Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوم سیاہ بمقابلہ یوم تشکر

July 28, 2019 0 1 min read
Opposition Parties
Opposition Parties
Opposition Parties

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

ایک سال گزرنے کے بعد اپوزیشن کو خیال آیا کہ اُس کے ساتھ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں ”ہَتھ” ہو گیا اِس لیے احتجاج کرنا چاہیے۔ اِس احتجاج کا کم از کم ہمیں تو کوئی مشترکہ ایجنڈا نظر نہیں آیا۔ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر کوئی ”وائٹ پیپر” سامنے آیا نہ یومِ سیاہ کا مقصد البتہ عوام کی شرکت متاثر کُن تھی۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں مشترکہ اپوزیشن کے جلسوں میںعوامی شرکت کاسبب اپوزیشن کی حمایت سے زیادہ حکومتی کارکردگی پر نوحہ خوانی تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی بھرپور کوشش کے باوجود عوامی شرکت قابلِ ذکر تھی۔ اگر عوام کو فری ہینڈ دے دیا جاتا تو شاید یہ عوامی شرکت کئی گنا بڑھ جاتی۔ وزیرِاعظم نے متعدد بار اعلان کیا کہ اگر اپوزیشن احتجاج کرنا چاہتی ہے تو وہ کنٹینر دینے کو تیار ہیں۔ حکومت کثیر تعداد میں یہ کنٹینر لائی تو ضرور لیکن سڑکیں بند کرنے کے لیے۔ لاہور میں ہائیکورٹ کے حکم اور دفعہ 144 کا سہارا لے کر حکومت نے جلسے کو روکنے کی اپنے تئیںکوشش تو کی، مگر میاں شہبازشریف نے بھرپور ریلی کی قیادت کی۔

جلسے کے لیے متحدہ اپوزیشن نے اُسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں جنوری 2017ء کو مولانا طاہرالقادری کی قیادت میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس سے عمران خاں اور آصف زرداری نے بھی خطاب کیا۔ اُس وقت بھی ہائیکورٹ کے حکم پر جلسے جلوسوں پر پابندی تھی لیکن نوازلیگ کی حکومت نے اِس جلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ وزیرِاعظم جب 25 جولائی 2019ء کی صبح 2 بجے امریکہ کے ”کامیاب” دورے کے بعد پاکستان تشریف لائے تو ایئرپورٹ پر خاصی تعداد میں تحریکِ انصاف کے رَہنماء اور کارکن موجود تھے جنہوں نے وزیرِاعظم کو ہار پہنائے اور بھنگڑے ڈالے۔ دفعہ 144 تو اُس وقت بھی تھی لیکن یہ چونکہ وزیرِاعظم پاکستان کا استقبال تھا جہاں قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر جلسے جلوسوں کی مکمل پابندی ہے۔ وزیرِاعظم کو یاد ہو گا کہ اُنہوں نے اِسی شاہراہ پر ڈی چوک میں14اگست کو 126 روزہ دھرنا دیا لیکن پھر بھی نوازلیگ کی حکومت نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اِس دھرنے کے دوران قانون کی کیسے دھجیاں اُڑیں، وہ تاریخ کا حصّہ ہے۔ اب حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہے۔ اپوزیشن نے یومِ سیاہ کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا ہے جبکہ حکومت احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کے آگے بند باندھنے کے لیے تُلی بیٹھی ہے۔ اگر صورتِ حال تصادم تک آن پہنچی تو اِس سے ملک کا بھلا ہو گا نہ قوم کا اور نہ ہی جمہوریت کا۔

