Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ماہ محرم اور بدعات و رسومات

October 13, 2015 0 1 min read
Muharram
Muharram
Muharram

تحریر: آمنہ نسیم ،لاہور
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ّیعَدَّةَ الشّْہْورِ عِندَ اللّہِ اثنَا عَشَرَ شَہراً فِی کِتَابِ اللّہِ یَومَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالارضَ مِنہَا اَربَعَة حْرْم ذَلِکَ الدِّینْ القَیِّمْ فَلاَ تَظلِمْوا فِیہِنَّ اَنفْسَکْم? (سورة التوبة آیت36 )
”مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہے۔ اسی دن سے جب سے اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں۔ یہی سیدھا و درست دین ہے۔ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ”۔
مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ جن میں سے چار حرمت والے ہیں اس بات کی وضاحت نبی کریم ا نے یوں فرمائی :
”زمین و آسمان کی تخلیق کے دن سے زمانہ گردش میں ہے۔ سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں۔ ذوالقعدة،ذوالحجة اور محرم جبکہ ایک مہینہ رجب ہے”۔ ( صحیح البخاری (3197) صحیح مسلم ( 4383)

ان مہینوں کو حرمت والا اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام سے جو فتنہ و فساد اور امن عامہ کی خرابی کا باعث ہو ، بالخصوص منع فرمادیاہے۔ مثلا آپس میں لڑائی جھگڑا اور ظلم و زیادتی وغیرہ نافرمانی کے کام کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع کیا گیاہے۔ ان حرمت والے مہینوں میں قتال کرکے ان کی حرمت پامال کرکے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب نہ کرو۔ ہاں اگر کفار ان مہینوں میں بھی تمہیں لڑنے پر مجبور کردیں تو لڑائی کرنا درست ہی نہیں بلکہ فرض بھی ہے۔

محرم الحرام کی فضیلت
ماہ محرم الحرام اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی کریم ا کے واقعہ ہجرت پر ہے۔ اس اسلامی سن کا تقرر اور آغاز استعمال 18ہجری میں عمر فاروق صکے دور خلافت میں ہوا۔ اس لحاظ سے یہ مہینہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شھادت حسین صکا اس مہینے کی حرمت سے کوئی تعلق ہے ؟ خیال رہے کہ اس مہینے کی حرمت کا سیدنا حسین صکے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ اس لیے قابل احترام ہے کہ اس میں سیدنا حسینص کی شہادت کا واقعہ دلگداز پیش آیا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ یہ واقعہ شہادت تو نبی کریم اکی وفات سے پچاس سال بعد پیش آیا جبکہ اس بات سے ہر مسلمان بخوبی واقف ہے کہ دین اسلام نبی کریم ا کی زندگی ہی میں مکمل ہوگیا تھا۔ فرمان الہی ہے :
الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم ا لاسلام دینا ( المائدہ : 3 ) ”آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کردیااور تم پر اپنا انعام کامل کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ہوں ”۔

تکمیل دین کے بعد کوئی ایسا کام کرنا جس کا نہ تو شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق ہو اور نہ نبی کریم ا سے کوئی نسبت ہو ، سراسر غلط اور ناجائز ہے۔ اس لیے یہ تصور اس آیتِ قرآنی کے سراسر خلاف ہے۔ پھر خود اسی مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اور واقعہ شہادت پیش آیا تھا یعنی یکم محرم کو خلیفہ ثانی عمر فاروق ص کی شہادت کا واقعہ، اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو شہادتِ عمر فاروق صاس لائق تھی کہ اہل اسلام ا س کا اعتبارکرتے۔
سیدنا عثمانصکی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یاد منائی جاتی جبکہ یہ تمام واقعات تکمیلِ دین کے بعد پیش آئے ہیں۔ نہ تو نبی ا کا یومِ وفات صحابہ نے کبھی منایا اور نہ باقی خلفاء و صحابہ کا یومِ شہادت منایاگیا۔ اس لیے ان شخصیات کی یاد میں مجالس عزا مخصوص کرنادین میں اضافہ کرنا ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں۔

