھے نوازدے۔اے بادشاہ!مجھ مسکین کی پکڑدھکڑنہ کرنااگرچہ مجھ سے گناہ سرزدہوئے ہیں۔مگراب توان کی سزامجھے نہ دینا۔میں اپنی بیوقوفی کیوجہ سے گناہ کربیٹھاہوں۔تومجھے بخش دے ۔میرے دردمنداوردکھی دل و جان پررحم فرما۔اگرچہ میری آنکھیں ظاہری طور پرنہیں روتیںلیکن پوشیدہ طورپرمیری جان اندرہی اندرزاروقطاررورہی ہے۔اے میرے پیداکرنے والے !اگرمیں نے اچھے اوربرے کام کیے۔تووہ خوداپنے آپ پرکیے۔تومیرے برے اورغلط کاموں کو معاف کردے۔اورمجھ سے جوغلطی سرزدہوگئی ہے۔اسے درگزرفرمادے۔میں اپنے غم میں مبتلا ہوں اورحیران وپریشان ہوں۔اگرنیک ہوں یابراہوں بہرحال تیرابندہ ہوںمیں تیرے بغیرناقص اورادھوراہوں۔مہربانی کی ایک نظرسے میری طرف دیکھ تاکہ میں کُل ہوجائوں اورمیرانقص اورادھوراپن زائل ہوجائے۔میرے پُرخون دل کی طرف ایک نظرکراورمجھے اس دلدل سے باہرنکال لے۔

اگرتومجھے ایک باراپنانالائق بندہ کہہ کرپکاردے تومیرے لئے یہ بھی بہت غنیمت ہے کیونکہ میں تیرانالائق بندہ بن جاناہی اپنے لئے بہت کچھ سمجھتاہوں۔میں کیسے کہوں؟کہ میں تیراغلام ہوں۔میں اپنی کمرپرتیری غلامی کانشان رکھتاہوں ۔میرے دل پرتیری محبت کاداغ ہے۔جوحبشیوں کے داغ سے ملتاجلتاہے۔اگرمیں تیراغلام بھی نہ بن سکوں توپھرمیں کس طرح سعادت مندبن سکتاہوں؟میں نے تیراغلام بننے کے لئے اپنے سینے کوبھی زنگیوں کی طرح غلامی کی علامت بنایاہواہے۔اے اللہ!اپنے داغ والے غلام کواورکسی کے آگے نہ بیچنابلکہ مجھ غلام کے کان میںاپنی غلامی کاحلقہ ڈال دینا۔اے اللہ!تیرے فضل وکرم سے کوئی بھی ناامیدنہیں ہے۔میرے لئے اتناہی اعزازکافی ہے۔کہ تیری غلامی کاحلقہ ہمیشہ کے لئے میری گردن میں پڑاہواہے۔جسکادل تیرے دردسے خوش نہیںہے خداکرے وہ دل کبھی خوش نہ ہوایساآدمی جوان مردنہیں ہے۔

اے اللہ!تیراتھوڑاسادردبھی میرادرمان ہے۔کیونکہ تیرے دردکے بغیرمیری جان مردہ ہے۔کافرکے لئے کفرکافی ہے اوردیندارکے لئے دین کافی ہے۔مگرعطاررحمة اللہ علیہ کے دل کے لئے تیراتھوڑاسادردہی کافی ہے۔

اے رب !تومیرے ”یارب ”کہنے سے واقف ہے۔تومیری غم زدہ راتوں میں میرے پاس ہی ہوتاہے۔اے اللہ!میراغم حدسے بڑھ گیاہے۔اب تھوڑی سی مجھے خوشی بھی عطافرما۔میں اندھیرے میں کروٹیں بدل رہاہوں مجھے نورعطافرما۔

