Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

داستان حیات، دل چسپ و حیران کن، حصہ 13

January 4, 2017 1 1 min read
Engineer Iftikhar Chaudhry
Engineer Iftikhar Chaudhry
Engineer Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
پولی ٹیکنیک کے طلبہ مدت دراز سے بی ٹیک کی کلاسوں کے اجراء کے لئے کوشش کر رہے تھے۔پیپلز پارٹی نے کمال کام کیا کہ بی ٹیک اور بی ٹیک پاس کو منظور کیا اس میں پاکستان کے ہزاروں طلباء کا بھلا ہوا۔ بی ٹیک کورسز کی منظوری کی سب سے بڑی رکاوٹ بی ایس سی انجینئرز تھے اور انجینئرنگ کونسل کو یہ تکلیف تھی کہ اس سے بی ایس سی انجینئرز کی مانگ میں کمی واقع ہو گی۔پیپلز پارٹی کی تاریخ میں اس قسم کے بڑے کارنامے پائے جاتے ہیں یہ پارٹی اب زرداری جیسی شخصیت کے بوجھ تلے دب کے رہ گئی ہے۔

آج قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے جان چھڑا رہی ہے شراب پر پابندی بھی ذوالفقار علی بھٹو دور میں لگی اور جمعے کی چھٹی بھی دوسری بڑی اسلامی کانفرنس بھی ہوئی باہر کے ملکوں میں جانے کے راستے کھلے پاسپورٹ غریب کے ہاتھ لگا ورنہ اس سے پہلے یہ صرف خاص لوگوں کا حق تھا کہ وہ پاسپورٹ رکھیں۔ڈی سی کی سفارش بنک گارنٹی پتہ نہیں کیا کیا چاہئے ہوتا تھا ۔ایک وقت تھا یہ پارٹی اسلام ہمارا دین کا نعرہ بلند کر تی تھی۔پاکستان کے بد ترین دشمن قادیانی اسی کے دور میں غیر مسلم قرار پائے۔یہ تحریک بھی انہی سالوں میں چلی مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔میری زندگی ان دنوں بٹی ہوئی تھی وجہ صرف غریبی تھی گھر میں اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ مجھے ہاسٹل میں رہنے دیتے روزانہ صبح سویرے گھر سے نکلتا ۔بے جی علی الصبح میرے لیے ناشتہ تیار کرتیں جیس کے پہلے میں بتا چکا ہوں کہ یہ زمانہ تنگی کا تھا والد صاحب سندھ میں زمین لے چکے تھے جو بے کار نکلی تھی ذرائع آمدن تھے نہیں بے جی کو کہا گیا کہ واپس نلہ چلی جائیں جس کا جواب انہوں نے ایک دلیر ماں کی طرح دیا اور کہا مجھے اگر اپنے بچوں کو اگر برتن مانجھ کر بھی پڑھانا پڑا تو پڑھائوں گی۔یہ کوئی نعرہ نہ تھا بے جی بھینس کا دودھ دیتی تھیں۔وہ زمانہ ہی غربت کا تھا آدھ پائو چیز عام ملتی تھیںمیں حیران ہوں اب کوئی کلو گوشت نہیں لیتا پوری ران ہی تلوا لیتے ہیں۔

آدھ پائو گوشت،آدھ پائو گھی ِآدھ پائو دال خریدی جاتی تھیں۔چورا چائے جو آج کل فیشن ہے اس وقت غریبوں کی ڈیمانڈ تھی ایک آنے کا پتا مل جایا کرتا تھا۔اس زمانے میں ڈنڈہ مارکہ صابن،اکرم سوپ جسے ہم اکرم سوپ صابن کہا کرتے تھے دستیاب تھا۔شیمپو نام کی چیز پہلی بار جب ملی تو نہانے کے بعد کنگھی سے پہلے تیل کی جگہ استعمال کیا تو جھاگ سی بن گئی آخر کار چھوڑ ہی دیا کہ پتہ نہیں تیل خراب ہو گیا میڈورا ایگ شیمپو کو جب بھی دیکھتا ہوں تو نظریں چرا لیتا ہوں شرارتی تیل۔گلی میں بابے شیخ کی ہٹی سے سودا لیا جاتا تھا۔آدھی گاچی لینے جاتے تو وہ پوری کو سیبے سے آدھے کر کے دیا کرتا تھا۔بابا شیخ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان سے جڑی یادیں اگر موقع ملا تو ضرور لکھوں گا۔

