
وزیرستان (جیوڈیسک) شمالی وزیرستان کے متاثرین کی مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ بنوں میں انتظامیہ کی جانب سے سکولوں کو خالی کرنے کی ہدایت پر متاثرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
آئی ڈی پیز ایک بار پھر سر کی چھت ڈھونڈنے کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں بنوں پہنچنا شروع ہوئے۔
قبائلی روایات کے پیش نظر کوئی متاثرہ خاندان رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہوا تو کسی نے کرائے کے گھر میں رہائش اختیار کی۔
استطاعت نہ رکھنے والے آئی ڈی پیز کو سرکاری سکولوں میں ٹھہرایا گیا۔ تاہم اب انتظامیہ کی جانب سے آئی ڈی پیز کو سکولوں کی عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
متاثرہ خاندان عارضی سائباں چھن جانے پربھی پھرپریشان نظرآرہے ہیں۔ پاک افواج کی جانب سےنقل مکانی کرنے والوں کیلئے بکا خیل میں جدید سہولیات سے آراستہ کیمپ قائم کیا گیا ہے۔
جہاں ڈیڑھ سو خاندان رہائش پذیر ہیں جبکہ مزید 250 خاندانوں کی گنجائش موجود ہے۔ ملک کی بقاء کی خاطر گھر بار چھوڑنے والے ان غیور قبائل کو ایک بار پھر چھت چھن جانے کا خطرہ ہے۔
