Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فلسفہ سقراط اور علم کا حصول

August 2, 2018 0 1 min read
Socrates
Socrates
Socrates

تحریر: علی عبداللہ

سقراط کو مغربی فلسفے کے بانیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے – یہ ایک عجیب بات ہے کہ جس نے اہل مغرب کو ایک جدید نظریے اور فلسفے سے روشناس کروایا اس کی کوئی باقاعدہ اپنی تصنیف موجود نہیں سوائے افلاطون کے جس نے سقراط کے نظریات کو پھیلایا – ایتھنز میں پیدا ہونے والا سقراط ایک سنگ تراش تھا اور بعد میں ایتھنز کی فوج میں بھی شامل رہا – سقراط نے عوام میں پھیلے گمراہ کن عقائد پر تنقید کی جو کہ معاشرے میں سرایت کر چکے تھے – سقراط مکالموں کی صورت عوام میں گفتگو کرتا تھا جس کا مقصد عوام کو ان گمراہ کن عقائد پر غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا تھا – اس کے مکالمے کچھ یوں ہوتے؛

سوال :کیا دیوتا سب جانتے ہیں؟
جواب:جی ہاں! بالکل
سوال:لیکن بعض اوقات وہ کچھ معاملات سے غیر متفق بھی ہوتے ہیں –
جواب:ہاں ایسا ہی ہے، وہ ہمیشہ لڑتے ہیں –
سوال:یعنی وہ صحیح اور غلط کی کشمکش میں الجھے رہتے ہیں؟
جواب:جی میرا خیال تو یہی ہے –
سوال:تو مطلب یہ ہوا کہ دیوتا ہر شے کے بارے میں علم نہیں رکھتے؟

سقراط کا خیال تھا کہ اچھائی یا برائی
کوئی نفسی موضوعات نہیں بلکہ یہ ابدی تصورات ہیں _ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسلسل خودشناسی کے ذریعے ان تصورات کو دریافت کریں – حکمت اور دانائی ہی انسان کو اخلاقیات کی حقیقی روح سے متعارف کرواتی ہیں – سقراط کے نزدیک کائنات میں واحد اچھائی علم اور جہالت واحد برائی ہے – وہ کہتا ہے کہ انسان کو علم کی تلاش کسی بھی قیمت پر جاری و ساری رکھنی چاہیے ورنہ جہالت اس کا مقدر بن کر عمر بھر اسے اندھیروں میں ہی بھٹکاتی رہے گی – سقراط کے نزدیک جسم اور روح دو مختلف چیزیں ہیں اور اگر جسم متروک کر دیا جایے روح کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ وہ کہیں اور چلی جائے گی – سقراط کی نظر میں نقصان صرف وہ ہوتا ہے جو آپکو روحانی طور پر متاثر کرے اور یہ صرف انسان کے اپنے غلط عمل کی وجہ سے ہی ہوتا ہے – سقراط کے سامنے اسکے جرائم پر پانچ شرائط تھیں جن میں سے اس نے موت کو چنا تھا – پہلی قید، دوسری جلاوطنی، تیسری اپنے نظریات سے کنارہ کشی، چوتھی جرمانہ اور آخری موت –

قید سقراط کے لیے ناقابل قبول تھی کیونکہ اسطرح اسے عمر بھر دوسروں کے تابع رہنا پڑتا – سقراط جو ایتھنز کو دل و جان سے چاہتا ہے، 70 سال کی عمر میں جلاوطنی کا تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا – اسکا کہنا تھا کہ وہ کہیں اور بھی چلا جائے تب بھی لوگ اسے ڈھونڈ کر اسکی محفل میں بیٹھنے لگیں گے اور ان سے بچنے کے لیے اسے مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ چلتے رہنا پڑے گا – سقراط کے لیے علم و حکمت سے بھرپور مکالموں سے دستربردار ہو کر خاموشی کی زندگی گزارنا موت جیسا تھا – خاموش رہنے کا مطلب دیوتاؤں کی نافرمانی تھی – سقراط کے نزدیک علم ایک نیکی ہے اور لوگوں تک اسے پہنچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ان سے ان کے عقائد کے بارے سوال کیے جائیں تاکہ وہ جوابات کی تلاش میں زندگی کے نئے اسراروں سے پردہ ہٹا سکیں – سقراط کے پاس اتنی دولت بھی نہ تھی کہ وہ جرمانہ بھر کر آزاد ہو سکتا لہذا موت ہی ایک آخری صورت تھی جسے وہ چن سکتا تھا – کیونکہ سقراط سمجھتا تھا کہ خاموشی، جلاوطنی اور قید اسکی روح کو نقصان دیں گے اور وہ نہیں چاہتا کہ خود اپنی مرضی سے اپنی روح کو نقصان پہنچائے اور دیوتاؤں کو ناراض کرے-

