Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مسائل یا منافقت

July 24, 2018 0 1 min read
Supreme Court of Pakistan
Supreme Court of Pakistan
Supreme Court of Pakistan

تحریر : کاشف بٹ

ایک وقت تھا کہ مولانا فضل الرحمن ایک ایسے سیلاب کی نذر ہوئے جس کا منبع پانی نہیں تیل تھا۔ کیونکہ عالمی معیشت اور تیل کا چولی دامن کا ساتھ ہے تو ایسے میں تیسری دنیا کے ممالک میں اس کاروبار میں ہاتھ ڈالنے والے تو پورے بدن سمیت گھی میں ہوتے ہیں۔ سو کون بدبخت منافع کو لات مارتا ہے۔ سو ایسا ہی ملک کے ایک معروف صحافی نے بھی کیا۔ جناب نے ایل ڈی اے سے کوڑیوں کے بھاؤ پٹرول پمپس لیز کرائے اور خاموشی سے رحمتیں سمیٹتے رہے۔ لیکن صاحب بھول گئے تھے کہ ہر صبح کی ایک شام آتی ہے اور جو شامی ہو اس پہ تو شام کا آنا ناگزیر ہے۔ سو شام ڈھلی تو صاحب کا حال بھی کھلا اور نسبتیں بھی۔ اب ان کے گذشتہ تمام تر ارشادات مشکوک ہو چکے ہیں کہ جس کا نمک کھایا ہو اس کی جی حضوری تو کرنا ہی پڑتی ہے۔ ہمارے اکثر لکھاریوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ جس ہاتھ میں قلم ہوتا ہے اس کی ذمہ داری منصف سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہے کیونکہ اس کا لکھا کسی ایک فیصلہ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا لکھا انسانوں پہ اثرانداز ہوتا ہے ان کے فیصلوں پہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ اثراندازی نسلوں تک سفر کرتی ہے۔ لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قلم کی حرمت سے آگاہ ہو۔ کسی ڈر خوف یا لالچ سے بالاتر ہو کر لکھے۔ اختلاف ایک الگ موضوع ہے جو خالصتاً علمی و فکری بنیاد رکھتا ہے لیکن اگر لکھاری تحریر کو بازار میں لے آئے اور دام کے مطابق اختلاف و اتفاق کی روش پہ چل پڑے تو نہ اس کی تحریر میں برکت رہتی ہے اور نہ ہی وہ قلم کار کے منصب پہ پورا اترتا ہے۔

ہمارے ہاں تو ویسے بھی ایک المیہ ہے کہ دانش ور بدقسمتی سے اسے سمجھ لیا جاتا ہے جس کا کھونٹا مضبوط ہو۔ سو آج کل ٹی وی چینلز پہ روز رات کو دانش وروں کا میلہ سجا ہوتا ہے جن میں سے بیشتر علم و دانش کی ابجد سے بھی آگاہی نہیں رکھتے۔ یہاں دانش وری کا معیار یہی ہے کہ آپ کسی اخبار کے مالک ہوں یا آپ نے برسوں رپورٹنگ کی ہو۔ یا آپ اینکر اچھے ہوں آپ کی آواز کا زیر و بم متاثر کن ہو یا پھر آپ کسی ادارے کی بڑی کرسی سے ریٹائر ہوئے ہوں اور شام کا وقت کافی کے کپ کے ساتھ اپنی ‘عالمانہ’ بصیرت بکھیرنے کے خواہش مند ہوں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایک اینکر صاحبہ بچوں کے حقوق کے معاملہ میں قصور وار پائی گئی تھیں لیکن کچھ ہفتوں بعد واپس ایک ٹی وی اسکرین پہ موجود تھیں اور آج کل ملک میں خرابیوں کے ذمہ داروں کو کوس رہی ہیں۔ یہیں ایک معروف چینل روتا رہا کہ مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا اور جب اس نے بولنا شروع کیا تو دوسروں کے ایمان کا فیصلہ شروع کر دیا۔ جسے چاہا کافر و گستاخ کہا جسے چاہا غدار کہا۔ جبکہ چینل کے مالک خود دھوکہ دہی کے عالمی اسکینڈل میں شریک ہیں اور صرف یہی نہیں جناب نے ایک منصف کو بھاری رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ بھی لے لیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ کوڑے دان پہ بیٹھ کرکیسے کوئی دوسرے کے لباس پہ لگے داغ پہ فقرہ کسنے کی جرأت کر لیتا ہے۔

