جینا مشکل ہے مرنا آساں ہے
کیسا قدرت کا ہم پہ احساں ہے
پھر وہی عہدِ کم نگاہی ہے
پھر وہی رند چاک داماں ہے
جِس کے تن کا لباس تھے یارو
اس کے ہاتھوں میں ہی گریباں ہے
نقش پائے جنون کی سوگند
راہ دار و رسن ہی ارماں ہے
جاں کنی کے عذاب میں ساحل
کوئی ہمدم نہ کوئی درماں ہے
تحریر : ساحل منیر
