Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مسئلہ ختم نبوت

March 24, 2015 0 1 min read
Muhammad PBUH
Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

تحریر: عتیق الرحمن
بنی نوع انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی رب کریم نے انسانیت کی رہنمائی و نگہبانی کے لیے بعثت انبیا کا سلسلہ شروع فرمایا، چونکہ انسان و جن ہی وہ مخلوقات ہیں جن کو رب العزت والجلال نے نیک یا بد راستہ اختیار کرنے کا اختیار دیا، البتہ انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھ دی گئی ہے کہ وہ بدی و نقصان کی کشش کے سبب اس کی جانب سرعت سے متوجہ ہوجاتاہے ،اللہ رب العزت نے انسانیت کو درست و غلط راستے میں سے کسی کے چنائو اور اختیار کرنے سے قبل اس کے سامنے حق و باطل ،درست وغلط راہ کو واضح اور بین کرنے کے لیے انبیا مبعوث فرمائے ،انبیاء کرام کی بعثت کا یہ سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوکر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرمایا۔اب حضورکریمۖ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا اسی سبب سے اللہ رب العزت نے آپ ۖ پر سورہ مائدہ کی آیت حجة الوداع کے موقع پر نازل فرمائی ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا”۔اس آیت کے نازل ہونے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اب انسانیت کوکسی دوسرے نبی و رسل کی آمد کے انتظار کی حاجت نہیں بلکہ جو کچھ شریعت محمدیۖ میں نازل ہوچکا اب یہی حرف آخرہے اور اپنے خالق و مالک کی رضامندی کے حصول اور روز محشر میںنبی کریمۖ کی شفاعت کی نعمت سے مستفید ہونے کی شرط ہی یہ ہے کہ شریعت محمدیۖ کی تعلیمات پر بلاکسی تردد کے عمل کیا جائے۔ انسانی فطرت چونکہ نت نئی چیزوں کی جستجو میں محو رہتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہرانسان شہرت و عزت کا دلدادہ رہتاہے چاہے وہ اسے درست و غلط طورپر بھی حاصل ہوجائے ۔اِلّایہ کہ ان لوگوں کے جو اپنی ذاتی خواہشوں کی تسکین اتباع شریعت میں سمجھتے ہوں اور اپنی ابدی و اخروی نجات کو نبی کریم ۖ کی اتباع میں ہونے کا یقین رکھتے ہوں ایسے لوگ بہت کم بھٹکتے ہیں اور ان کا ایمان غیر متزلزل رہتاہے ۔شہرت و انفرادیت اور خواہشات نفس کے غلاموں نے مختلف راستوں کے ذریعہ دین متین کو زچ و نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر اللہ رب العزت نے چونکہ دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود ہی لی ہے ،اس لیے سازشی عناصر کی بدلتی شکل و صورت میں ظاہر ہونے کے باوجود ان کا سخت تعاقب ہمیشہ کیا جاتارہا۔انہی سلسلوں میں ایک سلسلہ عقیدة ختم نبوت کا انکار بھی ہے ،اسی کے نتیجہ میں وقتا فوقتاعہد نبویۖ میں مسیلمہ کذاب ،طلیحہ اسدی،سجاح سے شروع ہوکر بیسویں صدی تک متعدد مدعیان نبوت ظاہر ہوتے رہے اور ہر دور میں دین حق کے رہبروں نے ان کا کڑامحاسبہ کیا جس کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت میں مبتلا ہوکر ناکام و نامراد ہوئے۔ ذیل کی تحریر میں بھی ایسے ہی مدعی نبوت کے ظہور(مرزا غلام احمد قادیانی) اور اس کے تعاقب میں مختلف علماء میں سے برصغیر کے عظیم مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی جدوجہد اور ان کے مئوقف کو اجمالاً کہیں کہیں مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔

مولانا فرماتے ہیں قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے واضح فرمادیا کہ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین”لفظ خاتم بفتح التا ء اور بکسر التاء دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے یعنی آخر۔عقیدہ ختم نبوت پر ایمان و اعتقاد ازحد ضروری ہے کیوں کہ اس اسی کے سبب ملت اسلامیہ وحدت کی لڑی میں پروی ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں مسلمان دین اسلام کے عالم ارضی پر غلبہ کے لیے کائنات میں جدوجہد کرنے کا مکلف بنایاگیا ہے ،اسی کی وجہ بھی یہی ہے کہ اب اس کو نئے نبی و رسل اور نئی شریعت کے منتظر رہنے کی چنداں ضرورت نہیں،اللہ رب العزت نے نوع بشرپراپنی حجت تمام کردی ہے۔لہذااب ملت اسلامیہ کے سامنے صرف ایک ہی میدان ہے اور وہ میدان عمل ہے۔اگر عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کو ترک کردیاجائے تو لازمی بات ہے کہ نئے نبی ورسول کا انتظار کرنا پڑے گا اور عمل کی دنیا سے کنارہ کش ہوجاناپڑے گا اور اسی کے بدیہی نتیجہ کے طور پر ملت تفرقوں اور گروہوں میں بٹ جائے گی چونکہ ہر کوئی نبوت کا دعویٰ کرکے اپنے لیے اتباع پیداکرلے گا اور اس صورت میں ملت کی وحدت و امت کا تصور پارہ پارہ ہوجائے گا۔اسی بات کو علامہ اقبال ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ” دین و شریعت کی بقا تو کتاب و سنت سے ہے لیکن امت محمدیہ کی بقاختم نبوت کے عقیدة سے وابستہ ہے۔

مولانا فرماتے ہیں کہ قادیانیت نبوت محمدیۖ اور شریعت اسلام کے خلاف ایک سازش و بغاوت ہے ،جس پر ضرب لگانے کا لازمی نتیجہ دوسری امتوں پر امت محمدیہ کو ملا ہوا مقام شرف و کرامت معدوم کرناہے۔امت محمدیہ کا مکمل عہد پراز تغیرات ہے اس میں وقتا فوقتا مسائل مختلف روپ میں ظاہر ہوتے رہے ہیںاور آئندہ بھی پیش آتے رہیں گے اور ان سے مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ملت کے رہبروں پر عائد کی گئی ہے۔اسی طرح اللہ رب العزت نے ملت محمدیہ پر دوایسے احسان کیے ہیں کہ جن کی مدد سے ملت مشکل سے مشکل اور سخت سے سخت مسائل کا مقابلہ سہولت کے ساتھ کرسکتے ہیں۔اول: حضرت محمدۖ کی کامل و مکمل ذات کی بعثت کے ذریعہ زندگی کے تمام گوشوں کو واضح طور پر کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے،اب کسی نئے نبی و رسول یا مسیح موعود کی امت کو حاجت چنداں نہیںکیوں کہ نبی کریمۖ کے ذریعہ حاصل شدہ تعلیمات تا روز ابد زندہ جاوید رہیں گی۔ثانی :دین حق کی حفاظت کا ذمہ یعنی کے اللہ نے فرمایا ہے کہ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون”اسی دین کی حفاظت کے لیے اللہ رب العزت ہر دور میں اپنے مقرب لوگوں کوان سے فتنوں سے برسرپیکار ہونے کی جرأت و ہمت عطافرماتے رہیں گے اور دین پر حملہ آور بہروپیوں سے نمبرد آزمارہنے کی صلاحیت وقوت عطافرمائیں گے۔

Allah
Allah

مدعیان نبوت کی کثرت سابقہ ادیان میں بکثرت موجود رہی ۔چونکہ یہودیت و عسائیت میں کسی نئے نبی کے ظہور یا آمد کی نفی موجود نہیں اس لیے اس میں بکثرت مدعیان نبوت پیداہوتے رہے ہیں ،وہ کسی مدعی نبی کو سچا یا جھوٹا قرار دینے میں متردد رہتے تھے ،جس کے باعث ان مذاہب کے پیروکار سخت اذیت سے دوچار رہتے تھے۔مولانا فرماتے ہیں کہ مجھے اس امرکا احساس پہلی مرتبہ علامہ اقبال کی تحریر کے مطالعہ سے ہوا اور پھر میں نے خود مسیحیت و یہودیت کے مصنفین کی کتب کا براہ راست مطالعہ کیا تو اس امر پر غیرمتزلزل یقین ہوگیا۔یہاں پر ان مذاہب کے اصحاب قلم کی دوتحریریں بطور مثال پیش کی جاتی ہے جس سے یہ اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ وہ مدعیان نبوت کی کثرت سے کس قدر مشکل سے دوچار تھے۔

