Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

باخبر رکھنے والے پابند سلاسل کیوں ؟

May 3, 2020 0 1 min read
Journalism
Journalism
Journalism

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری

عوام کو باخبر رکھنے کے لئے کسی بھی معاملہ کو تحریری ،تصویری / ویڈیو ،آواز کی شکل میں پڑھنے، دیکھنے ، سننے والوں تک پہنچانے کے عمل کو صحافت (جرنلزم) کہتے ہیں، صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرنے والے کو صحافی کہا جاتا ہے، اگر تکنیکی لحاظ سے دیکھا جائے تو شعبہ صحافت کے کئی ایک اجزا ہیں لیکن سب سے اہم لوگوں کو باخبر اور معلومات پہنچانا ہے ، معاشرے میں ہونے والی منفی ،مثبت سرگرمیاں خاص طور پرپرائیویٹ اداروں ، حکومتی اداروں ،تعلیمی اداروں ،تجارت ،کھیل ، ثقافت ،شوبزمیں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے آگاہ رکھنے میں صحافت کا سب سے بڑا عمل ہے ،صحافت کسی بھی معاشرے کے ثقافت کو اجاگر کرتی ہے۔

دنیا بھر میں 3مئی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتاہے اس دن کو منانے کا آغاز انیس سوا کیا نوے میں نمیبیا میں ہوا جبکہ اقوام متحدہ نے تین مئی انیس سوترانوے کو باقاعدہ طور پرآزادی صحافت کا عالمی دن منانے کا اعلان کیااس دن صحافت سے وابستہ افراد جن کو صحافی کہا جاتا ہے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی یکسوئی سے جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں صحافتی نمائندے اس بات کی تجدید کرتے ہیں کہ کسی بھی یاستی دبائو کے بغیر آزاد، صحیح اور ذمہ دارانہ اطلاعات عوام تک پہنچانے کے بنیادی حق کے لیے کھڑے رہیں گے ،پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ پر تشدد واقعات آمرانہ دور کے ساتھ بعض جمہوری ادوار میں بھی ہوتے رہے ہیںایک اندازے کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ عشرے کے دوران دنیا میں اوسطاً سالانہ انہتر صحافی قتل ہوئے،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق 1992سے 2019 تک 13 سو 40 صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اسی طرح 1994 سے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 60 صحافی لاپتہ ہوچکے ہیںجبکہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قید کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ،گزشتہ برس مختلف ممالک میں 251 صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا، اگر سال 2020کی سہ ماہی کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد ایک محتاط انداز ے کے مطابق تین سوسے زائد بنتی ہے ،کمیٹی کے مطابق اس پیشے میں متاثر ہونے والے صحافیوں کی 75 فیصد تعداد جنگ زدہ علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں،وطن عزیز پاکستان میں آمرانہ دور اور جمہوری ادوار میں بہت سے صحافی جیلوں میں بند رہے اور یہ سلسلہ ب بھی جاری ہے پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک پر مختلف الزامات لگا کر آجکل پابند سلاسل کیا گیا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ چند ایک صحافتی ادارے حکومت کے اس اقدام کی تعریف کرتے بھی نظر آتے ہیں، اس میں کسی کوکوئی اختلاف نہیں کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر پکڑ ہونی چاہیے لیکن یہ بات یقینا تکلیف دہ ہے کہ اپنی پسند نا پسند کی بنا پر کسی ادارے کو بندیا شخص کو جیل کی سلاخوں ے پیچھے ڈال دیا جائے سانچ کے قارئین کرام ! حکومت اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر صحافیوں سے جارحانہ بلکہ جابرانہ رویہ رکھے جانے کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ،زرد صحافت کا ذکر بھی بہت اکثرسننے کو ملتا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحافتی ادارے اور صحافی کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دینے کے لیے اصل خبر کی شکل اتنی مسخ کردیتے ہیں کہ اہم پہلو نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

ہیجان انگیز رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو یقینی طور پر اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن ایسے صحافی وقتی طور پر اپنے اخبار اور چینل کی ریٹنگ تو بڑھا لیتے ہیں لیکن معاشرے میں جلد بے نقاب بھی ہوجاتے ہیں، سانچ کے قارئین کرام ! گزشتہ دنوں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے حکومت پنجاب کی جانب سے صحافیوں کی امداد کے حوالہ ایک پیکج کا اعلان کیا گیا جس پر لکھا گیا سانچ کالم کا کچھ حصہ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر شامل کر رہا ہوں ،جس میں حکومتی پیکج اور صحافت کے شعبہ سے وابستہ افراد کے مسائل کا ذکر کیا تھا “گزشتہ دنوں وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں کے ایک ایسے پیکج کا اعلان کیا کہ جس پر بعض صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے حکومتی اقدامات کی تعریف میں واہ واہ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

