
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارت میں راج سنبھالنے کےبعد مودی سرکار کی پاکستان مخالف پالیسی تو سامنے آئی ہی لیکن اب فلسطین کےمعاملے پر بھی بھارت نے خارجہ پالیسی میں یو ٹرن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے والے پہلے غیر عرب ملک بھارت کےبارے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ اب اقوام متحدہ میں آزآد فسلطین ریاست کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرے۔ بھارتی اخبار کادعویٰ ہے کہ مودی سرکار آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت سے پیچھے ہٹنے لگی اور اس نے اسرائیل سے پینگیں بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بھارتی اخبار لکھتا ہےکہ یہ بات نظر آرہی ہے کہ مودی سرکار اقوام متحدہ میں آزآد فلسطین کی قراداد کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرے گی، بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس نمایاں تبدیلی سے مغربی ایشیاء کے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ جائے گی۔ بھارت آزاد فلسطین کی تحریک چلانے والی فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو تسلیم کرنے والا پہلا غیر عرب ملک تھا۔ 2006ء میں بھارت نے غزہ پر اسرائیلی بمباری پر سخت لہجہ بھی اپنایا، لیکن بی جے پی کی نئی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی میں فلسطین سے آنکھیں پھیر لی ہیں اور اسرائیل سے تعلقات بڑھانے پر نظریں جمالی ہیں۔
بھارت کے اسرائیل کے ساتھ 1991 ءسے سفارتی تعلقات تو قائم ہیں ہی لیکن تعلقات کی نمایاں بات یہ ہے کہ بھارت اسرائيل سے ملٹری ساز و سامان خریدنے والا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسرائیل روس کےبعد بھارت کا دوسرا بڑا ملٹری پارٹنر ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری تجارت کاتخمینہ 9ارب ڈالرز کےلگ بھگ ہے ۔
