Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاست خدمت ہے لوٹ مار نہیں

August 24, 2017 0 1 min read
Politics
Politics
Politics

تحریر : رقیہ غزل
قیاس تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے ملک میںجاری سیاسی بحران ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ ایک خوش آئند عمل تھا کہ 70 سالہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم کو کرپشن کے الزام میں احتساب عدالت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے یقین ہو چلا تھا کہ ملک میں احتسابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور کرپٹ عناصر کاقلع قمع ہو جائے گا اور ملک حقیقتا ًترقی کی راہ پر گامز ن ہو جائے گا ۔لیکن اس فیصلے کے بعد حالیہ ملکی منظر نامے پر نظرڈالیں تو اندھیر نگری چوپٹ راجا کے مصداق ملک و قوم اللہ کے آسرے پر ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے کو بے نقاب اور بر باد کرنے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کررہا ہے ااور یوں لگ رہا ہے کہ جیسے سبھی گرے ہوئے ہیں مگر کوئی بھی یونہی نہیں گر رہا ،ہر ایک کی گراوٹ کے پیچھے ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ ویسے بھی سیاستدان یونہی نہیں گرتا ۔وہ واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ایک سیاستدان اپنے مشیر کے ساتھ کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں ٹھوکر لگی اور گر گیا ۔کچھ راستہ بھی نا ہموار تھا اور کچھ بزرگی کا بھی عالم تھا کہ بہت مشکل سے اٹھا ۔ایک راہگیر نے اس کے مشیر سے کہا :”تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہارا مالک گرا ہوا ہے ،تم اسے اٹھانہیں رہے ” مشیر اطمینان سے بولا : ” ارے بھائی ! یہ سیاستدان ہے ،کچھ دیکھ کر ہی گرا ہوگا ” ۔
آج ایسی گراوٹ کی لاتعداد مثالیں رقم ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔

مسلسل ثابت ہو رہا ہے کہ سیاست مفادات کے حصول میںلگی لپٹی رکھے بغیر لپیٹنے اور ملکی اثاثوں کو اجاڑنے کا دوسرا نام ہے ۔بد قسمتی تو یہ ہے کہ اس بندر بانٹ میں قانونی اور اسلامی قوانین کو بھی نظر انداز کر دیا جا تا ہے ۔سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور لفظی بھرمار نے دھما چوکڑی مچا رکھی ہے ۔ عوام کیسے ہیں اور ملکی حالات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں اس کی کسی کو بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔پاناما سے شروع ہوئی کرپشن کہانی اقاما تک جا پہنچی ہے ۔اک طرف میاں صاحب کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ہے ۔ان کی اور ان کے خاندان کی کرپشن کے تمام مبینہ ثبوت مل چکے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اربوں کے اثاثے عربوں کی عطا نہیں تھے بلکہ پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی تھے ۔جنھیں خورد برد کیا گیا ہے ۔مگر نون لیگی وزرا ،رفقا اور خوشامدیوں کے مطابق پاناما دھاندلی نما سازش ہے اس پر جناب انور مسعود نے بھی کمال پھبتی کسی ہے

نہ چھیڑو ذکرپانامہ مت چھیڑو
مری تشویش بڑھتی جا رہی ہے
نہیں ہے گر کوئی سنگین گھپلا
تو کیوں تفتیش بڑھتی جا رہی ہے

گھپلے تو سبھی کے آہستہ آہستہ یوں سامنے آرہے ہیں کہ گھپلے بھی گھبرارہے ہیں ۔دوسری طرف میاں شہباز شریف کو ماڈل ٹائون کیس پکار رہا ہے کہ طاہر القادری آچکا ہے مگرمسلم لیگ ن کی وزراء اور رفقاء کی ہٹ دھرمی اور عنانیت برقرار ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ میاں صاحب کے کندھے پر جس کا ہاتھ ہوگا وہی حکومت کرے گا اور اب بھی وہی کر رہا ہے جس کے کندھے پر ہاتھ ہے ۔مقام حیرت ہے کہ کسی وزیر یا مشیر کو اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے کہ وہ اس پر سوچے کہ یہ نا اہلی کیوں ہوئی ہے اور اگر ہوئی ہے تو اس کا سبب کیا ہے ۔سب بندر بانٹ میں اس قدر مست ہیں کہ اپنی کوتاہیوں پر سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے مگر کم از کم میاں صاحبان کو تو سوچنا چاہیے کہ