یہ محض اتفاق ہے کہ 21 جولائی کوجب وزیرِاعظم نے واشنگٹن میں خطاب کیا تو ہم بھی واشنگٹن ہی میں تھے۔ ہم نے جلسے میں تو شرکت نہیں کی لیکن بھرپور جلسے کی خبریں ہم تک پہنچتی رہیں۔ وزیرِاعظم کے خطاب سے پہلے گلوکار سلمان احمد نے اپنے گانوں سے ماحول گرم کیے رکھا۔ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ لوگ سلمان احمد کا میوزیکل کنسرٹ دیکھنے آئے یا وزیرِاعظم کا خطاب سننے کیونکہ امریکہ میں موجود پاکستانی بھائی میوزیکل کنسرٹ کے بہت شوقین ہیں۔ وہ تو راحت فتح علی خاں شو میں مہنگی ٹکٹ لے کر بھی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہو جاتے ہیںلیکن یہاں تو ”مُفتا” تھا اور ہم پاکستانی ”مفتے” کے بہت شوقین۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی حکومت نے وزیرِاعظم عمران خاں کا بھرپور استقبال کیا اور جتنی بھی گفتگو ہوئی، انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ اِس لحاظ سے وزیرِاعظم کا یہ دورہ انتہائی کامیاب تھا لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کو عزیز رکھتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی زمانے میں اسامہ بِن لادن بھی امریکہ کو بہت عزیز تھا۔ ضیاء الحق کا بھی بھرپور استقبال ہوا کرتا تھا اور پرویز مشرف تو تھا ہی امریکہ کی آنکھ کا تارا۔ وجہ وہ افغان جنگ جو 80 کی دہائی سے شروع ہوئی اور آج بھی جاری ہے۔ امریکہ افغانی طالبان سے مصالحت کرکے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا چاہتا ہے جس کے لیے اُسے عمران خاں جیسے شخص کی ضرورت ہے جنہیں کسی زمانے میں ”طالبان خاں” کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی دفترِخارجہ پاکستان کو ایفائے عہد کی تلقین کر رہا ہے۔ وہ عہدوپیمان کیا ہیں، کچھ پتہ نہیں۔

حیرت تو اِس بات پر ہے کہ اِس امریکی دورے کے بعد تحریکِ انصاف نے کِس بات پر یومِ تشکر منایا۔ کیا تاریخ کی بدترین دھاندلی پر یا مہنگائی کے عفریت پر؟۔ آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ڈالر پر یا 85 ہزار روپے تولہ سونے پر۔ بجلی اور گیس کئی گُنا مہنگی ہونے پر یا انسانی پہنچ سے دور ہوتی ادویات پر؟۔ ملازمین کی تنخواہیں 40 فیصد کم ہونے پر یا میڈیا پر بے جا پابندیاں لگنے پر؟۔ 15 روپے کی روٹی اور 20 روپے کا نان ہونے پر یا کفن ٹیکس پر؟۔ اقوامِ عالم میں پاکستانیوں کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش پر یا 10 لاکھ لوگوں کے بے روزگار ہونے پر؟۔ گروتھ ریٹ 5.8 سے گِر کر 2.8 تک پہنچنے پر یا کاروباری حضرات کے ”رُل” جانے پر؟۔ آخر تحریکِ انصاف کی حکومت نے ایک سال میں کیا ہی کیا ہے جس پریومِ تشکر منایا جائے۔ ویسے 25 جولائی کو ہی منایا جانے والا یہ یومِ تشکر اِس لحاظ سے تھا بڑا دلچسپ کہ مختلف چوکوں، چوراہوں پر چند لوگ ایک دوسرے کے مُنہ میں لَڈو ٹھونستے نظر آئے اور بیچارے خبر کے بھوکے میڈیا نے اُنہی پر کیمرے فوکس کیے رکھے کہ یومِ سیاہ کی کوریج پر تو مکمل پابندی تھی۔

یومِ تشکر منانے والے خود ٹکڑوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ نوازلیگ کے شدید مخالف اور تحریکِ انصاف کے لیے دِل میں نرم گوشہ رکھنے والے ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کے اندر تین دھڑے، پنجاب حکومت میں پانچ اور خیبر پختونخواہ میں تین بڑے گروہ ہیں۔ اِس کے علاوہ سینٹ میں دو گروپ اور وفاقی کابینہ میں پانچ علیحدہ علیحدہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنانے والے موجود ہیں۔ قائدِ انقلاب (عمران خاں) اِن کا مقابلہ کروا کر محظوظ ہوتے ہیں۔ اگر ارشاد بھٹی کی یہ بات درست ہے تو پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت آٹھ جماعتی اتحاد کے سہارے صرف چھ، سات ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی ہے۔ اِس کے علاوہ حکومتی وزراء اور مشیروں میں باہمی رابطوں کا بھی فقدان ہے۔ وزیرِاعظم کے واشنگٹن میں خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فوادچودھری نے کہا ”اتنے بڑے فورم پر وزیرِاعظم کو مسلم اُمہ کے مغربی دنیا سے تعلقات پر بھی بات کرنی چاہیے تھی”۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مریم نواز کو ریلی نکالنے کا حق ہے۔ اُنہیں ٹی وی پر بین نہیں کرنا چاہیے اور سنسرشپ بھی نہیں ہونی چاہیے۔ جواباََ جَل بھُن کر کباب ہونے والی فردوس عاشق اعوان نے کہا ”فوادچودھری کے ذاتی درد اور مسائل کا آپ کو بھی پتہ ہے۔ وہ اِس وقت پارٹی لائن سے ہٹ کر، عمران خاں کے بیانیے سے ہٹ کر، حکومت کے بیانیے سے ہٹ کر اِس قسم کی گفتگو کیوں کر رہے ہیں، اِس کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟”۔ محرکات کا تو فردوس عاشق کو بھی اچھی طرح سے علم ہے۔