امریکی برطانی جیوش ہسٹاریکل سوسائٹی کا ایک فاضل رکن Atlbert M Saymson))انسائیکلوپیڈیا مذاہب و اخلاق میں لکھتاہے”یہودی حکومت کی آزادی سلب ہوجانے کے بعد پچھلی چند نسلوں تک بہت سے خود ساختہ مسیحائوں کا ذکر یہود کی تاریخ میں ملتاہے،جلاوطنی کے تاریک زمانوں میں امید اور خوش خبری کے یہ پیغام بر،خودساختہ قائدین کی حیثیت یہود کو ان کے وطن(جہاں سے ان کے آباء و اجداد نکال باہر کیے گئے تھے)واپس لے جانے کی امیدیں دلاتے رہتے تھے،اکثر اوقات اور خصوصاًقدیم زمانہ میں ایسے”مسیح”ان مقامات پر اور ایسے زمانہ میں پیداہوتے تھے جہاں یہود پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ جاتاتھا،اور اس کے خلاف بغاوت کے آثار پیداہوجاتے تھے ،اس قسم کی تحریکیں عموما سیاسی نوعیت کی حامل ہواکرتی تھیں،خصوصاًبعد کے زمانہ میں تو تقریباً ہر تحریک کا یہی رنگ تھا۔اگرچہ یہ تحریکیں مذہبی عنصر سے کم عاری ہواکرتی تھیں،لیکن اکثر ان کے بانی بدعات کو فروغ دے کر اپنی سیادت کا دائرہ اور اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے،جس کے نتیجے میں یہودیت کی اصل تعلیمات کو بہت نقصان پہنچتاتھا،نئے نئے فرقے جنم لیتے اور بالآخر اعیسائیت یا اسلام میں ضم ہوجاتے تھے”۔(Encyclopaedia of Religions and Ethics) مدرسہ دینیات میں یونانی ،رومی اور مشرقی کلیسا کی تاریخ کے پروفیسر ہارٹ فورڈ مسیحیت کو پیش آنے والے اس ابتلا کے بارے میں لکھتے ہیں”ان جھونے نبیوں کے ظہور نے جوماورائی حکمت(Superior Wisdom)کے مدعی ہوتے تھے،بہت جلد بے اعتمادی پیداکردی اور کلیسائوں اور ان کے رہنمائوں کو اس خطرہ کا احساس دلایا جو ان کی فلاح و بہبود کے گرد منڈلارہاتھا ،تاہم ابھی کوئی ایساتادیبی طریقہ وجود میں نہیں آیاتھا جو جانا پہچانا بھی ہوتا،اور ان مکاروں کا زور بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتاہو ،جنہیں یہ دعویٰ تھا کہ خدا ان سے کلام کرتاہے اور ان پر بذریعہ وحی اپنے راز ہائے سربستہ منکشف کرتاہے،ابھی تک ایساکوئی معیار نہیں دریافت ہوپایا تھا جس کے ذریعہ ان مدعیان روحانیت کی صداقت کا امتحان لیا جاسکتا،ایسے معیار کا دریافت ہونا قطعاً ضروری تھا،اور اگر یہ دریافت نہ بھی ہوتا تو بھی کلیسا اس کی تخلیق کرکے رہتاتھا کہ اس کے ذریعہ مذہب کو بنیادی اصولوں میں انتشار اور زندگی کا الحاد کے راستہ پر جاپڑنے سے بچاسکے اور اس طرح خود اپنی حفاظت کا انتظام کرسکے”۔(Encyclopaedia of Religions and Ethics. Vol. X P. 383) مولانا فرماتے ہیں کہ احمدی تحریک دراصل انگریز و استعمار کے خلاف برسرپیکارہونے والے محسنین اسلام سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کی تحریک کی باقیات کو مٹانے کے لیے قائم ہوئی۔

