Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیا کھویا کیا پایا

February 20, 2015February 20, 2015 0 1 min read
Busy Women
Busy Women
Busy Women

تحریر : نذر عباس جعفری
ہم دنیا کی بھول بھیلوں میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کبھی ہم نے سوچا کے ہم نے اس دنیا کو کیا دیا۔ انسان کو مالک عزوجل نے اپنی مقدس کتاب میں انسان کو اپنا خلفیہ، مددگار اور اپنی فوج بھی کہا ہے۔ الغرض کہ انسان اس کائنات کے اس وسیع وعریض خلاء میں بسنے والی مخلوقات سے اعلیٰ، برتر، اشرف، اور افضل ہے۔ جس کو اس نے اپنے مقرب فرشتوں پر بھی فوقیت دی ہے۔ یہ انسان دنیا میں پروردگار کی نائب اور ایلچی بھی ہے مگر یہی انسان خطا کا پتلا بھی ہے۔ خیر و شر سے اس کی شخصیت زیروبر ہوتی رہتی ہے ۔اسی انسان کے ایمان میںنشیب وفراز بھی آتے رہتے ہیں۔یہ انسانیت کا بہترین غم خوار اور ہمدرد بھی ہے۔اور یہی انسان جب شیطان کے ذرا سے چھونے سے باولا بن جاتا ہے تو انسانیت کو ہلاکت خیزیوں اور خون ریزیوں سے بھی دوچار کرتا ہے چشم کائنات نے اگر اس انسان کو محسن انسانیت کے روپ میں دیکھا ہے تو کبھی فرعونی و چیگیزی صفات (انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا ہو) منصف بھی پایا ہے کبھی یہ محافظ ہے تو کبھی بھڑیا بن جاتا ہے جب اس کے دل میں شر کر جاتا ہے تو اس سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں کہ شیطان کو بھی اپنا قد چھوٹا لگنے لگتا ہے۔اور یہ وربل مم افل بن جاتا ہے اورجب اس کے انگارہ خاکی میں ایمان کی جوت جاگتی ہے تو ایک لمحہ کے لیے لا شعوری طور پراس سجدہ کرنے کو دل چاہتا ہے مگر اللہ کریم کے سواکسی کو سجدہ جائز نہیں اس انسان کو اللہ پاک نے اپنی عبادات اور،اوروں کے درد دل کے واسطے تخلیق کائنات کا ہیرو بنایا ہے ۔دوسروں کے دکھ درد بانٹنے اور ان کے کام آنے کے لیے کائنات میں اس کا وجود بنایا ہے مگر آج اکثریت صرف اپنے ڈیڈھدو بالشت کے پیٹ کے لیے شب وروزعقل کے گھوڑے دوڑاتی رہتی ہے ۔ جسں طرح بکری ،دودھ اور گوشت ، مرغی انڈے اور گوشت ،گائے کو دودھ ،گھوڑے کو باربرداری ،اور بیل کو ہل چلانے کے لیے الگ الگ مقاصد زندگی ایک اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