جب ایک منتخب رکنِ اسمبلی سے اطلاعات ونشریات کی وزارت چھین کر غیر منتخب فردوس عاشق کو دے دی جائے گی تو پھر محرکات تو سب پر عیاں ہو جاتے ہیں۔ حقیقت مگر یہ کہ کپتان کو اطلاعات ونشریات کے لیے ایسے مُنہ پھَٹ لوگوں کی ضرورت ہے جو لگی لپٹی رکھے بغیر جو مُنہ میں آئے، بول دیں۔ فوادچودھری تو پھر بھی گوارا تھاکہ وہ بات کرتے ہوئے غلط ہی سہی مگر دلیل تو پیش کرتا تھا، توجیہہ تو دیتا تھا مگر فردوس عاشق کو سوائے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے اور کچھ آتا ہی نہیں۔ بابر ستار نے کہا ”میں نے فردوس عاشق کے مُنہ سے کبھی فہم وفراست والی بات نہیں سنی۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اُنہیں کیوںلگایا گیا؟”۔ ارشاد بھٹی نے لقمہ دیا ”اِسی وجہ سے”۔ یہ عین حقیقت ہے کہ فردوس عاشق کی باتوں پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیںاور عالم یہ کہ جب فوادچودھری سے میڈیا کورٹس کے بارے میں سوال کیا گیاتو اُنہوں نے کہا کہ ایسی کوئی تجویز نہیں۔ جب اُنہیں بتایا گیا کہ فردوس عاشق نے میڈیا کورٹس کی بات کی ہے تو فوادچودھری نے کہا ”کسی نے فردوس عاشق کے کان میں کہہ دیا ہوگا اور اُس نے آگے بات کر دی”۔ اِس کے باوجود کپتان کی نظروں میں فردوس عاشق اطلاعات ونشریات کے لیے ”سُپرفِٹ” ہے کیونکہ وہ مُنہ پھٹ ہے اور کپتان کو فردوس عاشق اور فیاض چوہان جیسے لوگ مرغوب ہیں۔ صمصام بخاری کو پنجاب میں اطلاعات ونشریات کی وزارت سونپی گئی لیکن دو، تین ماہ میں ہی واپس لے لی گئی۔ وجہ صرف یہ کہ صمصام دھیمے لہجے میں بات کرنے کے عادی ہیں۔ اب یہ وزارت میاں اسلم اقبال کے پاس ہے۔ لہجہ اُن کا بھی نرم ہے، دیکھیں یہ وزارت کتنی دیر چلتی ہے۔ وزیرِاعظم نے امریکی دورے کے بعد فرمایا کہ معاشی بحران سے نکل آئے ہیں جبکہ ڈیفیکٹو وزیرِاعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہبازگِل سے مہنگائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُس نے کہا کہ پچھلی حکومتیں 24 ہزار ارب قرضہ چھوڑ گئی ہیں۔ جب اینکر نے کہا کہ اُن سے ایک سال بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے تو جواب ملا ”ایک سال کیا، تین سال بعد بھی یہی جواب دوں گا کہ مہنگائی ہے۔ جو کچھ یہ کر گئے ہیں، اُسے ٹھیک کرنے کے لیے پانچ سے دَس سال لگیں گے”۔ جب یہ عالم ہو تو پھر حکومت کو ”یومِ تشکر” نہیں ”یومِ تفکر” منانا چاہیے۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
elections government opposition Protests successful اپوزیشن احتجاج انتخابات حکومت کامیاب
Irfan Siddiqui
Previous Post پروفیسر عرفان صدیقی کی گرفتاری اور استاد کی تعظیم
Next Post حکومت نے مرکزی بینک کا قرض واپس کرنا شروع کر دیا
State Bank

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close