Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عہد شریف کی ایک سبق آموز داستان

November 27, 2016 0 1 min read
General Raheel Sharif
General Raheel Sharif
General Raheel Sharif

تحریر : شاہد جنجوعہ
پاکستان آرمی کے 15 ویں سپہ سالار جنرل راحیل شریف کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد توقع الی اللہ پر یقین رکھتے ہوئے حب الوطنی کا شاندار مظاہرہ کیا اور زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے تمام تر مواقع دستیاب ہونے، سیاسی حالات سازگار ہونے، میڈیا کے برابر اکسائے جانے اور بڑی حدتک عالمی طاقتوں کی خاموش حمایت کے باجود جذبات سے فیصلے نہ کرکے ایک تاریخ رقم کی۔
جنرل راحیل شریف نے بطور سپہ سالار اپنی ذاتی پروموشن کی بجائے اپنے ادارے کو بڑی حدتک مضبوط کیا اور اپنے پیش رو کے برعکس پاک فوج کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط ادارے کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی طورپر روشناس کروانے کیساتھ ثابت کیا کہ اسکے اندرخود احتسابی کی صلاحیت بھی ہے اور وہ اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ قیام پاکستان کے بعد ابتک کسی جرنیل کو اگر مہم جوئی کیلئے سب سے زیادہ اکسایا گیا ہے تو وہ جنرل راحیل شریف ہی تھے مگر انہوں نے عقل و دانش اور ادرارتی مشاورت سے ایسے فیصلے کئے کہ کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا محب وطن تاریخ دان ان پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمدچوہدری کے برعکس جنرل راحیل شریف نے محض اخباری بیانات پر میڈیا میں اپنے نام کی ہیڈ لائنز لگوانے یا محض ہیرو بننے کیلئے چھوٹے پن کا ثبوت نہیں دیا اور نہ ہی عقل کل بننے کی کوشش کی، جنرل راحیل شریف نے ادارے مضبوط کئے ورنہ تاریخ گواہ ہے وطنِ عزیز میں جسکے بھی اختیارات کی لاٹھی آئی ،اس نے آئین و قانون کی پاسداری کو کبھی درخوئے اعتنا نہیں سمجھا اور دوسرے اداروں کے اتھارٹی کو پاؤں تلے روند ڈالا،جنرل راحیل شریف نے جب پاک فوج کی کمان سنبھالی اسوقت پاکستان کو کئی ایک غیر معمولی چیلنجز کا سامنا تھا جس سے نبٹنے کیلئے انہوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والے شدت پسندوں، عسکریت پسندوں اور انکی پشت پر کھڑی بیرونی ایجنسیوں کے نیٹ ورک کیخلاف ایسا بھرپور آپریشن کیا کہ انکی کمر ٹوٹ گئی اور پاک فوج سمیت دیگر انتظامی اداروں کی ساکھ بھی بحال ہوئی۔

اس جرأت مندانہ بھرپور فوجی آپریشن کے نتیجے میں جہاں ریاست کی رٹ قائم ہوئی وہیں پاکستان کو ایک ناکام اور غیر محفوظ ریاست کہنے والوں کے منہ بند ہوگئے۔ گو پاکستان کو اب بھی اِکا دُکا شرپسند گروپوں کی طرف سے سیکورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے مگر اسکی وجہ بالاتفاق ملک کا سیاسی و مذہبی فرقہ وارانہ کلچر ،جذباتیت اور مذہبی و لسانی گروہ بندی ہے جسکا ذمہ دار ہرگز، ہرگز کلیتاََ پاک فوج کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نہ اسے ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کسی ملک کے فوجی سربراہ پر ڈالی جاسکتی ہے۔

