Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پراپیگنڈہ اور سوداگر‎

November 3, 2016November 3, 2016 0 1 min read
Revolution
Ideal
Ideal

تحریر : عماد ظفر
فرانس کے صدر سے کسی نے پوچھا تھا کہ حضور آپ ساری زندگی کنوارے کیوں رہے؟ انہوں نے جواب دیا مجھے آئیڈیل کی تلاش تھی.سوال کرنے والے نے پوچھا تو کیا آپ کو آئیڈیل نہیں ملا..انہوں نے جواب دیا نہیں مجھے میرا آئیڈیل تو ملا تھا لیکن اس کا آئیڈیل میں نہیں کوئی اور تھا..آئیڈیلزم کے ساتھ بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ آبجیکٹو نہیں سبجیکٹو ہوتا ہے اور دنیا میں ہر شخص کا اپنا اپنا منفرد آئیڈیل ہوتا پے.

یہی چیز نظام دوارے بھی لاگو ہوتی ہے اور دنیا میں ہر شخص کا نظام کے بارے میں اپنا اپنا خیال تصور یا آئیڈیل ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اگر آپ دنیا کے جدید ترین معاشروں اور بہتر سے بہتر نظام کے حامل ممالک میں بھی چلے جائیں تو وہاں بھی لوگ نظام سے مطمئن نہیں دکھائی دیتے کیونکہ انسان کی فطرت میں آئیڈیلزم اور بہتر سے بہتر کی جستجو ہے.گوئٹے نے اس بہتر سے بہتر پانے کی انسانی تمنا کو اپنی شاعری میں خوب بیاں کیا تھا.ایک انسان جنت میں داخل ہوتا ہے اور وہاں حور یا خوبرو دوشیزہ کو دیکھ کر پہلے تو بہت خوش ہوتا ہے مگر پھر اس سے نظریں ہٹا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتا ہے.

حور کو غصہ آتا ہے اور پوچھتی ہے اب جب میں مل گئی ہوں تو ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہو. وہ انسان جواب دیتا ہے میں اب تم سے بھی بہتر اور خوبصورت دوشیزہ کو ڈھونڈ رہا ہوں. انسانی فطرت کی اس کمزوری یا اس نقطے کو ایڈورڈ برنیز نامی ماہر نفسیات نے آج سے سو سال پہلے اچھی طرح بھانپ لیا تھا. اس نے کارپوریٹ کمپنیوں اور مختلف سیاسی طاقتوں کے ساتھ مل کر انسان کی اس خوب سے خوب تر کی جستجو کو کیش کرنے کیلیے پراپیگینڈا منظم مارکیٹنگ اور لابنگ کی اصطلاحات جدید طرز پر روشناس کروائیں اور انتہائی کامیابی سے ان کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو پراپیگنڈہ کے تابع کرنے کے عمل کا آغاز کیا.

آپ اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں جسے نالج اور ٹیکنالوجی کی صدی قرار دیا جاتا ہے آج بھی پراپیگنڈہ لابنگ اور مارکیٹنگ پر اربوں ڈالرز خرچ کیئے جاتے ہیں.انسانوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے اپنی اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے رائے عامہ کو اپنے حق میں ایک منظم پراپیگنڈہ کے تحت تابع کیا جاتا ہے. امریکہ سے لیکر پاکستان تک اس پراپیگنڈے کو لوگوں پر تھوپنے کیلئے سب سے زیادہ انحصار الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اشتہارات اور مختلف جھوٹے ریسرچ پیپز کے ذریعے کیا جاتا ہے. یوں عراق سے لیکر لیبیا تک حکومتوں کے تخت گرائے جاتے ہیں شام مصر سیریا افغانستان کو میدان جنگ بنا دیا جاتا ہے اور جہاں بزور طاقت کام نہ بنے وہاں حکومتوں کے تخت منظم انداز میں کبھی انقلاب کبھی کرپشن کے خاتمے اور کبھی وہاں بسنے والوں کی بہتری کے نام پر گرائے جاتے ہیں.

