Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

____ سیف الملوک ____

October 26, 2015 0 1 min read
Lake Saiful Muluk
Van in Water
Van in Water

تحریر: عاقب شفیق
اچانک ایسا لگا کہ کسی نے مجھ پر ٹھنڈے برف کے ٹکڑوں سے بھری پانی کی بالٹی زور سے انڈھیل دی ہو۔ نیند سے تلملا کر اُٹھا تو دیکھا کہ گاڑی میں میرے علاوہ سبھی رکوع کی حالت میں ہوئے اپنے دامن سمیت کپڑوں کا متاثرہ حصہ نچوڑ رہے تھے۔”اندھا کہیں کا۔۔۔۔۔ گاڑی چلانے کا قرینہ ہی نہیں ان لوگوں کو۔۔۔۔۔۔ پانی سے آھستہ گاڑی چلاتے ہوئے انہیں موت پڑتی ہے کیا۔۔۔۔۔۔؟؟” عبید بھائی بھی آپے سے باہر تھے۔ حافظ خلیق الرحمان صاحب کسی آدھے پُل کے ذکر میں مصروف تھے ” نہیں بھائی! آدھے پُل سے لوگ پار کس طرح جاتے ہیں؟ دریا کے آدھ تک پل ہے وہاں سے آگے صرف رَسّے لٹک رہے ہیں۔ چھلانگ بھی ماریں تو ندی کے وسط میں جائیں گے“۔۔۔

علاوہ ازیں موصوف کے نزدیک آبشاریں اور دریا “بَحَرتے” ہیں۔۔۔
صحیح معنوں میں آنکھ کھُلی تو دیکھا کہ ہم ناران پہنچنے والے ہیں اور دائیں جانب گلیشیئر ہے۔ گلیشیئر سے سڑک پر بہتا پان گاڑیوں کو آہستہ چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی مجبوری میں مخالف سمت سے آتی تیز کار “شاں” سے گزری۔ اور ہم سب کی “باں باں” کر دی۔۔۔میرا منہ اچھی طرح دُھل چکا تھا۔ گاڑی کے شیشے کے بالائی جانب پیوست ڈبے سے ٹشو پیپر نکالے اور منہ صاف کیا۔ اب مجھے حالات کا اندازہ ہوا کہ یہ کوئی “آئیس کیوب چیلینج” نہیں بلکہ حادثاتی واقعہ تھا۔

کپڑے بھیگنے کی وجہ سے ٹھنڈ لگنے لگی تو ہاتھ بڑھا کر شیشہ بند کر دیا۔ “بائیں جانب ناران شہر ہے اور دائیں سائیڈ پربائی پاس ہے۔ ہم بائی پاس سے جائیں گے۔ اس طرف رش کم ہوتا ہے” عبید بھائی نے بتایا اور گاڑی دائیں دائیں جانب مُڑ گئی۔ وہاں سے جھیل تک جیپ ایبل ٹریک ہے۔ سو، ہم سب جیپ پر منزل کی جانب بڑھنے لگے۔ جیپ کے ڈرائیور ریاض بھائی سے اچھی خاصی گپ شپ ہونے لگی۔ عبید

Jheel
Jheel

بھائی نے اپنے گزشتہ سفر کا احوال سُنایا کہ فلاں ہوٹل میں فلاں جگہ بیٹھ کر فلاں کھانا کھایا تھا۔ اور ساتھ ہی گویا ہوئے “ہم نے ناران سے جھیل تک کے لئے ایک جیپ لی، اس کے ڈرائیور کو سب ‘ڈراپَس’ بلاتے تھے۔ ہم جھیل پہ پہنچے وہ سواریاں لے کر واپس نیچے آ گیا۔ ہم آدھ گھنٹہ اس کا انتظار کرتے رہے پھر پیدل ہی ناران تک منہ چھُپاتے ہوئے ایڈوِنچر کر ڈالا عبید بھائی کی بات سن کر ریاض بھائی مُحتاط ہو گئے۔ بائیں جانب گلیشئیر پر خانہ بندی کر کے کولڈ ڈرنکس اور جوس کے ڈبے ٹھنڈے ٹھار کیئے جا رہے تھے۔ سب کچھ قدرتی تھا۔ جیپ پتھروں پر عجیب طرح کا سفر کر رہی تھی۔ بڑے بڑے پتھروں پر نگاہِ عام سے تو کوئی سڑک کا نقشہ نظر نہیں آ رہا تھا لیکن جیپ کے گزر جانے کے بعد یقین ہو جاتا تھا کہ ہاں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں سڑک کا وجود ہے۔

