Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یگانگت کی لڑی

November 7, 2020 0 1 min read
Power
Power
Power

تحریر : طارق حسین بٹ شان

انگریزوں سے آزادی کی جنگ میں لاکھوں انسانوں کی قربانیوں کے بعد جو وطن حاصل کیا گیا وہ دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ظہور پذیر ہوا۔عوام کی قربانیاں ، جد وجہد اور خون اس نئے وطن کی اساس ٹھہریں ۔پاکستان اس کرہِ ارض پر عوام کی قربانیوں کا ایک شاندار اظہار یہ تھا ۔ پر امن جدو جہد اور اس جدو جہد میں لاکھوں انسانوں کی قربانیاں اس کی پچان بنیں۔یہ ملک آگ و خون کے دریا کوعبور کرکے قائم ہو ا ۔ پاکستان کا قیام کسی مسلح جدوجہد یا جنگ و جدل کا نتیجہ نہیں تھابلکہ ووٹ کی پرچی نے یہ معجزہ سر انجام دیا تھا ۔جس زمانے میں پاکستان ووٹ کی پرچی کااستعارہ بنا اس وقت مسلح جدو جہد قوموں کی آزادی کا لازمہ سمجھا جاتاتھا لیکن قائدِ اعظم محمد علی جناح نے مسلح جدوجہد کی بجائے جمہوری جدوجہد سے پاکستان کے حصول کا سفر جاری رکھا جس کے نتیجہ میں ١٤ اگست ١٩٤٧ کو تخلیقِ پاکستان کا محیر العقول کارنامہ سرانجام پایا۔عوام کی جدو جہد فتح یاب ٹھہری لہذا جمہوریت پاکستانی عوام کے رگ و پہ میں سرائت کئے ہوئے ہے لہذا وہ اس سے کسی بھی حالت میں دست کش نہیں ہو سکتے۔

عوام سے ان کا جمہوری تشخص چھیننے کی بڑی کاوشیں ہوئیں لیکن عوام نے اپنی لازوال قربانیوں سے ایسی ہر کاوش کا ناکام بنا دیا۔شب خونوں کی داستان بڑی دراز ہے لیکن یہ اسے بالآخر جمہوری جدوجہد کے سامنے ہار ماننی پڑی ۔کوڑے ، ندانیں،پھانسیاں ،جلا وطنیاں اور سزائیں عوام سے جمہوریت کا حسن نہ چھین پائیں ۔یہ ایک طویل جدو جہد ہے جس میں بے شمار گمنام سپاہیوں کا لہو جمہوریت کے ماتھے کا حسن ہے ۔کوئی مانے یہ نہ مانے پاکستان صرف جمہوریت کے صدقے ہی قائم و دائم ہے۔اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان کے استحکام کی بنیاد اس کا جمہوری تشخص ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ٧٤ سالہ طویل سفر میں سیاستدانوں سے بھی خطائیں ہوئی ہوں گی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک پر آمریت مسلط کر دی جائے۔

پاکستان کسی مہم جوئی کیلئے نہیں بلکہ عوامی حاکمیت کے لئے قائم ہوا تھا لہذا ہم سب کو ہر قسم کی مطلق العنانی کی مذمت کرنی ہو گی کیونکہ یہی قائدِ اعظم محمد علی جناح سے سچی محبت کی غماز ہے،یہ قائدِ عوام ذلفقار علی بھٹو سے سچی چاہت کی دلیل ہے ،یہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے سچی وفا کا اظہار ہے۔سب کچھ سہا جا سکتا ہے لیکن پاکستان پر کسی طالع آزما کا وجود براشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایسا شہیدوں کے لہو سے غداری کے مترادف ہے۔قائدِ اعظم نے ہمیں اتحاد،تنظیم اور ایمان کا درس دیا تھا لیکن ہم نے ان کے ارشادات کو فراموش کرکے ذاتی اقتدار کی راہیں تراش لیں اور مارشل لائوں سے ملکِ عزیز کو پوری دنیا میں رسوا کیا۔ آزادی کے ہیروزپر پر غداری کے الزامات چسپاں کئے اور انھیں قابلِ تعزیر ٹھہرایا۔سیاسی مخالفین کو وطن سے غداری کے الزامات کی بنیاد پر جیلوں میں ٹھونسا اور ان کے لئے زندگی عذاب بنا دی۔جس کسی نے جھکنے سے انکار کیا اسے سرِ دار کھینچ دیا۔کیا یہ عجیب و غریب نہیں کہ ایٹمی صلاحیت کا بیڑہ اٹھانے والا نابغہ روزگار ردار و رسن کا حقدار ٹھہرا اور ہماری عدلیہ نے قتل کے جھو ٹے مقدمہ میں اسے قاتلوں کی فہرست میں شامل کرنے کا کارنامہ سر انجام دے دیا۔کیسی رسم ہے کہ یہاں جو کوئی بھی حکومتِ وقت کو چیلنج کرتا ہے وہ غدارِ وطن بن جاتا ہے۔