Operation Zarb-e-Azb
Operation Zarb-e-Azb

جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی گرتی ہوئی ساکھ اور فوجی ادارے پر عوام کے متزلزل اعتماد کو بحال کیا ورنہ وہ وقت کس کو بھول سکتا ہے جب اس ملک میں فوجی وردی پہن کر سیکورٹی حصار کے بغیر کسی فوجی اعلیٰ آفیسر کا اپنی گاڑی سے باہر نکل کر بازار میں جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ،جس وقت جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی اس سے پہلے جمہوری حکومت اور اعلیٰ عدلیہ ملک میں سیاسی پنڈتوں اور عسکریت پسند دہشت گردوں کو متوازی عدالتی نظام قائم کرکے ان سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا پروانہ جاری کرچکی تھی اور اس جرم میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری، مرکزی و صوبائی حکومت، عوامی نیشنل پارٹی، مولانا فضل الرحمٰن، سمیع الحق گروپ، شیخ رشید، ق لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور ن لیگ برابر کی مجرم ہیں جبکہ علامہ طاہرالقادری نے اس کی بھرپور مخالفت کی جو کہ انکا بروقت اور راست فیصلہ تھا۔ جنرل راحیل شریف کیلئے دوسرا سب سے بڑا چیلنج اس متوازی عدالتی نظام کے نیتجے میں زیرالتوا سنگین جرائم میں پھانسی کی سزا کے حقدار مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانا تھا جس کیلئے سیاسی اور مذہبی قیادت ہرگز تیار نہ تھی ،حکومت پس و پیش سے کام لے رہی تھی اور درپردہ کئی صوبوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ان کالعدم تنظیموں سے مضبوط” الائینس” قائم تھا اوروہ ایسے جرائم پیشہ افراد سے الیکشن سمیت سیاسی مدد لیتے تھے اور یہ بھی ایک وجہ تھی کہ وہ انکے خلاف آپریشن کرنے کے حق میں نہیں تھے ۔سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے پاکستان میں اپنی ٹیمیں نہ بھیجنے کے فیصلے سے پاکستان کی عالمی دنیا میں ساکھ بری طرح مجروح ہوئی اور اسکا سارا فائدہ بھارت اور عرب امارات کو ہوا۔حکومت کے پاس شواہد تھے اور قاتلوں کی نشاندھی ہوچکی تھی مگر انہیں ٹرائل کرکے قرارواقعہ سزا دینے سے وہ بوجہ انکاری تھے ایسے حالات میں جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت پاک فوج کے کورکمانڈرز کی تشویش نے حکومت کو مجبوراً مشکل فیصلے کرنے پڑے اور ان حالات میں فوجی عدالتوں کے قیام اور سنگین وارداتوں میں ملوث مجرم ثابت ہوجانیوالوں کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کا سہرا جنرل راحیل شریف کے سرسجتا ہے اور یہ انکا بہت جرات مندانہ فیصلہ تھا۔

ہمارا یہ ایک قومی المیہ ہے کہ ہم جذباتی قوم واقع ہوئے ہیں اور ہرمعاملے میں سرعت پسندی اور جذباتی فیصلوں پر زور دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ تبدیلی کبھی راتوں رات نہیں آتی اور کسی ایک شخص کو نجات دھندہ سمجھ کر ہر کام کی امید اس سے لگالینا عقلمندی نہیں کہلاتا۔ اسلام تئیس برس میں نازل ہوا اور اسکا مکمل نفاذ اور غلبہ ہادی برحق، نبی آخزالزمان محمد الدرسولۖ اللہ کی ظاہری حیات کے بعد انکے خلفاء راشدین کے ادوار میں ہوا ، یہ ہے وہ اصل انقلاب جسکی مثال کوئی قوم اور کوئی معاشرہ اس سے قبل کبھی پیش نہیں کرسکتا جبکہ ہمارے ہاں سب کچھ اسکے الٹ ہے۔

جنرل راحیل شریف کا یہ بھی اعزاز ہے کہ وہ سیاسی اور مذہبی قیادت کو حالات کی سنگینی سے برابر خبردار کرتے رہے مگر انہوں نے کبھی آئین و قانون کی حدود و قیود سے تجاوز نہیں کیا ۔گوادر پورٹ منصوبے کی تکمیل سے قبل بے شک حکومت نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اس منصوبے کو کامیابی سے چلانے کیلئے مطلوب ماہرین اور تکنیکی افراد کی کھیپ تیار کرنے پر توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے ڈر ہے کہ منافع بخش اور اہم جابز غیر ملکی لے جائیں گے چائنہ کا ڈر تھا کہ پاک ایران گیس لائن منصوبے کی طرح گوادر پورٹ منصوبہ سے بھی عالمی طاقتوں کے دباؤ پر پاکستان رول بیک کرلے گا جس سے عین ممکن تھا کہ یہ سی پیک اور گوادر منصوبہ اگلی نصف صدی کیلئے کھٹائی میں پڑجاتا اسلئے انکی کوشش تھی کہ جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع لیں اور اگر وہ ہاں کردیتے تو نوازشریف حکومت کبھی نہ نہیں کرسکتی تھی اس موقع پرجنرل راحیل شریف نے اپنے مضبوط فیصلے سے واضح پیغام دیا کہ پاکستان واقعتاً ایک ذمہ دار ملک ہے اور اسکے ادارے بتدریج شخصیات کے سحر سے نکل کر ملکی مفاد کے تحت دور رس فیصلے کرنے کے قابل ہیں۔