آخری موڑ کے قریب پہنچنے پر عبید بھائی نے بتایا کہ اب جھیل نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ سب نگاہیں اُس سمت میں اُٹھائے شانت بیٹھے تھے۔ لیکن جیپ گرینڈر کی طرح ڈرائیور کے علاوہ تمام نشستوں پر براجمان افراد کی نشستیں تبدیل کرنے میں اچھی خاصی کامیاب رہی۔ ناران میں جو جو جس جس سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اب تک وہ اس کی بالکل مخالف نشست پر جھٹکے کھا رہا تھا۔ حالانکہ ہم نے جرید میں سیر ہو کر کھانا کھایا تھا لیکن سبھی شدید بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔

سامنے پہاڑوں کی بُلندی کو اپنے آنچل میں چھُپاتے بادل شائد اس امر کو مخفی رکھنے کے درپے تھے کہ وہ یہاں کے ضرب المثل حُسن کو بھی نہاں کیئے ہوئے ہیں یا کسی مُحافظ سانپ کی طرح پہاڑوں پر قہر کی نگاہ لیئے دھندلاتے ، گرجتے کالے بادل مسلسل تیزی سے بل کھا کر اپنے فرائض سے ہر فرد کو آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھتے تھے۔ میری نظر کچی سڑک کے وسط میں پڑے تین بڑے بڑے پتھروں پر تھی جہاں سے ابھی جھیل کا نظارہ تدریجاً جلوہ گر ہونے کو تھا۔ دُھند نے رقابت کا کردار “بطریقِ احسن” نبھایا۔ دُھند فقط دس میٹر دور ان تین پتھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیئے مُسکراتی ہوئی بل کھا گئی ، کہاں بیسیوں میٹر دور حُسن و جمال کے پیکر کو دکھانے کا اِذن۔۔۔۔۔؟

Fog
Fog

خیر، دس میٹر کے فاصلے کو پچیس تیز قدموں سے پار کیا تو دُھند صاحبہ کے عناد نے پھر سے مُسکرانے کا ھدیہ پیشِ خدمتِ خاکسارھا کر کے بے نام رقیبانہ تعلق کا سنگ ِ بُنیاد اُٹھا دیا۔محبوب سے وصال کو ہجر تک محدود رکھنے کی “سُپاری” کے حامل بادلوں کے عزائم کو نِست و نابود کرنے کی جسارت کو پایہ ِ تکمیل تک پہنچا کر مُشک ِ عنبریں و مُشک ِ فطرتِ خداوندی کے بڑے بڑے “گھونٹ” لیتے ہی تخلیقِ کائینات کے امور کو سحر انگیز “جلوہ ھائے جات” سے مُنوّر کرنے والی ذات کے حضور ماتھا ٹیکا۔ سر اُٹھایا تو بادل نگاہیں جھُکائے ، رقابت پر نادم میرے قدموں کو چھوتے ، بکھرتے سنورتے اوجھل ہو گئے۔ خیال بادلوں سے ہٹا تو محبوب بے پیرہن جلوہ گری کی کُل منازل پار کیئے ماہِ شبِ چار دھم کی آغوش میں وصال کیلئے بانہیں کھولے منتظر تھا۔

محبــوب ہو شــراب ہو پھــر چانـد رات ہو
کس کو پڑی ہے ایسے میں کارِ ثواب کی
ماحول وصال کے منظر سے جل اُٹھا۔ تمام عناصر نے اسے ناممکن بنانے کیلئے اپنا کردار نبھایا، آسمان نے بجلی برسائی، کوہساروں نے بادلوں کی شال سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ گھنے بادل جھیل کو اپنی لپیٹ میں لینے کیلئے دُھند سے مدد مانگنے لگے۔ بارش اپنی رفتار میں شدت لا کر میرے جھیل کی جانب بڑھتے قدم روکنے پر تُلی رہی۔ سورج جلدی سے مغرب کو ڈھل کر اندھیرے سے مجھے خوف زدہ کرنے پر بَضد رہا۔ پھر ان تمام عناصر نے مل کر بادِ یخ بستہ کی تیغ کو میرے مقابلے میں ستیزہ گاہِ سیفی الملوکی میں اُتار دیا۔ آسمان اپنے بادل نمائی ترکش سے اولے برسانے لگا۔ اس قدر تلخ پَنجہ فگنی سے میں گھبرایا ضرور لیکن وصالِ یار میں جان دینا اپنا مقصد بنا کر جان لیوا اولوں کو پاؤں تلے روندھتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔

“کوہسارِخطیر” تو اب “کوہ سارے حبیب” بنتے جارہے تھے۔ دُھند بھی وصال پر رقص کُناں ہو کر سر پر شال بن کر وصال کے امکانات بڑھانے لگی۔ بادل بھی اب بے دل نہیں بلکہ با دِل ہو گئے تھے۔ سورج نے واپس نہ آ کر وصال کیلئے بہترین ماحول پیدا کر دیا۔
اب ہلکی ہلکی بارش بھی تھم چُکی تھی، محبوب بالکل وصال کے لیئے تیار، بے پیرہن، سَجا دَھجا، نیلگوں آسمان اور ستاروں کا عکس اپنے شفاف پانی میں لیئے ایسا منظر پیش کر رہا تھا کہ جیسے حورِ بہشت ہو۔

