Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پوری پارلیمنٹ گنہگار ہے

December 11, 2017 0 1 min read
Parliament
Parliament
Parliament

تحریر : رقیہ غزل
ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ سے اہم ہے مگر غیر مسلم طاقتوں کا آلہ کار طبقہ روز اول سے ہی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں گمراہ لوگ آئے روز اپنی بد نیتوں کی وجہ سے ملک میںخانہ جنگی کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں حالانکہ جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا ہے تبھی سے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدان عمل میں موجود ہیں پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف تین تحریکیں چلی ہیں 1953 میں ختم نبوت کی پہلی تحریک چلائی گئی لیکن معقول کامیابی حاصل نہ کرسکی مگر علماء کرام قادیانیت کے سامنے سینہ سپر رہے اور پھر 1974میں قادیانیوں نے مسلمان نوجوان طلبہ کو نعرے لگانے پر لہو لہان کیا تو عاشقان رسول ۖ نے اس وقت کے وزیراعظم ذالفقار علی بھٹوکو مشورہ دیا کہ قادیانیوں کو ان کا علیحدہ تشخص دے دیا جائے جوکہ اسمبلی کے لیے کٹھن معاملہ تھا کیونکہ بھٹو صاحب بھی لبرل تھے اور اسمبلی میں بھی اکثریت انگریزی خواندہ اور لبرل ارکان کی تھی اور یہ فیصلہ جوئے شیر بہا لانے سے کم نہ تھا چونکہ بھٹو کو بھی خدشہ تھا کہ یہ مسئلہ انھیں لپیٹ میں لے لے گا اس لیے مگر طویل بحث و مباحث کے نتیجہ میں بالآخر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیااور تیسری تحریک 1984میں چلی تو جنرل ضیاالحق نے امتناع قادیانیت آرڈینینس جاری کیا جس کے مطابق قادیانی ،اذان ،نماز ،مسجد اور دوسرے شعائر اسلام میں مسلمانوں کی نقل نہیں اتار سکتے جس کے نتیجے میں قادیانیوں کا سربراہ مرزا طاہر پاکستان سے فرار ہوگیا اور قادیانیت کا تذکرہ بھی یوں ختم ہوا کہ نوجوان نسل کو اس کا کچھ پتہ نہیں ہے تاہم آج پھر قادیانیوں کو غبار اٹھا ہے اور پھر ان کے لیے راستے ہموار کرنے کی کوشش میں لبرل ازم خوار ہو رہا ہے مگر اب کے ایسا غیر معیاری حل تلاش کیا گیا ہے کہ جس سے عدالتیں ناراض ہیں یعنی جن سے معاہدہ کیا گیا ہے وہ بھی دو حصوں میں بٹ چکے ہیں ، حکومت بے بس ہے اور پارلیمینٹ وضاحتیں مانگ رہی ہے ۔افواج پاکستان نے وقتی طور پر تو اس بحران کو ختم کروا دیا ہے مگر سنگین نتائج کی چاپ سنائی دے رہی ہیں کیونکہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا دکھائی دیتا ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ ہر سطح پر یہی کہا جا رہا ہے کہ ریاست نا تجربہ کار ہے اور بروقت فیصلہ سازی میں ناکام ہوچکی ہے ۔اس وقت حکومت میں ایسا کوئی بھی نہیں جو کہ ممکنہ خطرات اور مضمرات کی شدت کو سمجھ سکے یہی وجہ ہے کہ دن بدن ریاست کو لاحق خطرات اور مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے مسئلے کو کیوں چھیڑا گیاہے کہ جسے گذشتہ تینتالیس سال سے کسی نے نہیں چھیڑا اور بالفرض اگر چھیڑ لیا تھا تو اس کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسے فوراً ختم کرنا چاہیے تھا کیونکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے تو ایسے میں قوم سے معافی مانگنی چاہیے تھی مگر نا عاقبت اندیش اور خوشامدی ڈٹ گئے اور ایسے ایسے بیانات داغ دیئے کہ خدائی پکڑ میں بھی آگئے۔ ایک مسلم ریاست میں اس ایشو کو چھیڑنا تو درکنار اس کا تذکرہ بھی کفر کی مانند ہے لہذا یہ سمجھ لینا کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے بچگانہ سوچ ہے کیونکہ اب وہ مسئلہ شروع ہو گیا ہے جوکہ پتہ نہیں کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا جبکہ حکومتی وزرا اور کیپٹن صفدر کے بیانات اس انتشار کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ خواجہ احسن اقبال نے کہا کہ ختم نبوت پر تو قوم نے مہر لگا دی ہے ،قیامت تک کوئی اس قانون کو نہیں چھیڑ سکتا ،یہ دراصل مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی سازش ہے مزید کہا کہ عمران خان دنیا میں پاکستان کے تشخص کو خراب کر رہا ہے ۔