سقراط موت کو ایک امید سمجھتا تھا – ایسی امید کہ جس کے بعد اسکی روح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے گی – جہاں اسے وہ تمام خوشی اور دانائی مل سکے گی جو یہاں نہ مل سکی تھی – لہذا سقراط نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی لیا – سقراط کو مغربی تاریخ کا پہلا شہید دانشور تصور کیا جاتا ہے – یہ وہ شخص تھا جس نے اپنی زندگی حکمت و دانائی کی کھوج اور انصاف و خوبصورتی جیسے تجریدی تصوارات کے حصول میں وقف کر کے آنے والی دنیا کو علم و حکمت کی نئی راہوں پر گامزن کیا-

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کو سائنسی مشاہدات کی بنا پر بہت سا علم حاصل ہوا ہے – فلیمنگ کی پنسلین ہو یا مارکونی کا ریڈیو معلومات جس ذریعے سے بھی حاصل ہوں وہ ہمارے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہیں – سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کا تمام علم عملی مشاہدات کی بنا پر ہی حاصل ہوا؟ ہمارا جواب ہاں ہی ہو گا مگر سقراط کے نزدیک ایسا نہیں ہے – وہ کہتا ہے کہ حسیات کسی بھی صورت حقیقت کو نہیں سمیٹ سکتیں – روح اور بدن کے مابین ایک تقسیم ہے جس میں بدن کا علم حاصل کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے – سقراط کے نزدیک جسم کا تعلق صرف مادی خوشی کے ساتھ ہے جیسے خوراک، جنسی ضروریات اور دولت وغیرہ – لہذا ان تمام وجوہات کی بنا پر بدن علم کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے اور یہ کبھی بھی حقیقی علم سے آشنا نہیں کروا پاتا بالکل اسی طرح جیسے ایک ہی شے کو دو مختلف لوگ مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور ان کا مشاہدہ کبھی بھی یکساں نہیں ہوتا – سقراط کا کہنا ہے کہ انسان کو علم کے ذرائع کے لیے اپنی حسیات پر کبھی انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان کی حسیات مختلف ہوتی ہیں – اس کے مطابق علم ایک ابدی، ٹھوس اور کبھی نہ بدلنے والی شے ہے اور اس کے لیے اپنی حسیات پر انحصار کر کے اسے کھوجنا بےکار ہے – اس کی مثال سقراط یوں دیتا ہے کہ اگر ایک لکڑی کو آدھا پانی میں ڈبو کر دیکھا جائے تو یہ ٹیڑھی دکھائی دے گی جبکہ حقیقت میں وہ ایسی نہیں ہے – تو کیا ہماری حسیات ہمیں دھوکہ دیتی ہیں؟

سقراط کہتا ہے کہ جسم کا تعلق ایک ناپائیدار اورحسیاتی دنیا سے ہے جبکہ روح ایک ابدی اور پائیدار دنیا سے تعلق رکھتی ہے – حسیاتی دنیا یہی ہے جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں لیکن یہ ایک عکس ہے – حقیقی دنیا ہم سے پوشیدہ ہے جہاں ہر شے کی پہلے سے ایک وضع اور ہییت موجود ہے – یہ ہییت ایک پائیدار، ناقابل تبدیل اور ابدی پیمانہ ہے جس کی بنیاد پر ہم اس ناپائیدار دنیا میں اشیا کو پہچان پاتے ہیں – سقراط کے نزدیک چونکہ یہ کائنات مسلسل بدلاؤ کا سامنا کرتی ہے اس لیے یہ حقیقی نہیں ہو سکتی اور اسی بنا پر کوئی بھی شے یہاں مستقل نہیں ٹھہر پاتی – مثال کے طور پر لکڑی کی ایک کرسی چاہے جتنی اعلی اور مضبوط بنائی گئی ہو لیکن ایک وقت آتا ہے کہ یہ بھی زوال پزیر ہو کر اپنا وجود مکمل کھو بیٹھتی ہے – اسی طرح جسم بھی اپنی تمام ضروریات اور خواہشات کی بنا پر ہمیں مختلف طریقوں سے مصروف رکھتا ہے – اسی حسیاتی وجود کی بنا پر یہ انسان کو علم و حکمت سے دور کر دیتا ہے –

