Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

لیاقت علی خان ۔۔۔ پاکستان کا پہلا وزیراعظم

October 1, 2014October 1, 2014 0 1 min read
Liaquat Ali Khan
Liaquat Ali Khan
Liaquat Ali Khan

تحریر: آصف لانگو

خان لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آ کسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور 1922 ء میں انگلینڈ بار میںشمو لیت اختیار کی۔ 1923ء میں ہندوستان واپس آ ئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936ء میںآ پ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے ۔ آ پ قائد اعظم محمد علی جنا ح کے دست راست تھے۔
ابتدائی زندگی : نواب زدہ لیاقت علی خان ، نواب رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے ۔ آ پ 1اکتوبر 1896 ء کو پیدا ہوئے ۔ آ پ کی والدہ محتر مہ محمودہ بیگم نے گھر پر آپ کے لئے قران اور احادیث کی تعلیم کا انتظام کر وایا ۔ 1918ء میں آ پ نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا ۔ 1918ء میں آ پ نے جہانگیر بیگم سے شادی کی ۔ شادی کے بعد آ پ بر طانیہ چلے گئے جہاں آ پ نے آ کسفورڈ یو نیورسٹی سے قانون کی
ڈگری حاصل کی۔

سیاسی زندگی: 1923ء میں برطانیہ سے واپس آنے کے بعد آ پ نے اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آ زاد کروانے کے لئے سیاست میںآ نے کا فیصلہ کیا ۔ آ پ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔1924ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا ، اس اجلاس کا مقصد مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرنا تھا اس اجلاس میں خان لیاقت علی خان نے بھر پور شرکی کی۔

1926ء میں آ پ اتر پردیس سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے آ پ یو بی اسمبلی کے رکن رہے ۔1932 ء میں آ پ نے دوسری شادی کی ۔آ پ کی دوسری بیگم رعنا خان لیاقت علی خان ایک ماہر تعلیم اور معیشت دان تھیں ۔ آ پ خان لیاقت علی خان کے سیاسی زندگی کی ایک بہتر معاون ثابت ہوئیں ۔

خان لیاقت علی خان 14اگست 1947ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے جو کہ 16اکتو بر 1951 تک وزیر اعظم تھے۔ قاتلانہ حملے : 16اکتوبر 1951 ء کی اس شام کمپنی باغ را ولپنڈی میں جلسہ عام کے بعد قتل ہوئے ۔خان لیاقت علی خان کے قتل کو ایک انفرادی جرم قرار دینا مشکل ہے ۔ وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کے فوراََ بعدکمپنی باغ میں ہونے والے پر ان گنت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے جلسے میں صوبہ سرحد خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ اور آ ئی جی پولس تو موجود تھے مگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ ، آ ئی جی پولس قربان علی خان اور ڈی آ ئی جی ،سی آئی ڈی انور علی غائب تھے ۔ درحقیقت جلسہ گاہ میں فرائض منصبی پر مامور پولیس کا اعلیٰ ترین عہدے دار را ولپنڈی کا ایس پی نجف خان تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ کے سیکر ٹری جنرل یوسف خٹک پنڈی میں موجود تھے مگر جلسہ گاہ نہیں تھے ۔

گولی کی آ واز سنتے ہی ایس پی نجف خان نے پشتو میں چلا کر کہا تھا ” اسے مارو ” سوچنے کی بات ہے کہ نجف خان پنڈی ( پنجاب اور اردو یا پنجابی اسپیکنگ ایریا میں ) کے جلسے میں اردو یا پنجابی بولنے کے بجائے پشتو کیوں استعمال کی تھی ؟ کیا انھیں معلوم تھا کہ قاتل افغانی ہے ؟ ان کے حکم پر سید اکبر کو ہلاک کرنے والا انسپکٹر محمد شاہ بھی پشتو بولنے والا تھا ۔ کیا ضلعی سربراہ پولیس اضطراری حالت میں یاف رکھ سکتا ہے کہ اس کے درجنوں ماتحت تھانیدار کون کون سے زیان بو لتے ہیں ؟ کیا تجربہ کار پولیس آفسر نجف خان کو معلوم نہیں تھا کہ وزیر اعظم پر حملہ کرنے والے کو زندہ گرفتا ر کرنا ضروری نہیں تھا ؟
جب انسپکٹر شاہ محمد نے سید اکبر پر ایک دو نہیں بلکہ پانچ گولیاں چلائیں ۔ اس وقت سفید پوش انسپکٹر ابرار نے حاضرین جلسہ سے مل کر قاتل سے پستول چھین لیا تھا اور اسے قانو کر رکھا تھا ۔ کیا انسپکٹر شاہ محمد قاتل پر قابو پانے کی بجائے اسے ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے ؟

