Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط

June 28, 2016January 9, 2019 1 1 min read
Kashmir Violence
Kashmir Violence
Kashmir Violence

تحریر : اشفاق راجا
پاکستان کی ریاست حیدر آباد دکن کے کیس میں برطانوی ہائیکورٹ سے 68ء سال بعد سرخروئی اور بھارتی ہزیمت پاکستان نے برطانوی ہائیکورٹ سے بھارت کیخلاف 68ء سال بعد حیدر آباد دکن فنڈ کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ جس کی بنیاد پر پاکستان کو 35 ملین پائونڈ ملیں گے۔ دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق برطانوی ہائیکورٹ نے حیدر آباد دکن فنڈ پر پاکستان کے دعوے کیخلاف بھارتی موقف مسترد کر دیا ہے۔ منگل کے روز 75 صفحات پر مشتمل برطانوی ہائیکورٹ کے جسٹس ہینڈرسن کے صادر کئے گئے فیصلہ میں پاکستان کے اصولی موقف کی تصدیق کی گئی ہے کہ 20 ستمبر 1948ء کو پاکستان کے ہائی کمشنر کے نام پر بنک میں رکھوائے گئے 35 ملین پائونڈ پاکستان ہی کی ملکیت ہیں۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ متذکرہ رقم پر پاکستان کے دعویٰ کی حمایت میں مضبوط شہادت موجود ہے جس کو باقاعدہ ٹرائل کے دوران پوری طرح زیر غور لایا جائے گا۔ اس دعوے کے خلاف بھارتی درخواستیں مسترد ہونے سے اب بھارت کو کیس کے بھاری اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔ برطانوی جج ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ کیس دائر کئے جانے کے وقت ریاست حیدر آباد دکن کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد بھارت نے اس ریاست پر بزور قبضہ جمانے کیلئے اپنی افواج کو متحرک کیا تو اس وقت نظام حیدر آباد دکن نے پاکستان کو مدد کیلئے بلایا جس کے عوض اس وقت 1.007.940 پائونڈ 9 شیلنگ کی رقم پاکستان کے حوالے کی گئی جو پاکستان کے اس وقت کے وزیر خزانہ نے پاکستانی ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ کے نام بنک میں جمع کرا دی تھی۔ یہ رقم اب بڑھ کر تین کروڑ 50 لاکھ پائونڈ ہو چکی ہے۔ بھارت نے ریاست حیدر آباد دکن پر فوج کے ذریعے قابض ہونے کے بعد نظام حیدر آباد دکن کے ذریعے متذکرہ رقم کی بھارت کو منتقلی کیلئے برطانوی عدالت میں دعویٰ دائر کرایا تھا جس پر پاکستان نے اس رقم پر اپنے دعوے کا کیس دائر کیا۔ اب 68ء سال بعد برطانوی ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ چونکہ بھارت نے حیدر آباد دکن پر قبضہ کر لیا تھا اور نظام حیدر دکن کو اپنے اختیارات زبردستی بھارت کے حوالے کرنے پر مجبور کر دیا تھا اس لئے اس صورت حال میں نظام حیدر آباد دکن سے اپنی آزادانہ خواہش کی توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ نظام حیدر آباد دکن نے پاکستانی ہائی کمشنر کے نام جمع رقم کی بھارت کو منتقلی کا دعویٰ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ بھارتی ایماء پر دائر کیا تھا۔

برطانوی ہائیکورٹ نے اگرچہ اس کیس کا فیصلہ 68ء سال بعد صادر کیا ہے جو ”انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے” کی ضرب المثل کا عملی ثبوت ہے اور بیشک اس فیصلہ کی روشنی میں اب جہاں بھارت کو ہزیمت اٹھانا پڑے گی وہیں پاکستان کو سرخروئی کے ساتھ 35 ملین پائونڈ بھی مل جائیں گے مگر اس کیس کا فیصلہ 1948ء میں ہی ہو جاتا تو ممکن ہے اس وقت ریاست حیدر آباد دکن کو اپنے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کے معاملہ میں آزادانہ طور پر فیصلہ کرنیکا موقع بھی مل جاتا۔ نظام حیدر آباد دکن نے اگر اپنی آزاد ریاست پر بھارتی قبضہ نہ ہونے دینے کیلئے پاکستان کی امداد طلب کی تھی تو اس سے بادی النظر میں یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نظام حیدر آباد دکن اپنی ریاست کا بھارت کیساتھ ہرگز الحاق نہیں چاہتے تھے۔

Kashmir Violence
Kashmir Violence

مگر بھارت نے فوجی چڑھائی کر کے اس ریاست پر زبردستی اپنا تسلط جمایا جس کے بعد اس نے آزاد ریاست جموں و کشمیر پر بھی فوجی چڑھائی کی اور اس کے بڑے حصے پر جبراً اپنا تسلط جمایا جو آج کے دن تک برقرار ہے۔ برطانوی عدالت نظام حیدر آباد دکن کیس کا اسی وقت فیصلہ صادر کر دیتی تو ممکن ہے بھارت کو پھر کشمیر میں اپنی افواج بھجوانے کی جرآت نہ ہوتی۔ تاہم دیر آید درست آید کے مصداق اب دنیا کو اس فیصلہ کی بنیاد پر اس امر سے تو آگاہی ہو گئی ہے کہ بھارت نے تقسیم ہند کے بعد ریاست حیدر آباد دکن ہی نہیں، وادی کشمیر پر بھی بزور اپنا تسلط جمایا تھا۔ اس تناظر میں اب پاکستان کے کشمیر کاز کو مزید تقویت حاصل ہو گئی ہے جس کی بنیاد پر اب کشمیری عوام کے استصواب کے حق کا ایشو اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورموں پر زیادہ شدت سے اٹھایا جا سکتا ہے اور اس کیلئے عالمی برادری کو بھارت پر دبائو ڈالنے کیلئے قائل کیا جا سکتا ہے۔ 68ء سال بعد اس کیس کا فیصلہ صادر ہونے سے اب تقسیم ہند کے فارمولے پر بھی ازسر نوبات ہو سکتی ہے جس سے بھارت نے انحراف کیا او رکشمیر اور حیدر آباد دکن پر بزور اپنا تسلط جمایا۔

تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ آزاد ریاستوں جونا گڑھ، مناداور، حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر کے والیان کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ الحاق کرتے ہیں جبکہ اس فارمولے میں یہ گائیڈ لائن بھی دے دی گئی تھی کہ مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست پاکستان کے ساتھ اور ہندو اکثریتی آبادی والی ریاست بھارت کے ساتھ الحاق کر لے۔ اس فارمولے کے تحت جموں و کشمیر اور حیدر آباد دکن کا پاکستان کے ساتھ الحاق نوشتہ دیوار تھا کیونکہ کشمیری لیڈروں اور عوام نے تقسیم ہند سے بہت پہلے اپنے ایک نمائندہ اجتماع میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا جبکہ مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر بھی جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ ہی الحاق ہونا تھا۔ یہی پوزیشن ریاست حیدر آباد دکن کی تھی جہاں مسلم اکثریتی آبادی ہونے کے ساتھ ساتھ نظام حیدر آباد دکن ممکنہ بھارتی قبضہ کے خلاف پاکستان کی امداد طلب کر کے اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ ہی الحاق کرنے کا عندیہ دے چکے تھے۔

اگر تقسیم ہند کے وقت بھارت اس معاملہ میں ڈنڈی نہ مارتا تو مسلم اکثریتی آبادی والی متذکرہ دونوں خودمختار ریاستوں کا پاکستان کے ساتھ ہی الحاق ہوتا مگر بھارت نے ہندو اکثریتی آبادی والی ریاستوں جوناگڑھ اور مناداور کو تو تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق اپنے ساتھ ملحق کر لیا جبکہ حیدر آباد دکن پر اس نے فوجی یلغار کر کے اسے جبراً اپنا حصہ بنا لیا اور پھر یہی ایکسر سائز اس نے ریاست جموں و کشمیر پر کی اور اس کے جموں اور لداخ کے حصے پر جبراً اپنا تسلط جما لیا۔یہی وہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم تھے جن کی بنیاد پر بھارتی لیڈران نے پاکستان کی تشکیل کو بھی بادل نخواستہ قبول کیا تھا مگر انہوں نے شروع دن سے ہی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنا اپنے ایجنڈے کا حصہ بنا لیا اور اسی ایجنڈے کے تحت بھارت نے کشمیر پر بزور تسلط جمایا کیونکہ بھارتی لیڈران کو اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا تو پھر اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے والے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اسی تصور کے تحت بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط جما کر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا اور پھر اپنے آئین میں ترمیم کر کے اسے باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا۔

Indian Army
Indian Army

ریاست حیدر آباد دکن کے نظام اور عوام نے تو طوحاً و کرہاً بھارتی تسلط کو قبول کر لیا اور یہ ریاست بھارت کا حصہ بن گئی مگر کشمیری عوام نے بھارتی تسلط سے آزادی کی ٹھان لی جنہوں نے آج تک اپنی ریاست پر بھارتی فوجی تسلط کو قبول کیا ہے نہ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی اور حکمرانوں کو کبھی تسلیم کیا ہے۔ کشمیر پر پاکستان کا یہی کیس ہے کہ یہ بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیری عوام نے استصواب کے حق کی بنیاد پر خود کرنا ہے۔ اس اصول کے تحت پاکستان نے آزاد کشمیر کو اپنی ریاست کا درجہ نہیں دیا اور اس کی آزاد حیثیت برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کا سفارتی سطح پر مکمل ساتھ دے رہا ہے۔

کشمیری عوام نے کثیر جانی اور مالی قربانیاں دے کر 68ء سال سے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور کسی ترغیب و تخویف کی بنیاد پر ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش پیدا نہیں ہوئی چنانچہ آج اس جدوجہد کی بنیاد پر پوری دنیا اور تمام عالمی ادارے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اب جبکہ برطانوی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے تحت اس امر پر بھی مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے کہ بھارت نے ریاست حیدر آباد دکن پر بزور قبضہ کیا تھا اس لئے اب کشمیر پر بھارتی بزور قبضہ کا معاملہ بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکتا ہے جس سے کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی منزل اور بھی قریب آجائے گی۔

اس تناظر میں برطانوی ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے جس سے کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف ہمارے موقف کو بھی تقویت حاصل ہوئی ہے اس لئے اب ہمیں اپنے سفارتی محاذ کوفعال کر کے مسئلہ کشمیر یو این قرار دادوں کے مطابق حل کیلئے زور لگانا چاہئیے۔ اگر آج بھارت کو جبراً ہڑپ کی گئی ریاست حیدر آباد دکن کے معاملہ میں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے تو عالمی دبائو بڑھنے سے وہ مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط ختم کرنے اور کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے پر بھی مجبور ہو سکتا ہے۔

Muhammad Ashfaq Raja
Muhammad Ashfaq Raja

تحریر : اشفاق راجا

Share this:
Tags:
case India Judgment occupation occupied Kashmir pakistan state strong بھارتی پاکستان تسلّط ریاست فیصلہ کیس مضبوط مقبوضہ کشمیر
Contentment
Previous Post قناعت کی بڑی فضیلت ہے
Next Post ادائیگی زکوٰة کا حکم
Zakat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close