سقراط کے نزدیک اگر کوئی انسان علم و دانش حاصل کرنا چاہتا ہے تواسے حسیاتی دنیا سے توجہ مکمل طور پر ہٹانی ہو گی کیونکہ یہ ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے – اور ہم سب جانتے ہیں کہ خواب کتنا تیزی سے بدلتے ہیں – اور اگر چیزیں اسی طرح بدلتی رہیں تو ہم کیسے کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں؟ جسم ایک بدی کا مقبرہ ہے جو ہماری روح کی اچھائی کو قید کر لیتا ہے اور حکمت کے ہر موقعے کو دھوکہ میں بدلنے کی سعی کرتا ہے – اس طرح سقراط مختلف دلیلیوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ بدلاؤ اور ناپائیداری سے بھرپور اس کائنات میں ہماری حسیات کبھی حقیقت تلاش نہیں کر سکتیں – حقیقت اور حکمت صرف اپنی روح میں تلاش کی جا سکتی ہے جس کے لیے روح تک پہنچنا لازم ہے – ہماری پیدائش ہمیں وہ تمام چیزیں بھلا دیتی ہے جو ہماری روح سیکھ چکی ہوتی ہے لیکن انہیں پہچاننا ممکن ہوتا ہے – اسی لیے سقراط کہتا ہے کہ انسانوں کو وہ سب سیکھا ہوا دوبارہ یاد کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے سقراط جدلیاتی طریقہ اپنایا کرتا تھا – وہ لوگوں سے سوالات کرتا تھا اور انکو غور و فکر کرنے پر اکساتا تھا – سقراط کہتا ہے،
“حکمت و دانائی اس وقت آ سکتی ہے جب انسان کسی بھی منظر یا حسیاتی مشاہدے کو ذریعہ بنائے بنا خالصتاً اپنے خیالات پر غور کرے – آنکھوں اور کانوں اور دیگر بدنی عوامل سے آزاد ہو کر ہی روح انسان کو حقیقی علم سے آشنا کروا سکتی ہے کیونکہ انسان کا بدن ہمیشہ اسکی روح کو کشمکش میں ڈال کر اسے سچائی اور حکمت سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے ”

سقراط کا نظریہ ایک طرف رکھ کر اگر ہم اسلام پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ دنیا کی ناپائیداری اور ابدی زندگی کے بارے سقراط سے زیادہ مدلل اور واضح نظریات پیش کرتا ہے – یہ ہمیں علم و حکمت کے لیے جسمانی خواہشات سے دوری اور مکمل یکسوئی سے غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ جسم کو مکمل نطر انداز کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا – چونکہ یہ ہدایت کا ایک واضح راستہ دکھاتا ہے لہذا سقراط کا فلسفہ اپنی جگہ لیکن اسلامی فلسفہ حیات انسان کو مکمل حقیقی علم سے آشنا کرواتا ہے – بس شرط یہ ہے کہ خیالات تمام دنیاوی و جسمانی خواہشات سے پاک ہوں – لہذا سقراط، افلاطون، ارسطو اور ان جیسے دیگر فلسفیوں کے فلسفے پڑھنا اچھا ہے لیکن صرف انہی سے متاثر ہو کر حقیقی فلسفہ حیات نظرانداز کر دینا دانشمندی نہیں ہے – موجودہ دور میں حقیقت کے متلاشی ارسطو اور سقراط کو پڑھنے میں عمر تو کھپا رہے ہیں مگر وہ ایک واضح اور حقیقی فلسفے کی جانب توجہ نہیں دیتے جو انہیں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ اس کائنات سے بھی آشنا کرواتا ہے جسے سقراط عمر بھر کھوجتا رہا –

Ali Abdullah
Ali Abdullah

تحریر: علی عبداللہ

Share this:
Tags:
acquisition knowledge public Society حصول علم عوام معاشرے
Mohammad Afzal Qadri
Previous Post حضرت پیر محمد افضل قادری کا تحریک لبیک کے کراچی سے نو منتخب ممبران اسمبلی کو ٹیلی فون
Next Post یہ سب کا پاکستان ہو گا
Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close