خان لیاقت علی خان کے صاحب زادے اکبر لیاقت کا کہا تھا کہ سید اکبر کو تو خواہ مخواہ نشانہ بنا یا گیا ، اصل قاتل کو ئی اور تھا ، وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ خان لیاقت علی خان کو گولی سامنے سے نہیں بلکہ عقب سے ماری گئی تھی۔ جلسہ گاہ مین مسلم لیگ گارڈ بھالوں سے سید اکبر پر ٹوٹ پڑے ۔ اس کے جسم پر بھالوں کے زخم تھے ۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کے آ س پاس بہت مسلح افراد موجود تھے کس سے ناقص حفاظتی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ نجف خان کے حکم پر حفاظتی گارڈ نے ہوا میں فائر نگ شروع کر دی جس سے جلسہ گاہ میں افر تفری پھیل گئی اور زخمی وزیر اعظم کی طبی امداد پہنچانے میں رکاوٹ پیدا ہوئی ۔ اس ہوا ئی فائرنگ کا مقصد تاحال واضع نہیں ہوسکا ہے ۔

ایس پی نجف خاں نے انکو ئری کمیشن کو بتا یا کہ انہوں نے اپنے ما تحتوں کو ہوائی فائرنگ کاحکم نہیں دیا تھا بلکہ ایس پی نے اپنے ما تحتوں سے جواب طلبی کر لی ۔ انکو ائری کمیشن کے سامنے اس ضمن میں پیش کیا جانے والاحکم 29اکتوبر کا تھا تاہم عدالت نے رائے دہ کی ریکارڈ میں تحریف کی کی گئی تھی ۔ اصل تاریخ 20نومبر کوبدل کر 29اکتوبر بنا یا گیا مگر اس کے نیچے اصل تاریخ 20نومبر صاف دکھائی دیتی تھی۔ ظاہر ہے کہ نجف خان ایس پی نے فائرنگ کا حکم دینے کے الزام کی تردید کا فیصلہ 20نومبر کو کیا ۔
سرکاری کاغذات میں ردو بدل ایس پی نجف خان کے سازش میں ملوث ہونے یا کم از کم پیشہ ورانہ بد دیانتی کی پختہ ثبوت تھا ۔

Court
Court

انکوائری کمیشن کے مطابق نجف خان نے ایک ذمہ دار پولیس آ فست کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی کی تھی۔ اس عدالتی رائے کی روشنی میں نجف خان کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوئی لیکن انہیں باا عزت بحال کر دیا گیا ۔ وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے جلسے میں ممکنہ ہنگامی صورت حال کے لئے طبی امدا د بھی نہیں تھا حتیٰ کہ کسی زخمی کو ہسپتال لے جانے کے لئے ایمبو لنس تک موجود نہیں تھی۔ چاروں اطراف اندھا دھن گولیاں چل رہی تھیں اور چند افراد اس بھگڑ میں سید اکبر کوختم کرنے میں مصروف تھے کچھ لوگ ایک وزنی آ رائشی گملا اٹھا لائے اور اسے سید اکبر پر دے مارا جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں ۔ اس افرا تفری پر حملے کرنے والوں کا اطمینان حیران کن تھا۔ سید اکبر نے زرد رنگ کی شلوار قمیص پر اچکن پہن رکھی تھی ۔ یہ خاکسار تحریک کی وردی نہیں تھی۔ واردات کے فوراََ بعد یہ افواہ کیسے پھیلی کہ قاتل خاکسار تھا بلکہ صوبے بھر میں خاکساروں کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئیں ۔ کیا یہ عوام کے اشتعال کو کسی خاص سمت موڑنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔

خواجہ ناظم الدین نتھیا گلی میں تھے جب کہ غلام محمد پنڈی میں ہی تھے لیکن ان دونوں اہم رہنماؤں نے جلسے میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔ البتہ وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کی خبر پاتے ہی یہ اصحاب صلاح کے لئے جمع ہو گئے ۔ مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں اُس وقت پہنچی جب نیم مردہ وزیراعظم خان لیاقت علی خان زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لا یا جا رہا تھا ۔ وزیر اعظم کی موت کی تصدیق ہوتے ہی گورمانی صاحب ان کی جسد خاکی کو ہسپتال چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے اور اگلے رز کراشی میں تدفین تک منظر ِ عام پر نہیں آ ئے ۔ اس سازش کے ڈانڈوں پر غور و فکر کرنے والو ں نے تین اہم کردار کی راولپنڈی سے بیک وقت دوری کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کراچی میں ٹینس کھیل رہے تھے ۔ فوج کے سربراہ ایوب خان لندن ہسپتال میں تھے اور سیکر ٹری خارجہاکرام اللہ ایک خاص مشن پر ہالینڈ میں بیٹھے اگلے احکا مات کے منتظر تھے ۔

قتل کی تفتیش : غلام نبی پٹھان ( تک جوائنٹ سیکر ٹری مسلم لیگ) کے مطابق خان لیاقت علی خان کے قتل کی نہ تو ایف آ ئی آ ر درج ہوئی اور نہ تفتیش کی گئی ہے، چالان پیش کیا گیا اور نہ مقدمہ چلا یا گیا ۔ جسٹس منیر اور جسٹس اختر پر مشتمل ایک جو ڈیشل انکوائری ہوئی مگر اس انکو ائری کا مقصد خان لیاقت علی خان کے قا تلوں کا تعین کرنے کے بجائے قتل سے متعلقہ انتظامی غفلت کا جائزہ لینا تھا ۔ قتل کس نے کی ہے ؟ کیو ں کی ہے ؟ کس نے کروائی ہے ؟ ان سوالات سامنے لانے کے بجائے انتظامی غفلت کو ہی ذمہ دار قرار دیا اور ان کا جائز ہ لیا گیا تھا ۔ بیگم خان لیاقت علی خان کے مطابق کمیشن کا تقرر حکومت کی دانستہ یا نا دانستہ غلطی تھی، اس کے نتیجے میں پنجاب اور سرحد پولیس افسر قتل کی تفتیش پر توجہ دینے کے بجائے غفلت کے الزامات کی صفائی پیش کرنے میں ہی مصروف تھے ۔

درحقیقت انکوائری کمیشن کے نتائج نہایت بڑی حد تک بے معنی تھے ۔ مثال کے طور پر : الف) ہم بیا ن کردہ واقعات کے بنا پر کوئی نتیجہ اخز نہیں کر سکتے ، معاملہ زیر ِ تفتیش ہے۔ تحقیقات کرنے والے افسر کئی نظریات پر غور و فکر کر رہے ہیں۔ ب) اس ضمن میں تین سازشوں کا سراغ ملا ہے جن میں سے دو کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اور تیسری کے متعلق مرکزی اور صوبائی حکو متوں کے درمیان خط و کتابت ہو رہی ہے ۔ ہم نے اس سازشوں کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے کیونکہ ان کا انکشاف مفاد عامہ میں نہیں ہے ۔
ج) سید اکبر کاکسی سازش سے تعلق معلوم نہیں ہو سکا ہ۔ بحر حال ایک قابل پولیس افسر مصروفِ تفتیش ہے ہمارا خیال ہے کہ ایک یا دو سازشوں سے سید اکبر کے تعلق کا پتہ مل جائے گا۔

د) اگر سید اکبر زندہ مل جاتا تو ہمیں یقین تھا کہ ہم یاسے بھیانک جرم کے سازشیوں کا اتا پتا معلوم کرنے میں کامیابا ہو جاتے ، سید اکبر کی موت کے متعلق پولیس رپورٹ میں انسپکٹر محمد شاہ کی فائرنگ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ، اس چشم پوشی کا مقصد پولیس کی غفلت یا ملی بھگت پر پردہ ڈلنا تھا۔

