Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تحریک آزادی و قیام پاکستان میں علمائے حق کا کردار

August 12, 2018 0 1 min read
Independence Movement of Pakistan
Independence Movement of Pakistan
Independence Movement of Pakistan

تحریر : عنایت کابلگرامی

پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، درحقیقت پاکستان کی بنیاد اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی جب راجہ دھر نامی ایک ظالم بادشاہ نے سندھ میں ایک غریب مسلمان لڑکی کی سرعام بے عزتی کی جس پر عرب سے مسلمانوں کے عظیم لیڈر محمد بن قاسم نے سندھ پر لشکر کشی کی اور سندھ کو فتح کیا ، ان کی عادلانہ پالسیوں کو دیکھ کر جوق در جوق ہندو مسلمان ہوتے رہے۔

ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال سے زاید حکومت کی محمد بن قاسم کے سندھ کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کے دیگر علاقوں کو ان کے بعد آنے والے مسلمان حکمرانوں نے فتح کیا جن میں محمود غزنوی ،احمد شاہ ابدالی ا ور محمد غوری کے نام نمایا ہے۔ ان حضرات کے بعد بھی مسلمان ہندوستان کے کئے علاقوں کے حکمران رہے بعض نے تو تقرباََ پورے ہندستان پر حکمرانی بھی کی ہے۔

17ویں صدی کے ابتدا یعنی 1601ء میں برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی وجود میں آئی اس کمپنی نے جزائر شرق الہند میں تجارت کے لیے اس وقت کی ملکہ برطانیہ سے اجازت طلب کو تو انہوں نے اجازت دے دی، یوں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جزائر شرق الہند کی جانب سفر شروع کردیا ، 1613ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی ابتدا میں یہ کمپنی ان علاقوں سے مصالحہ جات برآمد کرکے برطانیہ اور دیگر یورپین ممالک بھیجا کرتی تھی ، 1623ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان علاقوں میں تجارت کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردی ، تو سورت کے عوام ان کے خلاف ہوگئی ولندنیزیوں کو اپنے خلاف دیکھ کر ان انگریزوں سورت سے نکل کر دیگر علاقوں کی جانب رخ کردیا، ان کی نظر اب ہندوستان پر پڑی اور یوں 1655ء میں انگریز سامراج کی بنائی ہوئی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے اہم شہر بمبئی کو اپنا مسکن بنالیا ۔

یہاں سے شروع ہوتی ہے باقاعدہ ہندوستان پر انگریز سامراج کی بری نظر، ان دنوں ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں پر مغلیہ سلطنت قائم تھی مگر وہ بھی اتنی کمزور اور بے اتفاق جس کو دیکھ کر ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز سامراج نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کی سوچ شروع کردی ، ایسٹ انڈیا اگر چہ ایک تجارتی کمپنی تھی مگر یہ ڈھائی لاکھ سے زائد اپنی نجی فوج رکھتی تھی ، ان فوج کو انگریز سامراج کی بھر پور حمایت بھی حاصل تھی ۔

1757ء وہ سال تھا جس میں انگریز سامراج کھل کر ہندوستان پر قبضے کے لیے میدان جنگ میں اترآئے اس سے قبل بھی ہلکی پھلکی جنگیں ہوئی مگر باقاعدہ طور پر پہلی اور بڑی جنگ یہ تھی ،اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز جنرل کلایوں نے انگریز سامراج کے زیر سائیہ ہوکر مشرقی بنگال پر لشکر کشی کی جس کے لیے انہوں نے پہلے ہی نواب آف بنگال سراج الدولہ کے فوج میں اپنے لوگ بیٹھائے ہوئے تھے ۔ یوں یہ جنگ کچھ غداروں کی وجہ سے نواب آف سراج الدولہ ہار گئے اور انگریز جیت گئے۔

1757ء کے بعد سے انگریز سامراج بھی کھل کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ کھڑے ہوئے اور باقاعدہ طور پر اپنے ہزاروں انگریز سپاہیوں کو اس وقت کی جدید اسلحہ او دیگر سامان سے لیس کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی مدد اور ہندوستان پر قبضے کے لیے ہندوستان روانہ کیا ، 1757ء سے لیکر جنگ آزادی 1857ء تک انگریز سامراج کو ہندوستان میں سب سے زیادہ پریشانی مسلمانوں سے ہوئی کہی پر حیدر علی سے ہار رہے ہیں ، تو کہی پر ان کے بیٹے ٹیپو سلطان سے ، ان لوگوں کو اگر انگریز سامراج نے شکست دی بھی تو غداران ہندوستان و مسلمان کی وجہ سے ، اس کے ساتھ انگریز حکومت کے ناکھ میں سب سے زیادہ دم علمائے حق نے کیا ہوا تھا ۔