Fasts
Fasts

محرم الحرام میں مسنون عمل
ماہ محرم میں مسنون عمل بالخصوص روزے ہیں۔ نبی کریم ا کا معمول تھا کہ آپ ا ماہ محرم میں بکثرت روزے رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس مہینے میں روزے رکھنے کی ترغیب دلاتے جیسا کہ حدیث نبوی میںرمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو افضل قرار دیا گیاہے فرمان نبوی ہے افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ ( صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل صوم المحرم ( حدیث : 1163۔ (3755)۔

عاشوراء محرم کے روزے کی فضیلت
عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ ان رسول اللہ ا قدم المدینة فوجد الیھود صیاما یوم عاشوراء فقال لھم رسول اللہ ا ما ھذا الیوم الذی تصومونہ؟یفقالوا ھذا یوم عظیم انجی اللہ فیہ موسی و قومہ و غرق فرعون و قومہ فصامہ موسی شکرا فنحن نصومہ فقال رسول اللہ ا فنحن احق و اولی بموسی منکم، فصامہ رسول اللہ ۖ۔
”نبی کریم ا مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورا ء ( دس محرم ) کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آپ نے ان سے کہا :یہ کونسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو۔ انہوں نے کہا: یہ بڑا عظیم دن ہے۔ اللہ نے اس دن موسی اور ان کی قوم کو نجات دی۔ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیاتو موسی نے شکرانے کے طورپر روزہ رکھا۔ اس لیے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ تو نبی کریم ۖ نے فرمایا ہم تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور موسی کے زیادہ قریب ہیں۔ لہذا رسول ۖنے اس دن روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم فرمایا”۔( صحیح مسلم – مسند احمد) بالخصوص یوم عاشوراء کی فضیلت بتلاتے ہوئے فرمایا : یکفر السنة الماضیة پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتاہے۔ ( صحیح مسلم)۔

لیکن بعد میں نبی ۖکوخبر ملی کہ یہود اب بھی اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں تو نبی کریم ۖنے فرمایا : لئن بقیت الی قابل لیصومن التاسع ”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں ضرور 9 تاریخ کاروزہ رکھوںگا”(صحیح مسلم 1134) لیکن آئندہ محرم سے پہلے آپ ۖاپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
حدیث لئن بقیت الی قابل کے راوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مصنف عبد الرزاق اور بیہقی میں موجود ہے جس سے یہی مفہوم بنتا ہے کہ 9اور 10 محرم دونوں روزے رکھنے چاہئیں۔
(1) 10 محرم کا روزہ آپ ۖنے سیدنا موسی علیہ السلام کے نجات پانے کی خوشی میں رکھاتھا اور صحیح حدیث میں واضح طورپر اعلان کیا فنحن یحق و یولی بموسی منکم اور اس امر سے آپ کی دستبرداری مروی نہیںلہذا اس اعتبار سے10محرم کا روزہ بہر حال مسنون ہے۔
(2) کسی دن کی تاریخی حیثیت کو بدلا نہیں جاسکتا بصورت دیگر اس کی مقررہ فضیلت و ثواب سے محروم ہونا لازم آتاہے۔

قابل عمل صورت :
عاشوراء محرم کے روزے سے فیضیاب ہونے والے کے لیے درج ذیل صورت قابل عمل ہے۔ عاشوراء ( دس محرم کے روزے سے پہلے 9 محرم کا روزہ۔ یہ افضل صورت ہے یا 10 محرم کے ساتھ 11 محرم کا روزہ یا 9۔ 10 اور 11 محرم پے در پے تین روزے رکھ لیے جائیں۔