اب کوئی پوچھے کہ اس شق کو کیا عمران خان نے تبدیل کیا تھا ؟ دھرنے کو دو گھنٹوں میں ختم کرنے کا دعوی کس نے کیا تھا ؟حکومتی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ” البیلی نے پکائی کھیر ، دودھ کی جگہ ڈالا پنیر” کے مصداق غلطی در غلطی کرتے چلے گئے کہ وہ معاملہ جس میں عقل و فہم کی ضرورت تھی جوکہ انتہائی نازک معاملہ تھا اورہر کوئی جان وار سکتا تھا اسے طاقت کے زور پر ختم کروانا چاہا اور یہاں بس نہیں کیا بلکہ تمام ذرائع ابلاغ و مواصلات کو بند کر دیا مگر ناکامی ہوئی اور گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔اکثر مبصرین اسے حکومتی بے بسی سے تعبیر کرتے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کیونکہ ختم نبوت کا معاملہ مسلمان کے ایمان سے جڑا ہوا ہے اور اس کے سامنے یہ کہنا کہ ریاست بے بس ہے بیوقوفانہ بات ہے بلکہ اگر ریاست اس معاملے میں ڈٹ جاتی ہے تو یہ بھی شرم کی بات ہے کہ ختم نبوت پر کوئی بھی ”منفی سمجھوتہ” قابل قبول نہیں ہو سکتا ۔اور اب بھی معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ تو معاملات سے سیدھی سیدھی جان چھڑوائی گئی ہے جس کا اعتراف دونوں راہنما بھی کہیں نہ کہیں کر چکے ہیں ۔چئیرمین تحریک لبیک ،ضیاء القادری کہتے ہیں کہ قائدین نے شہداء کے خون کا 21 کروڑ میں سودا کیا ہے اور علامہ خادم حسین رضوی کہتے ہیں کہ شوریٰ میرے ساتھ ہے ،لاہور والے دھرنے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اور اس پر افواج پاکستان کی طرف سے چند لوگوں کو جو کرایہ دیا گیا اس پر درباریوں اور خوشامدیوں کا تبصرہ انتہائی افسوسناک ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کے بارے اکثریتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک انتہائی موقع شناس ،موقع پرست اور ہوشیار و چالاک مذہبی لیڈر ہے ۔یہ الگ بات کہ وہ عین موقع پر تو کوئی کردار ادا نہیں کر سکا اور مبینہ بل پر طویل مذاکرات میں اس نے بھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا مگر اس کی یہ بات درست ہے کہ اس بل کے معاملہ میں ساری پارلیمینٹ گنہگار ہے ۔حتہ کہ ہر مسلک کے مذہبی رہبر و راہنما تو سنگین ملزم ہیں کہ اپنے اپنے مفادات یا بے عقلی میں مست مئے پندار حاضر باش یا غیر حاضر رہے اور ختم نبوت بل اپنے آخری مراحل تک پہنچ گیا ۔مذہبی اور اخلاقی طور پر ان مذہبی قائدین کو تو خود ہی استعفے دے دینے چاہیے اور ان کا” کڑا ”احتساب ہونا چاہیے کیونکہ یہ لوگ اسلام کے تحفظ کا خود کو ذمّہ دار کہتے ہیں جبکہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی عزت اور عظمت کی نشانی ہے ۔حتہ کہ عمران خان نے تو عملی طور پر قطعاً کوئی اقدام نہیں کیا جبکہ رنگینئی بیان کیلئے بیان بازی اور تقریری حربے جاری رکھے ۔عوام نے اپنے ہر لیڈر کا رویہ بھی دیکھ لیا ہے اور انکی پاکستان اور اب اسلام سے محبت بھی جان لی ہے ۔اب کے الیکشن کے نتائج کا منظر کچھ اور ہی ہوگا کیونکہ اگر حکمرانوں نے آگ لگائی ہے تو اپوزیشن اور ہم نوائوں نے اس پر انگلی بھی نہیں اٹھائی تھی اب یہ سب لوگ توبہ بھی کریں اور اپنے اپنے رویے بھی بدل لیں ۔بالآخر جس کسی نے بھی آواز اٹھائی ہے وہ خراج تحسین کا مستحق ہے مگر اصل ذمہ داران کو بے نقاب ہونا چاہیے ۔