Propaganda
Propaganda

انسان چونکہ پراپیگنڈے سے متاثر ہوتا ہے اس لیئے اپنے اوپر تھوپے جانے والی مرضی سے بے خبر اپنے تمام مسائل کی جڑ حکومتوں یا نظام پر ڈالتے ہوئے اس منظم پراپیگنڈے کا شکار ہو جاتا ہے یا یوں کہیئے کہ اپنی ناکامیوں یا کوتاہیوں کا ملبہ نظام پر گراتے ہوئے چہرے تبدیل کرنے کے اس عمل میں شریک ہو جاتا ہے. حالانکہ عراق سے لیکر مصر اور لیبیا تک جہاں جہاں حکومتوں کو گرایا گیا حکمرانوں کو قتل کر کے دوسرے حکمرانوں کو لایا گیا وہاں نہ تو دودھ اور شہد کی نہریں آج تک بہنا شروع ہوئیں اور نہ ہی وہاں بسنے والے لوگوں کے معیار زندگی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی آنے پائی .لیکن یہ منظم پروپیگنڈا اس قدر پرفریب ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اسے خریدنے والوں کی بہتات کثرت سے پائی جاتی ہے بس فرق یہ ہے کہ مہذب دنیا میں اس پراپیگنڈے کے زیر اثر پرتشدد طریقوں کے بجائے انتخابات کروا کر تمام فریقین کو اپنا اپنا ایجنڈا بیان کر کے عوام کی فریکچرڈ رائے سے انتخابات کے ذریعے حکمرانی کا موقع دیا جاتا ہے جب کہ تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی انقلاب کا چورن بیچ کر کبھی پرتشدد مظاہروں اور کبھی آمریت کے زریعے رائے عامہ پر اپنی مرضی تھوپی جاتی پے.

ہم چونکہ تیسری دنیا کے ممالک میں شمار ہوتے ہیں اور مزاجا سہل پسند اور رومان پرور ہیں اس لیئے تبدیلی یا انقلاب کے الفاظ فورا ہمیں اپنی جانب راغب کرتے ہیں. کوئی بھی شخص منظم پراپیگینڈے اور غیر جمہوری طاقتوں کی شہ پا کر اٹھتا ہے اور ہمیں کہتا ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل صرف چند دن چند مہینوں کے اندر نکال سکتا ہے تو ہم فورا اس پر ایمان لانے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں.یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم سوائے چہروں کی تبدیلی کے اور کچھ نہ کرنے پائے. ایوب خان نے کہا اسکندر مرزا بے ایمان ہے ہم نے مان لیا اس نے کہا فاطمہ جناح غدار ہے ہم نے خاموشی سے تسلیم کر لیا. بھٹو اور یحی نے کہا ایوب مردہ باد ہم نے کہا مردہ باد. انہوں نے کہا شیخ مجیب اور بنگالی غدار ہم نے کہا غدار. ضیاالحق نے کہا بھٹو قاتل تھا غدار تھا ہم نے کہا بالکل ٹھیک. بی بی آئی تو ہم نے کہا زندہ ہے بھٹو زندہ ہے نواز شریف آیا تو ہم نے کہا نواز شریف زندہ باد.مشرف آیا تو وہ زندہ باد اور نواز شریف مردہ باد ہو گیا . پھر زرداری آیا تو ایک زرداری سب پر بھاری ہو گیا اور نواز شریف کے آتے ہی قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ہو گیا.اور اب جب نواز شریف کی شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ گئے تو عمران خان زندہ باد اور گو نواز گو ہو گیا. یہ ہماری پڑھی لکھی مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس کا ٹریک ریکارڈ ہے.

ہم ہمیشہ برنیز کے بنائے گئے لاشعور کو فتح کرنے کے پراپیگینڈے کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کا ملبہ جمہوریت اور جمہوری نظام پر ڈالتے ہوئے ایک ایسے انقلاب یا تبدیلی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جس کا کوئی وجود سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے. طاقت کی بساط کے کھلاڑی اپنے اپنے پیادے اس لڑائی میں اتارتے ہیں اور باآسانی عوام کو اپنے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتے ہیں. اس ساری لڑائی میں طاقت کی بساط پر لڑنے والے فریقین کا تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا لیکن عوام اور عوامی اداروں کا بھرتہ بن جاتا پے جس کے نتیجے میں نہ تو ادارے مضبوط ہو پاتے ہیں اور نہ ہی جمہوریت.نتیجتا معاشرے میں نہ تو ریفارمز لائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی صحت تعلیم یا دیگر اہم میدانوں میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی جا سکتی ہے. ہمارے وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کوئی صدیوں پرانی نہیں پے جس کے فہم یا ادراک کیلئے بے حد عرصہ لگے بلکہ تھوڑی سی محنت اور لگن کے ساتھ ستر سالہ سیاسی اور سماجی تاریخ کو باآسانی کم سے کم پڑھا لکھا طبقہ ضرور سمجھ سکتا ہے. لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا کہ ہم فطرتا سہل پسند ہیں اور مختصر سی سیاسی اور سماجی تاریخ کے اوراق کو پڑھنا بھی گراں تصور کرتے ہیں اور بوجھ محسوس کرتے ہیں اس لیئے چہروں کی تبدیلی اور انقلاب کے چورن کی پھکی کھا کر سیلف ڈینایل میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں. اس سارے عمل میں نقصان آنے والی نسلوں اور اپنے ہی بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے.