Quran
Quran

اسی لیے جہاد کی ممانعت اور انگریز حکومت کی بغاوت کو حرام قراردیااس پر مختلف زبانوںمیں کتب انگریز کے خرچ پر تحریر کیں۔مرزاغلام احمدقادیانی نے دنیا بھر میں جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے اپنے تیار کردہ شاگردوں کو بھی بھیجا جن میں سے بعض افغانستان میں سازشوں کے فروغ کے جرم میں قتل کئے گئے جن میں ملاعبدالحلیم قادیانی،عبداللطیف اورملا نورعلی قادیانی کو پھانسی دی گئی۔مرزا کے والدمرزا مرتضیٰ نے ١٨٥٧ ء کی جنگ میں انگریز کی بھرپور مدد کی اور مرزا کے بڑے بھائی غلام قادر بھی انگریز کی معاونت و خدمت کرتے رہے انہیں خدمات کے صلہ میں مرزا نے انگریز کو اپنے وفاداری کا احساس دلاتے ہوئے اپنی سرپرستی و مدد طلب کرنے کے لیے متعدد خطوط تحریر کیے جن میں سے بطور نمونہ ایک پیش کیا جاتاہے۔لفٹنٹ گورنر پنجاب کو ٢٤ فروری ١٨٩٨ء کو درخواست بھیجی جس میں لکھتے ہیں کہ”یہ التماس ہے کہ سرکارِ دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار ،جانثار خاندان ثابت کرچکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چھٹیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز ی کی خیر خواہ اور خدمت گذار ہے،اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم و احتیاط اور تحقیق و توجہ سے کام لے ،اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں”(تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص١٩) مسلمانوں کی وحدت کو پارہ کرنے کے لیے انگریز براہ راست دخل اندازی نہیں کرسکتاتھا وہ اس کام کے لیے چور دروازے کی تلاش میں تھے جو انہیں مرزا غلام احمد کی شکل میں میسر آگیا ۔مرزا غلام احمد ذہنی انتشار کے مریض تھے اور بڑی شدت کے ساتھ اپنے دل میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ وہ ایک نئے دین کے بانی بنیں ،ان کے کچھ متبعین اور موافقین ہوں اور تاریخ میں ان کا ویسا ہی نام و مقام ہو جیسا جناب رسول اللہ ۖ کا ہے ،وہ انگریز کو اس کام کے لیے موزوں شخص نظر ائے اور گویا انہیں ان کی شخصیت میں ایک ایجنٹ مل گیا جو ان کے اغراض کے لیے مسلمانوں میں کام کرے،چناچہ انہوں نے بڑی تیزی سے کام شروع کیا ،پہلے منصب جدید کا دعویٰ کیا پھر ترقی کرکے امام مہدی بن بیٹھے،کچھ دن بعد مسیح موعود ہونے کی شہادت دی اور آخر کار نبوت کے تخت بچھادیا ،اور انگریز نے جو چاہا تھا وہ پوراہوگیا۔
مرزا غلام احمد میں تین ایسی چیزیں ایک ساتھ جمع تھیں ،جنہیں دیکھ کر ایک مئورخ یہ فیصلہ نہیں کرپاتاکہ ان میں اہم ترین اور حقیقی سبب کسے قرار دیاجائے جس نے ان سے یہ ساری حرکات سرزد کروئیں(١)دینی رہنمائی کے منصب پر پہنچاجائے اور نبوت کے نام سے پورے عالم اسلامی پر چھایاجائے(٢)وہ مالیخولیا کے باربار تذکرہ سے ان کی ان سے متعلق اس کے ماننے والوں کی کتابیں بھری ہوئی ہیں(٣)مبہم اور غیر واضح قسم کے سیاسی اغراض و مفادات اور سرکار انگریز ی کی خدمات گذاری اور نمک حلالی،یہ ایسی صفات ہیں کہ جن میں سے ایک کے وجود کے باعث انسان راہ راست سے بھٹک سکتاہے اور مرزا غلام احمد میں یہ تینوں صفات بیک وقت موجود تھیں۔
مرزاصاحب نے ١٨٩١ میںمسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر ١٩٠١ میںنبوت کا دعویٰ کردیا۔مرزا صاحب نے اپنی نبوت کے دعوئے کو درست ثابت کرنے کے لیے مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کو١٩٠٧ء میں ایک اشتہار کے ذریعہ چیلنج کیا کہ اگر میں غلط ہواتو آپ سے پہلے مرجائوں گا اور اگر میں غلاط ہوا تو آپ سخت مرض میں مبتلا ہوکر میری حیات ہی میں انتقال کرجائیں گے۔اس اشتہار کی اشاعت کے ایک سال بعد ٢٥مئی ١٩٠٨ کو مرزا صاحب اسہال کے مرض میں مبتلاہوگئے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دن چڑھے انتقال کرگئے۔مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مرزاصاحب کی وفات کے ٤٠ سال بعد١٥ مارچ ١٩٤٨میں اسی برس کی عمر میں وفات پائی جس سے واضح ہوجاتاہے کہ مرزا صاحب کے اپنے ہی دعوئے کی روشنی میں جھوٹے مدعی نبوت تھے۔