اے لیاقت ! ملکِ پاکستان کا تو غم خوا ر تھا
بعد ِ قائد ، قوم کا تو قا فلہ سالار تھا
قوم نے تجھ کو خطاب ِ قائد ملت دیا
تو نے مُکے سے پیام ِ جراء ت و ہمت دیا
اے لیا قت ! جذ بہ ء حُب وطن کے ہم امیں
یہ حقیقت ہے ، تجھے ہر گز بھُل ا سکتے نہیں
اے شہد ِ قوم ! تو رہبر تھا بے شک خوز خصال
وقت آ خر بھی تجھے اپنے وطن کا خیا ل تھا
قائد اعظم کے پہلوں میں بنا تیر ا مزار
آج بھی شہر ِ کراچی میں ہے تیری یا د گار
تو رفیق ِ قائد اعظم ، سد ا اُ ن کے قریب
اُن سے قربت کا تری کیسا اشارہ ہے عجیب
قائد اعظم کی رحلت یا شہادت ہو تری
سال میں دونوں کادن ہوتا سدا ہے ایک ہی
گلشن ِ حُبِ وطن میں پھول کرتا ہے دعا ہے
تا قیامت دیس کا تیرے محافظ ہو خدا

Liaquat Ali Khan
Liaquat Ali Khan

کہتے ہیں کہ خان لیاقت علی خان نے مکا دکھا ہندوستان کو ڈرا دیا تھا۔ قوم ان کے ساتھ تھی حالانکہ بے سرو سامانی کا عالم بھی تھا ۔ آج بھی خان لیاقت علی خان کی زندگی کو نمونہ بنا ئیں یقینا سیاست دان ضرور کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ تحمل ، بردباری اور قوت برداشت ہی سیاست کا دوسران نا م ہے ۔ اختلاف ِ رائے ضرورہو لیکن ذاتی رنجشیں ، ذاتی مفاد اور ہوسِ زر کو چھوڑ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کامیاب نہ ہوں ۔ملک ِ پاکستان ہے تو سیاست داں ،حاکم اور فوجی جرنیل و افسر سب ہونگے ۔ مزید کہا جاتا ہے کہ خان لیاقت علی خان جب شہد ہو ئے تو ان کی جیب میں سے ایک سگریٹ کیس نکلا اور بنک میں چند روپوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں تھا۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خان لیاقت علی خان کے تعلقات: قائد اعظم کو خان لیاقت علی خان پر بڑا اعتماد تھا ۔ 6دسمبر1943ء کو کراچی میں مسلم لیگ کی کونسل میٹنگ میں نواب زادہ خان لیاقت علی خان دو بارہ جنرل سیکرٹری چنا گیا۔ قائد اعظم نے آ پ کو اپنا دستِ راست کہہ کر پکارا۔ 1945ء میں بھولا بھائی ڈیسائی کی نواب زادہ خان لیاقت علی خان سے کانگریس مسلم لیگ اتحاد پر بات چیت ہوئی جس کا چرچہ اخبارات میں بے حد ہوا ۔ اخبارات میں اس کا ذکر لیاقت ڈیسائی مذا کرات کے نام سے ہوتا رہا ۔ نواب زادہ خان لیاقت علی خان صاحب نے 8فروری 1945ء اس کے متعلق اخبارات میں یہ بیان دیا کہ قائد اعظم نے مشورے کے بغیر جو انھوں نے ابھی تک نہیں کیا کوئی معاہدہ مسٹر ڈیسائی کے ساتھ پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔

اگرچہ واسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر مسٹر این بی کھارے کے ساتھ بھی اسکا ذکر شاید مارچ 1944ء میں امبلی میں چھیڑا جس کی نواب زادہ خان لیاقت علی خان نے نہایت زور کے ساتھ تردید کی۔ لیکن بھر بھی وائسرائے نے اسیکر یٹر ی آ ف اسٹیٹ برائے ہندوستان کو یہ تجویز دی کہ ڈیسائی پلان ہندوستان کے مسئلے کی راہ ہموار کرنے میں معاون ہو سکتا ہے ۔ وائسرائے نے بوجودہ ڈیسائی کے اصرار پر سر جان کول کو قائد اعظم کے پاس بھیجا جو اس وقت بمبئی میں تھے ۔ قائد اعظم نے اس قسم کے کسی بھی معاہدے کے وجودتردید کی تھی۔