اگر وہ یہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیںتو ہم پالتے ہیں۔ان کی نگہداشت کرتے ہیںلیکن جب وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کی اہلیت سے محروم ہو جاتے ہیں تو ہم ان کو گھر یعنی (حویلی)کی چار دیواری کی بجائے قصاب کی پھٹے پر دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی عزت اس کی مطلوبہ صلاحیت سے مشروط تھی اس طرح انسان کو بھی اس نیگوں آسمان کے نیچے ایک نصب العین دیکر بھیجا گیا ہے۔ وہ نصب العین وہی تو ہے جس کے انجام دینے والوں سے قرآن کریم اور ذخیرہ احادیث کے صفات لیبرز ہیں اور اس کی انجام دہی کے بغیر ہمار ی ا فادیت و اہمیت اس کی آیت کریم کے نزدیک دو کوڑی کی بھی نہیں رہتی اور آخرت میں ہمارے ساتھ وہ سلوک ہو گا جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ اگر گھڑی ٹائم نہ دے تو ہم بیکار میں اسے کلائی میں سجا کر نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچیئے اگر انسان اپنے مقصد پیدائش کو پورا نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ بھی بہت برا ہو گا ۔اور وہ مقصد خلق اکبر خود متعین کر رہے ہیں ۔مگر آج انسان اس قدر خودفریبی میں مبتلا ہے کہ ہر لمحہ ہر ساعت ضائع کر رہا ہے ۔اکثریت کی کھیتی بنجر ہو رہی ہے ۔ پھر بھی طفل تسلیوں سے ددل کو مطمئن کیے ہوئے ہیں ۔میں صحافت کا ادنی سا طالبِ علم ہوں میں جب بھی اپنے دماغ پر زور دیتا ہوں کہ ہم بحثیت انسان ہم کہاں جا رہے ہیں ۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوںکہ انسان بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کس طرح اپنے مذہب سے بے وفائی ، اپنے مقام کی بے اعتنائی ،اور اصلاح چاہنے والوں کو کس طرح دھوکا دیتا ہے ۔ اس خود فریب انسان کے لیے ہر نیا مسئلہ گذشتہ مسائل سے زیادہ نازک اور سگین بن جاتا ہے ۔ جس کو کسی قیمت ،حتٰی کہ ابدی ناکامی کی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں کسی بڑے دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی ملک میں دس پندرہ لاکھ مسلمان اکھٹے کر کے زبح کر دیے جائیںتو آپ انا اللہ و انا الہ راجعون پڑھ کر اور ایک آدھ تعزیتی جملہ کہ کر صرف چند ہی سکینڈبعد پھر سے ہشاش بشاش نظر آنے لگیںگے۔لیکن اگر آپ کی داڑھ میں ذرا سا بھی درد ہو تو پوری رات آپ کو نیند نہیں آئے گی۔تو ثابت ہوا کہ اپنا درد ساری انسانیت کے دردسے زیادہ اہم ہے اور یہی انسان کسی سے وعدہ کرے تو یہی انسان چند لمحوںکے بعداپنے وعدے سے پھر جاتے ہیں۔ وہ تو پھر اپنے سابقہ رویے کی طرح امید بھی دلاتا ہے مگر اپنی اصلاح کی کوشش کو بھی مصنوعی مسئلے کی بھینٹ چڑھا کر ملتوی کر دیتا ہے لوگ کہتے ہیں بس ذرا اپنے مسائل کو حل کر دوں پھر اللہ کر یم کا ہو جاوئں گا بس زرا فارغ ہو جاوئں اسی طرح ہر مسئلے کو ڈھال بنا کر خود کو بے بس ظاہر کر دینا ہمارامعمول بن چکا ہے اوراب تو یہ ہماری روایت بن چکی ہے،

انسان سوچتا رہتا ہے کہ بچپن گزرا اب ذرا شادی کر لوں پھر نئی زندگی شروع کروں گا پھر اللہ کی لیے اپنے آپ کو وقف کر دوںگاپھر جب شادی ہو گئی تو پھر کہا بس اب بچے ہو لینے دو میں فارغ ہو لوں تو خود اللہ کریم کی ذات کے لیے خود کو وقف کردونگا۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے دراصل انسان دنیا کی رنگیینوںمیں اس قدر گم ہے کہ آخرت کی کھیتی اجاڑ رہا ہے۔ آخرت کے مقابلے میں دو منٹ کی اس زندگی کو انسان (سرائے )سمجھ بیٹھا ہے۔اورہر جائز وناجائز طریقے سے اپنے لیے اپنے بچوں کے لیے سب کے لیے آسائشیں جمع کرنے میں دوسروں سے بازی لے جانا چاہتا ہے۔حالانکہ انسان جا نتا بھی ہے کہ یہ دنیا نہ تو آخری قیام گاہ ہے اور نہ ہی سیر گاہ، اور نہ ہی چراہ گاہ بلکہ یہ تو ایک امتحان ہے۔جس کی تیاری کے لیے ایل بیت کے نقوش پاء پر چلنا اورصالح معاشرے کے قیام کی جدوجہد کر نا نا گزیرہے مگریہ ناداںاپنے خول سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہیںہے ۔ اہل بیت کے نقش پاپرچلنے کی بجائے خود ساختہ مسائل کی ریت میںمنہ ٹھونس لیتاہے۔ وقت کی مثال برف کی تودے کی طرح ہے جس کوہر لمحہ پگھلنا ہے ۔جوانی چھن جاتی ہے سر میں چاندنی اتر آتی ہے ،قوت،سماعت،بصارت کمزور پڑ جاتی ہے۔بات کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے چلتے ہوئے پاوئںڈگمگا جاتے ہیںسر کانپنے لگتا ہے۔ ہاتھوں میں لرزش، سارا جسم کانپنے لگتا ہے،اب چارپائی سے رشتہ دن بہ دن مضبوط ہوتا جارہا ہے دنوںاور سالوں کو وہ سمجھ رہا تھا کہ مجھے بڑا کر رہے ہیںمیرے علم میں اضافہ کر رہے ہیں ہائے آج پتہ چلا کہ وہ دن تو دراصل ساری زندگی کی جمع پونجھی سمیٹ کر قبر کی تاریکی کی طرف دھکیل رہے تھے ۔اب وہی انسان ماں کی گود سے قبر کی تاریکی کی طرف دونوںسے ہیبت ناک منا ظر کی طرف رنگینیوںسے موت کی وادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہرگزرنے والا لمحہ اس کی زندگی مٹاتا چلا آ رہا ہے۔
اے غافل گھڑیاںتجھے دیتا ہے منا دی
خالق نے عمر کی گھڑی اک اورگھٹا دی

