
کراچی (جیوڈیسک) میں چوتھے روز بھی مارکیٹ سے مرغی غائب رہی۔۔پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولٹری کی قیمتوں کا تعین طلب و رسد پر ہوتا ہے۔سرکاری ریٹ پر مرغی فروخت نہیں کریں گے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی طریقے سے قیمتوں پر کنٹرول سے طلب و رسد میں بگاڑ پیدا ہوگا جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کا پولٹری ریٹ مقرر کرنے یا فارم سے انڈوں اور زندہ برائیلر مرغی کی سپلائی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پولٹری ریٹ خالصتا مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔
عبدالمعروف صدیقی نے کہا کہ مرغی کی طلب زیادہ ہونے ، نقصانات اور پولٹری فارمز بند ہونے سے سپلائی کم ہوئی جس کی وجہ سے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ ادھر پورے شہر میں کہیں بھی 280 روپے فی کلو کے مقرر کردہ سرکاری ریٹ میں مرغی کا گوشت فروخت نہیں کیا جارہا ہے۔۔ شہر میں مرغی کے گوشت کی قیمت 320 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
