Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شیر کی سواری

August 29, 2017 0 1 min read
Nawaz Sharif
Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

تحریر : نوشاد حمید
پُرانے زمانے میں رواج تھا کہ چورکے پکڑے جانے پر اُسے خوب ڈانٹ ڈپٹ اور مار کُٹ کی جاتی، پھر اُس کا منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر پُورے شہر میں پھرایا جاتا، یوں اس حد درجہ کی رُسوائی سے دُوسرے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی اور جرائم میں کمی واقع ہوتی۔ پر اب کی بار کچھ الگ معاملہ ہی دیکھنے کو ہوا ہے۔ عدالت سے چور اور مجرم قرار پانے والا خود اپنی رُسوائی کا جلوس لے کر بڑے اہتمام سے نکلا۔ افراد تو کم ہی تھے بس اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت وبلتستان سے ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں ضرور اکٹھی کر لی گئیں، جن میں سے بیشتر چوری کی یا اسمگل شدہ تھیں۔ ان گاڑیوں میں بھی اکثر میں ڈرائیور کے علاوہ اور کوئی ذی نفس دیکھنے کو نہیں مِلا۔ سو سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے ساتھ ایک سزا یافتہ چور کا جلوس بڑی ‘شان’ سے روانہ ہوا۔ جوں جوں قافلہ آگے بڑھتا رہا، شرکاء کی تعداد میں کمی واقع ہوتی رہی۔ ہاں سڑکوں کے کنارے ایک جمِ غفیر اس عدالتی مجرم کو بطور عبرت دیکھنے کے لیے اکٹھا ضرور ہوتا تھا، لوگ تو دیکھنا چاہتے تھے کہ جُرم پکڑے جانے اور سزا مِلنے کے بعد کوئی شخص کتنا خفت زدہ اور شرمندہ معلوم ہوتا ہے۔ کیا اسے اپنی کیے پر کوئی پشیمانی بھی ہے یا نہیں۔ مگر سابقہ وزیر اعظم لوگوں کو ہجوم کو اپنی پذیرائی کا انداز سمجھ کر خوش ہوتا رہا اور من ہی من میں اسٹیبلشمنٹ، جس کا یہ بذاتِ خود پروردہ ہے اور دیگر ریاستی اداروں کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا پروگرام ترتیب دیتا رہا۔ دُنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مثال ہو گی جب حکومت نے اپوزیشن کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔

ویسے ابھی تک صاحبِ عقل و فہم حیرانی کے عالم سے باہر نہیں آ رہے کہ یہ لانگ مارچ کس کے خلاف تھا؟ اپنی ہی جماعت کی حکومت اور کٹھ پُتلی وزیر اعظم کے خلاف؟ اپنی کرپشن سے دلبرداشتہ ہوئی عوام کے خلاف ؟ یا برادرِ خورد شہباز شریف کو یہ بتانا مقصود تھا کہ معزولی کے بعد بھی سیاسی طاقت کا منبع نواز شریف کی ذات ہی ہے۔ سو چھوٹا بھائی اپنی کریز میں رہ کر ہی کھیلے اور کپتانی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ مگر ان میں سے کسی ایک پلان میں بھی کامیابی کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اُلٹا عوام اور میڈیا کو یہ معلوم ہو گیا کہ اس وقت درجہ سوم کے معدودے چند سیاست دانوں اور موقع پرستوں کے علاوہ کوئی اہم سیاسی لیڈر نواز شریف کے ساتھ نہیں ہے۔

