Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قوم کا سرمایہ۔۔دینار پیشہ نہیں

May 21, 2014May 21, 2014 0 1 min read
Nouman Qadir
Journalism
Journalism

صحافت میں گنے چنے افراد ہی تھے جنہوں نے نظریاتی صحافت کے پیٹرن پر کام کیا ہے وہ اور جنس کے لوگ تھے جو شعبہ صحافت کو ”ایثار پیشہ ”سمجھتے تھے مگر مو جودہ دور کی صحافت میں ”دینار پیشہ ” لوگ کچھ زیادہ ہی داخل ہو گئے ہیں جو ہر بات کو درہم و دینار کی ترازو سے تولنے لگے ہیں ،مو لانا محمد علی جوہر مرحوم کے”کامریڈ”نے انگریز حکومت کی پریڈلگوانے میں اہم کردار ادا کیا اور کون نہیں جانتا کہ ان کے مایاناز اخبار ”ہمدرد”نے استعمار کے ایجنٹوں اور ایجنڈوں کی طرف سے اڑائی گئی ساری گرد بٹھا دی ،مولانا ظفرعلی خاں کا معروف اخبار ”زمیندار”کو کون فراموش کر سکتاہے جس نے گورے سامراج کی قبائے زرکو سرِبازار تار تار کر دیا جینوئن اہلِ صحافت نے ہر دور میں اپنے آپ کو داغِ ندامت سے محفوظ رکھا ہے اور صحافت میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ”دیہاڑیوں ”اورسیاست کی خاردار” جھاڑیوں” سے اپنے دامن کو بچا کر صاف ستھرا رکھا ہوا ہے وہ کبھی بھی بحمدللہ تعالیٰ جنسِ بازار نہیں بنے انہوں نے اپنے آپ کو فکری غلاظتوں اور مالی کثافتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا،”امن کی آشا” والوں نے تو ہمیشہ غیروں کے حقوق کی پاسداری کی اور پرایوں کی ثقافت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور بدیسی کلچر ”ویلنٹائین ڈے”کو کشور حسین ،پاک سر زمین میں متعارف کروانے کا سہرا بھی ”امن کی آشا ”کے گُروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے اداراہ کی طرف سے ”ویلنٹائن ڈے”پر خصوصی رنگین اشاعت کا اجراء کر کے اس کی ”اہمیت”کو اجاگر کیا اور دو قومی نظریہ کی حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاکیزہ ثقافت پر مغربی کثافت کا لیپ چڑھانے کی بھونڈی کوشش کی مگر صحافت کی تاریخ گواہ ہے کہ صحافت کے میدان میں اہلِ حق نے ہمیشہ اسلامی کلچر کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بدیسی کلچر کی شروع دن سے مخالفت کی ہے اور ہر پلیٹ فارم پر دو قومی نظریہ کی ڈٹ کر حمایت کی ہے یہود و ہنود کی دھمکیوں کے باوجود کھلم کھلا ہندو بنئے کی مخالفت کرتے رہے ہیں ”امن کی آشا”والوں نے تو”امن کی بھاشا”نکال کے رکھ دی ہے اور اب جو اِن کی پورے پاکستان میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم بھا شا نکل رہی ہے اس سے بڑے بڑے سورمائوں کی عقل ٹھکانے لگ گئی ہے اور کسی فارن پیڈاور فارن میڈبھینسے کی ”چڑیا ” کسی شوخے اور مسخرے کا ”ڈمی میوزیم ”کسی کا نام نہاد ”جرگہ ” ممی ڈیڈی این جی اوز کی پیداوارکسی ماڈل گرل کا ”مارننگ شو ” بیچ ”چوراہے ”کے ہنڈیا پھوڑنے والے کسی وہسکی ڈرنکر کا”میرے مطابق ”صحافت کے کسی مامے خان کا ”کیپیٹل ٹاک ”کسی پیپلے کا ”جوابدہ”کسی دس نمبریے جعلی ڈگری ہولڈر فلمی مولوی کا ”عالم آن لائن’ اورباں باں کرتا ”لائوڈ سپیکر”اِن سب کی فرعونیت اور نمرودیت خاک میں مل گئی ہے اور اب ہر پھنے خان اور پاٹے خان معافیاں طلافیاں مانگتا ہوا نظر آرہا ہے پوری دنیا میں ”امن کی بھاشا ” والوں کے کردار کا جنازہ نکلا ہوا ہے اور اِن کا اصلی چہرہ اب قوم کے سامنے آگیا ہے کہ اندر کھاتے اِن کے مقاصد کیا تھے اور ہیں؟یہ ”کرائے کے ٹَٹو ”یہودو نصاریٰ کے بھاڑے پر پلنے والے ”آج کامران خان کے ساتھ ” دین کا چہرہ مسخ کرنے اور اپنی مرضی کی دینی تشریحات کرنے والے ”آمر ”اپنی بھونڈی ”لیاقت ”کے بل بوتے پر حسینی افکار کو داغدار کرنے اور انعام کے لالچ میں اُمت کو گمراہ کرنے میں پیش پیش ۔۔۔۔۔فحاشی و عریانی کی زندہ تصویر اور ولگیریٹی میںانسائیکلو پیڈیا پروگرام” اُٹھو ،جاگو پاکستان ”میں پاکیزہ ، قدسی صفت ، مزکی ٰ و مصفیٰ اہل ِ بیت ِ اطہار کی شان میں”نا شائستہ ”گفتگو کر کے گستاخی کی مرتکب ہونے والی واحدی نے اُمت ِ واحدہ کے سینے میں خنجر پیوست کر کے دل دل زخمی کر دیئے۔۔۔ہر صاحبِ ایمان کا سینہ چھلنی ہے کہ جس طریقے سے جنت کی عورتوں کی سردار ، جگر گوشہ ء رسول ۖ ، بی بی پاک بتول، طاہرہ ، طیبہ ، صادقہ ، عارفہ حضرت فاطمة الزہرہ رضی اللہ عنہا اور صاحب ِ نہج البلاغہ ، باب العلم ، شیر ِ خُدا، فاتح خیبر ، حیدر کرار ، دامادِ رسول ۖ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم کی نعوذ با اللہ جس دیدہ دلیری اور بے غیرتی کے ساتھ گستاخی کی گئی۔