کون علمائے حق ؟ وہ علمائے جنہوں نے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انگریز سامراج کے خلاف علمبغاوت بلند کیا ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، شااسماعیل شہید اور سید احمد شہید جیسے بڑے علمائے کرام نے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کرکے مسلمانوں کو جگایا 1857ء جنگ آزادی ہندستان میں ہزاروں علماء کرام کو انگریز سامراج نے گرفتار کرا کریا تو سولی پر لٹکا دیا ،یا کالا پانی جیل میں تا مرگ پابند سلاسل کردیا ۔ جنگ آزادی 1857ء کے بعد علمائے کرام کے ساتھ عام مسلمانوں نے بھی انگریز سامراج کے خلاف مختلف علاقوں میںجہاد شروع کردیا ، اسی مقصد کے لیے علمائے کرام نے داروالعلوم دیوبند کا قائم کیا ، داروالعلوم دیوبند کا قیام میں مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ مولانا محمودالحسن کے والد حافظ ذوالفقار صاحب اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے والد مولانافضل الرحمان صاحب شانہ بشانہ تھے۔

1857ء کی جنگ آزدی اور داروالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد مسلمانوں میں انگریز سامراج کے خلاف جہاد کے شوق کو دیکھ کر انگریز سامراج نے مسلمانوں میں تفریقا ڈالنے کے لیے اپنے زیر سائیہ مختلف نام نہاد مسلمانوں کو جن کو آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان حکومتوں نے غیر مسلم قراد یا ہے ان کو ان علمائے حق کے خلاف استعمال کرنے لگے ، ایک طرف علمائے حق کا فتویٰ آیا کے انگریز سامراج کے خلاف جہاد فرض ہے تو دوسری جانب ان انگریزوں کے کھڑے کییگئے نام نہاد مسلمانوں کی جانب سے اس قسم کی باتیں آنے لگی کہ سادہ لوح مسلمان شش و پنج ہوگیا ،انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرف جائے۔ایک طرف فتویٰ آیا” نکلوں اللہ کی راہ میں قتل کرو ان انگریزوں کو” جنہوں نے ہمارے ملک ہندوستان پر قبضہ کیا ہوا ہے ، تو دوسرے طرف اشعارکے زریعے کہا جارہا تھا کہ” چھوڑ دو ائے مسلمانوں جہاد کا خیال ، اسلام میںحرام ہے قتل و قتال ” یہ سن کر عام سادہ مسلمان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اس موقع پر بھی علمائے حق نے اپنا کردار بخوبی نبھایا اور عام سادہ مسلمانوں کو ان دوشمنان اسلام کا چہرا بھی دیکھا یا ۔

تحریک آزادی ہندوستان کے بعد انگریز ہندوستان سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے تھے ، مگر ہندوستان پر قبضہ جمائے رکھنا بھی چاہتے تھے، اس کے لیے انہوں نے مسلمانوں میں اپنی نظریہ کے لوگوں کو داخل کیا یا مسلمانوں کی ایمان کا سودا لگا کر انہیں اپنا بنایا ۔ انگریزوں نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی اس تحریک کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کو شش کی مگر حاجی امداداللہ مکی مولانا رشید احمد گنگوی اور مولانا قاسم نانوتوی اور دیگر علماء نے انگریز کی تمام تر کاویشوں کوناکان بنایا ۔ تحریک جنگ آزدی ہندوستان کے بعد تحریک ریشمی رومال میں بھی انہیں علمائے حق نے جو کردار ادا کیا تاریخ اس کی گواہی تا قیامت دے گا۔

1930ء میں ال انڈیامسلم لیگ کا اجلاس الہ آباد میںعلامہ اقبال کی قیادت میں منعقد ہوا جہاں پر مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی قیام کا فیصلہ کیا گیا ، بالکل وہی خیال ان سے بہت پہلے مولانا اشرف علی تھانوی اپنی مجالسِ عامہ میں کئی بار ظاہر فرما چکے تھے، جس کا تذکرہ مولانا محمد علی جوہر کے دست راز اور کانگریس کے حامی مولانا عبدالماجد دریاآبادی اپنی کتاب ”نقوش و تاثرات”میں بیان کیا ہے۔یہ حضرت تھانوی کے بارے ان لوگوں کی گواہی ہے جو کانگریس کے حامی اور نظریہء پاکستان کے مخالف تھے اور خود حضرت تھانوی سے متعدد بار اسلامی ملک کی تاسیس کے بار ے میں سنا چکے تھے۔23تا 26اپریل 1943 ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا دہلی میں اجلاس شروع ہونے والا تھا۔اس تاریخی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ کے ارکان نے حضرت تھانوی کو ہدایات دینے کے لیے دعوت نامہ بھیجا۔یہ حضرت تھانوی کی وفات سے تین ماہ قبل کا واقعہ ہے۔