خان لیاقت علی خان کی کفایت شعاری کے حوالے سے یوسف ہارون جو سندھ کو وزیر اعلی تھا نے لکھا ہے ” خان لیاقت علی خان کی اپنی ماہانہ تنخواہ میں گزارہ مشکل سے ہوتا تھا ۔ انھوں نے خود ہی اپنی تنخواہ بہت کم مقرر کروائی تھی ۔ قرض کے بار سے بچنے کے لئے وہ اپنے بچوں کو معمولی اسکول میں تعلیم دلواتے تھے ۔ اس میں شک نہیں کہ وہ خوش پوش انسان تھے لیکن اُ ن کے پاس قیمتی کپڑے بہت کم تھے ، کراچی میں حمید برادرز ہی اُ ن کے درزی تھے وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ انھوں قیام پاکستان کے ساڑھے چار برس میں مشکل سے تین یا چار سُوٹ سلو ائے تھے ، وہ اپنے پرانے سوٹ ہی درست کروات رہتے تھے ، 1940ء کے بعد اُن کا جسم بہت بھارہ ہو گیا تھا اور پہلے کے کپڑے تنگ ہو گئے تھے ، وہ اِن تنگ کپڑوں کو پھینکنے کے بجائے بڑے کرواتے اور پہنتے رہتے تھے ۔ گھر پر وہ نہایت سادہ کپڑے پہنے رہتے تھے

میں نے ایک مرتبہ اُ ن کو ایک قمیض پہنے دیکھا جس کی آ ستین میں کئی پیوند لگے تھے ۔دراصل آستین کا کپڑا نکال کر اُس کا کالر بنا یا گیا تھا” ۔ یوسف ہارون کے ہی مطابق ( جب یوسف ہارون سندھ کے وزیر اعلیٰ ) بنے تو خان لیاقت علی خان نے انھیں جو ہدایت نامہ دیا وہ آج بھی قابل غور ہے ” تمھیں اپنے زمانہ اقتدار میں بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑے گا جو تم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔ اس موقعے پر تم انصاف کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا اور ملک کا نقصان کر کے کسی کا ذاتی فائدہ ہر گز نہ کرنا ۔ ہاں اگر انصاف کاخون کیے بغیر تم کسی کا فائدہ کر سکتے ہو تو مضائقہ نہیں لیکن اپنے ضمیر اور خدا کے رو برو سچے رہنا، تمھیں اختیارات ملے ہیں تو خوف ِ خدا کو ہمیشہ اپنا رہبر بنانا اور قانون کی را میں روڑے مت اٹکانا۔”

خان لیاقت علی خان نے ایک بار کہا تھا میرے ” میرے پاس نہ دولت ہے نہ جائیداد میں اسی میں خوش ہوں کیونکہ یہی چیزیںانسان کے ایمان مین خلل ڈالتی ہیں ۔صرف ایک جان میرے پاس ہے اور وہ بھی چار برس سے پاکستان کے لئے وقف ہے ۔اب میں آ پکو اس محبت اور عقیدت کے بدلے کیا دے سکتا ہوں جو آ پ مجھ سے کرتے ہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کی حفاظت کے لئے پاکستان کی بقاء کے لیے قوم کوخون بہانا پڑتا تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہوگا۔” اور پھر آ خر کا ر 16اکتو بر 1951ء کو عہدہ وزارت عظمیٰ پاکستان کی حیثیت سے راولپنڈی کے کمپنی باغ میں یہ خون بھی بہہ گیا ۔ آ خری وقت میں اُن کی زبان پر یہ الفاظ تھے ” خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔”

Asif Lingo
Asif Lingo

تحریر: آصف لانگو

Share this:
Tags:
Muslim pakistan Qur'an بیگم پاکستان پہلا قران مسلم لیگ وزیراعظم
Rehman Malik
Previous Post امید ہے عید سے قبل دھرنے ختم ہوجائیں گے، رحمان ملک
Next Post پاکستانی خواتین کو آن لائن دھمکیوں پر تشویش
Women

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close