
سورہ یاسین پڑھ کر مجھے گھر سے نکالتی تھی ماں
خود دھوپ میں رہ کر مجھے چھاوں میں پالتی تھی ماں
وہ سارے زرد موسم اپنی چادر میں سمیٹ رکھتی تھی
اور گلاب موسموں کی طرح مجھے نکھارتی تھی ماں
اس کی آنکھیں ہمیشہ فرش راہ ہی رہیں
میں گھر لوٹ کر آتا تو جان وارتی تھی
اک صبح فرشتہ اجل میرے صحن اترا اور اس کے بعد
خاک میں خاک ہوئی جو خاک سے مجھے بچاتی تھی ماں
میں ٹوٹ کر بھی شائید اسی لئے نہیں بکھرا انور
اپنی دعا نیم شب میں مجھے اب بھی پکارتی تھی ماں
شاعر: انور جمال فاروقی