Lake Saiful Muluk
Lake Saiful Muluk

میں بالکل جھیل کے پاس پہنچ گیا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ فوراً سے پہلے پانی میں اُتر جاؤں۔۔۔۔۔ ، لیکن، اچانک کوئی مجھ سے گویا ہوا۔۔۔۔ نہیں۔۔ عاقب بروزنِ عاشق۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ جو مزہ ہجر کی تڑپ میں ہے وہ وصال میں نہیں۔۔۔۔ رُکے رہو۔۔۔۔۔۔ یہی اصل وصال ہے۔ ۔۔۔ محبوب کو بے پیرھن پا کر اسے چھونا مت۔۔ ۔۔ تادمِ مرگ شرمندہ و شرمسار رہو گے۔۔۔۔ حقیقت پسند ہو تو جان لو کہ وصال ہو چکا۔۔۔۔۔۔۔ قدم رُک گئے۔۔۔۔ جھیل بے تاب تھی۔۔۔ میں بھی بے چین تھا۔۔۔ ماحول مُکمل رومانوی تھا۔۔۔۔ نہ جانے کیوں اُس اجنبی آواز کی ہدایات پر عمل کرنے لگا۔۔۔۔ میرے قدم صرف آدھ فٹ جھیل کے پانی سے بَعید تھے۔۔۔۔ یہ فاصلہ بڑھ کر ایک فٹ ہوا۔۔۔۔ پھر میٹروں میں چلا گیا۔۔۔ بس۔۔۔ مجھے وصال کا لُطف حاصل ہو چکا تھا۔۔۔۔

” یار سردی سے حمزہ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے“ عبید بھائی نے دور سے چلا کر کہا۔ کافی دیر ہو چکی تھی۔ سو، عبید بھائی خیمہ سمیٹنے لگے ، میں حمزہ کو لے کر سامنے ہوٹل کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ حمزہ کے دانت تیزی سے بج رہے تھے۔ وہ شرارتیں بھول چکا تھا اور عجیب سی کیفیت میں تھا۔ مجھے اس پر لمحہ بہ لمحہ پیار آ رہا تھا۔ ہوٹل کا تنُور جل رہا تھا۔ حمزہ کو تنُور کے پاس بٹھا کر گرم کیا۔ وہیں چائے پی اور ریاض بھائی کی جیپ میں پھر سے سوار ہو گئے۔ وہاں سے تمام لوگ واپس جاچکے تھے۔ ہم سب سے آخر میں وہاں سے لوٹے۔۔ بائیں جانب نیچے نالے سے دُھند جھیل کی جانب تیزی سے جا رہی تھی۔ دو سبزے سے لبریز پہاڑوں کے مابین جھیل کے اخراجی پانی سے بنانالہ دلکش منظر پیش کر تا ہے۔

Lake Saiful Muluk
Lake Saiful Muluk

اس منظر کو چند لمحوں کے لئے اپنی آغوش میں چھپاتے اور ظاہر کرتے بادل منظر کی دلکشی کو دوبالا کرتے ہیں۔ جھیل سے ناران تک نو کلو میٹر کے راستے پر دو طرفہ جیپیں قطار در قطار محوِ سفر ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم ان کی تعداد کتنی ہے؟ میرے ناقص اندازے کے مطا بق ایک ہزار کے قریب جیپیں وہاں موجود ہیں۔ چڑھائی والے ہوٹل کے پاس پہنچ کر زوہیب بھائی کو کال کی کہ گاڑی لے آئیں۔ چند ساعات میں زوہیب بھائی ہمارے پاس موجود تھے۔ریاض بھائی کا شکریہ ادا کیا اور زوہیب بھائی کے ہمسفر ہو لئے۔ ہم ساروں کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ خشک ہونے پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ پتا بھی نہ چلا اور طاری ہو بھی گئی۔ آنکھ تب کھُلی جب ہم اردو نگر میں گھر کے پاس پہنچے۔ زوہیب بھائی سے رُخصت ہوئے، گھر جاتے ہی سیدھا بستر استراحت پر پہنچ کر مُسترح ہو گئے۔

تحریر: عاقب شفیق

Share this:
Tags:
clothing Death snow Water برف پانی کپڑوں موت
Sibi
Previous Post سبی کی خبریں 26/10/2015
Next Post پاکستان پھر لرز اٹھا
Pakistan Earthquake

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close