بامر مجبوری آپ نے اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کرتے ہو ئے اپنی ہدایات ایک تاریخی خط میں لکھ کر روانہ فرمادیںجس میں اپنی دو کتابوں ”حیاة المسلمین اور صیانة المسلمین”کی طرف رہنمائی فرمائی: پہلی کتاب شخصی اصلاح اور اور دوسری کتاب معاشرتی نظام کی اصلاح کے لیے تھیں۔ جب مسلم لیگ 1939 ء میں اپنے تنظیمی منصوبے کے تحت صوبوں اور ضلعوں میں از سرِ نو شاخیں قائم کررہی تھی تب مولانا اشرف علی تھانوی نے مفتی محمد شفیع عثمانی اور بعض دیگر اکابر علمائے دیوبندکے مشورہ سے مسلمانانِ ہند کو مسلم لیگ کی حمایت و مدد کرنے کافتویٰ دیا۔ صف اول علماء کی یہ آواز جو کھل کرمسلم لیگ کی حمایت میں بلند ہوئی جس سے مخالفین کی صفوں میں سراسیمگی پھیل گئی کیوں کہ وہ مسلمانانِ ہند میں مولانا اشرف علی تھانوی کا اثر و رسوخ اچھی طرح جانتے تھے۔ان کے ہزاروں متوسلین خلفاء جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔عین اسی موقع پر جماعت اسلامی نے گانگریس کی حمایت کرکے تحریکِ پاکستان کی تائید کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا انکا کہنا تھا کہ ”جب کونسلوں، میونسپل ٹیوں میں ہندؤوں سے اشتراکِ عمل جائز ہے تو دوسرے معاملات میں کیوں نہیں؟”۔ دارالعلوم دیوبند کی سیاسی جماعت جمعیت علمائے ہند دو حصوں میں تقسیم ہوگئی،ایک جماعت کانگریس کی حامی ہوگئی جس کی سربراہی مولانا حسین احمد مدنی فرمارہے تھے اور دوسری مسلم لیگ کی حمایت میں کھڑی ہوگئی جس کی صدارت علامہ شبیر احمد عثمانی فرمارہے تھے۔ ان دنوں مفتی محمد شفیع دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی تھے، حضرت تھانوی کے خلیفہ مجاز ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت میں تھے۔ اس مسئلے پر دونوں فریقین کے مابین آراء کا اختلاف ہوا، بحث و مباحثہ کی نوبت آئی۔ ایک جانب مولانا حسین احمد مدنی کا کہنا تھا کہ ہم ایک چھوٹا سہ ٹکڑا کیوں لے پورا ہندوستان ہمارا ہے، دوسری جانب مفتی شبیر احمد عثمانی کا کہنا تھا کہ موجودہ ہندوستان میں جمہوریت ہے اور یہاں ہندوستان میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوں ہے اس لیے حکومت ان کی بنی گی اور یہ مسلمانوں کو تنگ کریںگے، دونوں کے پاس ٹوس دلائل تھے۔

بالآخر دارالعلوم دیوبند کو اس اختلاف کے اثرات سے دور رکھنے کے لیے علامہ شبیر احمد عثمانی ر، مفتی محمد شفیع اور چند دیگر علمائے کرام نے دارالعلوم سے باضابطہ استعفیٰ دے دیا اور پاکستان کی حمایت میں اپنے اوقات کو آزادانہ وقف کردیا۔بعض مخالفین اس اختلاف کو بیان کرکے اکابر دیوبندکو متہم کرتے اور لوگوں کو علمائے دیوبند اور پاکستان کی حامی جمعیت علمائے اسلام کو پاکستان دشمن قرار دے کر لوگوں کے اذہان پراگندہ کرتے ہیں، یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے جو تعصب کی علامت ہے دونوں اکابر کا اختلاف اخلاص پر مبنی تھا۔ تحریکِ پاکستان کی کامیابی کے لیے یہ بات کافی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کی تائید کرنے والے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ہیںسب سے پہلے پاکستان کا جھنڈا لہرنے کا شرف علامہ شبیر احمد عثمانی کو حاصل ہوا، قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ میں مر جائوںتو میرا جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی سے پڑھایا جائے ، جو انہونے ہی پڑھا تھا۔

انگریز سامراج سے نجات اور پاکستان کی آزادی میں جہاں دیگر لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا وہی پر” تحریک آزادی وقیام پاکستان میں علمائے حق کا کردار” کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، مگر آج کو سیکولرز ذہین رکھنے والے لوگ اس کوشش میں مصروف ہے کہ کسی طرح علمائے حق کے کردار کو پاکستان کے لیے مشکوک کیا جائے ۔ تاحال وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہے ، مگر ان کے اگے روکاورٹیں نہ ہونے کہ وجہ سے آئندہ سالوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علمائے حق اور پاکستان کے ساتھ محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں(آمین)

Inayat ulhaq Kabalgraami
Inayat ulhaq Kabalgraami

تحریر : عنایت کابلگرامی

Share this:
Tags:
Freedom governors Inayat ulhaq Kabalgraami Movement muslims pakistan role آزادی پاکستان تحریک حکمرانوں کردار مسلمانوں
Charsadda Firing
Previous Post چارسدہ: معمولی بات پر تکرار مسلح تصادم میں بدل گئی، فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق
Next Post پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت ہر تیسرا پاکستانی مفلسی کا شکار
Poverty in Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close