Wailing and Mourn
Wailing and Mourn

ماہ محرم میں مروجہ بدعات و رسومات
واقعہ کربلا نبی کریم ا کی وفات اور دین محمدی ا کی تکمیل کے تقریباً 50 سال بعد پیش آیا۔ یہ ایک تاریخی سانحہ ہے لیکن واقعہ شہادت حسین کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقع مل گیا، چنانچہ کچھ لوگ ماہ محرم کا چاند نظر آتے ہی اور بالخصوص دس محرم میں نام نہاد محبت کی بنیاد پر سیاہ کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ سیاہ جھنڈے بلند کرتے ہیں۔نوحہ و ماتم کرتے ہیں۔ تعزیے اور تابوت بناتے ہیں۔ منہ پیٹتے اور روتے چلاتے ہیں۔ بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ ننگے پاوں پھرتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، جوتا نہیں پہنتے۔ نوحہ اور مرثیے پڑھتے ہیں۔ عورتیں بدن سے زیورات اتاردیتی ہیں۔ ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں۔ زنجیروں اور چھریوں سے خود کو زخمی کیا جاتاہے۔ سیدنا حسین ص اور دیگر شہداء کی نیاز کا شربت بنایا جاتاہے۔ پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ ( حالانکہ اس دن روزہ رکھنانبی کا مسنون اور افضل عمل ہے ) عاشوراء محرم کے دوران شادی و خوشی کی تقاریب نہ کرنا( جبکہ شریعت محمدی میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ورنہ باقی سارا سال بھی دیگر جید صحابہ کی شہادت کے سوگ مناتے گزرجائے گا)، شہادت کا سوگ ہر سال منانا۔

یہی نہیں بلکہ عظیم صحابہ و اسلاف کو گالیاں دینا، طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور دیگر مختلف قسم کی خود ساختہ خرافات ، ان صحابہ واسلاف کی طرف منسوب کرنا اور ان بے گناہ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینا جو دین اسلام کے اولین راوی ہیں، جن کے بغیر دین اسلام کا کوئی شعبہ مکمل نہیں ہوتا، جنہیں واقعات کربلاسے دور و نزدیک کا بھی کوئی تعلق نہیںتھا۔پھر واقعہ کربلا کی جو کتابیں پڑھی جاتیں ہیں ، وہ زیادہ تر اکاذیب و اباطیل کامجموعہ ہیں جن کا مقصد فتنہ و فساد کے نئے دروازے کھولنا اور امت میں پھوٹ ڈالناہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام بدعات و خرافات ایک خاص مذہب کی ترویج و تبلیغ اور اس کو سہارا دینے کے لیے ایک سوچی سمجھی پلاننگ کا نتیجہ ہیں جن کی ادائیگی میںامن عامہ قائم نہیں رہ سکتا جیسا کہ سب جانتے ہیں ، اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ دیکھا دیکھی، ہمارے کچھ بھائیوںنے بھی اس نسبت سے ایسے کام شروع کردیے جن کا شریعت اسلامیہ میں کوئی وجود نہیں ، جو سراسر بدعات و ضلالت پر مبنی امور ہیں، جن کی دین اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ یہ حضرات اپنے زعم میں اس مہینے کا احترام کرتے ہوئے اس کی تقدیس و احترام کو پامال کر دیتے ہیں اور ثواب حاصل کرنے کے بجائے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں اور گنہگار بن کر اللہ اور اس کے رسول ا کے نافرمانوں کی لسٹ میںاپنا نام درج کروالیتے ہیں۔