ایک چیز شاہد جنرل راحیل شریف کبھی نہ کہہ سکیں وہ میں کہہ دیتا ہوں کہ دھرنے کے دوران ان سے ملاقات کرنیوالی شخصیات اور میڈیا نے بعض باتوں کو جسطرح ان سے منصوب کرنیکی کوشش کی کہ شاید ضرب عضب اور معاشی دہشت گردی کے خلاف ایکشن شاید ان شخصیات کی ”بریفنگ” پر کیا جا رہا ہے ،اس سے میڈیا کے ذریعے عوام کو غلط تاثر ملا،حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ میری معلومات کے مطابق تیسرے فریق نے ایک تجویز دی تھی اگر وہ قبول کرلی جاتی تو آج پاکستان میں اس سے بہت بہتر حالات ہوتے مگر وہ جس ایک شرط پر بضد رہے اس نے انکی ساری توقعات پر پانی پھیر دیا اور وہ خود بھی انتہاء پسندی ختم کرنے کیلئے ایک ہزار سنٹر قائم کرنے کے اپنے وعدے پر پانچ فیصد بھی عمل نہیں کرسکے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے ہم جانیوالوں کو عزت سے رخصت کریں اور انکے خلاف کسی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے پرہیز کریں کیونکہ جنرل راحیل شریف کو پیشکش کی گئی کہ کہ سروسز چیفس کے عہدے کی معیاد چار سال کر دی جائے۔ راحیل شریف نے کہا کہ ضرور کریں لیکن میرے جانے کے بعد، پھر یہ افواہیں پھیلیں کہ ان کو ملازمت میں توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے جنوری 2016 میں اس کی دو ٹوک تردید کر دی۔ لیکن ان کے خلاف گھناؤنا پراپیگنڈا نواز لیگ کی ایک خاتون رہنما کی ایما پر جاری رہا۔ نجی مجالس میں کہا گیا کہ یہ توسیع لینے کا اعلان بھی دراصل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کیا گیا۔

Army Chief Gen Raheel Sharif
Army Chief Gen Raheel Sharif

جہاں جنرل راحیل شریف کے مثبت کردار کو قوم نے پذیرائی بخشی وہیں کچھ کرداروں نے ان کی نیک نامی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنیکی کی بھی کوشش کی۔ان میں قابل ذکر وہ دو کردار بھی شامل تھے جن کو جنرل صاحب نے اکتیس اگست کی رات ملاقات کا شرف بخشا تھا،جن میں سے ایک صاحب نے تو ملاقات کے فورا بعد میڈیا میں آکر کہا تھا کہ جنرل صاحب کو ان نے بڑا ویژنری اور جنٹلمین سپہ سالار پایا ہے۔انھوں نے انکی باتوں کو بڑے تحمل اور انہماک سے پورے تین گھنٹے سنا(گو اس واقعے کے واحد راوی بھی وہ اکیلے خود ہیں)، پھر اس ملاقات کے بعدتک وہ کردار اپنے عقیدت مندوں سے جنرل صاحب کے کئی اقدامات کا کریڈٹ اس طرح لیتے رہے کہ فلاں آپریشن اور فلاں اقدام ہماری رائے اور ہمارے مشورے پر پاک فوج نے شروع کئے تھے،یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ ون مین شو کردارعقل کل ہو اور اتنا بڑا فوجی ادارہ فقط ان کے مشورے کا مرہون منت ہو۔اور آج شومئی قسمت دیکھیں اس کردار کا دائیاں بازو بلکہ ان کا مستقبل کا نائب ناظم اعلی جنرل راحیل شریف کی خدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں یوں رقمطراز ہیں”راحیل شریف نے جسطرح سے شریف خاندان کی خدمت کی ہے اسکی مثال فلموں میں بھی ملنا ممکن نہیں۔۔۔واقفان حال بہت پہلے واضح کر چکے تھے کہ راحیل شریف اندر سے کھوکھلا انسان ہے اور اسکا گرو جنرل عبدالقادر بلوچ ہے جو کہ نواز لیگ کا ملعون ہے۔۔۔متعدد اطلاعات آئیں کہ کچھ کور کمانڈرز نے مطالبہ کیا کہ نواز لیگی ارکان کو بھی گرفتار کیا جائے مگر راحیل شریف نے انہیں روک دیا۔