جبکہ اکثریت ایسی تنظیموں کے عہدیداروں کی ہے جنھوں حکومت کے پیکج کو علاقائی صحافیوں کے لئے مذاق قرار دیا علاقائی صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ سے حکومت اور یہاں تک کہ صحافتی اداروں نے سوتیلوں سے بھی بد تر کا سلوک روا رکھا ہے سانچ کے قارئین کرام اس پر بات کرنے سے پہلے حکومت پنجاب کے صحافتی پیکج کا ذکر ضروری ہے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ صحافی کو 1 لاکھ جبکہ جاں بحق صحافی کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے مزیدکہا کہ حکومت کے ذمے واجب الادا فنڈز جلد جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے کورونا وائرس سے بچاؤکے لیے ایس او پیز بنائے ہیں، میڈیا ہاؤسز اور اخبار مالکان کو کورونا روائرس سے متعلق ایڈوائزری بھیجی ہے۔ صحافی برادری کے لیے کورونا وائرس سے بچاؤکے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور ان کے لیے پیکیج بھی بنا یا ہے۔

اگر کوئی صحافی کورونا وائرس سے متاثر ہوا تو ایک لاکھ روپے ریلیف فنڈ دیں گے جبکہ کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے صحافی کی بیوہ کو 10 ہزار روپے ماہانہ پنشن دی جائے گی، اخبار فروشوں کو کورونا وائرس سے بچائو کے لئے حفاظتی سامان مہیا کیا جائے گا۔کسی صحافی کا کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں انتقال ہوا تو اس کے اہلِ خانہ کو 10 لاکھ روپے دیں گے۔ سانچ کے قارئین کرام میڈیا کے ساتھ ہمیشہ اپوزیشن کے تعلقات مثالی اور برسراقتدار طبقہ کو شکایات ہی رہتی ہیں سابقہ ادوار کو دیکھیں تو اس بات میں حقیقت نظر آجائے گی ،چند سال پیشتر صحافیوں خاص طور پر علاقائی صحافیوں کے مسائل مشکلات اور اداروں کی جانب سے ان سے روا رکھے جانے والے سلوک پر لکھے کالم کا کچھ حصہ شامل کر رہا ہوں۔ “صحافت کو ریاست کو چوتھا ستون کہنے اور لکھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ تو دیکھنے کو ملتا ہے لیکن کیا اِن میں سے کسی ایک نے بھی اس شعبہ سے وابستہ افراد کے مسائل کو جاننے کی کو شش کی ہے؟

چھوٹے شہروں خاص طور پر دوردراز کے دیہاتوں میں کسی بھی ادارے کی رپورٹنگ کرنے والا شخص جسکو عرف عام میں صحافی کہا جاتا ہے کس طرح اپنے معاشی مسائل سے لڑتا ہواشعبہ صحافت سے انصاف کرتا ہے؟ وطن عزیز پاکستان میں چھوٹے شہروں کے صحافی معاشرے میں پھیلی ہوئی نا انصافیوں ،ظلم ،کرپشن کے خلاف تو اپنا قلم اْٹھاتے ہیں لیکن اپنے گھر کو چلانے کے لیے ان کے پاس کوئی جادو کا چراغ نہیں ہوتا جو اْن کے معاشی مسائل جن میں صحت ،بچوں کی تعلیم ،روزمرہ کی بنیادی چیزوں کی فراہمی کو ممکن بنائے ،وطن عزیز میں سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہاں صحافی بننے کے لیے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں بس ایک قلم اور کاغذ لیں اور کسی بھی ادارے کا کارڈ چند ہزار میں خریدیں اور اپنے آپ کو صحافی کہنا اور کہلانا شروع کر دیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ کسی بھی شعبہ کو اختیار کرنے والوں کے لیے کچھ نا کچھ تعلیمی معیار مقرر ہوتا ہے جیسے ڈاکٹر کے لیے ایم بی بی ایس ،انجینئرکے لیے بی ایس سی انجینئرنگ،وکالت کے لیے ایل ایل بی تک تعلیم اور بعد ازاں لائسنس کے لیے چند مزید امتحانی مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ یہاںصحافی بننے کے لیے واجبی سا لکھنا اور پڑھنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے موجودہ دور میں بھی بڑے بڑے میڈیا کے ادارے اپنے نمائندے کی تعلیمی صلاحیت کو دیکھنے کی بجائے اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ ہمارا نمائندہ ہمیں سال میں کتنا بزنس لے کر دے سکتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آج بہت سے صحافی کسی ادارے کا کارڈ گلے میں ڈالنے سے پہلے کسی ایسے کاروبار سے وابستہ تھے جس کو چلانے میں اْنھیں خوف سارہتا تھا کہ کہیں کوئی قانونی کاروائی اْن کے کاروبار کو ختم نہ کر دے اِس پریشانی سے بچنے کے لیے کئی ایک کاروباری حضرات صحافت کے شعبہ سے منسلک ہو گئے صحافی سے عوام الناس اور معاشرہ منفی سرگرمیوں کے خاتمہ اور اصلاح احوال کے لیے تجاویز اور اعلی احکام تک اپنے مسائل کی توقع تو رکھتا ہے لیکن اس بات کو بھْول جاتے ہیں کہ ایسی صلاحیتوں کا مالک وہی صحافی ہو سکتا ہے جو صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا (پروفیشن)سمجھ کر اختیار کرے اور اپنا تمام وقت صحافتی امور کی انجام دہی میں صرف کرے جبکہ ایسے صحافی اْسی صورت میں مِل سکتے ہیں۔