اس غم میں تومیراسہارابن۔میراکوئی دستگیرنہیں ہے۔توہی میری دستگیری کر۔مسلمانی کے نورکی لذت عطافرما۔میرے ”نفس امارہ” کوہلاک کردے۔میں وہ ذرہ ہوں جوسائے میں گم چکاہوں ۔اب زندگی کاکوئی سرمایہ میرے پاس نہیں ہے۔میں تیری اس بارگاہ کاسوالی ہوںجوآفتاب کی مانندہے۔شایداس طرح مجھے روشنی کی کچھ خیرات مل جائے۔میں ایک پریشانی اورسرگشتہ ذرہ کی مانندہوں تیرے نورکی جھلک دیکھوں گاتواس سے چمٹ جائوں گا۔اوراس دریچہ سے نکل کرایک روشن دنیامیں پہنچ جائوں گا۔یعنی نفس کے ظلمت خانہ سے نکل کرارواح کے نورانی عالم میں پہنچ جائوں گا۔اے اللہ!چونکہ تیرے بغیرمیرااورکوئی نہیں ہے۔اس لئے جب میری جان نکلے تواسوقت تومیرے پاس ہونا۔یعنی جب میں فوت ہوجائوں گااگراس وقت تومیرے ساتھ نہ ہواتومجھ پرافسوس ہے۔اے اللہ !میں اُمیدرکھتاہوں کہ توا سوقت میرے پاس ہوگاکیونکہ تو”قادرمطلق ”ہے۔(حکایات فریدالدین،منطق الطیر)

حضرت شیخ فریدالدین عطاررحمة اللہ علیہ نے نظم ونثر میں بہت سی تصنیفات چھوڑی ہیں ۔جن کی تعداد قاضی نوراللہ شوستری کی مجالس المومنین میں ١١٤ ہے۔ان میں سے جو مشہور ہیں وہ درج ذیل ہیں۔تذکرئہ اولیا،مقامات الطیوریامنطق الطیر ،مصیبت نامہ،اسرارنامہ،الٰہی نامہ ،دیوان ،بیئر نامہ ،پندنامہ ،وصیت نامہ ،خسرووگل اورشر ح القلب،جواہرنامہ،مختارنامہ،شاہنامہ وغیرہ آپ رحمة اللہ علیہ کی مشہورکتابیں ہیں۔

واقعہ شہادت:
آپ رحمة اللہ علیہ کی شہادت کا واقعہ تذکرہ نگاروں نے اس طرح لکھا ہے کہ تاتاریوں کے عین ہنگامے میں ایک سپاہی نے شیخ کوگرفتار کیا ایک راہ گیر نے بڑھ کر کہا کہ ”دیکھنا اس مرد ضعیف کو قتل نہ کردینا دس ہزار اشرفیاں نقد دیتاہوں کہ ان کو چھوڑ دو”شیخ نے کہا خبردار اتنے پر مجھے فروخت نہ کردینا میری اس سے کہیں زیادہ قیمت ہے۔”سپاہی خوش ہوا کہ اس سے بھی زیادہ دولت ہاتھ آئے گی اوروہ بھی بالکل مفت آگے بڑھ گیا۔آگے ایک اورشخص ملا۔اس نے کہا کہ میاں سپاہی اس بوڑھے کومجھے دے ڈالو میں ایک گٹھا گھاس کا اس کے معاوضے میں دیتا ہوں شیخ بولے ہاں دے ڈال کہ میری قیمت اس سے بھی کم ہے۔سپاہی کے تن بدن میںآگ لگ گئی کہ دس ہزار اشرفیاں ملتی ہوئی ہاتھ سے گئیں۔ جھلا کر وہیں سر تن سے جدا کرڈالا۔آپ رحمة اللہ علیہ نے ٦٢٧یا٦٢٨ہجری میں وفات پائی ۔شہادت کے وقت آپ کی عمرایک سوچودہ سال تھی،آپ رحمة اللہ علیہ کامزارنیشاپورمیں واقع ہے۔الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم ولا ہم یحزنون۔

شہ عالم فریدالدین عطار فریدالدین ولی محبوب ہادی
بگومہدی فریدالدین مقبول وحیدالعصرصوفی مصفا
بخواں تولیدآن شاہ معلی کہ گردوسال عقل ازنقل پیدا(خزینة الاصفیائ)

Hafiz Kareem Ullah Chishti Pai Khel
Hafiz Kareem Ullah Chishti Pai Khel

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل

03336828540

Share this:
Tags:
life Poetry Science sufi Ulema زندگی شاعری علماء علوم
Gulbuddin Hekmatyar
Previous Post گلبدین حکمت یار کا افغانستان
Next Post بی آر ٹی، ایک بہترین منصوبہ
BRT Peshawar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close