پھر جنرل ظہیرالسلام اور ان کے ساتھ چار پانچ جنرلز کو بھی اس لئے فارغ کر دیا گیا جن کا مطالبہ تھا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک طرح سے ڈیل کیا جائے،مگر نواز لیگ کا ملعون راحیل شریف اپنی پروفیشنل ڈیوٹی سے نہ پھرا اور انھیں ریٹائرڈ کروا دیا،جنرل راحیل شریف کی پروفیشنل ازم یہی تھی کہ جو کام اسے ملا، اس نے نواز لیگ کی معاونت اور بچائو کے لئے کیا۔راحیل شریف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا بھی باپ ہے۔۔۔” یہ مضمون پڑھ کر فقط اتنا کہوں گا کہ پاک فوج جیسے مقدس ادارے پر جو الزامات الطاف حسین نے سُر اور راگ میں لگائے تھے ، اس سے ہزار گنا سنگین الزامات ،بلکہ پاک فوج کے عظیم سپہ سالار اور اس کے ساتھیوں کو کسی سازش میں ملوث کرنے کا جو سنگین الزام سیماب صفت آنجناب شیخ الانقلاب کے دست راست اور ان کا مرکزی میڈیا سیل لگا رہا ہے اسکا جواب آنا اب لازم ہو گیا ہے۔قطعہ نظر اس کے، کہ ان کی شدید ناراضگی اور برہمی کا سبب فقط یہی ہے کہ ماورائے آئین اقدام اٹھا کر ان کے ”قبلہ حضور” کو وزیراعظم یا صدرِ پاکستان نہ بنا کر جنرل راحیل شریف نے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیا (یاد رہے کہ ”قبلہ حضور” کے اپنے بیان کردہ خوابوں،جن سے اب وہ مکھ موڑ چکے ہیں ، کے مطابق ان کی عمر مبارک تریسٹھ سال سے اوپر ہو چکی ہے)اور یہی ان کا ناقابل معافی جرم ٹھہرا۔لیکن ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہوا تھا،سابق چیف آف آرمی سٹاف اور صدر پرویز مشرف سے بھی یہی منصوب تھا کہ انھوں نے آنجناب کو وزیراعظم بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا،بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شیروانیاں بھی سل چکی تھیں۔کیونکہ ریفرنڈم میں پاکستان سے لیکر برطانیہ و یورپ تک انکی حمائت میں مہم چلائی گئی جس میں راقم کا بھی بہت رول تھا۔ہیلی فیکس (برطانیہ کا شہر جہاں راقم الحروف رہائش پذیر ہے)میں پاکستانی تارکین وطن اس طرح قطار اندر قطار ووٹ ڈالنے آئے جیسے اگلی صبح انقلاب کی نوید ملنے والی ہو۔پھر جب ایسا نہ ہو سکا تو ڈاکٹر معید پیرزادہ کیساتھ ایک انٹرویو میں سیاستدانوں کو بے قصور اور پاک فوج کو تمام تر تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا، وہ انٹرویو آج بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔قبل ازیں جنرل ضیاء الحق مرحوم اور جنرل مرزا اسلم بیگ پر بھی ایسے ہی الزامات عوامی تحریک کی اعلیٰ قیادت سرِعام ہر پلیٹ فارم اور میڈیا پر لگا چکی ہے۔ابھی پچھلے سال آنجناب کے منجھلے بیٹے جو منہاج القرآن کے مرکزی صدر ہیں،نے اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف پر پاکستانی نیشنلز امریکہ کو بیچنے پر پیسے کمانے جیسے الزامات عائد کئے تھے۔اب منہاج القرآن کی ذیلی تنظیم مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے سابق صدر کے جنرل راحیل شریف پر سنگین الزامات اُسی پرانی سوچ کا تسلسل ہے جو متعلقہ اداروں اور نئے آرمی چیف کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

ان جیسی ہی دوسری سازشی تھیوریوں کی حامل ذہنیت نے سرل المیڈا والی سازشی سٹوری میںبھی اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن جسے اللہ عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اور جسے اللہ ذلیل کرنے پر آئے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ کے بعد شہدا کے ورثاء کی کفالت اور دیکھ بھال کے عظیم کام کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتے تو نوازشریف کا تختہ الٹ کر پاکستان پر حکومت کرتے لیکن انہوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کو ترجیح دی۔ جن کے دل ان کی مقبولیت سے جلتے رہے وہ اب بھی جلتے ہی رہیں گے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف پاکستان کے وہ مقبول ترین آرمی چیف ہیں جنہوں نے آئینی دائرے میں رہ کر اپنی مدت ملازمت پوری کی۔اور ثابت کیا کہ ”عہد شریف” خالصتا شریف تھا۔

Shahid Janjua
Shahid Janjua

تحریر : شاہد جنجوعہ

Share this:
Tags:
General Raheel Sharif narrative pakistan power Shahid Janjua اقتدار پاکستان جنرل راحیل شریف داستان
Previous Post پیرمحل کی خبریں 27/11/2016
Next Post جنرل قمر جاوید باجوہ اور زبیر محمود حیات پاکستان آرمی کو دنیا عظیم قوت بنائیں گے۔ تعیم کھوکھر
General Qamar Javed Bajwa and Zubair Mahmood Hayat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close