جب نیک نیتی سے یہ پروفیشن اختیار کرنے والے کو معاشی طور پر بھی صحافتی ادارے یا محکمہ تعلقات عامہ اور گورنمنٹ ادارے مکمل سپورٹ کریں تاکہ معاشی مجبوریوں سے تنگ آکر کوئی بھی اپنے قلم کی حرمت کو فروخت نہ کر سکے بڑے بڑے صحافتی ادارے ہوں یا چھوٹے ادارے علاقائی صحافیوں کو اعزازیہ دینے کی بجائے اْن سے بزنس کی توقع رکھتے ہیں جس کی وجہ سے علاقائی صحافی اپنے معاشی مسائل کا بوجھ اْٹھائے پھرنے کے ساتھ ساتھ ادارے کے لیے بزنس اکھٹا کرنے والے شخص کے روپ میں بھٹکتا پھرتا ہے ایسے شخص سے معاشرہ کیا توقع رکھے گا ؟کہ وہ معاشرے میں منفی سرگرمیوں میں مصروف عمل افراد کی نشاندہی کر سکے محکمہ تعلقات عامہ حکومت پنجاب کی ہی بات کر لیتے ہیں کیا یہ سو فیصد ایسے افراد کو ایکریڈیشن کارڈ فراہم کرتا ہے جو واقعی ہی صحافت کے شعبہ سے نیک نیتی سے منسلک ہیں ؟اگر ہاں تو پھر حکومت کو چاہیے کہ وہ ان صحافیوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کرے جو دیگر گورنمنٹ کے ملازمین کو فراہم کی جارہی ہیں اور جو شخص کسی اور کاروبار سے منسلک ہو اور صحافت کی آڑ میں اپنے اچھے بْرے کاروبار کو فروغ دے رہا ہواور معاشرہ میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کا سبب نہ بن رہا ہو ایسے شخص کو صحافت کے شعبہ میں بین کر دینا چاہیے تاکہ ایسے افراد جو شعبہ صحافت میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو معاشرہ میں بہتری لانے کے لیے استعمال کر رہے ہوں انکی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

جبکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی صحافتی ادارے کا کارڈ گلے میں ڈال کر لوگوں کوڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور بعض پولیس کے ٹاؤٹ بن کرتھانوں میں ایف آئی آر اپنے مخالفین یا جن سے رقم بٹورنی ہو کے خلاف درج کرواتے اور اپنا حصہ بانٹتے نظر آتے ہیں ،سانچ قارئین کرام !یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے جبکہ سینئر صحافی جو بڑے شہروں میں معروف اداروں سے منسلک ہوجاتے ہیں اْنکی معلومات کا زریعہ بھی علاقائی صحافی جو کہ چھوٹے شہروں ،دیہاتوں،چکوک میں ہوتے ہیں بنتے ہیں لیکن اِن علاقائی صحافیوں کے لیے یہ سینئر کبھی بھی ٹھوس اقدامات اْٹھاتے نظر نہیں آتے، بلکہ گزشتہ دو دہائیوں سے الیکٹرانک میڈیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایسے اداروں اور ان اداروں میں بیٹھے صحافیوں نے علاقائی صحافیوں کو کمائی کا زریعہ بنا رکھا ہے معذرت کے ساتھ اکثر ایسے اداروں کے مالکان اپنے نمائندوں سے مختلف مواقعوں پر ادارے کو بزنس دینے کے نام پر پیسے وصول کرتے رہتے ہیں ذرا سوچنے کی بات ہے چھوٹے شہروں کے صحافی ان حالات میں صحافت کے لئے کیا کر سکیں گے وطن عزیز میں سینکڑوں صحافتی تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں جنھوں نے صحافیوں کے حقوق کے لیے اپنے اپنے آئین میں نمایاں ذکر کر رکھا ہے لیکن معذرت کے ساتھ اِتنی زیادہ تنظیموں کے ہوتے ہوئے بھی علاقائی صحافی بے یارومدد گار ہی نہیں ہیں بلکہ اْن کے ساتھ معاشرہ کے چند افراد نہ صرف ہتک آمیز رویہ رکھتے ہیں بلکہ بعض کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں سے بھی جانا پڑتا ہے” ٭

MUHAMMAD MAZHAR RASHEED
MUHAMMAD MAZHAR RASHEED

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری
033369693372

Share this:
Tags:
journalism pakistan people Reporting Society World پاکستان دنیا رپورٹنگ صحافت عوام معاشرے
Environmental Pollution
Previous Post ماحولیاتی آلودگی سے سالانہ چالیس سے نوے لاکھ انسان قبل ازوقت موت کا نشانہ
Next Post محنت کش کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے، تحریک انصاف لیبر ونگ
PTI Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close