آپ کہتے ہیں پرائیوں نے کیا ہم کو تباہ
بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو

افسوسناک امر تو یہ ہے کہ خوش آمدی ٹولا اور رفقا ء سر عام ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر اور اپنی تقاریر میں بول رہے ہیں۔ جبکہ تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو میاں صاحب کو ریاستی اداروں سے کھلے عام چپقلش اور جابرانہ رویے کا سر عام پرچار تیسری مرتبہ بھی لے ڈوبا ہے ۔مگر اسی روش کو برقرار رکھتے ہوئے، عدالتی فیصلے کو نظر انداز کر کے میاں صاحب کی نا اہلی کے بعد جو کابینہ تشکیل دی گئی ہے، اس میں بھی ان تمام لوگوں کو نوازا گیا ہے، جو کہ اس سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں پیش پیش تھے اور جن کے تند و تیز لہجے اور بیانات کے گولے مخالفین کو ہی نہیں سیاسی چہرے بھی مسخ کرتے رہے ہیں ۔اس سے بڑھ کر ہٹ دھرمی کیا ہوگی کہ اقامہ رکھنے والے نااہل اسحاق ڈار جیسے افرادبھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ایسے ہی فیصلوں نے مسلم لیگ ن کو پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا میں تماشا بنا رکھا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ آج تک اس جمہوری حکومت نے کیاہے جس کے نتائج قوم کے وسیع تر مفاد میں ہوں ؟ شخصی آمریت کی اس سے بڑھ کر بد ترین مثال کیا ہوگی کہ آج بھی میرٹ چھوڑ کر نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔ من پسند تقرریاں اور عہدے لٹائے جارہے ہیں ۔اور جن پر لٹائے جا رہے ہیں وہ مخالفین سے نپٹنے کے لیے ہر اخلاقی حد پار کرچکے ہیں ۔ تہمت ، بہتان تراشی ، الزام تراشی اور کردار کشی عروج پر ہے ۔افلاطون نے ارسطو سے شکایت کی کہ میں نے تمہاری برائی ایک معتبر شخص سے سنی ہے تو جواب ملا کہ وہ شخص معتبر کیسے ہوسکتا ہے جو غیبت کرتا ہے ۔واللہ عالم! اس سیاسی اوربد اخلاقی پر مبنی رویوں کا انجام کیاہوگا۔۔؟ مگر یہ طے ہے کہ تاریخ کے اوراق میں پاکستانی عدلیہ کا فیصلہ سنہرے حروف سے اور پاکستانی سیاست کے فیصلے سیاہ سیاہی سے رقم ہونگے ۔

آج قانون کی بالادستی کی جہاں خوشی ہے وہاں یہ غم بھی ہے کہ عوام نے جس پر بھی بھروسہ کیا اسی جمہوری حکومت نے عوام کو وعدوں اور دعووں کی چٹنی دیکر سسکتا اور مرتا چھوڑ کر اپنے مسقتبل کو محفوظ بنانے میں مگن رہے ۔اگر میاں صاحب دوسرے ممالک کے وزرائے اعظم کی طرح پاناما اسکینڈل کے منظر عام پر آتے ہی مستعفی ہو جاتے تو آج دنیا کے سامنے جگ ہنسائی نہ ہوتی بقول راقم

اس قدر پیار کسی سے بھی کوئی کر نہ سکا
جس قدر آپ نے کرسی سے کیا ہے صاحب

سیاست دانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ جب تک وہ سیاست چھوڑ کر خدمت کو اپنا نصب العین نہیں بنائیں گے تب تک نہ انھیں عزت ملے گی اور نہ ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ۔ مگر عوام کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ ایک بریانی کی پلیٹ پر اپنے ضمیر کا سودا مت کریں سودے سے یاد آیا یہاں تو چند کروڑ کے لیے عزت کا سودا ہوجاتا ہے ۔جیسے آرٹیکل 62,63 کے تحت یہ فیصلہ آیا کہ میاں صاحب اب عومی نمائندگی کے اہل نہیں رہے ویسے اس فیصلے سے پہلے محترمہ انوشہ رحمان کا بیان سامنے آیا تھا کہ آرٹیکل 62,63 میں ترمیم پر غور شروع کر دیا ہے یہ تو ہماری جمہوری حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے جو آرٹیکل ان سے ٹکرائے اسے ختم کر دو مگر ترمیم سے پہلے ہی اس کا اطلاق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر ہو گیا تو اس فیصلے کے دو دن بعد ہی خان صاحب پر ایک خاتون MNA نے بد کرداری کا الزام لگاتے ہوئے یہ کہا کہ عمران خان کو بھی اسی آرٹیکل کے تحت نا اہل کیا جائے کیونکہ وہ اخلاقی کرپشن میں ملوث ہے اس لیے عوامی نمائندگی کا اہل نہیں ہے لیکن اس خاتون کی مبینہ تقریر جو کہ ٹی وی پر نشر کی گئی ہے اس کے بارے کوئی سنجیدہ تاثر قائم کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اسے اپنی ذات کے متعلقہ ماضی سے کوئی مئواخذہ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ اس کی ساری کاوش عمران خان سے انتقام لینا تھا ۔