ایک صاحب ِ ایمان اور گناہگار سے گناہگار شخص بھی سُن کر کانپ اُٹھتا ہے اس پر وطن عزیز کے اسلام فروش اور ضمیر فروش نام نہاد سرکاری ”مفتیوں ” نے بھی من گھڑت تاویلیں اور درباری دلائل دینا شروع کر دیے جنہیں سُن کر اور پڑھ کر بھی انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کل بروزِ حشر شافع ِ یوم النشور حضور پر نور ۖ کو کیا منہ دکھائیں گے کس منہ سے شفاعت کی بھیک مانگیں گیاور حوضِ کوثر پر صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے سامنے کونسا منہ لے کر جائیں گے؟ صرف چند سطری اور سنگل کالم اپنا بیان شائع کرانے کی خاطر یا ٹی وی کی سکرین پر اپنی چہرہ نمائی کی خاطر حق گوئی سے کنارہ کشی اختیار کی ؟اور جب آپ کی زندگی کی پوری فلم کہانی روزِ محشر سکرین پر آپ کو دکھائی جائے گی تو کیسے سامنا کرپائو گے ؟ایسے میں اہلِ صحافت اور اہل ِ اسلام کے کاروان میں مردانِ حُر نے پاک سر زمین ، کشور حسین ، مرکز ِ یقین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ دینی افکار کی بھی پہریداری اور چوکیداری کا فریضہ خوب نبھایا ہے اور دو قومی نظریہ کو اپنے بھونڈے طریقے سے تار تار کرنے اورنظریاتی دیواروں کو گرانے والوںپر اپنی حُب الوطنی کی کاری ضرب لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُن”سُورمائوں ” کے آگے بند باندھ دیا ہے قائد اعظم علیہ الرحمة کی ذات پر رکیک حملے کرنے والے جعلی ”پیر زادے ” ہوں یا جاتی اُمراء کے دستر خواں سے چچوری ہڈیاں چوسنے والے ”نقشِ خیال ” کے فقیر زادے ہوں اِن سب”قاسمی ” چھوکروں اور”دینار پیشہ ” نوکروں کی ”ایثار پیشہ ”اہلِ صحافت اور اہلِ اسلام نے ٹھیک ٹھاک کان پکڑوا کر کلاس لی ہے۔