ماہ محرم الحرام میں عام دستور و رواج کے مطابق شہادت حسین اور واقعات کربلا کے حوالہ سے ، بازاروں دوکانوں ، ریڈیو، ٹی وی اور دیگر مجالس میں لوگوں کے سامنے مکذوبہ، موضوعہ اور ضعیف من گھڑت خود ساختہ داستانیں اور قصے بڑی رنگ آمیزی سے بیان کئے جاتے ہیں جس میں وہ خود بھی روتے ہیں اور سننے والوں کو بھی رلاتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کربلا کا فسانہ اور شہید مظلوم کی خود ساختہ داستانیں اور ان پر پانی بند ہونے کے جھوٹے قصے لوگوں کو سنتے سناتے ہیں، وہی محرم کے مہینے شربت کے مٹکے اور قسم قسم کے گانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شہادت تو ایک انمول اعزاز کو کہتے ہیں جس پر سیدنا حسین فائز ہوئے۔ شہید زندہ ہوتا ہے نہ کہ مردہ۔
ہمارے بہت سے کچھ بھائی ،بہن رافضی حضرات کی دیکھا دیکھی بھی اور کچھ ان کے وسیع پروپیگنڈے کے شکار ہوکر بھی درج ذیل بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں۔

Nohay khawan
Nohay khawan

1۔ مجالس شہادت: جن میں بہت سی با شعور عوام گریہ وزاری کا وہی منظر پیش کرتے ہیں جو مجالس روافض سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔
2۔ ویڈیو،ٹی وی اور دیگر مجالس میں سنے گئے نوحے اور مرثیے پڑھتے ہیں۔
3۔ محرم کی دس تاریخ کو چولہے اوندھے کردیے جاتے ہیں۔
4۔ نو بیاہی عورتیں یوم عاشوراء اپنے اپنے میکے میں گزارتی ہیں۔
5۔ زیورات کا پہننا شہادت حسین کے غم میں ترک کردیتی ہیں۔

اس کے علاوہ توہم پرست لوگوں نے اور بھی بہت سے باطل خیال قائم کر لیے ہیں۔ مثلا مہینہ کے پہلے دس دنوں میں اگر کوئی اپنی بیوی سے ہم بستری کرے گا تو اولاد منحوس ہوگی یا ناقص العقل ہوگی۔ شادی ہوتو مبارک نہ ہوگی۔ کچھ اس قسم کا خیا ل عرب کے جاہل لوگوں کا تھا۔ ماہ شوال کو منحوس سمجھتے اور اس میں شادی نہیں کرتے تھے۔ نبی کریم ا نے ان کے اس خیال باطل کو توڑنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی ماہ شوال میں کی اور رخصتی بھی اسی مہینے میں ہوئی۔ اسلام میں اس قسم کی مشقتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری طرف ایسے حضرات کو عاشوراء محرم کے دوران شادیاں بھی کرنی چاہئیں اسلام میں کسی بھی شخص کی موت یا شہادت پر تین دن سے زیادہ کا سوگ نہیں ‘ما سوائے بیوہ عورتوں کے ‘ وہ اپنے خاوندوںکی اموات و شہادت پر چار ماہ دس دن سوگ کے لیے زیب و زینت کو ترک کرتی ہیں لیکن اس سوگ کا ہر سال اعادہ نہیں کرتیں۔

ماہ محرم کے حوالہ سے ایک اور کام جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ہے ، کجیاں ، ٹھوٹھیاں بھرناہے، معلوم نہیں اس چیز کا شہادت حسین صسے کیا تعلق و رشتہ ہے۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوتے ہی عورتیں اور مرد ان کجیوں میں لسی یا دودھ ڈالتے ہیں۔ ٹھوٹھیوں میں حلوہ یا کھیر بھرتے ہیں اور بچوں میں بانٹنا شروع کردیتے ہیں۔ کچھ حضرات مٹی کے کچے پیالے لے کر ان میں کھیر ڈال کر بانٹتے ہیں۔ کچھ حلیم کی دیگیں پکا کر تقسیم کرتے ہیں۔
ماہ محرم میں ایک اور خلاف شرع کام یہ کیا جاتا ہے کہ محرم کے آغاز سے ہی قبروں کی لیپا پوتی کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ جوں جوں10 محرم قریب آتا جاتا ہے قبرستانوں میں رونق کے اندر اضافہ ہوجاتاہے۔ 10محرم کا سورج طلوع ہوتے ہی لوگ جوان بہو، بیٹیوں کو لے کر قبرستانوں کی جانب نکل پڑتے ہیں۔ پھولوں اور اگربتیوںکے سٹال لگائے جاتے ہیں۔ قبروں کی لیپا پوتی کی جاتی ہے۔ ان پر مرد و زن اکٹھے مٹی ڈالتے ہیں جس سے کئی ایک غیر شرعی قباحتیں لازم آتی ہیں مثلاً بے پردگی،محرم کے بغیر گھر سے نکلنا وغیرہ۔ پھر مٹی ڈالنے کے بعد قبر پر کھڑے ہوکر شیرینی تقسیم کی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے اگر کوئی مٹی ڈالنے کے بعد شیرینی تقسیم نہ کرے تو قبر والے پر بوجھ رہتاہے۔

