Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 10, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دو قومی نظریہ، حافظ سعید اور کشمیر

March 18, 2017January 9, 2019 0 1 min read
Hafiz Saeed
Hafiz Saeed
Hafiz Saeed

تحریر : قاضی رفیق عالم
مارچ کا مہینہ ایک بار پھر اسلامیان پاکستان پہ سایۂ فگن ہے… وہی ماہ جب ہندوئوں اور انگریزوں کے ظلم وستم کے شکار مسلمانوں نے اپنی منزل کی طرف کشاں کشاں مارچ کرنے کا آغاز کیا… اور آخر کار انہوں نے ڈیرے منزل پہ ہی ڈالے… وہ منزل جو آزادی کی منزل تھی… جو ان کے تحفظ اور بقاء کی منزل تھی۔ جو ان کے حسین خوابوں کی تعبیر تھی… جو ان کے ارمانوں کی تصویر تھی… جو بالاکوٹ سے کالا پانی تک بہتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کے خون کی تنویر تھی… جس کے لئے داروگیر اور ہجرت کے خونچکاں سفر سے گزرے ہوئے مسلمانوں کی روح کب سے دلگیر تھی…… یہ ان کے لئے ایسا قلعہ اور ایسی ریاست تھی جو دشمن کے لئے ناقابل تسخیر تھی… جو ان کے جسم و جاں اور روح کے تحفظ کی نظیر تھی… جی ہاں یہ کوئی محض الگ ریاست’ الگ حکومت اور ایک الگ چاردیواری حاصل کرنے کی سعی و تحریک نہ تھی بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا’ ایک جذبہ تھا’ ایک نظریہ تھا کہ جس کے تحت مسلمانوں کو اسلام کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کے لئے ہر طرح کا تحفظ ملنا تھا۔

23 مارچ 1940 ء کو یہی منصوبہ اور یہی نظریہ دو قومی نظریہ اور قرار داد پاکستان کی صورت میں باقاعدہ مدوّن و مجسم ہوکر دنیا کے سامنے آیا۔ 23مارچ 1940 ء سے 23 مارچ 2017ء تک 77 سال اس سفر کو گزر گئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس دو قومی نظریئے کو پروان چڑھانے کے لئے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اسے اپنے تمام مسائل کا حل قرار دیا’ کیا آج بھی ہم اس نظریہ کو اسی جذبہ اور اسی روح کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہیں… جب دو قومی نظریہ کو ہم نے اس کے صحیح جذبہ اور روح کے ساتھ پروان چڑھایا تو چشم فلک نے دیکھا کہ اسلامیان ہندوستان محض 7 سال کی مختصر ترین مدت میں ہی منزل سے ہمکنار ہوگئے… لیکن منزل کے حصول کے بعد جب ہم نے اس نظریہ کو فراموش کردیا تو پھر پاکستان ایسی نعمت عطا کرنے والے خدائے لم یزل نے بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا اور وہی پاکستان جو عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک تھا’ آدھا ہوکر اپاہج سا بن گیا… اب باقی بچا کھچا پاکستان ہمارے لئے پھر ایک امتحان تھا اور ہے کہ ہم اس کی قدر کرتے ہیں یا نہیں اور اس کی اصل قدر تو اس کے جذبۂ محرکہ یعنی نظریۂ صادقہ کی قدر کرنے سے ہے لیکن معلوم یوں ہوتا ہے کہ آج ہم اس نظریہ کو ہی بھلاتے جا رہے ہیں جو اس مُلک خداداد کے قیام کا سبب بنا۔ کسی بھی چیز کے بنانے کا جب اصل مقصد فراموش ہوجائے تو پھر اس سے مثبت نتائج ملنے بند ہوجاتے ہیں۔ چھری کو اگر انسان صرف نعمتوں کے بہتر طریقے سے حصول کے لئے استعمال کرے تو اس سے مفید چیز کوئی نہیں لیکن یہی چھری غلط مقاصد کے لئے استعمال ہو اور انسان اپنے ہی بھائیوں کو کاٹنے کے لئے استعمال کرنے لگے تو پھر یہی چھری غلط اور پریشان کن نتائج دے گی۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب سے پہلے اس نظریئے کو سمجھیں اور پھر غور کریں کہ کیا اس نظریہ کے تقاضے ہم پورے بھی کر رہے ہیں یا نہیں… ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دو قومی نظریہ کی اصل بنیاد کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ تحریک پاکستان کا سب سے عام اورمقبول نعرہ تھا اور اسے قائد اعظم کی صدارت میں ہونے والے اکثر جلسوں میں لگایا گیا۔ اگر قائد اعظم پاکستان کے اس مقصد و مطلب اور نظریہ و نعرے کو غلط سمجھتے تو لوگوں کو ضرور اس سے روکتے۔ ان جیسی با اصول اور قول و فعل کے تضاد سے عاری شخصیت سے کوئی توقع کر ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اپنے سامنے کوئی غلط کام دیکھتے اور پھر اس پر نہ صرف خاموش رہتے بلکہ اسے اکثر جلسوںمیں چلنے بھی دیتے۔ مزید برآں آپ نے اپنے خطابات میں پاکستان کے اس مقصد کی اچھی طرح تصدیق بھی کردی۔ جب ان سے ایک بار پاکستان کے دستور کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہاں برطانیہ کا 1835ء کا ایکٹ چلے گا یا کوئی اور تو قائد اعظم نے اس موقع پر بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ‘ ہمارے پاس قرآن کی صورت میں ہمارے نبی ۖ نے ہمیں 1300 سال پہلے ہی دستور دے دیا تھا۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور دستور کی ضرورت نہیں۔