Maulana Altaf Hussain Hali
Maulana Altaf Hussain Hali

محمد حسین آزاد مرحوم، مو لانا الطاف حسین حالی مرحوم، مولانا حسرت مو ہانی مرحوم،جنابِ حمید نظامی مرحوم ایسے جینوئن لوگ اب شعبہ صحافت میں نایاب ہیں جنہوں نے ہر آمر اور جابر کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روش کو برقرا ررکھا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا کر اور چکی چلا کربھی نعرہ مستانہ بلند کیا ،آج جب ”سویرے سویرے ” کسی کالم نگار کی تحریر پڑھ لیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کل اِس نے کس کے دستر خواں سے اپنے ہاتھ صاف کیے ہیںپل بھر میں آنکھ جھپکتے ہی اپنا موقف اور نظریہ بدلنے والے اہل صحافت کی کمی نہیں ہے آج اُس کے دستر خواں پر تو کل کلاں کسی اور کی ڈائیننگ ٹیبل کے مہمان بنے نظر آتے ہیں ، صحافت کے بازار میں گرگٹ کی طرح اپنی فکر اور نظریہ بدلنے والے اہل قلم حضرات کی بھر مار ہے آج الا ماشا ء اللہ دیہاڑی پر کالم لکھے جا رہے ہیں بلکہ اگر اِسے کچھ یوں کہا جائے تو بہتر ہو گا کہ لکھوائے جا رہے ہیں ور ہمارے وطن میں (الا ما شا ء اللہ ) بہت سارے ایسے ”اہلِ قلم ” نظر آرہے ہیں جنہیں شاید صحیح معنوں میں قلم پکڑنا بھی نہ آتا ہوکالم نگاری کے معانی و مفہوم سے بھی وہ نا آشنا ہوں مگر اُن کے سر میں خبط ہے کہ وہ ”قالم نگار ” نظر آئیں اور بہت سوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو مختلف کتا بوں میں لکھے گئے واقعات کو کمپوز کرا کے دوسرے دن اپنے نام سے مقامی اخبارات میں شائع کرا دیتے ہیں یا پھر نیٹ سے دوسروں کی تحریریں چُرا کراپنے نام سے شائع کرانا فخر سمجھتے ہیں ،سیاست کے بے ہنگم ایوان کے بازی گروں اور صحافت کے میدان کے بعض شعبدہ بازوں نے اپنی ملک دشمنی پر مبنی ”سیاسی بصیرت ” اور بے ربط و کج مج صحافتی ”دانش ”کے بل بوتے پر ملک و قوم کی بنیادوں میں گہرا شگاف ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے ارباب ِ صحافت کے قلم کی روشناہی جب سیاسی پنڈتوں ، مذہبی بر ہمنوں اور فارن فنڈڈ این جی اوز کے خفیہ اور مکروہ گو شوں کو عوام کے سامنے لانے کی بجائے ان کے کار نا موں کو ”خدمت خلق ” اور ”خدمت دین ” کا چُغا و چو لا پہناتی ہے تو مو لانا ظفر علی خان ،مو لانا حسرت مو ہانی ،مو لانا محمد علی جو ہر ،آغا شورش کاشمیری کی روح ماہی بے آب کی طرح تڑپ اُٹھتی ہو گی وہ قلم جس سے خالق کائنات انسان کو علم سیکھنے کا سلیقہ سکھا رہا ہے۔

اسی قلم کی تقدیس و حُرمت کے پر خچے اُڑائے جا رہے ہیں اربابِ صحافت نے جب سے قلم کی حُرمت کا ”اتوار بازار ” سجایا ہے دانش و حکمت ٹکے ٹوکری ہو گئی ہے لیکن صحافت کے اس ”اتوار بازار ” میں ابھی بھی ایسے نگینے باقی ہیں جن کو ماتھے کا جھومر بنانے کو جی کرتا ہے ایسے کالم نگار اور اربابِ صحافت نے ہمیشہ اس گلے سڑے معاشرے میں صندل کا کام دیا ہے اور ان کے قلم سے ہمیشہ وطن کی سا لمیت اور احترام ِ آدمیت کی تحریر ہی رقم ہوتی رہی ہے ، دس نمبرے اربابِ صحافت اور احبابِ سیاست نے بریفو کریسی اور لفافہ کریسی کی زنجیر ِ محبت میں گرفتار ہو کر ملک و قوم کی کشتی کو ساحل ِ مُراد تک پہنچانے کی بجائے ہمیشہ بھنور ہی میں ہچکولے کھانے کے لیے پھنسائے رکھا ہے نظریاتی و فکری صحافت کو اُوڑھنا ، بچھونا سمجھنے والے اکابرین صحافت میں اب صرف ”ایثارپیشہ ” صحافت کے ماتھے کا جھومر ہی اہلَ صحافت بچے ہیں جو بقیتہ السلف ہیں جو صحافت کو ایک مقدس پیشہ اور نظریاتی ادارہ سمجھ کر چلا رہے ہیں اور ایسی ہی فکری و نظریاتی شخصیات کے بارے میں کسی شاعر نے درست کہا تھا کہ

