Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ماضی کی برکات اور حال کی سہولیات دونوں کو اختیار کیجئے!

October 24, 2016October 24, 2016 1 1 min read
Mela
Mela
Mela

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی
آج سے چند دہائیوں قبل جب عام طور پر لوگوں کے گھروں میں ٹیلی وژن نہیں ہوتا تھا تو عموماً لوگوں کی دلچسپی سال میں لگنے والے میلے ٹھیلوں، سرکس کے کھیلوں اور بندر و بھالو کے کرتب میں ہوا کرتی تھی۔لیکن یہ کرتب سرکس اور میلے بھی روز نہیںلگتے تھے بلکہ ماہ دو ماہ،چھ ماہ یا سال ہی میں لگتے اورجب بھی لگتے تب ہی محلہ کے تمام بچے ،بوڑھے اورخواتین انہیں سے دلجوئی کرتے اور خوش ہوتے۔بڑے شہروں کو چھوڑ کر سادہ اور ٹھہری ہوئی زندگی عام بات تھی۔نہ گاڑیوں کے تیز ہورن کی آوازیں، نہ روشنیوں کے مینارے اور نہ ہی تیز رفتار زندگی کے شب و روز۔عموماً لوگ دن کے پہلے پہر میں روز مرہ کی مصروفیات اور کاروبار زندگی سے فارغ ہو جاتے۔دوپہر میں سوتے ،آرام کرتے اور شام ہوتے ہی زندگی بھی ڈھلنے لگتی۔چہار جانب سناٹا ،خاموشی اور ویرانی چھا جاتی ۔اور اگر کہیں مدھم یا ڈگمتاتی روشنی کے دیئے جلتے نظر بھی آتے تو اس کے معنی بس یہی ہوتے کہ وہاں چند لوگ جمع ہیںجو دن کی اہم سرگرمیوںپرتبادلہ خیالات میں مصروف ہیں۔اوریہ مصروفیات بھی کیا ؟بس وہی پرانے اور روزانہ کے لگے بندھے کام ۔تصور کیجئے اُس دنیا کا جس میں ہمارے دادا ،دادی یا ان کے ماں باپ رہتے تھے اور موازنہ کیجئے آج کی زندگی سے جہاں نہ سکون ہے،نہ اطمینان اور نہ ہی ٹھہرائو۔ہر شخص گردش ایام اور وقت کی ستم گیری سے پریشان ہے اور بس یہی کہتا نظر آتا ہے: مستیِ حال کبھی تھی کہ نہ تھی، بھول گئے۔۔۔یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی، بھول گئے۔

ایک سرسری نظر ڈالتے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ آج کا انسان بے انتہا مصروف ہے۔دن بھی مصروف اور راتیں بھی مصروف۔دن کی مصروفیات یا اہم واقعات پر آج ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیالات نہیں کرتا بلکہ ٹیلی وژن چینلوں کی چینخ پکار اور پرنٹ اور سوشل میڈیا کی ہیڈلائنس میں ہی اس کی زندگی گزرجاتی ہے۔یہ مصروفیت نہ صرف اس کی زندگی کے شب و روزکے اعمال کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کی فکر،اس کا نظریہ،اس کے خیالات،اس کے احساسات اور اس کے جذبات بھی اِسی تیز رفتاری سے حد درجہ متاثر ہیں۔اس تیز رفتاری کے جہاں کئی فائدے ہیں وہیں اس کے بے شمار نقصانات بھی ہیں۔سب سے اہم اور بنیادی نقصان زندگی میں ٹھہرائو کا نہ پایا جانا ہے۔ٹھہرائو یعنی سکون و اطمینان۔نتیجہ میں افکار و نظریات اور خیالات وجذبات میںٹھہرائو نہیں ہے یعنی افکار و نظریات اور خیالات و جذبات جنہیں اختیار کیا گیا ہے اور جن میں تغیر برپا ہے ،اس سے نہ اطمینان اور نہ ہی سکون حاصل ہوپارہا ہے ۔آپ کہ سکتے ہیں کہ افکار و نظریات اور خیالات و احساسات میں ہمہ وقت تبدیلی ایک مثبت عمل ہے۔کیونکہ انسان فطرتاً انجماد پسند نہیں ہے اور نہ ہی جمود کو زمانہ پسند کرتا ہے۔اس لحاظ سے تغیر و تبدل انسان کا پسندیدہ وتیرہ ہے اور اسی کو پسندیدہ عمل بھی قرار دیا جاتا ہے۔لیکن اس کے معنی غالباً یہ ہرگز نہیں ہونے چاہیے کہ انسان عقائد اور افکار ونظریات میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلی لاتا رہے۔