ALLAH
ALLAH

اب موت کا فرشتہ انسان کو سامنے کھڑا نظر آتا ہے اور ایک نظر فرشتے پر ڈالتا اپنے انجام کی طرف کی طرف ڈالتا ہے اوردوسری نظر گھر کے سامان ،کیر ،کوٹھی ،باغات پرڈالتا ہے جن کو جمع کرنے اور گھر کو سجانے کے لیے اس نے اپنا آپ تک کھو دیا ۔اور اس رزق کی تلاش میںسر گرداںرہا ۔جس نے اس کی پرواز میںکوتاہی پیدا کر دی۔کبھی دیکھتا ہے کہ اسکے اس سامان پر گھر کی بہو ،بیٹیوںکا قبضہ ہے۔ہر کو ئی گھر میںزمین جائیداد کے بٹوارے کرنے اوراسکی موت کا انتظاررکنے میں مصروف تھا۔سامنے فرشتہ کھڑا ہے خالق کی طرف سے روح قبض کرنے کے اشارے کا منتظر ہے۔لیکن وہ چارپائی پر بے سدھ پڑا سب کچھ دیکھ اورمحسوس کر رہا ہے مگر اب وہ پچھتانے لگا ہے ۔ کہ میںنے اس دنیا کو کیا دیا اور دنیا نے مجھے کیا صلہ دیااس موقع پر قرآن پاک نقشہ کھینچتا ہے وہ کہتا ہے کہ۔ اور جب موت کو سامنے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ کاش مجھے اس دنیا میں مہلت مل جائے تو میں صدقہ کرونگا اور غلبہ دین کی جدوجہد کرونگا۔ نیکوکاروں میں شامل ہونگا مگر تم اس لمحے ڈھیل میں نہیں رہو گے۔ اب تو افسوس ملتا ہے کہ میں نے کیا کیا ۔مجھ سے تو بہت بھول ہوگئی ۔اپنے ہاتھوںکو بے دردی سے ملتا ہے مگر جب کچھ سمجھ نہیں آتا توبھاگ جانے کی سوچتا ہے۔لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم سوچیںاور وقت اجل کے آجانے سے پہلے اپنا محاسبہ کریںخود فریبی کی چادر کو تار تار کر دیں۔اور غور کریں کہ ہمیں اس دنیا میںکس لیے بھیجا گیا ہے اور ہمیںیہاںکیا کر نا ہے مختلف سوچیں آرہی تھیں ۔رشتہ دار جلد سانس خارج ہونے کی دعا مانگ رہے تھے۔کوئی کہہ رہا تھاکہ ارے بھئی، سورةیسٰین پڑھو، جان نہیں نکل رہی ہے دوسری طرف سے ایک معصوم بچی اپنے ننھے سے ہاتھ باندھے آسمان کی طرف فریاد کر رہی تھی کہ ہائے اللہ چاچو کی موت آسان کر دے ہم سے چاچو کا تڑپنا نہیں دیکھا جاتا اچانک فرشتے نے قدم بڑھانا شروع کر دیے وہ تو چارپائی پر لیٹا تھا۔