یہ سب من گھڑت اور بدعات و خرافات پر مبنی افعال ہیں۔ قبروں کی زیارت کا حکم تو نبی ۖنے اس لیے دیا ہے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی رہے،اگر وہاںپر اس قدر پر رونق سما ںپیدا کیا جائے تو بلا شبہ یہ شرعی مقصد فوت ہوجاتاہے۔اور شریعت اسلامیہ نے قبروں کی زیارت کے لیے کوئی خاص دن بھی مقرر نہیں کیا لہذا کسی خاص دن زیارت کو مقید کردینا بھی شریعت اسلامیہ کے منافی عمل ہے۔ خستہ قبر کو درست تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی دن مقرر کرنا یا انہیں پختہ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں۔ دنیا میں جنت البقیع بہترین قبرستان ہے۔ دور نبوی ا یا دور صحابہ رضی اللہ عنہم میں کبھی وہاں دس محرم کو اس طرح میلہ نہیں لگایا گیا اور نہ مٹی اور پھول ڈالنے کا اہتمام کیا گیا۔

Rituals
Rituals

رسومات محرم پر سلف علمائے کرام کا تبصرہ :
1۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں :
” اے بنی آدم تم نے اسلام کو بدل ڈالنے والی بہت سی رسمیں اپنا رکھی ہیں مثلا تم دسویں محرم کو باطل قسم کے اجتماع کرتے ہو۔ کئی لوگوں نے اس دن کو نوحہ و ماتم کا دن بنالیا ہے حالانکہ اللہ تعالی کی مشیت سے حادثے ہمیشہ رونما ہوتے ہی رہتے ہیں۔ سیدنا حسین ص اس دن ( مظلوم شہید کے طورپر ) قتل کئے گئے تو وہ کونسا دن ہے جس میں کوئی نہ کوئی اللہ کا نیک بندہ فوت نہیں ہوا ( لیکن تعجب کی بات ہے کہ ) انہوں نے اس سانحہ شہادت مظلومانہ کو کھیل کود کی چیز بنالیا۔ تم نے ماتم کو عید کے تہوار کی طرح بنالیا۔ گویا اس دن زیادہ کھانا پینا فرض ہے اور نمازوں کا تمہیں کوئی خیال نہیں جو فرض عین ہے۔ ان کو تم نے ضائع کردیا۔ یہ لوگ انہیں من گھڑت کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ نمازوں کی توفیق ان کو ملتی ہی نہیں”۔
( بحوالہ تفہیمات الالہیہ ١تفہیم ٦٩ ٢٨٨ طبع حیدر آباد سندھ ١٩٧٠ئ )۔
2۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ٣٥٤ھ کے واقعات میں ماتمی جلوسوں کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
”یہ ( ماتمی مجالس وغیرہ) کی رسمیں اسلام میں ان کی کوئی ضرورت نہیں واقعة اگریہ اچھی چیز ہوتی تو خیر القرون اور اس امت کے ابتدائی اور بہتر لوگ اس کو ضرور کرتے۔ وہ اس کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ ( بات یہ ہے ) کہ اہل علم ( سنت نبوی کی ) اقتداء کرتے ہیں۔ اپنی طرف سے بدعتیں نہیں گھڑتے۔ ”( البدایہ والنہایہ ١١ ٢٧١ )۔

شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صراط مستقیم صفحہ ٥٩ پر تحریر فرمایا ہے:
”( فارسی عبارت کا خلاصہ یہ ہے ) پاک و ہند میں تعزیہ سازی کی جو بدعت رائج ہے یہ شرک تک پہنچادیتی ہے کیونکہ تعزیہ میں سیدنا حسین ص کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور پھر اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور ان معانی میں یہ پورے طورپر بت پرستی ہے۔ ( اعاذنا اللہ منہ ) ”
3۔ امام احمد رضا خان صاحب بریلوی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں۔
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و خلفائے مرسلین مسئلہ ذیل کے بارے میں 1۔ بعض اہل سنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں اور کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ 2۔ ان دس دنوں میں کپڑے نہیں بدلتے۔ 3۔ ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے 4۔ ان ایام میں سوائے امام حسن ص اور امام حسین صکے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے۔ یہ جائز ہے یا ناجائز۔ ( بینوو توجروا )
جواب : پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں سوگ حرام ہے اور چوتھی بات جہالت ہے۔ واللہ تعالی اعلم ( حوالہ احکام شریعت مسئلہ نمبر150۔ محرم الحرام ( 1328ھ)۔

Dawat Fikar
Dawat Fikar

دعوت فکر
مکرم و محترم قارئین ! یہ قانون فطرت ہے کہ ہر ایک چیز کو فنا ہونا ہے اور ہر ایک متنفس کو موت کا منظر دیکھنا ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں خواہ کوئی نبی ہو یا ولی۔
لیکن بعض اموات ایسی ہولناک اور پریشان کن ہوتی ہیں کہ جن کے حزن و ملال کی داستان الفاظ سے نہیں بیان کی جاسکتی اور ایسے اندوہناک حادثات کے احساس و شعور کو تعبیر کرنے سے زبان و قلم عاجز ہوتے ہیں۔ صرف ایک ہی حکم ہے جس سے ان احساسات کی تعبیر ممکن ہے اور وہ یہ کلمہ ہے جسے مسلمان اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں ایسے موقعوں پر بار بار دہراتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یعنی اس صدمہ کے احساسات کو تعبیر کرنے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے جل شانہ نے ایک نسخہ کیمیا بتایا ہے جس میں انسانی زندگی کی حقیقت مضمر ہے کہ انسان کی آمد و رفت تمام کچھ اللہ ہی کے لیے ہے۔ لیکن افسوس! بعض نفس پرست لوگوں نے اللہ کے اس بتائے ہوے نسخے کو چھوڑکر اپنے زخموں کی مرہم کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کرلیے ہیں۔

ان متفرق طریقوں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ محبت اور غلو عقیدت یا مکر و فریب اور دھوکہ دہی کی وجہ سے سینہ کوبی اور ماتم وغیرہ شروع کردیتے ہیں او راپنے جسم اور جسم کے بالو ں کو نوچنا اور اپنے گریبانوں کو چاک کرنا اپنا علاج سمجھتے ہیں اور بآواز بلند نوحہ کرنے اور آوازکسنے واویلا کرنے میں اپنی شفا تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسلام میں ممنوع اور حرام ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بعض لوگ انہی میں اپنی شفا سمجھتے ہیں۔ اور اس کو اپنے ل?ے باعث افتخار اور خاص شعار سمجھتے ہیں۔در حقیقت یہ سب کچھ اسلام سے دوری اور پہلوتہی کا نتیجہ ہے اور پھر اس انسان پر جس کی موت بھی شہادت کی موت ہو اور اس پر متزاد یہ کہ اس کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل چکی ہو اور بشارت بھی اس درجہ کی کہ کسی اور کے نصیب بھی نہ ہو اور پھر اس انسان پر جس نے اپنی تمام زندگی خرافات کے قلع قمع کرنے میں گزاری ہو اور مرتے دم بھی زبان پر ان کے خلاف ہی الفاظ ہوں اس کی موت پر ایسا کرنا کسی منصف مزاج انسان کے نزدیک اس کے ساتھ محبت والفت کا طریقہ نہیں ہوسکتا بلکہ عدل و انصاف کے منافی اور اس پر زیادتی ہے۔ جبکہ ان سے محبت کا تقاضا تو یہ ہے ہم وہ کام کریں جو وہ کرتے تھے۔ بقول شاعر