تاہم یہ بہتان بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے ۔جس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا مگر یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ میاں صاحب افہام و تفہیم والے انسان نہیں ہیں وہ بدلہ نہیں چھوڑتے اور شاید یہ اسی بدلے کی کڑی ہے جو بھی ہومگر یہ طے ہے کہ عوام کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور وہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر خالی ہاتھ رہ گئے ہیں اور اسی قسمت کا لکھا سمجھ کر پھر سارا دن سوشل میڈیا پھر دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں جبکہ زندگی تصویر بھی ہے اور حقیقت بھی فرق ہے تو صرف رنگوں کا من چاہے رنگوں سے بنے تو تصویر اور اگر انجانے رنگوں سے بنے تو تقدیر ۔من چاہے رنگ دینے کیلیے کوشش کرنا پڑتی ہے اور سچے دل سے سجدہ ریز ہونا پڑتا ہے اور پھر رنگ بھی بدل جاتے ہیں مگر اگر مقدر سمجھ کر بیٹھ جائیں تو اللہ بھی حالت نہیں بدلتا اور برا گمان سچ ہو جاتا ہے ۔کہ تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ایسے ہی ماضی میں اپنے ایک کالم میں میں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

کرسی سے ایک دن توا ترنا ہی تھا انھیں
جو دل پہ بیٹھتے تو اترتے نہ کبھی

آج یہ شعر بلا امتیاز تمام سیاستدانوں کے لیے ہے کہ تاریخ ساز بننے کے لیے خود کو مٹانا پڑتا ہے پھر عوام ٹینکوں کے آگے لیٹتے ہیں بدقسمتی سے مسلم لیگ نون کی 2013 سے ابتک مجموعی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔حادثات ،سانحات اور انسانی زندگیوں سے جڑے ہوئے روح فرسا واقعات کا پورا دفترموجود ہے اور اگر تعمیری کاموں کاذکر کریں تو ایک ہی منصوبے کی دو دو بار فیتہ کٹائی اور تشہیری منصوبوں نے سارا پول کھول کر رکھ دیا ہے ۔ ڈاکٹروں کی غفلت سے سسکتی اور دم توڑتی زندگیاں بھی مکافات عمل بن چکی ہیں ۔المیہ تو یہ ہے کہ بنیادی چیزصاف ”پانی” وہ بھی عوامی حکومت فراہم نہیں کر سکی اور اب خرید کر پانی پیا جا رہا ہے اور لوڈ شیڈنگ چار سال گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہو سکی اس پر طرہ کہ ہم کالا باغ ڈیم کا تنا زعہ آج تک حل نہیں کر سکے اورورلڈ بینک نے بھارت کو ہمارے دریائے جہلم اور دریائے چناب پر ڈیم بنانے کی اجازت دے دی ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ ہماری نڈر بیباک ہر طرح سے جدید اسلحہ سے لیس پاک آرمی بھارت کو موت نظر آتی ہے وگرنہ تو وہ ہمارے سیاستدان کی اپنی لگائی ہوئی آگ سے بہت پہلے پاک و ہند کے درمیان والے باڈر کو اپنے پر لگائی ہوئی لائین کی طرح مٹا دیتا ۔ لہذا آج ملک و قوم کی بقا و سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ سیاستدان سیاست چھوڑ کر خدمت کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ سیاست خدمت ہے لوٹ مار نہیں ہے۔

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
Nawaz Sharif politics Prime Minister service خدمت سیاست نواز شریف وزیراعظم
Drug Use
Previous Post نسل نو میں منشیات کے استعمال میں پولیس کا کردار
Next Post ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیاں
Donald Trump

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close