
تحریر: شاہ بانو میر
آج 25 اکتوبر بروز سوموار پھر سے 2005 اکتوبر کے زلزلے کی المناک یادیں تازہ ہو گئیں پورا ملک کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ اٹھا لوگ ابھی پچھلے سانحےکونہیں بھولے خوف و دہشت کی ایک فضا سی قائم ہوگئی بیرون ملک مقیم تارکین وطن کی اکثریت دیوانہ وار پاکستان فون کرنے کولپکی اور بڑی تعداد نے سکون کا سانس لیا جب ابتدائی طور پے یہ معلوم ہوا کہ کشمیر کی طرح جانوں کا نقصان کم ہے سب سے زیادہ خیبر پختون خواہ میں تباہی کا سامان ہوا ‘ پورا ملک اس وقت حزن و ملال کی کیفیت میں ہے۔
یہ زلزلہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ 2005 میں جب سروے کرنے کے بعد بحالی مشن شروع کیا گیا تو گھر بنانے کیلئے بین القوامی جیالوجیکل سروے میں یہ کہا گیا تھا سفارش پیش کی گئی تھی کہ شدید زلزلہ کی وجہ سے زیر زمین پلیٹس اوپر تلے آچکی ہیں جو اسی طرح کے ایک اور شدید زلزلے کے بعد برابر ہوں گی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخراس خطہ ارض پر ایسے کونسے گناہ گاروں کا اتنا کڑا پہرہ ہے کہ علاقائی سیاسی خارجی سازشوں اوراندرونی شورشوں کا حامل یہ ملک کسی طوراگر زمینی فساد سے دور ہونے لگتا ہے تو آسمانی آفت نازل ہوکر حساببرابر کر دیتی ہے یہ سب کیا ہے؟ ہمارے اعمال ؟۔
یا اللہ کا عذاب یا دنیا میں ہمارے لئے بار بار تنبیہہ؟ کل سپریم کورٹ کا فیصلہ سود سے متعلق سنا تو اس بات کا حتمی طور پے یقین آگیا کہ آخر کار ہمیں مکمل طور سے مڑنا ہے اور قائم کرنا ہے اللہ کا نظام یہ زگ زیگ اور اسلام کا ملغوبہ بنا نظام مسترد کرنا ہوگا قرآن پاک کی حقانیت کو بالاتر سمجھ کر اسکو زندگی کا معاشرے کا گھروں کا قانون بنانا ہے کوفر تو ہیں ہی کافران پر اللہ پاک نے دنیا میں بے شمار انعامات کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن ہم کہنے کو خوش نصیب اور اعمال میں بد نصیب کہ اصل سے دورہو گئے اور دنیا میں ہم اللہ پاک کی ناراضگی کا شکار ہوگئے۔

یہی نارضگی ہے جو کبھی سیلاب کی صورت کبھی زلزلے کی صورت کبھی قتل وغارت کی صورت ہمارے گردوپیش میں قیامت ڈھاتی نظر آتی ہے جس ملک میں بوڑھے کمزور لاغر لوگ نا انصافیوں سے نڈھال ہوں کمزورعورتیں ظالموں کے چنگل میں جکڑی صدائے احتجاج بلند کرنے سے قاصر ہوں وہ ظلم پر رونے کی بجائے خوف سے ہنسنے پر مجبور ہوں جہاں کم سن بچے درندگی کی بھینٹ چڑھ کرقوم لوط کا زمانہ عمائدین کی زیر نگرانی دیکھا جا سکتا ہے جس ملک میں بھائی کو مزدوری دن کو نہ ملے اور بھوک و افلاس کو ختم کرنے کیلئے رات کو اسی گھر کی بیٹی نکلے تو صبح تڑکے تک 1000 کا کراہ نوٹ ہاتھ میں ہو وہاں زلزلے نہیں آئیں گے وت اور کای امید رکھیں گے آپ؟۔
راتر رات بھر ناچ گانا نا محرموں کے ساتھ مخلوط مجالس اور بے باکانہ قہقہے شیشہ گھروں میں ہوٹلز ریسٹورنٹس میں اس ملک کی ثقافت کا جنازہ نکال کر بے موت مار دیا ہو اور اب غیر ملکی ثقافت کو بڑھا چڑھا کر اپنی اصل کے ساتھ سامنے لایا جا رہا ہو تو وہاں اور کیا امید رکھیں گے؟ جہاں کا سیاستدان جہاں کا مل مالک جہاں کا مزدور ریڑہی بان دوکاندار سب کو رزق حلال نہیں رزق افراط چاہیے جس ملک میں کھانا اتنا کھایا جاتا ہو کہ ببکرے کم پڑجائیں تو ذائقہ نہ کتے کے گوشت میں فرق بتاتا ہے اور گدھے کے ایسے ملک میں کیا آسمان سے من و سلویٍ اترے گا۔

خدارا آج سے ابھی سے کسی کو کہنے سننے کی بجائے ہم سب کو چاہیے کہ اللہ ست توبہ استغفار کثرت سے پڑہیں توبہ کاتقاضہ بار بار کریں اللہ کو منا لیں کافر کافر کہنا چھوڑیں جو القلم نے اربوں کھربوں سال پہلے لکھ کر محفوظ کر دیا اس کی عظمت کو حرمت کو تسلیم کریں شیعہ سنی اختلاف کو اسلام پر حاوی کر کے اللہ کے قہر کو دعوت نہ دیں شدت پسند دانشور شدت پسند دینی رہنما اب ناکام کرنے ہوں گے۔
ورنہ یہ زلزلے سیلاب آفات آسمانی اسی طرح نازل ہوتی رہیں گی اللہ پاک سے دعا ہے کہ بے شک ہم بہت گناہ گار خطار کار سزاوار ہیں لیکن وہ تو غفور الرحیم ہیں بخشنے والا مہربان ہے اس ملک بد نصیب پر اپنا کرم عطا فرما کر اب مزید آفتوں سے محفوظ فرما کر ہمارے قلوب اپنے ذکر سے ایمان سے اخلاص کے ساتھ جوڑ کر مزید بربادی سے ہمیں بچا لے آمین۔

تحریر: شاہ بانو میر
