Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مفتی محمود ۔۔۔ایک باکردار سیاست دان

October 14, 2015 0 1 min read
Jamiat Leader Mufti Mahmood
Jamiat Leader Mufti Mahmood
Jamiat Leader Mufti Mahmood

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
قائد جمیعت مفتی محمود کو ہم سے بچھڑے پینتیس سال ہوچلے ہیں۔ مفتی صاحب ایک فرد ہوتے تو تاریخ کے کسی گمنام گوشے میں چھپے ہوتے لیکن مفتی محمود کی زندگی اپنی ذات میں ایک جماعت تھی ۔ان کی زندگی اسلامی نظام کی جدوجہد کرنے والوں کے لئے ایک تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے ۔دھیمے سروں میں دل کی بات کہنے کا سلیقہ، موقف کے حق میں ٹھوس دلائل،سیاسی حرکیات پہ مکمل عبور،اعلی انتظامی صلاحتیں،انتھک محنت وریاضت مفتی صاحب کی خصوصیات تھی۔مفتی صاحب محقق عالم،مدبر سیاستدان،شب زندہ دارعارف اور ایک عظیم راہنماء تھے۔بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کارگاہ سیاست کی ہمہ وقت مصروفیات کے باوجود اپنی علمی وعملی مصروفیات جاری رکھ پاتے ہوں ۔ علمی استحضار،تفقہ اور وسعت نظرمفتی صاحب کا خاصہ تھا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ ” سیاست میں اس درجہ انہماک کے باوجود ان کا علمی استحضار اور علمی ذوق پوری طرح برقرار رہا۔جب کبھی کسی علمی مسئلہ کی بات آتی تو معلوم ہوتا کہ اس کے تمام ما لہ و ماعلیہ مفتی صاحب کی نگاہ میں ہیں۔

جب اس موضوع پربات کرتے تو یوں محسوس ہوتا کسی کتاب کا درس ہورہا ہے” جبکہ قاری محمد طیب صاحب رقمطراز ہیں کہ ”آپ کی شخصیت علمی حلقوں میں بہت زیادہ معروف ہے۔اس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں ،حق گو اور بے باک ہیں۔فقہی اور حدیثی استعداد کے ساتھ عصری معلومات پہ کافی عبور رکھتے ہیں” مولانا محمد یوسف بنوری فرماتے ہیں کہ ایک بار مفتی صاحب جامعہ بنوری ٹاون تشریف لائے، اتفاقاً درس بخاری کا پیریڈ تھا ،میں نے حضرت مفتی صاحب سے درخواست کی کہ آج آپ نے بخاری شریف کا درس دینا ہے۔ مفتی صاحب نے بخاری شریف جا کر کھولی اور یوں حدیث شریف کی تشریح کی اور علمی تقریر فرمائی کہ میں حیران رہ گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ،جیسے وقت کے ابن حجر عسقلانی تشریف فرما ہیں اور ایسی باتیں مجھے سننے کو ملیں کہ جو اس سے پہلے کبھی نہ سنیں جبکہ یہ بخاری شریف کا ایک مشکل مقام تھااور دلچسپ بات یہ کہ آپ ایک جلسے سے فارغ ہوکر تشریف لائے تھے۔ تیاری کا موقع بھی نہ مل سکاتھا۔

کتابی و اکتسابی علم تو اکثر علماء کے پاس ہوتا ہے لیکن مفتی صاحب مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔علم آپ کے وجود پہ کھلتا تھا۔آپ کی شخصیت آ پ کے مطالعہ کی آئینہ دار تھی۔لیکن اس سب کے باوجودآپ کی گفتگو سہل اور عام فہم ہوتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ وہ ایک کامیاب استاد بھی تھے۔قاسم العلوم ملتان کے طلباء کی خواہش ہوتی کہ ان کے اسباق مفتی صاحب کے پاس ہوں۔آپ آسان اور عام فہم سبق پڑھاتے اور طلباء کو رٹا لگانے سے بے نیاز کردیتے تھے۔