ہے غنیمت کہ جلتے ہیں ابھی چند چراغ
بند ہوتے ہوئے بازار سے اور کیا چاہتے ہو

”ایثار پیشہ ” اہلِ صحافت نے ہمیشہ ایک مقصد کو سامنے رکھ کر صحافت کی اور یہ آپ کی جُہد مسلسل ، پُر خلوص کاوش ، نیک نیتی ، پختہ عزم ، دیوانہ وار محنت ، منزل کے حصول کی لگن ،دو قومی نظریے کی حفاظت کا جنون ہی تھا کہ جس نے آج صحافت کو بطور صحیفہ کے زندہ رکھا ہوا ہے آج اگر آج اِن میں حق گوئی ، راست بازی ،پختہ عزم ،آمر یت کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت ، نیک نیتی اور بلند ارادے کی جھلک نظر آرہی ہے تو یہ اسلاف کی تربیت اور صحبت ہی کا اثرہے کہ آج بہت سارے اہلِ صحافت اس پیرانہ سالی کے باوجود جابر و ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق کہنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

Journalist
Journalist

اِس بات کے قطع نظر کہ حکمرانوں کو اگر سچ بات کہہ دی تو وہ ناراض ہو جائیں گے کیونکہ حکمرانوں کی ناراضی اداروں کی بندش کی طرف اشارہ کرتی ہے ، سرکاری اشتہارات کی ترسیل میں رُکاوٹ کا سبب بنتی ہے مگر ”ایثار پیشہ ” اہلِ صحافت نے اِس بات کی قطعاََ پرواہ نہیں کی کہ ہمارے گروپ کے سرکاری اشتہارات بند ہو جائیں گے ”ہتھ ذرا ہولا رکھا جائے” اور حکمرانوں کو من مانی کر نے اور کُھل کھیلنے کا موقع دیا جائے مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ چٹائی توڑ،میدانِ صحافت کے قلندر ،ظالم و جابرحکمرانوں کے لیے گردن توڑ بخار ثابت ہو ئے ہیں آپ نے ہمیشہ قلم سے تلوار کا کام لیا ہے اور قلم کی آبرو کو کبھی ”جنسِ فروختنی ” نہیں سمجھا ہے ہر ظالم و جابر حکمران نے اِن کو خریدنے کی کوشش کی مگر یہ مردقلندر نہ کبھی جُھکے اور نہ ہی کبھی بِکے ،کیونکہ

جو بِک چُکا ہے بازارِ مصطفیٰ ۖ میں
وہ کسی اور بازار میں اب بِکتا نہیں ہے

وقت کے جابر اور ظالم حکمرانوں کو غلط کاموں سے روکنا دراصل ایسا جرات مندانہ کام اُسی شخصیت کے حصے میں آتا ہے جس کے روشن سینے میں عزیمت اور استقامت کا غیر متزلزل دل ہو ، جسے وقت کے حکمرانوں کا بڑے سے بڑا زلزلہ اور قہر بھی ان ارادوں میں ڈگمگاہٹ پیدا نہ کر سکے ،ملوکیت کے پیکر میں ڈھلے حکمرانوں کو ان کے ایوانوں سے جاری کی گئی رسوم ِ بد سے روکنا اور بڑھتے ہوئے گندگی و غلاظت کے سیلاب کا رخ موڑنے کے لیے ایسے مردان حُر ہی آگے بڑھ کر پاکیزگی و طہارت کا بندھ باندھتے ہیں اور ایسے مردان ِ حُر معاشرے کے ماتھے کا جھومراور وقار ہوتے ہیں یادرہے ہم نہ تو کسی کے مخالف اور نہ ہی کسی کے حاشیہ بردار اور خوشہ چیں ، ہم دراصل اُس سوچ اور ذہنیت کے طرفدار ہو تے ہیں جو ملک و قوم کے لیے مخلصانہ جذبوں سے لیس ہو کر سوچتی ہے اور ہر اُس فکر اور نظریہ کی مخالفت کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں جو غلام ذہنیت کی پیداوار ہوتے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر خود بھی ناچتے ہیں اور قوم کو بھی نچانے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہیں ہم افراد کے نہیں بلکہ افراد کے ذہنوں میں پرورش پانے والی غلیظ اور تعفن زدہ سوچ کے مخالف ہیں کیو نکہ ہماری دینی تعلیمات ہمیں گناہگار سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت کا درس دیتی ہیں اور جینوئن اہلِ صحافت وہ نہیں جو لفافہ ازم کا شکار ہوکر اپنی قلمی عصمت کو داغدار کریں اور اپنے الفاظ کو ایک طوائف کی طرح ”قلمی کوٹھے ” کی زینت بنائیں ”ایثار پیشہ ”صحافی آئینے کیحیثیت سے گلی کی نکڑ اور چوک چوراہے پر جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ قوم کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے جس کا ہمارے حکمران بُرا منا جاتے ہیں۔