Change
Change

اس مرحلہ میں اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے ،یعنی انسان کو اپنے عقائد اور افکار ونظریات میں جلد جلد تبدیلی نہیں لانی چاہیے،اس میں ٹھہرائو ہونا چاہیے،یقین کامل اختیار کرتے ہوئے اور اس پر قائم رہتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کرنا چاہیے،تو یہاں مزید سوالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔اور جو سب سے پہلا سوال پیدا ہوگا وہ یہ کہ عقائد و نظریات میں تبدیلی کیونکر ممکن نہیںہے؟اور کیا تبدیلی کے بنا عقیدہ کے درستگی کا جواز ثابت کیا جاسکتا ہے؟یعنی وہ افراد و گروہ جو دوسروں کے عقائد کو درست کرنے کی بات کہتے ہیںیا جو اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے سوا دوسروں کے عقائد و نظریات درست نہیں،وہ یہ کیسے ثابت کریں گے کہ درستگی کے عمل کے دوران وہ دوسروں کے عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے میں سرگرم نہیںہیں؟۔

اس موقع پر بس یہی کہاجاسکتا ہے کہ اگر وہ اپنے افکار و نظریات،خیالات،احساسات اور عقائد کو نہیں بلکہ اُس خدائے واحد کے فراہم کردہ عقائد کو دوسروں تک پہنچانے میں مصروف ہیں ، جو خدا اُن کا بھی ہے جو پہنچا رہے ہیں اور ان کا بھی جنہیں پہنچایا جا رہا ہے، تو پھر یہ تبدل و تغیر،منفی نہیں مثبت ہے، نا پسندیدہ نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔اس کے باوجود تبدل و تغیر میں دونوں جانب سے مصروف عمل رہنے والوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ واقعی یہ ہدایات،پیغامات اور عقائد ان کے خود کے نہیں ہیں بلکہ واقعی یہ مالک برحق کے ہیں،جس نے نہ صرف اُنہیں بلکہ اس پورے عالم کو پیدا کیا ہے اور اس کے لیے ایک طے شدہ نظام بھی مقرر فرمایا ہے۔اب جو شخص یا گروۂ انسانی یہ ثابت کردے ،اُس کی بات تسلیم کی جانی چاہیے،اور ایسے شخص سے حددرجہ محبت کی جانی چاہیے نہ کہ نفرت۔کیونکہ یہ شخص جو اِس سرگرمی میں مصروف ہے وہ درحقیقت انسانوں سے بے انتہا ہمدردی رکھتا،نتیجہ میں وہ ایک جانب خود مالک برحق کی ہدایات پر عمل پیرا ہے تو وہیں دوسروں کو بھی اُس کی جانب بلانے میں مصروف ہے۔

Customs and traditions
Customs and traditions

لیکن اس بات سے بھی ہم اور آپ با خوبی واقف ہیں کہ انسان جن رسوم و رواج پر طویل مدت سے عمل پیرا ہوتا ہے ان کے خلاف وہ کوئی بھی بات پسند نہیں کرتا۔اس کی ایک وجہ اس کی ان رسوم و رواج سے بے انتہا لگائو ہے تو وہیں اپنے خاندان،قبیلہ،گروہ کے تشخص کو برقرار رکھنے کی خواہش۔ساتھ ہی اگر وہ گروہ خاندان یا قبیلہ برسر اقتدار ہو یا اس سے تعلق رکھنے والے افراد، تو پھر ایسے حالات میں اس شخص یاان اشخاص کے لیے کسی اور عقیدہ اور نظریہ پر غور و فکر کرنا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔اس کے باوجود یہ امید باقی رہنی چاہیے کہ غور و فکر کے نتیجہ میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت نہ صرف خیالات اور جذبات میں تبدیلی ممکن ہے بلکہ افکار و نظریات اور عقائد بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔کیونکہ انسان کا معاملہ یہی ہے کہ وہ ہمہ وقت متغیر حالت میں رہتا ہے اور اسی تغیر پذیری کے نتیجہ میں انسان یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ،مرے کار زار حیات میں رہے عمر بھر یہ مقابلے۔۔۔کبھی سایہ دب گیا دھوپ سے کبھی دھوپ دب گئی سائے سے۔لیکن وہ لوگ جو محبت و ہمدردی کے ساتھ عقائد و نظریات کی گفتگو کرتے ہیں،اس میں غور و فکر کی محفلیں سجاتے ہیں،اس پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں،اپنی کہنے کے ساتھ دوسروں کی بھی ٹھنڈے دل سے سنتے ہیں،وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوتے ہیں،کیونکہ ان کی یہ ساری سرگرمی اور سعی و جہد کسی ذاتی غرض کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس اعلیٰ مقصد اور کامیابی کے لیے ہوتی ہے جس کا وعدہ ان کے رب نے ان سے کیا ہے۔