کالج کے زمانے میں کچھ وقت گجرانوالہ اور زیادہ لاہور گزرتا میں منہ اندھیرے باغبانپورہ سے نکلتا زیادہ روٹ ماسٹر مشتاق مرحوم کی گلی سے گندا نالہ کراس کرے سیٹھ عبدالرشید کی گلی سے وڈا گلا پکڑ لیتا یہاں سے جیدے شیخ والی گلی میرا روٹ ہوتی۔سٹین لیس سٹیل کے کارخانوں سے گزر کر ظفر اقبال توڑی والی دکان سے ہو کر حافظ آباد روڈ پر آ جاتا یہاں سے گھنٹ گھر چوکی آگے قادیانی حکیم جان محمد کی دکانوں سے ہوتے ہوئے میں مین بازار مین داخ ہو جاتا جو ریل بازار سے ہوتا ہوا اسٹیشن لے جاتا یہ اسٹیشن اب ختم ہو گیا ہے۔بے جی مجھے ساری چیزیں تیار کرنے کے بعد جگاتیں۔اکثر ازانوں سے پہلے اٹھ جاتا گرمیوں میں گھر کے دروازے پر ہی باہر چار پائی پر سو جاتا ۔حیرت ہے کہ کیا زمانے تھے اکثر لوگ گلی میں سوتے ہماری گلی میں لوگوں نے بے شمار بھینسیں رکھی ہوئی تھیں۔چاچاے یوسف کا خچر اور اسمعیل چاچے کے گدھے بھی گلی میں ہی ہوتے تھے۔اکثر لوگ رات گئے چارپائی کے پاس سے گزرتے خاص طور پر کرائون سینمے سے آخری شو دیکھنے والے ہوا کرتے تھے یا ساتھ ہی لگی پاور لوموں کے کاریگر بھی ہوتے تھے۔میئر اسلم بٹ جو دسمبر میں فوت ہوئے ہیں ان کے بھائی غلام محمد بٹ کا کارخانہ بھی ہمارے گھر سے تھوڑا دور تھا۔

ہم نے آدھا گھر کرائے پر دے رکھا تھا ماسی اللہ رکھی کافی دیر تک ہماری کرائے دار رہیں انصاری برادری سے تعلق تھا یہ وہ واحد خاتون تھیں جن سے والدہ صاحبہ متآثر تھیں۔ماسی رکھی کے فرمودات آج بھی ہمارے گھروں میں گونجتے ہیں بڑی رعب داب والی بزرگ خاتون تھیں۔انہیں ہم نے آدھا مکان کرائے پر دے رکھا تھا جو بعد میں سیٹھ عبدالرشید کے رشتے داروں کو دے دیا۔اس دوران ماسی جی نے اپنا گھر بنا لیا تھا یا شائد کرائے پر آگے رسول پورہ چلی گئیں تھیں۔جس سال میں نے میٹرک کا امتحان دیا غالبا ١٩٧٠ تھا گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے سندھ جانا ہوا وہاں والد صاحب کے پاس جانے کے لئے مجھے کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی پڑی۔ایک ٹین کا چھوٹا سا بکسہ ایک دو جوڑے کپڑوں کے۔البتہ میری سب سے بڑی خواہش یونس فین خریدنا تھا جو ان دنوں ٣٠٠ روپے کا ملتا تھا گوٹھ میں پنکھا نہیں تھا۔افسوس کے میں وہ پنکھا نہیں خرید سکا اور ایسے ہی ٹین کے بکسے کے ساتھ سندھ چلا گیا۔ جب ہوا بند ہوتی تو وہاں کا ایک خاص مچھر جسے گھت کہتے تھے وہ کاٹتا تو بے بے یاد آ جاتی ساری زندگی کی تکلیفیں ایک طرف اور وہ راتیں ایک طرف مجھے والد صاحب کے وہ دن یاد آتے ہیں تو اب بھی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں دنیا کا ہر والد اپنے بچوں کے لئے وہی کرتا ہے جو چودھری برخودار نے کیا اور ہر ماں زلیخا بی بی کی طرح بچوں کے لئے مرتی اور جیتی ہے ۔بھینس کے لئے شلجم کا چارہ جب سستا ہوتا تو ہم خرید تے بے جی اس میں سے ٹھپر نکال کر پکا کر ہمیں کھلا دیتیں۔میں نے ماں کو زندگی میں اہتمام سے کھاتے نہیں دیکھا۔میرے ایک بھائیوں جیسے دوست وقار صاحب جو جدہ میں ہیں وہ کہتے ہیں کہ کسی نے سوال پوچھا کہ آپ کی والدہ کیا کھان پسند کرتی ہیں کہنے لگے میری ماں بچا کھچہ پسند کرتی ہیں۔یہ حال ساری مائوں کا ہے الہہ سب مائوں کو عزت دے۔جن کی ہیں کاش وہ کسی دن انہیں میز پر بٹھا کر کھلائیں۔میرا بیٹا نوید اللہ اسے تندرست کرے وہ تو ہماری دعوت کرتا ہے تو ماں یاد آ جاتی ہے وہ کھانے کے بعد کہا کرتیں کتنا بل آیا ہے؟وہ میں پوچھتا ہوں۔میرے بڑے بھائی امتیاز صاحب والد صاحب کے ساتھ سندھ ہی میں تھے ہماری زمینیں میر پور متھیلو سے آگے نیا موڑ کے کے پاس تھیں۔