لیکن یہ سب ہمارے ہاں ہوتا ہے اور جائز بھی ہے۔ ہم نے معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی سطح پہ جس منافقت کو ترویج دی ہے اب اس کا تدارک آسان نہیں۔ ابھی کچھ وقت ہی گزرا ہے کہ سرکاری ٹی وی کی سربراہی کرنے والے معروف قلم کار کی کارستانیاں منظرِ عام پہ آئی تھیں۔ وہ صاحب بھی اپنے مہربانوں کو خوش کرنے میں کمال مہارت رکھتے تھے اور عمر کے آخری حصہ میں بھی لال رنگ سے ان کی انسیت کم نہ ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ عمر کے ساتھ ان کا تجربہ بھی عروج پہ تھا۔ بالکل کراچی کے ان بزرگ شاعر کی طرح جنھیں معانقہ کا شوق محاسبہ کی سیڑھی پہ لے گیا تھا۔ خیر یہ معانقہ اور محاسبہ بھی عجب شے ہے۔ اسلام آباد کے ایک جسٹس اس معاملہ میں بڑی خبروں میں رہتے ہیں۔ جناب کے خلاف کچھ ریفرنسز بھی چل رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی بے باکی بھی عروج پہ ہے۔ خیر جسٹس صاحب کئی برسوں سے چرچا میں ہیں۔ تحریکِ لبیک ہو یا لال مسجد، بلاگرز کے اغواہ کے بعد ہونے والی بلاسفیمی کی جھوٹی مہم کاری ہو یا اسلام آباد کا دھرنا اور اب انتخابات میں آئی ایس آئی اور ذرائع ابلاغ کے کردار کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے… صدیقی صاحب نے جو کچھ بولا اس میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ یہ الگ موضوع ہے۔ سوال یہ ہے کہ جسٹس صاحب نے زبان اتنی دیر سے کیوں کھولی! جناب کے گذشتہ فیصلے بھی موجود ہیں۔ ان کی کمرۂ عدالت میں کی گئیں کئی جذباتی تقاریر بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ تب وہ کہاں سے احکامات لیتے تھے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کاروبار میں مندی چل رہی ہے تو ایک نیا قضیہ شروع کر دیا گیا۔ عوام کے لیے یہ کوئی نیا انکشاف نہیں کہ انتخابات یا اکثر بڑے فیصلوں میں خفیہ اثراندازی ہوتی ہے لیکن کیا جسٹس صاحب یہ اعلان بھی کرنا چاہیں گے کہ ان نے زندگی میں کس کس موقع پہ خفیہ ہاتھوں پہ بوسے دیے۔ ورنہ ایک بوسہ تو ویسے بھی انھیں کافی بھاری پڑا ہوا ہے۔

اگلے دنوں اسلام آباد میں بھی ہجوم نے آئی ایس آئی مردہ باد کے نعرے لگائے۔ عوام میں اداروں کے لیے کم ہوتا وقار ایک ایسی حقیقت ہے جس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ یہ وقت ایک بڑے فیصلہ کا ہے۔ ریاست کے سب اداروں کو مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ طاقت و اختیار کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے یا اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ ابھی سراج رئیسانی کی وفات کے بعد ایک طاقتور صاحب نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پہ سراج رئیسانی کی وطن سے محبت کو ظاہر کرنے کے لیے دو تصاویر شیئر کیں تھیں جن میں سے ایک میں سراج رئیسانی ہندوستانی پرچم زمیں پہ بچھا کر اُس پہ کھڑے تھے اور دوسرے میں ان نے اپنے جوتے پہ ہندوستانی پرچم لگا رکھا تھا۔ سراج رئیسانی کی وطن سے محبت طاہر کرنے کے لیے ایسی بہت سی تصاویر دستیاب ہیں جن میں انھوں نے پاکستانی پرچم کو سینے پہ سجا رکھا ہے لیکن ٹویٹر والے صاحب کو وہ تصاویر شاید پسند نہ آئیں کیونکہ ان کے نزدیک وطن سے محبت کا اظہار دوسرے کے وطن کو گالی دینے میں ہے۔ یہ وہ منفی سوچ ہے جسے بڑی محنت سے ہماری قوم کی نسوں میں بھرا گیا ہے۔

سیاسی منظر نامہ کچھ ایسا ہے کہ مسلم لیگ کے امیدواروں کی نااہلی اور توڑ جوڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایفی ڈرین کا معاملہ بھی نبٹا دیا گیا اور حنیف عباسی کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ معاملہ کئی برسوں سے لٹکتا چلا آ رہا تھا۔ اگرچہ انتخاب سے چار دن قبل فیصلہ آیا ہے جس پہ سوال اٹھتے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ عدالت اس فیصلہ کو بہت پہلے ہی نبٹا دیتی۔ قوم میں زہر بانٹنے والوں کو اتنی رعایت جو ملتی ہے تو پھر انصاف پہ سوال تو اٹھتے ہیں۔ ہماری عدالتوں نے جہاں بڑے بے باک فیصلے کیے وہاں ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ ہر بڑا فیصلہ مقررہ وقت سے ہٹ کر ہوتا آیا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ محفوظ فیصلے کے سنانے میں تاخیر کیوں کی جاتی ہے اور رات کی تاریکی میں کون سے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ سوال کو روکا نہیں جا سکتا۔ سوال تو اٹھتے ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری کو اس قوم نے عزت دے کر دیکھ لیا تھا کہ جج بھی انسان ہوتا ہے جو فائدہ نقصان دیکھتا ہے۔ کیا خبر کل ہم کسی موجودہ منصف کی مثال دے رہے ہوں۔

Kashif Butt
Kashif Butt

تحریر : کاشف بٹ
mkbutt2000@gmail.com

Share this:
Tags:
channel decisions hypocrisy problems چینل فیصلوں مسائل معیشت منافقت
Elections
Previous Post قومی انتخابات۔۔قوم کی آزمائش کا دن
Next Post چکوال کی سیاست افواہوں کی زد میں
Chakwal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close