
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارت میں ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کی حکومت کے قیام کو 100 دن ہو گئے ہیں اور اس عرصے میں حکومتی کارکردگی سے متعلق عوامی رد عمل امید پسندی کے ساتھ ساتھ ناامیدی سے بھی عبارت رہا ہے۔ نئی دہلی سے جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے نے اس موضوع پر اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ مودی نے اپنی انتخابی مہم میں ملکی عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان میں سے زیادہ تر ابھی تک اپنے سچ ثابت ہونے کے انتظار میں ہیں۔
بھارتی رائے دہندگان کو اب تک اگر مودی حکومت کی کارکردگی سے کچھ ناامیدی ہوئی بھی ہے، تو مستقبل کے بارے میں عوام نے ابھی تک امید کا دامن نہیں چھوڑا۔الیکشن سے قبل بی جے پی نے عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ اعلیٰ حکومت سازی کا ثبوت دے گی، بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا، افراط زر کو روکا جائے گا اور اقتصادی ترقی کے لیے مشکل ثابت ہونے والے حالات میں بہتری لائی جائے گی۔
بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد جو بجٹ پیش کیا وہ کانگریس کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت کے پیش کردہ کسی بھی بجٹ سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔مودی نے اقتدار میں آ کرراشٹریہ سوایم سیوک سنگھکے سینئر ارکان کو اپنی حکومت اور مختلف ثقافتی اداروں میں جو کلیدی عہدے دیے، ان کی وجہ سے یہ تشویش زیادہ ہو گئی ہے کہ دائیں بازو کی یہ ہندو تنظیم اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ بھارت کو ہندو قوم کی ہندو ریاست بنایا جانا چاہیے۔
معروف بھارتی سیاسی تجزیہ کار اشوک ملک کہتے ہیں کہ ’’ مودی کی اہم ترین کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ملکی عوام کو یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے پیش رو منموہن سنگھ کی طرح کمزور اور غیر فیصلہ کن سوچ کے حامل نہیں بلکہ سربراہ حکومت کے طور پر معاملات پوری طرح ان کے ہاتھ میں ہیں اور انہوں نے حکومت کو ایک نئی سمت دی ہے۔
