پاکستان کو گالی کے جواب میں وزیراعظم کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں: طاہر القادری
لاہور (جیوڈیسک) طاہر القادری نے ملتان میں تحریک قصاص ریلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں حکمرانوں پر تنقید کے خوب نشتر چلائے۔ سربراہ…
لاہور (جیوڈیسک) طاہر القادری نے ملتان میں تحریک قصاص ریلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں حکمرانوں پر تنقید کے خوب نشتر چلائے۔ سربراہ…
ہونٹ بند قلب بیان رکھتے ہیں ہم بھی شائید زبان رکھتے ہیں ہیں مٹی کے ترا شے پر دل کو آسمان رکھتے ہیں دوستی کی…
اسلام آباد (جیوڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد میں اپنے ہی ہاتھوں ہونٹ پر مائیک لگنے سے زخمی ہو گئے۔…
مظفر گڑھ (جیوڈیسک) مظفر گڑھ میں رشتہ نہ دینے پر مخالفین نے تیز دھار آلے سے خاتون کی ناک اور ہونٹ کاٹ دیئے۔ خاتون کو…
کبھی چور آنکھوں سے دیکھ لیا کبھی بے دھیانی کا زہر دیا کبھی ہونٹوں سے سرگوشی کی کبھی چال چلی خاموشی کی جب جانے لگے…
آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں جانے کیا چیز کھو گئی…
معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ بچھڑے گا تو پھر یاد بھی آئے گا بہت وہ اب جس کی رفاقت میں بہت…
اداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیں ہے آنکھ ویراں کہ سب نظارے اجڑ چکے ہیں مری زمیں پہ گلوں کے چہرے جھلس گئے…
محبتوں کے نصاب جیسا وہ ایک چہرہ کتاب جیسا مہکتا ہے میرے قلب و جاں میں وہ شخص کھلتے گلاب جیسا یقیں بھی ہے وہ…
وقتِ رخصت تیری چشمِ تر یاد ہے کیسے میرا کٹا پھر سفر یاد ہے خشک ہونٹوں پہ زخمی تبسم لیے بھیگی بھیگی سی تیری نظر…
اس کو بانہوں میں چھپا کر پیار کی باتیں کروں بند ہونٹوں پہ سجے اقرار کی باتیں کروں جس کی آنکھ میں ستارے اور ہونٹوں…
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا ہے جس کی اُلفت میں بھلا…
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام دھل کےنکلےگی ابھی چشمئہ مہتاب سےرات اور مشتاق نگاہوں کی سُنی جائے گی ان ہاتھوں سے مس…
حسینئہ خیال سے! مجھے دے دے رسیلے ہونٹ، معصومانہ پیشانی، حسیں آنکھیں کہ میں اک بار پھر رنگینیوں میں غرق ہو جائوں! مری ہستی کو…
سبز مدھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلی گرم سانسوں کی مہک بازوئوں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں…
کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا جسے لے…
وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی سورج اس کو دیکھ کے پیلا پڑتا تھا وہ سرما کی…
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری!…
جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے وہ میری تنگی داماں کا گلہ کرتا ہے دیر سے آج میرا سر ہے تیرے زانوں…
Start typing to search...
