
واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکی صدر باراک اوباما نے مشرقی یورپ کیلئے ایک ارب ڈالر کے سکیو رٹی پلان کا اعلان کر دیا۔ جس کے تحت مشرقی یورپ کے نئے اتحادی ممالک کو بری، بحری اور ائیر فورس کیلئے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس اعلان پر عملدرآمد کیلئے امریکی کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہو گا۔
وائٹ ہائوس کے ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے تحت یوکرائن، جارجیا اور مالدووا سمیت غیر نیٹو ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ پلان کا اعلان صدراوبا ما نے چار یورپی ملکوں کے دورہ کے دوران پولینڈ میں خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ امریکی صدر آج نو منتخب یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو سے ملاقات کریں گے، جبکہ کل برسلز میں ہونے والے جی سیون ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ امریکی صدر جی سیون اجلاس کے بعد فرانس کا رخ کریں گے، جہاں وہ اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملیں گے ۔فرانس میں اوباما نارمنڈی بھی جائیں گے، جہاں وہ 1944 میں اتحادی افواج کی آمد کے 70 برس مکمل ہونے کے سلسلے میں منعقدہ تقریبات میں شریک ہوں گے۔
دورے پر امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام اوباما کے ہمراہ ہیں۔ دورے کا مقصد مشرقی یورپ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو واشنگٹن کے تعاون کی یقین دہانی کرانا ہے۔ دو سری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے میکسیکو سے آنے والے لاوارث تارکین وطن بچوں کو خصوصی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی انتظامیہ میکسیکو سے آنے والے لاوارث بچوں کو خصوصی تعاون فراہم کرے گی۔
جس میں لاوارث بچوں کیلئے طبی سہولیات، رہائش اور انہیں اپنے والدین سے ملانے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔ باراک اوباما نے اسے ہنگامی انسانی صورتحال قرار دیتے ہوئے وفاقی محکمے کو فوری اقدامات کرنے کا حکم بھی جاری کیا جبکہ قومی سلامتی کے وزیر جین جانسن کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