لو کنت صادقا فی حبہ لاطعتہ ان المحب لمن یحب مطیع
اگر تجھے اپنے محبوب سے سچی محبت ہوتی تو اس کی باتیں مانتا کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا اطاعت گزار ہوتاہے۔
محترم قارئین ! اگر ہماری محبت واقعی سچی اور مبنی بر خلوص ہے تو چاہیے کہ ان کی باتیں مانی جائیں۔ وہ کام کیے جائیں جو وہ پسند کرتے تھے۔ نماز سیدنا حسین ص کی محبوب ترین چیز تھی۔ انہوںنے ساری زندگی باقاعدگی سے نماز ادا کی۔ نماز ترک کرنا تو در کنار کبھی نماز کی ادائیگی میں ذرا سی سستی و کاہلی کا مظاہرہ بھی نہیں کیا نہ کسی سے دھوکہ کیا ،انہوں نے داڑھی بھی سنت کے مطابق رکھی ہوی تھی۔سیدنا حسین ص تقوی کے اعلی معیار پر فائز تھے۔ خشیت الہی ان میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوی تھی غرض یہ کہ انہوں نے زندگی بھر اللہ اور اس کے رسول ا کی اطاعت کی کبھی خلاف ورزی اور نافرمانی کا سوچا بھی نہیں لیکن ہم تمام کاموں سے عاری ہیں ہماری زندگیاں روز مرہ کے معمولات بالکل ان کی زندگی کے بر عکس ہیں اور یہاں ہم ایک دوسرے پر فتوے لگاتے ہیں اور ان کی محبت کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں۔

Sachi Muhabbat
Sachi Muhabbat

ان کی محبت میں بڑے بڑے عظیم و بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے حالانکہ سیدنا حسین نے بذات خود اپنی پوری زندگی صحابہ رضی اللہ عنہم تو درکنار ،کسی عام آدمی سے بھی ہتک آمیز سلوک نہیں کیا۔ ایک طرف تو اتنے بڑے بڑے دعوے اور دوسری طرف زندگیوں میں اتنا تفاوت ‘یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ ہم ہیں کہ اس قسم کی رسومات ، بدعات خرافات و اختراعات میں اپنا وقت مال اور وسائل برباد کر رہے ہیں جبکہ دین اسلام کے دشمن تو ہر وقت اسلام اور اس کے ماننے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کے لیے طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہوناتو یہ چاہیے کہ ہم سب اتحاد و یگانگت کی ایسی مثال پیش کریں کہ دشمن پر ہماری دھاگ بیٹھ جائے لیکن ہم میں ان جذبات کا تا حال فقدان ہے۔ آج ہم سب کو مل کر یہ ثابت کر دینے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اللہ ا ور اسکے رسول ا ، تمام صحابہ ، تمام خلفائے راشدین اور اہل بیت سے سچی محبت ہے۔ آخر میں اللہ عز وجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس مہینے کا حقیقی احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور فضول رسومات اور بدعات و خرافات سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین

تحریر: آمنہ نسیم ،لاہور

Share this:
Tags:
book lahore Muharram rituals آمنہ نسیم رسومات ظلم کتاب لاہور
Snake Bites
Previous Post سانپ کے کاٹنے کا علاج اب اسپرے سے ممکن
Next Post مظفرگڑھ میں زیادتی کی شکار لڑکی نے انصاف نہ ملنے پر خود سوزی کرلی
Self Immolation

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close