Sindh
Sindh

میں بھی گاڑی میں سوار ہوا اور چلا گیا البتہ اپنے ساتھ ایک ریڈیو بھی لے گیا چندا بیٹری سی سے وہ ایک ماہ تک چل جاتا تھا۔مجھے زندگی کے ان خوبصورت مگر مشکل دنوں میں دسمبر کی جھڑیوں میں اس ریڈیو سے آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو سیلون کی نشریات کبھی نہیں بھول سکتیں صبح کے وقت آکاش وانی سے فرمائیش اور رات گیارہ بجے بسترمیں لیٹ کر بڑے کمرے میں جو دروازہ کھولتے ہی سامنے تھا اس کے اندر دائیں جانب ایک چارپائی تھی جس پر ہم دو بھائی سو تے تھے میرا یہ ٹرانسمیٹر بڑے کام کی چیز تھی جھڑیوں میں اس کیآواز شاں شاں کرتی تو اس کا حل یہ نکالا کہ اس کے ساتھ تار باندھ کر میں اس تار کو چھت پر لٹکا آیا۔منڈی جامکے چٹھہ سے سیالکوٹ سے فرمائشیں ہوتی ایم نعیم نجمی ایک کامن نام تھا جو ہر وقت فرمائشیں ہی کرتا رہتا تھا ۔مجھے رفیع لتا مکیش اور بعد میں کشور کمار بہت ہی اچھے لگے۔یہ دنیا یہ محفل مجھے زبانی یاد تھا۔سندھ میں روز و شب بڑے بور گزرتے تھے میں اپنے دوستون خاص طور پر ارشد بھٹی گلزار گلو کو بہت مس کرتا تھا بھٹی کارخانے دار ہے اور گلو سپرنٹنڈنٹ جیل۔میرا ایک اور دوست فاروق جو جاں نثار دوست ہے اس کے ساتھ جڑی یادوں کے لئے کتاب درکار ہے۔

سندھ میں بیتے دنوں کی بات کر کے میں آپ کو ١٩٧١ کی جنگ کے بارے میں وہ کچھ بتائوں گا جو نئی نسل کو کم ہی کسی نے بتایا ہو گا۔ہماری گوٹھ دیہہ فکراٹھو میں تھی جسے برخوردار نگر کا نام دیا گیا تھا نام کیا ہونا تھا جب کبھی بھائی بورڈ لگاتے کوئی اکھاڑ کے رکھ دیتا۔فکراٹھو دیہہ کوئی کلو دور ہو گا۔ہمارے اس عارضی ٹھکانے کے پاس چاچے سلیمان مہر کی گوٹھ تھی۔تھوڑی دور سلیم آباد بعد میں حیات پتافی اور اس کے بعد کرنل غفار جو سونے چاندی والی چاندی کے سسر تھے۔تایا جان کی گوٹھ غفار آباد بھی ادھر ہی تھی۔ہمارے ٹھکانے کا نقشہ کچھ یوں ہے ایک چار دیواری جو کوئی آٹھ کنال میں ہو گی مٹی سے کھڑی دیواریں جس جگہ گیٹ کو لگنا تھا جو نہیں لگ سکا اس کے باہر ٹیوب ویل۔ اندر داخل ہوتے ہی اوطاق سامنے ایک کمرہ اس طرح بائیں ہاتھ کچھ کمرے درمیان میں ایک گلی اور پچھواڑے میں مزارعوں کے گھر۔ایک عرصے بعد ہم بھی وہیں منتقل ہو گئے۔مزارع غریب کہاں ٹکتے زمین تھور نکلی فصل بیجتے اگتا ہی کچھ نہیں تھا بیچارے رات کے اندھیرے میں بھاگ جاتے ۔ مجھے اپنے والد صاحب کی وہ محنت یاد ہے ایک روز وہ جھولی میں ڈال کر چئونا بیج رہے تھے یہ کھیت گھر کی یار دیواری سے نکل کر دائیں ہاتھ تھا دوسرے روز چھوٹے چھوٹے ننھے پودے نکلے کونپلیں تھیں تیسے رو حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے میرا چہرہ اتر سا گیا میں نے والد صاحب کو بھی پریشان دیکھا۔کسان کہ مزدوری نہ بار آوار ہو تو اس کا چہرہ کیسے ہوتا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔ایک بار ہامری پیاز کی فصل بڑی اچھی ہوئی اسی سال پیاز مفت اٹھوایا اس لئے کہ منڈی میں اس کی قیمت ہی نہیں تھی۔کسان کے ساتھ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔

میٹرک کے امتحان کے بعد میں وہاں پہنچا ریلوے اسٹیشن سے بڑے بھائی امتیاز صاحب نے مجھے لیا ان کے پاس بیلارس ٹریکٹر تھا یہ اس دور میں ہمارے پاس یا کسی ایک آدھ اور کے پاس تھا اسے چھوٹا بلڈوزر بھی کہا جا سکتا ہے۔روسی سے ٹوٹی ریاست بیلارس کی پیدا وار یہ ٹریکٹر پاکستان کی زمینوں کا سنوارنے میں ہزار میسی فرگوسنوں سے بہتر ثابت ہوا ہے ۔میں تھوڑے ہی دنوں میں بور ہو گیا دوستوں کی یاد ماں سے زیادہ آیا کرتی۔عمر کے اس حصے میں بچے اڑنا چاہتے ہیں ماں باپ پر کترتے ہیں اور پرندے پھر کر کے اڑ جاتے ہیں۔ایک بار واپسی کی تیاری ہو رہی تھی رزلٹ کا انتظار تھا میں نے ایک صبح اٹھ کر کہا میرے ٦٠٣ نمبر آئے ہیں میں حیران رہ گیا جب نتیجہ آیا تو اتنے ہی نکلے جو ٦٨ فی صد تھے میں نے خاندانی ریکارڈ توڑ دیا تھا۔

والد صاحب اس جد وجہد کے ہاتھوں دل شکستہ ہو چکے تھے کہنے لگے میرے ایک دوست مختار وکیل ہیں تم ایسا کرو ٹائپ سیکھ لو تمہیں وہاں پھٹہ لگا دوں گا۔میں نے اس دوپہر ریل کی پٹڑی کے پاس والد صاحب کو کہا آپ تھوڑا صبر کریں ایک وقت آنے والا ہے آپ کے بیٹے کے سیکرٹری ہوں گے جہازون میں سفر کرے گا آپ کا بیٹا۔اللہ نے کیا وہی ہوا ایک نہیں دو دو سیکریٹری ملے جہازوں میں اتنا سفر کیا کہ تھک کے رہ گیا۔
ایک دن دائیں پائوں کو خارش کر رہا تھا بے جی کہنے لگیں میرا بیٹا بڑا سفر کرے گا۔پھر ہو کیا چار سال لاہور کے لئے ٹرینوں کے اندر بعد میں جدہ اور وہاں سے دنیا کے گوشے گوشے میں سفر کیا عارف صاحب ہمارے عزیز ہیں اللہ والے ہیں انہیں سنیا تو ہنسنے لگے کیوں کہ جب میں انڈونیشیا جا رہا تھا تو بے جی کو فون کیا اور کہا آپ کہتی تھیں ناں میرا بیٹا سفر کرے گا بے جی میں نیکھرکیا تئے سی پر ایناں وی نئیں(بے جی میں نے خارش کی تھی پر اتنی بھی نہیں)اپنی ماں جو ایک بار چرخا کات رہی تھیں اور زیر لب کوئی گوجری پہاڑی گیت بھی گا رہی تھیں میں نے کہا بے جی بس تھوڑا انتظار کرنا آپ کا بیٹا آپ کو حج کرائے گا۔وہ وقت آیا میں نے اپنے والد صاحب اور والدہ کو حج کروایا یہ غالبا ١٩٨١ کی بات ہے۔وقت کی ایک ہی اچھی بات ہے وہ اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے۔جو بچے ہمت چھوڑ جاتے ہیں وہ میری اس کہانی کو ضرور پڑھیں اور یہ دل میں رکھ لیں وقت ہے آیا ہے، برا ہے ،کٹ ہی جائے گا۔