اس نے اپنے تیئںفرشتے کی گرفت سے بھاگ جانے کی ناکام کوشش کی مگر خود بے حس وحرکت پایا۔وہ سب کچھ دیکھتا رہا اور اچانک فرشتے نے اپنا کام کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف چیخ وپکار ،واویلا،شور ،بین،مختلف آوازیںآ رہی تھی رونے کی آوازوںکے درمیان کوئی کہہ رہا تھا بہت اچھا،دولت مند تھا، بہت امیرآدمی تھاپھر وہی انسان خود کو حاکم اور سب کو محکوم سمجھتا تھا آج چار کندھوںپر ایک بے بس ڈھانچے کی طرح آخری قیام گاری کی طرف بڑھ رہا تھا۔پیچھے ،دوستوں،رشتہ داروںکی قطار تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیںکلمہ شہادت،کہیںمرحوم کے واقعات، تو کہیںورثائوپسماندگان کی اگلی زندگی، غرض مختلف راستے پر کوئی چل رہا تھا اوروہ چار کندھوںپر پڑا مردہ بے حس حرکت اندھیری قبر میںجا رہا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ میری نظر میںانسان کے تین دوست ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اورکوئی نہیںہے،پہلا دوست دولت جو ہر رشتے کو خرید دیتی ہے وہ دولت ہے جس کے سہارے پر انسان مکھی کو بھی اہمیت نہیں دیتا اس وقت جب انسان مرنے لگتا ہے تو یہ دولت اسے چھوڑدیتی ہے اس کا ساتھ مزید نبھانے سے پیچھے ہٹ جاتی ہے انسان کے دوسرے دوست کا کردار شروع ہو جاتا ہے جو اپنی دوستی کو نبھاتے ہیں۔یعنی مرنے کے بعد قبر تک چھوڑنے جاتے ہیںتو دوست احباب رشتہ دار ہر انسان کا دوسرا دوست احباب رشتہ دار ہے جو انسان کو قبرکے دہانے تک چھوڑآتے ہیںیعنی ان کی دوستی مد فن تک جاتی تھی جبکہ انسان کا تیسرااور آخری دوست اس کے اپنے اچھے اعمال جو قبر کی اندھیری اور تاریکی میں اپنے دوست کا ساتھ نبھاتے ہیں اور دفاع کرتے ہیں اور ساتھ بھی رہتے ہیں۔لیکن یہی انسان دنیا میںدولت پر رشک کرتا ہے شاید وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ دولت ہے تو سب کچھ میرے بس میں ہے

لیکن آج جب وہ بے یارومددگار کاندھوںپر سوار ہو کراندھیری کوٹھڑی میں جا رہا ہے تو سب منتظرہیںجو دنیا میںوہ عیاشیاںکرتا تھا۔اکڑ کے چلتا تھا ،خدا کے احکامات کو نظر انداز کرتا تھا وہی انسان آج بے حس و حرکت پڑا تھا۔زمین کہ رہی تھی کہ یہ مجھ پر اکڑکر چلتا تھا ۔پاؤں اور زبان کہ رہی تھی کہ اس نے ہم سے اتنے گناہ کرواے کہ ہمیںخود شرم محسوس ہوتی ہے۔قبر بانہیں پھیلا کر استقبال کر رہی تھی کہ میرے پاس تو آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبرستان کے اردگرد گھر بنانے کیڑے مکوڑوںکی اکثریت بھی انتطار کر رہی تھی کے کوئی انسان ہمارے گھروںکے حصار میںقبر میںجا رہا ہے۔لیکن پروردگار کی رحمت بھی ساتھ تھی،وہ فرماتا ہے کہ میرا بندہ ہے۔کیا ہوا جو اس نے گناہ کیے مگرمیں تو رحیم ہوں۔ میرے حبیب کی امت میں سے ہے۔میرے حبیب کے صدقے میں میںنے بہت دفع اس کو موقع دیا کہ یہ میرے پاس آجاے میرا بندہ بن کے آجائے مگر یہ تو سنتا ہی نہیں تھا یہ دنیا میں مجھے بھول گیا اب اس کی توبہ کی کوئی اہمیت نہیں؟ میری گزارش ہے کہ دینا کی دوستی میںاپنے اس دوست کا بھرپور ساتھ، خیال،اور دفاع کرتے رہیے کیونکہ اسی دوست یعنی (نیک اعمال)نے ہمارا دوستی کا فرض قبر میں چکانا ہے یعنی اس دوست (نیک اعمال) نے قبر کی تاریکی میں ہمارا ساتھ اور دفاع کرنا ہے۔ میری دنیا ہے کہ پروردگار ہر انسان کو ہدایت دے اور ہمیں نیک عمل اچھے کرنے کی توفیق دے۔

Nazar Abaas
Nazar Abaas

تحریر : نذر عباس جعفری

Share this:
Tags:
busy life lost man problems universe World انسان دنیا زندگی کھویا مخلوقات مسائل مصروف
Government School
Previous Post کمرے سے پہلے قالین وہ بھی پھٹی ہوئی
Next Post پاکستان افغان قیادت کے ساتھ افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے، دفتر خارجہ

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close