
کراچی (جیوڈیسک) کراچی پاکستان سنی تحریک علما بورڈ نے حکومت کی طرف سے سزائے موت پر پابندی برقرار رکھنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے، جس میں اہلسنت کے 100 سے زائد جیدعلما و مشائخ اور مفتیان کرام نے حکومتی اقدام کو شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے ۔پاکستان سنی تحریک علما بورڈ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سزائے موت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ مداخلت فی الدین ہے۔ اسلام نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے،حکومت مغربی قوتوں کی خوشنودی کیلئے قصاص جیسے اسلامی قانون کامذاق اڑانے سے باز رہے۔
اسلامی قوانین پر بیرونی ڈکٹیشن قطعا قبول نہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد کو روکنے سے قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اِس حکومتی اقدام سے اعلی عدلیہ کی جانب سے قتل و غارتگری میں ملوث سیکڑوں مجرموں کو سنائی گئی سزاوں پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ جب تک جزا و سزا کے قانوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ملک میں دہشت گرد دندناتے پھریں گے۔ سزائے موت پر عملدرآمد روکنا دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ شریعت کسی قانون شکن قاتل کو ذاتی طور پر معاف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