ویسے مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلامی ریاست اور نظام مصطفی کا مطالبہ تو کرتی ہیں مگرخود کسی ایک فارمولے یا مسئلے پر متفق نہیں ہیں بلکہ مسلک کے نام پر منقسم ہیں اور فرقہ واریت میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں بدیں وجہ عوام کسی بھی مذہبی جماعت کی انتخابات میں حمایت نہیں کرتے کیونکہ انھیں متنازعہ سمجھتے ہیں بایں وجہ حکومت کے قابل نہیں سمجھتے کیونکہ اکثریت کا ایجنڈا اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد ہے مگر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ آج کے مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا مودودی جیسے عاشقان رسول ہیں اسی دو عملی نے عوام میں بھی عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دی ہے اور لبرلز کو اسلام اور اقدار پر منہ کھولنے کا موقع مل گیا ہے اوروہ کھلے عام ”ملا ازم ” کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں جبکہ یہ تو چند سیاسی اسلامی لوگ ہیں مگر تمام علما ء کرام ہمارے لیے قابل احترام ہیں کہ ایسے پر آشوب دور میںجبکہ تقریباً سارا ملک مے خانہ بنا ہوا ہے برائی اور بے حیائی عام ہے یہ تمام علماء اسلام نور کی شمع جلائے ہوئے ہیں اور اس تاریک دور میں کفر و طاغوت اور ظلم و استحصالی نظام کے خلاف ہر محاذ پر چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں جبکہ سربراہان ملک کرسی پکی کرنے کی لڑائی میں مشغول ہیں اور بیچاری سیکورٹی فورسز پروٹوکول اور حفاظت میں لگی رہتی ہیں بدیں وجہ پاک افواج کو سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی تمام مسائل کو حل کرنا پڑتا ہے ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اندرون ملک کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو فوج کو بلا لیا جاتا ہے اور بعد ازاں بلانے والے ہی الزامات کے گولے داغنے لگتے ہیں کہ انھیں تو اقتدار کی ہوس ہے بالفرض اگر ہوس ہے تو بلاتے کیوں ہیں ؟ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کسی مسئلے میں فوج خود شامل نہیں ہوئی بلکہ حکومتی نا کامی کی وجہ سے فوج کو بلایا جاتا ہے حالانکہ فوج سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے ۔۔فوج نے کیا کیا کرنا ہے ؟اداروں کیوں بنا رکھے ہیں اور ان پر پیسے کیوں ضائع کیے جا رہے ہیں ؟ اگر سیلاب آجائے تو فوج ریسکیو کرے ، اگر ہنگامے ہوں تو فوج ریسکیو کرے ، اگر پولیو کے قطرے پلانے ہوں تو فوج سیکیورٹی فراہم کرے ، اگر کر کٹ میچ کروانا ہو تو فوج سیکیورٹی فراہم کرے ، اگر زلزلہ آجائے تو فوج ریسکیو کرے ، اگر کہیں دہشت گرد گھس جائیں تو فوج مقابلہ کرے ، اگر کوئی بغاوت کرے تو بھی فوج اس کو پکڑ کر ریاست کے حوالے کرے، ملکی اور مذہبی تہواروں پر بھی فوج سیکیورٹی دے ۔اگر سب فوج نے ہی کرنا ہے تو پارلیمینٹ اور باقی اداروں پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ عوامی پیسوں کو نا اہلوں پر کیوں لٹایا جا رہا ہے ؟ اس پر فوج کوبرابھلا بھی کہا جاتا ہے جبکہ اپنی نا اہلیت اور بصیرت کے فقدان کا اعتراف نہیں کیا جاتا بلکہ ” کڑوا کڑوا تھو تھو میٹھا میٹھا ہپ ہپ ”کے مصداق جہا ں فوج اور عدلیہ کا بیان اپنے حق میں لگے اس پر ایسے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے حدیث ہو اور جو ذرا ایسا ہو جو اپنے موافق نہ ہوتو اس پر اشتعال انگیزی کا کھل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔

یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی گڈ گورننس کے فقدان اور ڈومور پر حکومتی بیانات پر بات کی گئی تو آگ کے گولے منہ سے برسائے گا حالانکہ گذشتہ پانچ برسوں میں یہ کھل کر سامنے آچکا ہے کہ حکومت گڈ گورننس کا خواب پورا کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی اور اب بھی ترجیحات نہیں بدلیں کہ لاہور میں نئے انڈر پاس کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں بستر ،ضروری طبی آلات اور جدید میڈیکل مشینری کی اشد ضرورت ہے ، اب تو دوائیاں بھی نہیں ملتیں اور تعلیمی اداروں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ۔میں پھر وہی سوال کرونگی کہ ایک بیمار اور ان پڑھ معاشرہ صرف سڑکوں اور بسوں کا کیا کرے گا ؟

آج ملکی منظرنامہ اندھیر نگری چوپٹ راجا کا نقشہ پیش کر رہا ہے کہ” اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ ”کے مصداق سبھی لگے ہوئے ہیں مگر سمت کا کسی کو ادراک نہیں ہے اور جنہیں فکر کرنا تھی وہاں ”جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے” یہی وجہ ہے کہ جو کل تک دوستی کے دعوی دار تھے وہ بھی رنگ بدل رہے ہیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں کہ قطری گواہی دینے تو آئے نہیں پھر سردیاں منانے آگئے اور نشانے پر پھر” تلور” تھا اور حال ہی میں بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مبینہ خبر کے مطابق میاں صاحب کو سعودی عرب میں بھی کرپشن کی تحقیقات میں شامل کرنے کا فرمان جاری کر دیا گیا ہے ۔۔کیا یہ بھی سازش ہے ؟ ممکن ہے ن لیگ اسے بھی سازش کہہ دے مگر ہم پھر کہتے ہیں کہ ”خدائی پکڑ” ہے ۔ بین الاقوامی الزامات اور ثبوتوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت بدلتے ہوئے حالات ، مبینہ الزامات اور اداروں سے محاذ آرائی کے نتیجے میں ملنے والی نکتہ چینی سے کچھ بھی سیکھنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور بدستور خود کو درست اور پاکیزہ قرار دینے پر مصر ہے اور درحقیت یہی جارحانہ ، غیر دانشمندانہ ، احمقانہ رویہ ہی ملکی سیاسی ساکھ پر سوالیہ نشان بن چکا ہے مگر نادانیاں ہیں کہ ان کی کوئی حد ہی نہیں ہے ۔۔۔کہ میاں صاحب سے اس بار سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا اگر میرے اثاثے میری آمدن سے زیادہ ہیں تو تمہیںاس سے کیا ؟اگر عوام کو سوال کرنے کا حق نہیں ہے تو یہ کیسی جمہوریت ہے ؟ ویسے جمہوریت تو تب کہیں اگر حکومت ہو یہاں تو حکومت ہی نہیں ہے کہ وزیر خزانہ اشتہاری ہے ، وزرا ء مفاداتی ہیں اور وزیر قانون مستعفی ہیں۔ ہر طرح سے شخصی آمریت ہے جو اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہے مگر طے ہے کہ ” خود کردہ ا علاجے نیست” ۔۔یعنی اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں !

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
issue Movement muslims ordinance parliament Roqiya Ghazal پارلیمنٹ تحریک قادیانی مسئلہ مسلمانوں
Dilip Kumar
Previous Post کمالِ فن کا آئینہ دلیپ کمار
Next Post کیپٹن فیاض احمد شہید تمغہ بسالت
Captain Fayaz Ahmad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close