
ہونٹ بند قلب بیان رکھتے ہیں
ہم بھی شائید زبان رکھتے ہیں
ہیں مٹی کے ترا شے پر
دل کو آسمان رکھتے ہیں
دوستی کی بادلوں سے پر
ہم تو کچا مکان رکھتے ہیں
عمر کی بات نہیں عمر جو بھی ہو
دل کو اپنے جوان رکھتے ہیں
جو بھی سوچو پر اپنی عادت ہے
ہر سمت ہر پل دھیان رکھتے ہیں
شرافت زندگی ہے ورنہ ساگر
پاکٹ میں سارا جہان رکھتے ہیں
شکیل ساگر