حکومتی مشینری اور اس کے کرتا دھرتا اسے غدار بنا کر چھوڑتے ہیں۔کسی کو کچھ سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن خفیہ ہاتھوں کی زبان سمجھنا یہاں کے بے ضمیر دانشوروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وہ گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں لیکن چونکہ ان کے مفادات کی تکمیل ایسی ہی گھنائونی سازشوں سے پروان چڑھتی ہے لہذا وہ اس سے دست کش نہیں ہوتے۔وہ ذاتی مفادات کی تکمیل کی خاطر ہر قسم کے اخلاقی دائرے کو روندھتے اور توڑتے چلے جاتے ہیں جبکہ انھیں احساسِ پشیمانی بھی نہیں ہوتا۔عوامی جدو جہد سے جب نئی صبح کا نیا اجالا جنم لیتا ے تو یہ سارا بکائو مال تتر بتر ہو جاتا ہے۔تاریخ کے صفحات پر ایسے بکائو گروہ کا کوئی نام نشان نہیں ہوتا بلکہ وہاں پر عوامی راج کی خاطر سینہ سپر ہونے والوں کی جدوجہد کی گرمی اور روشنی قلب و نگاہ کو مسحور کرتی ہے۔

بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزادہوئے تھے لیکن دونوں کے سفر اور اندازِ حکمرانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بھارت کی ترقی کا راز اس کی جمہوری جدوجہد بنی جبکہ پاکستان نے جمہوری سفر کی بجائے مارشل لائوں کا سہارا لیا،بندوق کے زور پر عوام کو اپنا مطیع بنایا،سنگینوں سے انھیں اطاعت پر مجبور کیااور غداری کے الزامات سے انھیں زندانوں کا مہمان بنایا۔جہاں پر سنگینیں راج کرتی ہوں ، وہاں پر جہمور کی آواز کمزور ہو جاتی ہے۔لیکن کب تک۔یہ آواز چونکہ عوامی سوچ کا اظہار ہوتی ہے لہذا دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

آمر اپنے بے پناہ جبر کے باوجود محض دیکھتا ہی رہ جاتا ہے لیکن یہ آواز تھمنے کا نام نہیں لیتی۔کبھی خوشبو بھی قید ہوئی ہے؟ کبھی جذبوں پر بھی پہرے لگے ہیں ؟کبھی ہوا بھی مٹھی میں بند ہوئی ہے؟ کبھی روشنی کو بھی کسی نے قید کیا ہے؟ قدرت کے انمول خزانوں کی طرح عوامی سوچ کے موتی سارے ماحول کو یاقوتی بنا دیتے ہیں لہذا عوامی سوچ سے تخلیق شدہ ماحول میں جنم لینے والی صدائیں اقتدار کے ایوانوں کو زمین بوس کر دیتی ہیں۔آمرِ وقت کرسیِ اقتدار پر متمکن تو ہو تا ہے لیکن اس کی طاقت سلب ہو جاتی ہے،وہ اب بھی قوت کا منبہ ہوتا ہے لیکن وہ خشک ہو چکا ہوتا ہے۔وہ اب بھی نحوت کا اشارہ ہوتا ہے لیکن اس کی نحوت روندھی جا چکی ہوتی ہے،اسے اب بھی اپنی سپاہ پر ناز ہوتا ہے لیکن اس کا یہ ناز اس سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔

فضائوں میں گونجنے والی آوازیں اس کے جسم وجان سے زندگی کی رمق چھین لیتی ہیں اور وہ بے بسی کی تصویر بنا راہیِ ملکِ عدم ہو جاتا ہے۔(ایسے دستور کو ،صبح بے نور کو ،میں نہیں مانتا ) ایک شاعر کی نظم کا ایک مصرعہ تھا لیکن چونکہ اس کے علمبردار عوام تھے لہذا اس ایک مصرعہ کی ضربوں نے آمریت کے محل کو زمین بوس کر دیا۔ایک کے بعد ایک آمر تخت نشیں ہو تا رہا لیکن عوامی جدوجہد جاری و ساری رہی کیونکہ عوامی راج کی منزل ہنوز بہت دور تھی۔تاریخ نے طویل ترین اقتدار کے حاملین کو نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ ان کا دورِ حکومت،جبر،ظلم، زیادتی اور نا انصافی پر استوار تھا ۔ محبت کا جواب محبت ہوا کرتی ہے۔ظلم سے کبھی کسی کی کھیتی پروان نہیں چڑھتی۔صدیاں گزر جانے کے باوجودنوشیرواں کا عدل آج بھی زندہ ہے اور انسانوں کے دلوں میں محبت کے جذبات موجزن کر تا ہے۔

کوئی کتنا بھی عظیم ہو جائے لیکن اگر اس میں عدل و انصاف کا شمہ نہیں ہوتا تووہ حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتا ہے۔عوام سے محبت،عدل و انصاف کا قیام،عفو در گزر اور اپنے مخالفین کے ساتھ مساوی سلوک ہی وہ اعلی بنیادیں ہیں جس پر عظیم معاشرے استوار ہوتے ہیں۔اسلام تو دشمنوں سے بھی عدل و انصاف کی تلقین کرتا ہے ۔محبت کی نہیں کیونکہ محبت کے سوتے دل سے پھوٹتے ہیں لہذا دشمن سے محبت ہو نہیں سکتی لیکن عدل و انصاف کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ہمارے ہاں سیاسی مخالفین کو ذاتی اقتدار کی خاطر غدار بنانے کی جو روش چل نکلی ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔اقتدار کبھی کسی سے وفا نہیں کرتا لیکن انسان ایسی روایات کو فروغ تو دے سکتا ہے جس میں معاشرہ تقسیم کی بجائے یگانگت کی لڑی میں پرویا جا سکے ۔،۔

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال

Share this:
Tags:
democracy pakistan people politicians punishments struggle پاکستان جدوجہد جمہوریت سزائیں سیاستدانوں عوام
Chaudhry Brothers
Previous Post ق لیگ اور بیساکھیوں کا سہارا
Next Post پیا گھر آئی بابل کی راج دلاری
Marriage

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close