Revolution
Revolution

انقلاب اور تبدیلی کے نام پر ہم خود اپنے ہاتھوں اپنے مستقبل کا گلا گھونٹ کر خوش ہونے والی قوم بنتے جا رہے ہیں وگرنہ کتنا مشکل ہے اس حقیقت کو محسوس کرنا کہ شہروں کو بند کر کے مزدوروں کا روزگار چھین کر اپنی ہی املاک کو توڑ پھوڑ کر انقلاب نہ کبھی آیا اور نہ کبھی آ سکتا ہے. جس معاشرے میں بسنے والا تقریبا ہر فرد اپنی اپنی بساط کے مطابق ٹیکس چوری سے لیکر ملاوٹ اور نوکری میں رشوت خوری یا کمیشن کھانے سے لیکر ہر جگہ اپنا اپنا مفاد عزیز رکھتا ہو وہاں انقلاب نہیں بلکہ قدرت کے عذاب نازل ہوا کرتے ہیں. چی گویرا انقلاب لانے کیلئے غاروں میں جا بسا تھا اور ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا. مارٹن لوتھر کنگ سیاہ فاموں کے حقوق کی جدو جہد کیلئے دہائیوں لڑتا رہا نیلسن منڈیلا نے عمر کا بہت بڑا حصہ چار بائی چار کی کال کوٹھری میں گزارا. یہاں انقلاب اور تبدیلی کے دعوے کرنے والے تین تین سو کنال کے محلات میں آرام سے بٹیر اور تیتر کے گوشت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور مار کھانے اور مرنے کیلئے غریب اور سفید پوش آدمیوں کے بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں.کیا دنیا میں کوئی تبدیلی کوئی انقلاب اس طرح بھی آیا ہے کہ رہنما گلچھڑے اڑائیں اور انہیں مارنے والے ذلیل و خوار ہوں. انقلاب یا تبدیلی اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے اور پھر اجتماعی سطح پر بتدریج اس کے اثرات مرتب ہونا شروع ہوتے ہیں. ایسا نہ ہوا پے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص معاشرے کے تمام مسائل ایک رات ایک مہینے یا چند سالوں میں حل کر دے. مسائل کا حل ایک ارتقائی عمل ہے اور چاہتے نہ چاہتے هوئے بھی وقت کی بھٹی سے نسلوں کو گزر کر ترقی کا سفر طے کرنا پڑتا ہے.

محض نعروں یا پراپیگنڈوں کے سہارے اگر تبدیلی آتی تو لیبیا مصر یا عراق میں آج دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں. رومان پروری اور آئیڈیلزم اس وقت تک تعمیری ہوتے ہیں جب تک کہ وہ ہالوسینیشن میں تبدیل نہ ہو جائیں. حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسی صورت ترقی کر سکتا ہے جب اس میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں. یہ ایک طویل اور صبر آزما کام ہے لیکن ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ. دوسرا راستہ انقلاب اور تبدیلی کے نام پر استعمال ہو کر اپنے آپ کو پرفریب خوابوں میں مبتلا رکھنے کا ہے. سماجی اور سیاسی ڈھانچہ کسی بھی قسم کے شارٹ کٹ سے نہ تو تشکیل پاتا ہے اور نہ ہی مضبوط ہوتا ہے. انسانی نفسیات پر اثر انداز ہونے والے پراپیگنڈہ اور خوابوں کے سوداگروں سے بچ کر ہی وطن عزیز میں آنے والے کل کے بہتر ہونے کا تصور کیا جا سکتا ہے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
ideal Imad Zafar Merchants Propaganda Society system World پراپیگنڈہ دنیا سوداگر معاشروں نظام
Previous Post کراچی میں ایک ہزار لڑکیوں کی تکمیل تعلیم پر ایجوکیٹ آ گرل نے جشن منایا اس موقع پر لی گئی تصویری جھلکیاں
Next Post لاک ڈاؤن سے کول ڈاؤن
Imran Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close