مولانا فرماتے ہیں کہ قادیانیت ملت اسلامیہ کو اصل ذمہ داری جو اس کو تاقیات دنیا میںسربراہی و سیادت کی ملی ہے اس سے ہٹاکر ان کو لاحاصل فلسفیانہ و مناظرانہ مباحث میں الجھانا چاہتی ہے اور اس کا واحد مقصد ہے کہ انگریز و مغرب کی خدمت ہمہ وقت انجام دی جائے۔اسی مقصد کے لیے مرزا غلام احمد نے جہاد کی حرمت اور انگریز کی وفاداری کو ثابت کرنے کے لیے اردو ،عربی ،فارسی میں متعدد کتب تحریر کرکے ان کو عرب و عجم میں پھلادیا جس سے وہ ایک طرف ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو توڑنے اور دنیا میں سیادت کے حصول کی جدوجہد سے بازرکھنے کا پیغام تھا تو دوسری طرف بے فائدہ بحث و تمحیص کے گرداب میں پھنسانے اور انگریز کی وفاداری کا درس بھی موجود تھا۔ملت کو توڑنے کی اس حد تک کو شش کی تھی کہ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے اور اس کے ساتھ ہر طرح کا معاملہ دینی و دنیوی جائز نہیں اس نکتہ کی بنا پر سر ظفر اللہ خان جو کہ بدقسمتی سے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ تھا اور قادیانی کا پیروکار تھا نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ نہیں پڑھی کیوں کہ وہ قادیانی نہ تھے۔
قادیانیت کے خلاف بہت سی تحریکیں میدان میں آئیں جن میں مسلمانوں کے تمام طبقے کے علما ء برابر اس فتنے کے خلاف برسرپیکار رہے ،جن میں مولانا محمد حسین بٹالوی ،مولانا محمد علی مونگیری (بانی ندوة العلمائ)مولانا ثناء اللہ امرتسری ،مولانا انور شاہ کشمیری(شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) اور تحریک ختم نبوت کے سپہ سالار و قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاری شامل تھے۔ان علما ء کی مسلسل جدوجہد اور قادیانیت کے سخت تعاقب کے باعث امت اس فتنے سے محفوظ رہی اور بالآخر ١٩٧٣ء میں پاکستان میں قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

فتنہ قادیانیت کے خلاف اسلام کے مایۂ ناز مفکر علامہ اقبال بھی برسرپیکار رہے اور انہوں نے اپنی تصانیف میں بہت صاف صاف لکھا کہ قادیانیت نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت ہے ،اسلام کے خلاف ایک سازش ہے !یہ ایک مستقل دین ہے ! اس کے ماننے والے ایک الگ امت ہیں اور یہ امت عظیم اسلامی امت کا ہر گز وجود نہیں ہے! اور علامہ اقبال ہی نے سب سے پہلے قادیانیت کو خارج از اسلام قراردینے کی تجویز پیش کی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ قادیانیت حضورۖ کی شریعت اور اسلام کے ہر ہر جزوکے مخالف نظریہ رکھتے ہیں ،یہ چند ٹھوس حقائق ہیں ،لیکن جو لوگ واقعات سے دور اور اوہام و خیالات ہی کی دنیا میں رہنا پسندکرتے ہیں،اور حقیقتوں کے بارے میں بھی اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھنا چاہتے ہیں ،ان کے لیے اور ان لوگو ں کے لیے جن کی نظر میں دین و عقیدہ کی خودکوئی قیمت نہیں ،اور جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں ،ان کو مطمئن کرنے کے لیے میرے پاس کوئی زبان یا قلم نہیں:۔

یارب نہ وہ سمجھے نہ سمجھیں گے مری بات دے اور دل ان کو جونہ دے مجھ کو زباں اور

ATIQ UR REHMAN BALOCHI
ATIQ UR REHMAN BALOCHI

تحریر: عتیق الرحمن (طالب علم:ایم فل تاریخ اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

Share this:
Tags:
Human problem Qur'an stance teachings اللہ انسان تعلیمات قرآن مسئلہ موقف
Previous Post ہیرس: جرمنی کا مسافر طیارہ فرانس کے جنوبی علاقے میں گر کر تباہ
Next Post ہالی ووڈ فلم ” گڈ کل ” کا نیا ٹریلر جاری
Good Kill

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close