سندھ کے اس شہر میر پور متھیلو کو میں کبھی نہیں بھول سکتا گہوٹکی میرے دل سے نہیں جاتا۔کہوٹہ ہوٹل گہوٹکی بھی یاد ہے بٹ ہوٹل میر پور متھیلو بھی۔وہاں کے لوگوں کو دل سے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔میر پور متھیلو کے دیسی ہوٹل چائے بھیڑوں کی دودھ کی اتنی گاڑھی اور میٹھی جتنا سندھیوں کا پیار گاڑھا اور میٹھا۔میر پور کمال کا شہر ہے پتلی لمبی گلی والا شاہی بازار۔سارے سندھی غربت زدہ مفلوک چہروں والے سارے ہندو کاروبای ہشاش بشاش گورے چٹے پولے پولے لوگ۔یہ لوگوں کو ادھار دے کر ان کی زندگیوں کو چاٹ کھانے والے ساہو کار تھے جو ایک بڑے وڈیرے کی چھائوں میں رہ کر جونکوں کی طرح سندھیوں کو کھا گئے ہیں اور تو اور یہ سندھیوں کے اتنے قریب ہیں کہ پنجابی انہیں دشمن نمبر ون دکھائی دیتے ہیں۔

یہی وہ لوگ تھے جو بنگال میں مغربی پنجاب کے خلاف نفرت کی فصل بوتے رہے اور وقت آیا بنگالی الگ ہو گئے۔سندھ میں تعلیمی اداروں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ میر پور متھیلو کے پورے بازار میں میری دل چسپی سلام عرض،جواب عرض،سب رنگ میں تھی۔انکا کی سر گزشت کیا کہانی تھی۔اس کے جملے آج بھی ذہن سے محو نہیں ہوئے اسی ڈائجسٹ کا جملہ دہرائے دیتا ہوں۔ارسلان اس رات ڈارک بلیو کلر کی قمیض اور خاکی پتلون میں غضب ڈھا رہے تھے کچھ ان کی باتوں کا اثر اور کچھ موسم کا سرور۔۔۔۔۔ میں جوانوں سے کہوں گا کو پڑھیں ضرور جو پڑھ نہیں سکتا وہ بول بھی نہیں سکتا میں نے اپنے بہن بھائیوں کے سارے درسی مواد کو پڑھا ہے اخبار جہاں اپنے تایا کے گھر سے لا کر پڑھ ڈالتا تھا محمود کی آپ بیتی تعلیم و تربیت کچھ نہیں چھوڑا ایک بھوکے کی طرح اردو کا ہر وہ رسالہ پڑھ ڈالا جو مفت ملا خریدتا کہاں سے۔دو آنے لائیبریری کی ساری کتابیں۔ بازار کے آخر میں سبز منڈی تھی وہاں سے سودا سلف خریدتے کھجور کی ٹوکریوں میں رکھ کر نواں روڈ کی راہ لیتے آم یاد ہے دس آنے کلو تھے۔