”ایثار پیشہ ” صحافیوں نے ”بی بی ” ہو یا ”بابو ” پرویزِ صغیر ” ہو یا ”پرویزِ کبیر ” ”میاں ” ہو یا ”بیوی ” ہر دور ِ حکومت میںحق گوئی کا پرچم بلند کیے رکھا ہے اور اِس راست بازی کے پرچم کو کبھی بھی کسی بھی لمحے ذرابھر کے لیے بھی سر نگوں نہیں ہو نے دیا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ”ایثار پیشہ ”صحافیوںکے کسی بھی پلیٹ فارم پر فحاشی و عریانی کے پیکر میں ڈھلی تحریر اور نہ ہی کوئی ایسی تصویر نظر آئی ہے کہ جس کو دیکھ کر اور پڑھ کر ہمارا سر شرم سے جُھک جائے ،آج اس مملکت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے جہاں مذہبی تفرقہ بازی اور مسلمانوں کے در میان اختلاف کی خلیج وسیع کرنے کے لیے غیر مسلم طاقتیں اپنے باطل کا جال پھیلا رہی ہیں وہاں پر مسلمانوں کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی سوچ کو با قاعدہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا بھی جا رہا ہے ایسے منتشرماحول اور پراگندہ حالات میںضرورت اس امر کی ہے کہ جینوئن اہلِ صحافت کی طرف سے سکولز ، کالجز و یونیورسٹیزاور دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو دو قومی نظریے کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اور تحریک پاکستان کے اکابرین کے سنہری کارناموں سے روشناس کرانے کے لیے گاہے گاہے سیمینارز ، کانفرنسز ، علمی و فکری نشستوں اور مذاکرات کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے صاحبو !جب ہمارے کالم نگار وطن کی زمین کی حُرمت اور رزق ِ حلال کی بجائے دوسروں کے چبائے ہوئے لقموں پر جُگا لی کرنے کے عادی ہو جائیں ، بلندیوں کے آکاش پر آشیاں بندی کرنے والے ”خود نمائی ” اور ”جی حضوری ”کی دلدل میں پھنس جائیں اپنی فکر کو رعنائی کے لیے نہیں بلکہ ”خود رو نمائی ”کے لیے استعمال کرنے لگیں بڑبولے سیاستدان سیاست کو عبادت کا جُبہ پہنانے کی بجائے اَمارت کا چُغہپہنادیں ، منصف انصاف کے ترازومیں توازن پیدا کرنے کی بجائے ”لچک ”کے بہانے تراشیں ، سماجی لوگ فارن فنڈڈ ، فارن پیڈ و فارن میڈ این جی اوز کے پلیٹ فارم پر عوام میں فلاح و بہبود اور حرکت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ہنود و یہود کی سوچ اور جمود کو عام کریں۔

مورخین آئندہ نسل کو حالات کی صحیح تصویر پیش کرنے کی بجائے در بار اور سرکار کی تا بعداری میں تاریخ مرتب کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں کھپادیں، دانشور اپنی دانش کے گلزار نچھاور کرنے کی بجائے نفرت کے خار بر سانا شروع کردیں، علماء دھند میں لِپٹے ماحول کو اپنی خوش الحانی سے صاف کرنے کی بجائے شعلہ بیانی سے دھند کو مذید گہرا کر دیں ، گدی نشین اپنی نگاہوں کی تاثیر سے ہزاروں سائلین کی تقدیر بدلنے کی بجائے جب اپنی نگاہیں ”مرید ” کے نذرانوں اور تحائف پر مرکوز کردیں تو ایسے ماحول کو نکھارنے اور سنوارنے کے لیے ہمہ جہت انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے مگر گھنٹی کون باندھے ؟تب تک کے لیے اجازت ۔۔۔۔آئندہ نئے عنوان سے ملاقات ہو گی۔ اللہ حافظ

Nouman Qadir
Nouman Qadir

تحریر: صاحبزادہ نعمان قادر مصطفائی
فون نمبر: 03314403420

Share this:
Tags:
capital journalism journalist Nouman Qadir people sacrifice ایثار پیشہ سرمایہ صحافت صحافی قوم
London
Previous Post برطانوی شاہی خاندان کی بہو کی تلاش اور ریالٹی شو کا اہتمام
Next Post محمد حسیب خان محمد شاہ میاں کے 36 ویں عرس کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں
Mohammad Haseeb Khan Speech

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close