Islam
Islam

سیدھی سی بات ہے کہ اگر پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام کے مطابق زندگی گزارنا نہیں تھا’ محض سیکولر ہی رہنا تھا تو پھر یہ نظام تو برصغیر کی تقسیم کے بغیر ہی ہمیں حاصل تھا۔ دوبارہ سیکولرزم کو ہی اختیار کرنا ہوتا تو پھر لاکھوں جانیں اور عصمتیں قربان کرنے اور آگ و خون کے دریا عبور کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس لحاظ سے پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور دو قومی نظریہ کو اگر اس کلمہ کی تشریح ہی کہا جاتا ہے تو یہ حقائق کے عین مطابق ہے۔ دو قومی نظریہ کہتا ہے کہ مسلمان اور ہندو برصغیر کی دو بڑی قومیں ہیں۔ دونوں کی تہذیب ‘ کلچر’ ثقافت ‘ رہن سہن’ بودوباش’ اکل وشرب ‘حلال و حرام’ عقائد و نظریات اور عبادات ہر چیز ایک دوسرے سے الگ بلکہ متضاد ہے۔ قائد اعظم کے بقول ایک چیز جسے ہندو بھگوان اور خدا جانتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں’ ہندوئوں کے اسی خدا کو مسلمانوں کے ہاں ذبح کرکے کھانا مرغوب امر ہے۔ تو سوچ و نظریات میں اس قدر بعد المشرقین رکھنے والی دو قومیں کیسے اکٹھی رہ سکتی ہیں؟ کلمہ لا الٰہ الااللہ یہی کہتا ہے کہ مخلوق کو خالق و مالک’ مشکل کشا اور بھگوان کا درجہ دینے والے مشرک اور اکیلے اللہ کو خالق و مالک اور مشکل کشا ماننے والے موحد اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اسلام اور توحید کا یہی تقاضا ہے کہ مسلمان کے لئے جوں ہی ممکن ہو’ وہ مشرکوں کافروں سے ہٹ کر اور کٹ کر آزاد اسلامی معاشرے میں اپنی زندگی گزارے کیونکہ اس کے دین و مذہب ‘ ثقافت اور اسلامی سیاست و معیشت کا تحفظ صرف اسی صورت ہی ممکن ہے ورنہ بقول اقبال… کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔

چنانچہ اسی ضمیر اور ایمان کے تحفظ کے لئے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ اور یہی دوقومی نظریہ اور نظریہ ٔپاکستان ہے جسے ہمیں نظریہ کی بجائے اصلاً عقیدہ ہی کہنا چاہئے کیونکہ نظریہ عام طور پر فلسفہ ہوتاہے جبکہ دو قومی نظریہ فلسفہ نہیں’ اسلام کا عقیدہ ہے ۔شرکیہ و باطل تہذیب سے الگ رہ کر توحید و سنت کی حامل تہذیب میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھ کر زندگی گزارنا اسلام کا عقیدہ اور مطالبہ ہے۔ اسلام کی رو سے کافر و مسلم صرف ایک صورت میں ایک معاشرے میں اکٹھے رہ سکتے ہیں کہ مسلمان غالب و حکمران ہوں اور کافر وغیر مسلم محکوم ہوں ورنہ مسلمان کو اگر موقعہ اور سہولت میسر ہو تو اسے الگ ہی رہ کر اسلام کے مطابق اپنا نظامِ زندگی ‘ نظامِ سیاست و معیشت اور اقتصاد چلانا چاہئے۔ نبی ٔ رحمت محمد کریم ۖکی سیرت کے سنہری نقوش بھی ہمارے لئے قدم قدم پر یہی رہنمائی دیتے ہیں۔ مکی زندگی میں جب تک آپۖ کے پاس افراد و وسائل محدود تھے تو آپۖ مکہ میں ہی ہر ظلم و جبر سہ کر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہے لیکن جوں ہی آپۖ کو معقول افراد و وسائل حاصل ہوئے ‘ آپۖ نے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے بالآخر دعوت و جہاد کے ذریعے الگ ریاست بنالی جسے شکست دینا پھر تا قیامت اہل کفر کے لئے ممکن نہ رہا۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ دو قومی نظریہ دراصل دو ملّی اور دو تہذیبی عقیدہ ہے۔ بانیانِ پاکستان کے ذہن میں بھی دو قومی نظریہ سے مراد دراصل یہی دوملّی عقیدہ ہی تھا کیونکہ اس کی جو وہ تشریح کرتے تھے ‘ وہ دو ملتوں اور دو تہذیبوں پر ہی زیادہ صادق آتی ہے… اقبال نے اسی لیے مغرب کوا سلام سے الگ تہذیب قرار دیتے ہوئے کہاتھا…تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی…اس طرح آج جدید دورمیں خودایک غیرمسلم مفکر سیموئل ہنٹگٹن نے تہذیبوں کے ٹکراؤ(clash of civilizations) کانظریہ پیش کیااور بتایا کہ اگلی عالمی سردجنگ وطنی وقومی بنیادوں پرنہیں بلکہ مذہبی عقائد و نظریات اورثقافت کی بنیاد پر لڑی جائے گی۔ان کے اس نظریے کی رُو سے دوہی بڑی تہذیبیں سامنے آتی ہیں جن کاآپس میں اختلاف180o کاہے۔ایک مسلم و موحداسلامی تہذیب اور دوسری کافرومشرک غیراسلامی تہذیب …یہی دوتہذیبی اور دوملّی نظریہ و عقیدہ تھاجس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجودمیں آیا۔ آج 23 مارچ کے موقع پر اصل چیز یہ بات سوچنے اور سمجھنے کی ہے کہ کیا ہم اس دو قومی یا دوملّی عقیدہ ونظریہ کے تقاضے پورے کر رہے ہیں یا نہیں؟ کیا واقعی اس دو قومی نظریہ کی رو سے ہم نے ملک کو اسلام کا گہوارہ بنایا؟ کیا ہرشعبہ زندگی میں ہم نے اسلامی تہذیب’ اسلامی کلچر ‘ اسلامی سیاست اور اسلامی اقتصاد و معیشت کو فروغ دیا ؟اسی طرح کیاہم تمام علاقائی نسلی’ لسانی اور صوبائی تعصبات کو بھلاکر ایک کلمہ پر متحد ہوئے؟’ اگر ایسا نہیں ہوا تو یقینا ہم اللہ کی عطا کردہ نعمت پاکستان کی قدر نہیں کر رہے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آج مختلف خطرناک بحرانوں میں گھرتا جا رہا ہے۔

Pakistan
Pakistan

23 مارچ کو جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو اس میں ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی علاقوں کو الگ ملک بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس میں یقینا جموں کشمیر بھی شامل تھا کیونکہ کشمیر میں 97فیصد مسلمان تھے اور ہیں لیکن افسوس ہندو اور انگریز کی ملی بھگت سے کشمیر کو اس حق سے محروم رکھا گیا اور بعد میں پاکستان کے حکمرانوں نے بھی اس معاملے میں مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا جو آج بھی جاری ہے ۔ یہ گویا تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا اور قرار داد پاکستان کا نامکمل حصہ ہے جسے مکمل کرنا ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ کشمیری اس مسئلے پر ہمارے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے’ وہ تو آج ہم سے بھی زیادہ اس مقصد کے لئے اپنی جانیں دائو پر لگا کر اور پاکستان کے پرچم سینے پر سجا کر قربانیاں دے رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پروفیسر حافظ محمد سعید جیسے ہمارے وہ رہنما جو قیام پاکستان کے ان مقاصد کی تکمیل کے لئے اور قائد اعظم کے فرمان:” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کوعملی جامہ پہنانے کے لئے کمر بستہ ہیں’ اسی مقصد کے لئے انہوں نے 2017 کا سال کشمیر کے نام کیا’ جنہوں نے مسلم و غیر مسلم کی بلا امتیاز خدمت کو اپنا شعار بنایا اور جس کی گواہی اپنے غیر سب دیتے ہیں لیکن ہمارے حکمران غیر ملکی امریکی اور بھارتی دبائو پر انہی محسنوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں اور انہیں نظر بند کر رہے ہیں۔

تحریر : قاضی رفیق عالم

Share this:
Tags:
Freedom government hafiz saeed ideology kashmir nation pakistan آزادی پاکستان حافظ سعید حکومت ظلم قوم کشمیر مسلمانوں نظریہ
Numan Abdullah Distribute Funds
Previous Post خلق خدا کی خدمت کرنا ایک عبادت ہے، نعمان عبداللہ مراد
Next Post کرپٹ ترین بھارت کی آبی جنگ
Pak India Water War

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close