چودھری نثار پہلی دفعہ بہت زیادہ کھُل کر سامنے آئے جب انہوں نے برملا کہا کہ 99 فیصد نواز لیگی رہنما اس ریلی کے حامی نہیں ہیں۔ بڑے بڑے اہم سیاسی بُرج نواز شریف کی اس ریلی سے کنّی کتراتے نظر آئے۔ غالباً انہیں احساس ہو گیا کہ نواز شریف کی سیاسی سفینہ غرقابی کے قریب ہے سو اس سفینے میں مزید ٹھہرنا عوام کی نظروں میں رُسوائی اور اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے۔ اس لحاظ سے نواز شریف کو اپنی دم توڑتی سیاسی طاقت کا صحیح اندازہ ہو گیا ہو گا۔ شاید اب آ کر نواز شریف اپنی انا کے خول سے باہر آ گیا ہے، مگر ڈھٹائی اور میں نہ مانوں والی پالیسی برقرار رہے گی۔ کیونکہ مسئلہ اب وزارتِ عظمیٰ سے زیادہ اپنی جان بچانے کا ہے اور محاذ آرائی کا سارا سٹیج اسی لیے سجایا گیا ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ معصوم حمزہ جس گاڑی کے نیچے آ کر ہلاک ہوا، اس گاڑی میں معزول وزیر اعظم نواز شریف بذاتِ خود سوار تھا۔اگر اس قاتل گاڑی میں کوئی اسمبلی ممبر سوار ہوتا تو یہ فوراً اُسے گرفتار کروا کے اپنی بلّے بلّے کروا دیتے۔ اور اگر گاڑی خالی جا رہی ہوتی تو ڈرائیور کو ضرور گرفتار کرواتے۔ کیونکہ یہ اپنی ماضی کی روایت کے مطابق اپنی جماعت کے کسی ایم این اے، ایم پی اے کی کرپشن یا کوئی اور جُرم بے نقاب ہو جانے پر اُسے خود گرفتار کرواتے رہے تاکہ عوام میں یہ تاثر قائم رکھا جائے کہ اُن کے عظیم قائدین کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کو برداشت کرنے کو قطعاً تیار نہیں۔ ستم یہ ہے کہ بچے کو کچلنے کے بعد رُکنا تک گوارا نہیں کیا گیا۔

برصغیر کے عظیم اداکار دلیپ کمار نے ایک دفعہ انٹرویو میں بتایا کہ فلم مغلِ اعظم کی شوٹنگ کے دوران وہ اتنے کامل طریقے سے جہانگیر کے کردار میں ڈھل گئے تھے کہ فلم مکمل ہونے کے چھے ماہ بعد تک بھی وہ اپنے آپ کو شہنشاہ جہانگیر خیال کرتے رہے اوران پر سے یہ کیفیت چھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ حتیٰ کہ اُنہیں اس صورتِ حال سے باہر آنے کے لیے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا پڑا۔ عین یہی کیفیت اس وقت اقتدار سے معزول نواز شریف کی ہو چکی ہے۔ اسے اپنی کئی دہائیوں پر محیط بادشاہت کا یوں ذِلت انگیز انداز میں اختتام ہو جانے کا یقین نہیں آ رہا۔ نواز شریف کے ‘معصومانہ’ سوالات ‘مجھے کیوں معزول کیا گیا؟ مجھے کیوں نکالا گیا’ پر جواب آں غزل کے طور پر اس وقت سوشل میڈیا پر بہت ہی ہیبت ناک قسم کے چٹکلے گردش میں ہیں۔

ویسے ابھی تک نواز شریف دانت پِیس رہا ہے کہ اُس کی ساری سیاست جی ٹی روڈ کے اِرد گرد گھومتی ہے اور اسی روڈ پر اُس کی سیاست کی تکفین و تدفین ہو گئی۔ اپنی سیاسی بقاء کی خاطر جس لانگ مارچ کو وہ چشمۂ آبِ حیات سمجھا تھا درحقیقت وہ اُس کے لیے زہرِ ہلاہل ثابت ہوا۔ عاقبت نااندیش مشیروں نے اُسے ایک بار پھر مروا دِیا۔ نواز شریف کی سیاسی اہلیت و بصیرت کا اندازہ بھی اسے بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے اُسے جن مارِ آستین مشیروں وزیروں سے دُور رہنے کا مشورہ دِیا تھا، اور اُنہیں اس کی سیاسی تباہی و بربادی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، اُنہی چار پانچ لوگوں کو نئی کابینہ میں بہترین عہدوں پر فائز کر دیا۔ کیونکہ قابلیت کا معیار قائد کی خیر خواہی نہیں، بلکہ اُس کی خوشامد اور قدم بوسی قرار پائے۔

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیاآلِ شریف نے اپنے تمام بڑے بزرگوں اور رشتہ داروں کی قبریں جاتی عمرہ میں ہی بنوائی ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ نواز شریف کا اسلام آباد سے واپس جاتی عمرہ آنے کا مقصد اپنی سیاست اور شخصیت کو خود اپنے ہاتھوں دفنانے کا اہتمام کرنا تھا۔ تاکہ اپنی سیاست کے مزار پر آہ و زاری کرنے اور فاتحہ پڑھنے کے لیے کہیں دُور جانے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔

نواز لیگیوں کی ریلی کے دوران نوا ز لیگی ممبرانِ اسمبلی کی اپنے قائد سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اُس کے آخری سیاسی استقبال پر ایک کوڑی خرچنے کو تیار نہیں تھے۔ لاہور کی سیاسی قیادت نے مسلم لیگ کے ٹریڈرز وِنگ کے تاجروں سے رابطے کر کے اُنہیں کروڑوں روپیہ چندہ اکٹھا کرنے کا ٹاسک دیا۔ سو جنہیں پہلے سے سُوہ مِل گئی تھی اُنہوں نے تو فون ہی نہیں اُٹھائے۔ اوران میں سے کچھ عین موقع پر کاغان ناران، مری اور دیگر پُرفضا مقامات پر روانہ ہو گئے اور اُن کے فون بھی بندہو گئے۔ شاید اسی کو عوامی اور تجارتی طبقہ میں مقبولیتِ بے پناہ کا نام دِیا جاتا ہے۔ شہروں میں چند سو تماشبین ضرور اکٹھے ہو گئے وہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو لُوٹنے کے لیے، جنہیں ممبران اسمبلیشادی بیاہ کے موقع پر ویلوں کی طرح لُٹا کر کچھ رونق میلہ قائم رکھنے کے جتن میں لگے رہے۔مگر جب قافلہ شہر سے باہر نکلتا تو وہی ویرانی، سُنسانی دیکھنے کو مِلتی جس کا آغاز قافلے کے اسلام آباد راولپنڈی سے نکلتے وقت ہی ہو گیا تھا۔

پنجاب کی ساری انتظامیہ شہباز شریف کے ہاتھ میں تھی۔ اگر وہ چاہتا تو پٹواریوں، سرکاری ملازموں اور گلو بٹوں پر نوٹوں کی برسات کر کے اچھی خاصی تعداد میں بندے اکٹھے کر لیتا۔ مگر اس کی جانب سے ہر شہر کے پارٹی عہدے داروں کو یہی ہدایات جاتی رہیں کہ بس ‘گونگلوئوں’ سے مٹی جھاڑنی ہے۔ زیادہ ‘کھیچل نہیں کرنی۔ اور شہباز شریف محنت کرتا بھی کیوں، جب کہ اُسے پتا لگ چکا ہے کہ نواز شریف کے پاس جب تک اختیار ہے، وہ اُسے یا اُس کی اولاد میں سے کسی کو بھی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہونے دے گا۔ سو یہ وقت تو شہباز شریف کا اپنے بڑے بھائی کی مطلق العنانیت سے آزادی کا ہے۔ یہ وقت نواز خاندان سے شہباز خاندان کی طرف ولی عہدی کی منتقلی کا اِکلوتا موقع بن کر اُبھرا ہے۔ اس بار کے یومِ آزادی پر جتنا جشنِ شہباز شریف نے منایا ہے، شاید ہی کسی اور نے منایا ہو، کیونکہ اس جشن میں نواز شریف کی معزولی کے ساتھ ساتھ، حالیہ فلاپ مارچ کی ناکامی نے خوشیوں کو دوبالا کر دیا ہے۔

پہلی بار نواز شریف اپنے پروٹوکول اور دوسری مراعات کے لیے شہباز شریف کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ دیکھیں اب کیا بنتی ہے، اور کب ساجھے داری کی یہ ہنڈیا بیچ چوراہے پھُوٹتی ہے۔شہباز شریف دکھاوے کے لیے لاہور میں تقریر کر گیا،پُوری تحریک اور ریلی سے کنارہ کش رہنے والا برخوردار حمزہ شہبازنے بھی حاضری دے دی، مگر یارانِ نکتہ دان نے اشارے سمجھ لیے ہیں۔ ابھی بھی نواز شریف کے مُٹھی بھر حامی اگر اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ شریف خاندان متحد اور ایک پیج پر ہے، اُن کا یہ گمان مستقبل قریب میں شکست سے دوچار ہونے ہی والا ہے ۔ ذلت اور رُسوائی ان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گی۔ پُوری دُنیا میں ان کا تماشا لگ گیا ہے۔ یہ اب کسی اور مُلک میں سرمایہ کاری کرنے کے تو کیا رہائش رکھنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ انہیں اب سزا دینے یا جیلوں میں ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ مزید ذلت سے بچنے کے لیے خود کو جاتی عمرہ میں نظر بند کر لیں گے۔ ان کی آئندہ کئی نسلوں کو ان کی کرپشن اور لُوٹ مار کے نتیجے میں مِلنے والی ذلت و رُسوائی کا عذاب سمیٹنا پڑے گا۔

Naushad Hameed
Naushad Hameed

تحریر : نوشاد حمید
feedback: naushadhameed98@yahoo.com

Share this:
Tags:
challenge court Nawaz Sharif offender Procession جلوس چیلنج عدالت مجرم نواز شریف
Donald Trump
Previous Post ٹرمپ کی ڈکٹیشن اور کمزور خارجہ پالیسی
Next Post مولف
Quran

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close