Politics
Politics

مفتی صاحب کو چونکہ مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ رح جیسے بزرگوں سے شرف نیاز رہا تھا اس لئے نوجوانی سے ہی سیاست سے دلچسپی رہی اور انہی بزرگوںکے زیر سایہ سیاسی تربیت حاصل کی۔١٩٣٧ کے انتخابات میں مفتی صاحب نے ایک طالب علم کی حیثیت سے کام کیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی کی ”جمیعة الانصار” سے بھی منسلک رہے۔قیام پاکستان کے بعد مفتی صاحب نے جمیعت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور ١٩٦٩ میں نائب امیر کے عہدہ پہ فائز ہوئے۔مفتی محمود کی سیاست دین کی سربلندی اور اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے تھی۔آپ کی تمام سرگرمیاں دینی احکامات کے تحت ہوتیں۔آپ کی زندگی کا مقصد یہی تھا کہ مملکت خدادا دپاکستان میں دین کو ہر سطح پہ فوقیت حاصل ہو۔تعلیمی پالیسیاں ہوں یا معاشی،عدالت و تجارت ہو یا پارلیمنٹ ، عدلیہ ہو یا فوج ہرسطح کا نظام اسلام کے تابع ہواور ایک ایسا معاشرہ تکمیل پا سکے جس میں تمام طبقات پرامن طریقے سے دینی احکامات پہ عمل کرسکیں۔ایک انٹرویو میں مفتی صاحب کہتے ہیں ”۔

جب تک پاکستان میں مکمل اسلامی نظام نافذ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ایک عالم دین ہونے کے ناطے مجھ پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو چیلنج کروں اور قرآنی اقدار کو ہر مرحلے پہ واضح کرتا رہوں۔”مفتی صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے اسمبلی کے اندر میری موجودگی میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے دین کے خلاف کوئی کاروائی ، کوئی قانون سازی مکمل نہ ہوسکے گی۔ میں حضرت صدیق اکبر کے خطبے سے راہنمائی حاصل کرتا ہوں جس میں انھوں نے فرمایا ”ا ینقض دین اللہ وانا حیی ”
سیکولر ذہنیت کے حاملین نے شروع سے ہی آئین میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کی ،تو علامہ شبیر احمد عثمانی کے بعد جس شخصیت نے آئین ِ پاکستان کو اسلامی آئین کے قالب میں ڈھالنے کا کردارادا کیا، وہ شخصیت مفتی صاحب کی ہی تھی۔ 1973کا آئین آپ کی ہی جہد و مساعی کا ثمر ہ ہے۔

مفتی صاحب سیاست و مذہب کو جدا نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ سیاست کو دین کااہم جزو سمجھتے تھے ایک بیان میں فرماتے ہیں ” میں آج آپ کے سامنے ملک کی حفاظت اور اس کے ا ستحکا م کی سیاست واضح کرنا چاہتا ہوں ۔میں مذہبی آدمی ہوں ۔میرے نزدیک مذہب سیاست ایک ہیں۔مفتی صاحب مروجہ سیاست کی تمام گندگیوں سے دور رہے۔ اس وقت جب پاکستان کی سیاست میں سادگی ، اصول پرستی،شرافت اور دیانت ناپید ہوچکی تھی مفتی صاحب نے انھیں سنہری اصولوں کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا۔مفتی صاحب جب کسی موقف کو اپناتے تو پھر اس کے اظہا ر میں کسی لومة لائم کی پرواہ نہ کر تے ، حالات کی سختی ان کو ڈرا سکتی نہ کسی عہدہ ومنصب کا لالچ انہیں اپنے موقف سے متزلزل کرسکتا تھا۔

Pakistan Love
Pakistan Love

مفتی صاحب کو پاکستان سے عشق تھا۔پاکستان کے استحکام کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے۔سقوط ڈھاکہ سے قبل جب ہندوستان نے پاکستان کو متحد رکھنے کے موقف کو کمزور ثابت کرنے کے لئے پروپیگنڈہ شروع کیا تو مفتی صاحب نے یحی خان کو توجہ دلائی۔نعیم آسی لکھتے ہیں ” جب مولانا مفتی محمود نے یھیٰ خان کی ماتم انگیز بے حسی دیکھی تو وہ تڑپ کر اٹھے اور جولائی کے اوائل میں جمیعة علمائے اسلام کی طرف سے ایک دو رکنی وفد لے کر مشرق وسطی کے دورہ پہ روانہ ہوء ے ۔وفد میں مولانا مفتی محمود ،مولانا غلام غوث ہزاروی اور حاجی غلام محمد شامل تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اس وفد کو کسی قسم کی سہولت فراہم کرنا قطعا گوارا نہ کیا۔وفد کے مقاصد میں بھارت کے پروپیگینڈے کا جواب، مشرقی پاکستان کی صحیح صورتحال کا بیان اور مسلم مملک کے اتحاد کی کوششیں شامل تھیں۔مصر کے علاوہ لیبیا ، سوڈان،شام،لبنان، سعودی عرب اور کویت کا دورہ اس پروگرام میں شامل تھا۔

