Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بونے

April 1, 2017 0 1 min read
Propaganda
Propaganda
Propaganda

تحریر : عماد ظفر
کہتے ہیں جب بولنے اور سننے کو کچھ باقی نہ بچے تو پھر محض شور مچاتی آوازیں ہی باقی رہ جاتی ہیں. نہ سامعین میسر ہوتے ہیں اور نہ ہی بولنے والے. حرف و معنی کا ایک ایسا قحط پڑ جاتا ہے کہ بستی کے رہنے والے قحط حروف میں جینے کے عادی ہو جاتے ہیں.سماعتوں اور بینائیوں کو بے مطلب اور بے معنی باتیں اور الفاظ سننے اور دیکھنے کی عادت ہو جاتی ہے. یہ صورتحال جب معاشرے پر اثر انداز ہونے لگ جائے تو ہر گام اور ہر آن چیختے چلاتے “بونے” اپنے قبیلے کے دوسرے “بونوں” کو ساتھ ملا کر قوت سماعت اور قوت گویائی کے رکھنے کو ایک جرم قرار دے دیتے ہیں.یوں “بونوں” کے معاشرے میں سماعت اور گویائی کی نعمت سے مستفید انسانوں کو ان نعمتوں کا اہل ہونے اور دراز قد ہونے کے جرم میں ان دیکھی زنجیروں میں جکڑ دیاجاتا ہے. ان زنجیروں کے کئی روپ ہوتے ہیں کئی نام ہوتے ہیں اور ہر دراز قد انسان یا سماعت و بینائی کی نعمتوں سے مالا مال فرد کو اس کے قد کاٹھ کے مطابق یہ زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں. یہ اور بات ہے کہ اکثر و بیشتر “بونے” اس حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں کہ بونوں کی تیارکردہ زنجیریں افکار کی وسعتوں کو نہ تو کبھی قیدکرنے پائی ہیں اور نہ ہی قید کرنے پائیں گی.

مشہور نفسیات دان اور جدیدپراپیگینڈے کا بانی برنیز کہتا تھا کہ ہم لوگ ایک ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں جہاں رائے عامہ سے لیکر عام نفسیات تک کا بننا سب کچھ چند ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو رائے عامہ اور انسانی نفسیات کو اپنے حق میں استعمال کرنا جانتے ہیں .برنیز کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ عام طور پر انسانوں کی اکثریت کی زندگی کے اہم ترین فیصلے پہلے سے طے شدہ پراپیگنڈے کے تابع ہوتے ہیں. ہم کیاپہنیں گے، ہم کھانے کیلئے کونسی خوراک کا استعمال کریں گے ،ہم معیار زندگی کی کیا تعریف کریں گے، اور کیسے اس معیار زندگی کے حصول کیلئے درست یا غلط اقدامات اٹھائیں گے، ہم کن افراد کو اپنے نمائندوں یا رہنماؤں کے طور پر چنیں گے، یہ تمام فیصلے زیادہ تر انسان پہلے سے طے شدہ پراپیگینڈے کے تحت کرتے ہیں.

اپنی اس کہی ہوئی بات کو برنیز نے اپنی زندگی میں ہی متعدد بار سچ کر کے دکھایا.بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی مصنوعات کو عام افراد کیلئے ایک ضرورت یا سٹیٹس سمبل بنانے سے لیکر مختلف ممالک میں حکومتوں کے بدلنے سے لیکر جنگ عظیم اور کولڈ وار کے پراپیگینڈے سے اس نے کڑوڑہا دماغوں کو متاثر کیا. دنیا میں زیادہ تر انسان اپنے بارے میں یا معاشرتی و نظریاتی رسوم و رواج کو خود سے دلیل و منطق کی کسوٹی سے پرکھنے یا سوچنے سمجھنے سے کتراتے ہیں جس کی بنیادی وجہ انکے اندر کا احساس تنہائی کا یا عدم تحفظ کا وہ خوف ہوتا ہے جس کے تحت زیادہ تر انسان آزادی کے اصل مفہوم سے ناآشنا رہتے ہوئے بونوں کی تیار کردہ زنجیروں میں مقید رہنے کو ہی زندگی تصور کرتے ہیں.اس بات کو مشہور امریکی نفسیات دان بی ایف سکینرز نے کچھ یوں بیان کیا تھا کہ معاشرہ افراد کی انفردیت کو آزادی کی نعمت چکھنے سے پہلے ہی ختم کردیتا ہے.

روایات رسوم و رواج ،نظریات افکار کو گھٹی کی صورت میں کچھ اس طرح انسانوں کو پلایا جاتا ہے کہ انسان آزادی کی نعمت کو زیادہ تر ایک بھیانک گناہ یا جرم تصور کرنے لگ جاتا ہے. سکینر کا یہ بھی ماننا اور کہنا تھا کہ دنیا میں بسنے والے زیادہ تر انسان آزادی خود سے فیصلے لینے کا رسک اٹھانے کے بجائے کسی بھی طاقتور فرد یا گروہ کے تابع رہنے کو پسند کرتے ہیں تا کہ ان کی روزمرہ کی ضروریات اور حاجات پوری ہو سکیں .دنیا میں انسانی رویوں پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق کی تحقیقی یا تصنیف کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات صاف عیاں ہوتی ہے کہ ہر دور میں عام انسانوں کی سوچ اور ان کے رویوں کو مخصوص ایجنڈے کے تابع کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا. اس مقصد کیلئے ایک طرف سیاست مذہب ،قومیت، رنگ، نسل ،وطن پرستی اسلاف پرستی جیسے بے بہا نظریات و خیالات کو مختلف اندازمیں استعمال کیا جاتا ہے اور دوسری جانب روزمرہ کی ایک طے شدہ روٹین بنا کر عام انسانوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہوئے انہیں ایک معیار زندگی کے تابع رکھا جاتا ہے. یہ مقاصد آج کے دور میں میڈیا کے ذریعے باآسانی حاصل کر لیئے جاتے ہیں.

الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اورسوشل میڈیا کے زریعے اربوں افراد کے زہنوں کو تسلط میں لایا جاتا ہے.ہمارے بچوں کیلئے کونسا معیار تعلیم یا نظام تعلیم ضروری ہے یہ فیصلہ ہم خود نہیں کرتے ہم سے کروایا جاتاہے. ہم نے سیر و تفریح کرنے کہاں جانا ہے کیا کھانا ہے کیا پینا ہے یہ فیصلے ایڈورٹائزنگ کی مہربانی سے پہلے ہی طے شدہ ہوتے ہیں. ہم نے کونسی ملامت اختیار کرنی ہے کونسا کاروبار کرنا ہے زیادہ تر افراد کے یہ فیصلے بھی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں جن کا دارومدار اس کے اردگرد کے ماحول میں قائم شدی “کنڑولڈ پراپیگینڈے”کی بنا پر ہوتا ہے.

ریاست کا نظام کیا ہو گا اس کو چلانے کیلئے جو نمائندے چنے جائیں گے یہ تمام فیصلے میڈیا کے زریعے تھوپے جاتے ہیں. یہاں تک کہ انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کو رنگ مزہب زات اور قومیت کی جو شناخت ملتی ہے وہ بھی اس کی اپنی پسند یا اختیار سے نہیں ہوتی بلکہ دی جاتی ہے. البتہ جو انسان ان تمام قدغنوں اور اس تمام تر پراپیگینڈے اور ان دیکھی زنجیروں کے باوجود سوچنے سمجھنے کی جستجو کرتے ہیں ان کا معاملہ مختلف ہوتا ہے. لیکن ایسےافراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوتی ہے. دنیا میں عموما “بونوں ” کی اکثریت زیادہ پائی جاتی ہے. جبکہ ہمارا معاشرہ اس معاملے میں مثال کی حد تک خود کفیل ہے. کچھ بونے ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر بے ہنگم سا شور کرتے ہوئے زات پات رنگ نسل قومیت اور مزہب کا چورن بیچتے پائے جاتے ہیں تو کچھ کا منجن حکومتتوں کے آنے جانے کی تاریخیں دینے سے بکتا ہے.کچھ بونے وطن عزیز کو ہر آن خطرے کا شکار بتاتےہیں اورکچھ بونوں کا زور مزہب کو ہمہ وقت خطرے میں بتانے پر مصردکھای دیتا ہے.

کچھ بونے علم و ادب پر تسلط جمانے کے چکروں میں اذہان سے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں تو کچھ صحافیوں کے لبادوں میں چھپ کر یہ کھیل جاری رکھتے ہیں. کچھ بونے نظام کی تبدیلی کے نعرے مارتے دکھائی دیتے ہیں اور چند بونوں کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام یا حکومت سے بڑھ کر جنت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی. غرض ہرشعبے میں بیٹھے:”بونے” ایک عام آدمی کو چند مخصوص افراد کے پراپیگینڈے کا شکار کر کے اپنی اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں. یہ معاملہ اگر صرف جیبیں بھرنے تک ہی محدود ہو تو زیادہ خطرہ نہیں لیکن اذہان سے کھیلنے کی یہ جنگ اور اس کے نتیجے میں اذہان کو تابع بنا کر اپنے اپنے وقتی مفادات کے حصول کی یہ جنگ وطن عـیز کے کڑوڑہا اذہان کو زمانہ جدید سے نہ تو مطابقت رکھنے دیتی ہے اورنہ ہی انہیں آزادی و خود مختاری سے زندگی بسر کرنے دیتی ہے. نتیجتا شدت پسندی، قحط الرجال، اور سوچنے سمجنے کی صلاحیتوں سےمتعلق عاری تحقیق و جستجو سے بے نیاز بونوں کی ان گنت فصلیں تیار ہوتی ہی رہتی ہیں. زندگی میں آزادی سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں ہوا کرتی اور آزادی ان افراد یا معاشروں کو ملتی پے جو ان تمام بیڑیوں کو توڑنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں اور رسک اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں. پراپیگینڈے کے تابع کسی بھی قسم کی نفرت تعصب یا قدغن میں زندگی بسر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچئے گا کہ کہیں آپ بھی کسی بھی قسم کی ان دیکھی زنجیروں یا بیڑیوں میں قید ہو کر تو ایسا نہیں کر رہے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
Famine habits Imad Zafar Psychology reality Society حقیقت عادت قحط معاشرے نفسیات
Panama Leaks
Previous Post پاپیوں کے پیٹ
Next Post بلوچستان مہلک ترین بیماری کی زد میں
Balochistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close