لہذا ہر طرح کے خوف سے اوپر اٹھ کر رب اعلیٰ کی صفات پر یقین کامل رکھتے ہوئے انسانوں کی بھلائی ،کامیابی اورکامرانی کے لیے سرگرم عمل رہنا پسندیدہے۔شرط یہی ہے کہ جس عقیدہ،نظریہ اورفکر کی وہ تبلیغ میں وہ مصروف ہوں ،عملسے بھی اس کا اظہار ان کے شب و روز کے اعمال میں لازماًہونا چاہیے ۔تاکہ جن لوگوں تک پیغام ربانی پہنچانے کا کام کیا جا رہا ہے کم از کم وہ لوگ ،اُس فرد واحد یا ان افراد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے،قول و عمل کی کسوٹی پر پرکھنے میں کامیاب رہیں۔برخلاف اس کے فکر و نظریہ اور عقیدہ کی تبلیغ کرنے والے اپنا وقت ،صلاحیت اور وسائل ،سب کچھ صر ف کرنے کے باوجود ،ہر دو جہاں میں ناکام ٹھہریں گے۔

آئیے ایک بار پھر اُس تیز رفتار زندگی کا تذکرہ کرتے ہیںجہاں سے گفتگو کا آغاز ہوا تھا۔یعنی جس زمانے میں ہم اور آپ رہتے ہیں وہ حد درجہ تیز رفتار ہے،یہاں ٹھہرائو نہیں ہے،سکون و اطمینان کسی بھی شخص کو حاصل نہیں ہے۔نتیجہ میں شعور و لاشعور اور تحت الشعورپے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔باالفاظ دیگر سوچنے سمجھنے،غور و فکر کرنے ،رائے قائم کرنے اور مقابلہ و موازنہ کرنے،مطالعہ کرنے اور تقابل کرنے کے مواقع فراہم نہیں ہیں۔نتیجہ میں جو کچھ بھی شعور و لاشعور اور تحت الشعور پر اثر انداز ہوتا ہے وہ بس ایسے ہی ہے جیسے ایک بلٹ ٹرین پٹری پر تیز رفتاری جا رہی ہو اور اس کے اِدھر اور اُدھرکھڑے کھڑے دو شخص چینخ چینخ کر باتیں کریں،اس کے باوجودکوئی بھی دوسرے کی آواز نہ سن پائے ،پھر وہ جو نتیجہ اخذ کریں وہ اس کے خلاف ہو جو کہا جا رہا تھا۔لیکن جب زندگی میں ٹھہرائو آتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے رات کے سناٹے میں حددرجہ مدھم ،گھڑی کی سوئیں کی آواز بھی صاف سنائی دیتی ہے۔موجودہ زمانہ کی بات کی جائے تو اس میں سوشل میڈیا ، فیس بک،ٹوئیٹر اور الیکٹرانک میڈیا کے چینختے چلاتے نیوز چینلس یا انٹرٹینمنٹ کے نام پر وقت کا ضیا کرتے مختلف پروگرامس، زندگی کے شب و روز سے اگر کم کردیئے جائیں اور صرف ضرورتاً ہی استعمال کیے جائیں تو ایک بار پھرسابقہ زمانہ اور اس کی برکات اورموجودہ زمانہ اور اس کی سہولیات ،دونوں کا بیک وقتفائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم ،اپنے شب روز کے اعمال میں تبدیلی لائیںاور ان اعلیٰ مقاصد کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں جو ہمیں ہر دو جہاں میں کامیابی عطا کرنے والیہیں!۔

M Asif Iqbal
M Asif Iqbal

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
Blessings Mohammad Asif Iqbal New Delhi powers Previously privileges اختیار برکات حال سہولیات ماضی نئی دہلی
Muhammad PBUH
Previous Post سرتاج الانبیاء
Next Post سو لفظی کہانی…ضرورتِ رشتہ
Matrimonial Ads

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close