اس دورہ میں جمیعة کے وفد کو خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔انہوں نے عربوں کو مشرقی پاکستان کی صحیح صورتحال بتائی اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے انھیں اسرائیل کے عزائم سے ہم آہنگ کیا”۔ مفتی صاحب بھارت گئے تو NID نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر نے ان سے پاکستان کی سیاست پہ بات کرکے اپنے مطلب کا مواد اکٹھا کرنا چاہا تو مفتی صاحب نے جواب دیا ” میں اپنے وطن سے باہر دیار غیر میں اپنے وطن کی بات نہیں کروں گا یہ مجھے اخلاقی طور پہ زیب نہیں دیتی کہ اپنے ملک کے حالات چاہے جیسے بھی ہوں زیر بحث لاوئں ۔پ میرے ساتھ لاہور چلیں میں آپ کو کھل کر بتادوں گا۔

مفتی صاحب عالم باعمل ،عارف باللہ اور بزرگوں کی اعلی روایات کے امین تھے۔ مولانا نور الہدیٰ صاحب کہتے ہیں ”کہ ١٩٧٣ میں تین دن مفتی صاحب کے ساتھ رہا۔ایک ایک ادااور ہر عمل سنت کے مطابق پایا۔رات گئے تک جلسوں سے خطاب کرنے کے بعد تہجد کا التزام کرتے”۔مفتی صاحب شرافت دیانت اور صداقت کے پیکر تھے۔انتہائی خلیق،متواضع اور حلیم الطبع تھے۔سیاسی مباحث،جلسوں ،پریس کانفرنسوں ،تقاریراور عوامی اجتماعات میں مفتی صاحب کبھی چڑچڑے نظر آئے نہ کبھی پیشانی پہ بل آیا۔ہرملاقاتی سے ہشاش بشاش ملتے۔ جب وزیر اعلی تھے تب بھی اپنے ملازمیں کے ساتھ دسترخوان پہ کھانا کھاتے اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے۔بلوچستان میں شہید جمیعت مولانا شمس الدین کی کوٹھی پہ مفتی صاحب کی دعوت تھی۔جب کھانا چنا گیا تو پوچھا بھئی ہمارا ڈرایئور کہاں ہے۔ساتھیوں نے بتایا کہ وہ باہر ہے اسے وہاں کھانا پہنچا دیا جائے گا۔لیکن مفتی صاحب نے بااصرار بلوایا اور اپنے ساتھ والی نشست پہ بٹھایا۔

جلیل مقاصد کے لئے ساری زندگی جدوجہد کرنے والے مفتی محمود 14 اکتوبر 1980 کو کراچی میں ایک علمی مجلس میں علماء سے شریک گفتگو تھے کہ خلاق عالم کی طرف سے بلاوا ن پہنچا اور مفتی صاحب لبیک کہتے ہوئے اس جہان رنگ و بو سے کنارہ کر گئے۔ حضرت مفتی صاحب کی زندگی اور آپ کا انداز سیاست مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے لیے شاید سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ مروجہ سیاست کی آلودگی سے بچ جائیں،مفتی محمود صاحب نے مروجہ سیاست کی آلودگیوں سے بچ کر دکھایااور اس میدان میں رہنے والوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑ گئے۔ آج اسلاف کا نام لینا اور ان کے نام پر اپنا منجن بیچنا بہت آسان ہے مگر اسلاف کے کردار کو اپنانا بہت مشکل ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ اسلاف کے کردار کو اپنایا جائے اوران لوگوں کی صف میں کھڑا ہوا جائے جو اسلاف کے کردار کو اپناتے ہوئے مذہب کی بقا اور اس کے نفاذ کے لیے میدان عمل میں موجود ہیں۔

Rizwan Ullah Peshawari
Rizwan Ullah Peshawari

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
rizwan.peshawarii@gmail.com

Share this:
Tags:
politicians right Rizwan Ullah Peshawar حق رضوان اللہ پشاوری سیاست دان گمنام
Extremist Hindu Group Shiv Sena
Previous Post بھارت کی مودی سرکار کا اصل چہرہ
Next Post پاکستان تحریکِ انصاف کے ضلعی صدر راجہ یاسر سرفراز نے مصروف ترین دن گزارا
Chakwal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close