باقی سبزیاں اپنی جگہ۔ایک بار ہوا یوں کہ ہمارا اکلوتا نوکر بشیر ہمیں داغ مفارقت دے گیا گھر میں پکانے والا کوئی نہیں تھا سالن تو ہم پیاز کا بنا لیتے تھے دودھ کی کچی لسی بھی بن جاتی تھی مگر مسئلہ روٹی پکانے کا تھا۔والد صاحب شہر گئے ہوئے تھے میں نے آٹا گوندھنا شروع کیا یہ کوشش کوئی گیارہ بجے شروع ہوئی اور اللہ کے کرم سے تین بجے میں نے روٹی پکا لی جو آڑی ترچھیں تھیں وہ میں نے اپنی کتی کو ڈال دی۔پردیس میں یہ کتی ہی تھی جو ہمیں چھوڑ کر نہ گئی باقی سب انسان رفو چکر ہو گئے۔والد صاحب رات کو آئے تو سن کر پریشان ہوا کہ بشیرا چلا گیا ہے وہ خانپور کٹورہ کا رہنے والا تھا۔اللہ نے کیا میں جتنے دن رہا کام چلتا رہا ۔ان دنوں وہاں چوریاں بہت ہوا کرتی تھیں مجھے بھائی اور والد صاحب نے کہا کہ کسی اجنبی شخص کو نہیں آنے دینا۔ایوب خانی دور میں فوجیوں کو وہاں جنگل الاٹ ہوئے تھے آج تو منفی باتیں ہوتی ہیں کہ فوج نے زمینیں لیں یقین کیجئے اجاڑ بیابان جنگل زمینوں کو یہ فوجی ہی آباد کر سکے یا پنجابیوں نے جان لڑائی۔شام کے وقت ایک شخص ادھر آیا اور آ کر پوچھا کہ والد صاحب کدھر ہیںَمیں نے کہا کوئی پتہ نہیں پھر پوچھا بھائی کدھر
میں نے کہا جواب تو دیا ہے۔غرض وہ بندہ وہاں سے چلا گیا۔اگلے دن یایا جان نے دعوت کی وہاں ہر کوئی کہہ رہا تھا حیدر شاہ کدھر ہیں آئے نہیں یایا جان نے ایک خاص کرسی ان کے لئے الگ سے رکھوائی تھی۔حیدر شاہ کے انتظار سے پتہ چلا کوئی بڑی بلا چیز ہے میں نے دیکھا یہ وہی حیدر شاہ ہیں جنہوں کل میں نے بے توقیر کر کے گھر اندر آنے نہیں دیا تھا۔مین چپکے سے میز سے غائب ہو گیا۔تایا جان نے بلا کر دلاسہ دیا اور یوں میری بچت ہو گئی۔

والد صاحب نے اپنی انگوٹھی جس پر ان کا نام لکھا ہوا تھا سی روپے کی بیچی مجھے ٹکٹ لے کر دیا میں نے اس دوران ٹائب بھی سیکھ لی گرچہ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اب میں دو انگلیوں سے لکھتا ہوں کاش میں ساری انگلیاں کام کرتی تو سپیڈ بہت اچھی ہو جاتی۔کالج داخلے کے لئے خالہ پٹوارن اور بھائی اسحق نے پیسے دیئے۔مرزا صاحب اور چچی نے میری مدد کی اللہ انہیں خوش رکھے جنت کے باغوں میں پھلے پھولیں کھائیں پیئیں۔ان کی اولاد ماشاء اللہ کمال کی اولاد ہے شیراز لاہور میں کمشنر انکم ٹیکس ہیں۔

کالج میں آ کر تیسرے اور آخری سال میں نے میدان مارا۔اسی پولی ٹیکنیک میں تھا تو تحریک ختم نبوت چلی۔اس سے پہلے پاکستان میں جب یہ تحریک چلی تو ہزاروں لوگ شہید کر دئے گئے مگر اس بار جمہوری حکومت تھی مظاہرے تو ہوئے ،جانیں بھی گئیں مگر اسمبلی میں جا کر جو بحث ہوئی اس کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔اس سے پہلے آزاد کشمیر اسمبلی یہ نیک کام کر چکی تھی۔ اس مین مدارس کے طلباء کا کردار سب سے اہم رہا۔لبرل فسادئے اسی وجہ سے ان کے پیچھے پڑے ہیں کہ انہوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر ختم نبوت تحریک کو کامیاب کیا اس میں جناب شاہ احمد نورانی کا بڑا ہاتھ ہے سارے علماء کو سلام ہر کوئی اپنا حصہ ڈال گیا سنی بریلوی ،سنی دیوبندی، سنی وہابی سب۔ جاری ہے۔۔۔۔۔

Engineer Iftikhar Chaudhry-Logo
Engineer Iftikhar Chaudhry-Logo

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

Share this:
Tags:
ban Community Engineer Iftikhar Chaudhry pakistan personality recommended students اقلیت پابندی پاکستان سفارش شخصیت طلباء
Islamabad
Previous Post اسلام آباد میں بوندا باندی جاری، سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا
Next Post پی آئی اے کا عمرہ کرایوں میں آج سے کمی کا اعلان
PIA Hajj Flight

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close